میں ڈنمارک کی ایک ٹرین میں سفر کر رہا تھا۔ ٹرین میں ایک شریر بچہ بھی تھا...
آغا جہانگیر بخاری
فطرت مری مانند نسیم سحری ہے
رفتار ہے میری کبھی آہستہ کبھی تیز
پہناتا ہوں اطلس کی قبا لالہ و گل کو
کرتا ہوں سر خار کو سوزن کی طرح تیز
ایران کے شہر رے میں ایک ایسی مسجد ہے جسے مسجد آدم کش کہا جاتا تھا۔ اس...
لب پہ اک حرفِ دعا مولا حسینؑ
بے کسوں کا آسرا مولا حسینؑ
پھر وقت نے زقند بھری۔ہم بھی زندگی میں آگے بڑھ گئے۔رباب عائشہ نے بھی جنگ کو خیرباد...
منجر آباد قلعہ ایک ستارہ نما قلعہ ہے۔ جو 1792 میں میسور کے فرمانروا ٹیپو سلطان نے...
محترمہ ثمانہ زھراء کی سالگرہ کی مناسبت سے
غزل اپنی ہیئت میں مختصر گوئی کاایسافن ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ اہمیت...
صورت بھی حسیں ہے تیری سیرت بھی حسیں ہے
ثانی تیرا آفاق میں واللہ نہیں ہے
یہ دوسری جنگ عظیم کا دور تھا۔ 1943 میں سول ڈیفنس کے عملے نے خندقیں کھودنا شروع...
بگڑا ہوا نظامِ چمن دیکھتا ہوں میں
ہر سُو ہجومِ رنج و محن دیکھتا ہوں میں