Tag: ڈونلڈ ٹرمپ

  • ایران کیلیئے معاہدے کا آخری موقعہ 

    ایران کیلیئے معاہدے کا آخری موقعہ 

    ایران کیلیئے معاہدے کا آخری موقعہ 

    ایران کیلیئے معاہدے کا آخری موقعہ

    صدر ٹرمپ نے حج وارننگ کے بعد ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ مؤخر کیا۔ اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر 28 فروری کو ماہ رمضان میں حملہ کیا تھا۔ امریکہ ایران پر کم از کم قربانی کی عید تک حملہ نہیں کرے گا۔ صدر ٹرمپ دیر یا بدیر اپنے بیانات بدلتے رہتے ہیں۔ ٹرمپ اپنے فیصلے بھی بدلنے میں دیر نہیں کرتے مگر وہ خلیجی ممالک اور پاکستان کو ناراض کر کے ایران پر حملہ کرنے کی غلطی بھی نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ ایران پر گزشتہ اسرائیل امریکی حملے میں عرب ممالک کی خاموش مرضی شامل تھی۔ اس بار حملے کو ملتوی کرنے کے بارے خود ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے ایران پر حملے کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے کہنے پر موخر کیا ہے۔ اس معاملے پر صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان دوبارہ تلخی کلامی ہوئی۔ اسرائیل ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی ضد پر اڑا ہوا ہے۔ جب صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے اسے بتایا کہ ثالث ایک ایسے معاہدے پر کام کر رہے ہیں جس پر امریکہ اور ایران دستخط کریں گے تو نیتن یاہو نے ٹرمپ کے اس فیصلے سے شدید اختلاف کرتے ہوئے غم و غصے کا اظہار کیا جس سے صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو آڑے ہاتھوں لیا۔ صدر ٹرمپ کے کچھ وقت کے لیئے ایران پر دوبارہ حملہ نہ کرنے کے فیصلے سے مذاکرات اور ان کے کامیاب ہونے کا واقعی امکان پیدا ہو گیا ہے۔

    ٹرمپ بار بار اعلان کرتے  ہیں کہ وہ ایران کو کیمیائی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ دونوں ممالک یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ عنقریب ڈیل ہو رہی ہے مگر ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر سائن بھی نہیں ہوئے ہیں۔ پھر ایسا ہوتا ہے کہ دونوں ملک ایک دوسرے کو دھمکی دیتے ہیں اور ڈیل ہوتے ہوتے رہ جاتی ہے۔ اس وقت بھی پاکستان کے وزیر داخلہ اور فیلڈ مارشل ایران کے دورے پر ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ڈیل ہو گئی ہے اور پاکستانی حکام ایرانی قیادت کو اس ڈیل پر سائن کرنے پر راضی کرنے کے لیئے گئے ہیں۔ اسی دوران ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنائی کا ایک بیان سامنے آیا ہے کہ ایران اپنی افزودہ یورینیئم کسی دوسرے ملک میں منتقلی کی اجازت نہیں دے گا۔ صدر ٹرمپ مارچ کے وسط میں اس جنگ سے نکلنا چاہتے تھے۔ یورپی ممالک اور برطانیہ نے اس جنگ میں ٹرمپ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا اور امریکا میں یہ جنگ بہت غیر مقبول ہو گئی تھی۔ ٹرمپ کی خواہش پر پاکستانی قیادت نے ایران کے ساتھ سیز فائر کی کوشش شروع کی تو ایرانی قیادت سیز فائر پر آمادہ نہیں تھی۔ حالانکہ ایرانی ملاوں پر مبنی قیادت اچھی طرح جانتی ہے کہ اسرائیل اور امریکہ جہاں ایران میں رجیم چینج کرنا چاہتے ہیں وہاں وہ ایران کو جلد یا بدیر تین ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں یعنی وہ ایران کے تین ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے ایرانی قوم کو متحد کر دیا جس سے اسرائیل امریکہ کا یہ خفیہ منصوبہ وقتی طور پر ناکام ہو گیا۔ جب سے پاکستان سیز فائر کیلئے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے ایرانی قیادت نے بارہا کہا ہے کہ ٹرمپ ناقابلِ اعتبار ہے۔ ایران کے مطابق ٹرمپ ایک طرف ایران کے ساتھ مذاکرات کرتا ہے اور دوسری طرف ایران پر حملہ کر دیتا ہے۔ ایران اسی صورت میں امریکہ سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے جب صدر ٹرمپ ایران پر دوبارہ حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائے گا۔ پاکستان نے ایرانی قیادت کا جواب ٹرمپ تک پہنچا دیا۔ ٹرمپ نے بھی یقین دلایا کہ وہ تیسری دفعہ ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ اس وقت امریکہ ایک جامع معاہدے کیلئے تیار ہے۔اسلام آباد میں 11اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان تقریبا 50 سال کے بعد پہلی دفعہ اعلیٰ سطحی مذاکرات شروع ہوئے۔ ایران اور امریکہ میں  ایک پرامن معاہدے کے اہم نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا مگر پھر اچانک معاہدے پر دستخط نہ کیئے جا سکے اور دونوں ممالک نے دوبارہ ایک دوسرے کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ 

    ایران کیلیئے معاہدے کا آخری موقعہ 

    اگر مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے اور امن معاہدے پر دستخط بھی ہو گئے تو اس معاہدے کے کامیاب ہونے کا امکان اس بات پر ہے کہ امریکہ اور ایران معاہدے کی کتنی پابندی کرتے ہیں۔ ایران نے امریکی حملے کے موخر ہونے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آبنائے ہرمز میں کنٹرول زون قائم کر دیا ہے جس کے مطابق وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو ایران سے پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس پابندی کے بدلے میں ایران کو جہاں اپنی مرضی کے دوست ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہو گی وہاں وہ دوسرے ممالک کے آئل ٹینکروں سے ٹول ٹیکس بھی وصول کرے گا۔ یہ خلیج فارس کے انٹرنیشنل پانیوں پر ایک قسم کی ایرانی بدمعاشی ہے جو تاریخ میں پہلی بار امریکی حملے کے بعد شروع ہوئی ہے۔ ایران کے پاس آبنائے ہرمز پر ٹیکس کے ذریعے عالمی کردار حاصل کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ اسے آبنائے ہرمز پر ٹیکس لینے کا اختیار دے دیا جائے جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انڈیا نے بھی ایران کے اس موقف سے اتفاق کرنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ چین اور امریکہ دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہاز گزرنے پر کوئی ٹیکس نہیں ہونا چایئے۔ چین اور ایران میں اسی بنیاد پر پہلے ہی اختلاف موجود ہے۔ اس لیئے ایران اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ بلآخر ایران آبنائے ہرمز کھولے گا اور امریکہ اپنی ناکہ بندی ختم کرے گا تو ایران ایک ذلت امیز معاہدہ کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ یوں ایران اگر پاکستان کی بات نہیں مانتا اور کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرتا ہے تو وہ ایک جیتی ہوئی جنگ ہار سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی معیشت پر منفی اثرات پڑے ہیں۔ جنگ کے آغاز میں تو اس کا قصوروار امریکہ ہی کو ٹھہرایا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیئے یورپ اور نیٹو (NATO) ممالک نے امریکہ کی مدد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن جب سے ایران نے اسلام آباد مذاکرات میں تعاون کرنے سے پس و پیش کی ہے ایران کے مظلوم ملک ہونے کا تاثر تقریبا ختم ہو گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے دورہ چین کے بعد تو ایران کے قابل ترس ہونے کی رہی سہی کسر بھی پوری ہو گئی ہے۔ اس دوران ایرانی تیل کے سب سے بڑے خریدار چین نے توانائی کے متبادل راستے تلاش کر لیئے ہیں۔ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار تھا مگر اب چین نے اپنی انرجی کے راستے بدل لیئے ہیں۔ چین تیل کی سپلائی روس سے لے رہا ہے، وہ الیکٹرک وہیکلز پر جا رہا ہے اور نیوکلیئر فیوژن پر بھی کام کر رہا ہے۔ اس لیئے چین پر آبنائے ہرمز کا اتنا کوئی پریشر نہیں ہے۔ الجزیرہ کے مطابق امریکی صدر کے ایک بیان کے بعد کہا رہا ہے کہ چین امریکہ سے تیل خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں اور قبضے کے خدشات کے باعث بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ اگر چین واقعی امریکہ سے تیل خریدنا شروع کر دیتا ہے تو ایران تیل کے اپنے سب سے بڑے خریدار چین سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ ایران کا انفراسٹرکچر پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے۔ اس بار بھی ایران معاہدہ نہ کرنے کی غلطی کرے گا تو اسے ناقابل تلافی حد تک نقصان اٹھانا پڑے گا۔ سعودی عرب، امارات اور قطر نے بھی آبنائے ہرمز کو چھوڑ کر تیل کی نئی پائپ لائنوں کو بچھانا شروع کر دیا ہے۔ ایران کے پاس اب آبنائے ہرمز کو بند کر کے فائدہ اٹھانے کے کوئی امکانات باقی نہیں بچے ہیں۔ روس بھی ایران کا ساتھ دینے سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ ایران خطے میں جاری کشمکش کا مقابلہ کرنے کے لیئے مکمل طور پر تنہا ہو چکا ہے۔ایران کے پاس مشرق وسطی میں کشیدگی ختم کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔ اس وقت پاکستان اور ترکی کے علاوہ چین اور سعودی عرب بھی امن معاہدہ کروانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر ایران اس بار بھی پاکستان کی ثالثی میں امن معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کرتا ہے تو پھر اس بات کا قوی امکان ہے کہ پاکستان بھی ایران اور امریکہ کے درمیان مصالحت کرانے میں  دلچسپی لینا بند کر دے گا۔ 

  • امریکی صدر کا دورہ چین اور پیٹرو فاسٹ کمپنیاں

    امریکی صدر کا دورہ چین اور پیٹرو فاسٹ کمپنیاں

    امریکی صدر کا دورہ چین اور پیٹرو فاسٹ کمپنیاں

    Dubai Naama

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 15مئی کو چین کا 3 روزہ سرکاری دورہ کر کے واپس چلے گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ حکومت میں پہلی مرتبہ چین کا دورہ کیا۔ ٹرمپ کے دورہ چین کے دوران اندر کھاتے سب کچھ خاموشی سے طے ہوا۔ وقتی طور پر چائینیز بھی کچھ  خاموش سے ہو گئے ہیں۔ شائد صدر ٹرمپ نے صدر شی جن پنگ (Xi Jin Ping) کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو (Give & Take) کی بنیاد پر معاملات نپٹائے ہیں۔ ماضی قریب میں چین نے معاشی اور سٹریٹجک ترقی بھی انتہائی خاموشی کے ساتھ کی۔ کبھی کبھی سمندر کے گہرے خاموش پانیوں کے نیچے طوفان چھپا ہوتا ہے۔ امریکہ اور چائنا دونوں نے اپنے سیاسی اہداف بھی اسی خاموش سفارتی کاری کے ساتھ حاصل کیئے۔ ایران جنگ میں پھنسا ہوا تھا۔ چین تائیوان کو ہمیشہ سے اپنا حصہ مانتا آیا ہے جبکہ امریکہ تائیوان کا اتحادی ہے اور اسے اسلحہ بھی بیچتا ہے۔امریکہ نے تائیوان سے دستبردار ہو کر چین کو ہمنوا بنانے کی کوشش کی جس میں صدر ٹرمپ کافی حد تک کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔

    چین نے وقتی طور پر ایک جانب ایران کو ایک جوہری ملک کے طور پر قبول کرنے اور اسے مزید ہتھیاروں کی سپلائی سے انکار کر دیا تو دوسری جانب درجنوں امریکی کمپنیوں کو چین میں آزادانہ تجارت کرنے کی بھی اجازت دے دی۔ امریکی موقف کی تائید میں چین نے کہا: "ایران کو ایٹم بم نہیں بنانا چایئے۔” چین نے اپنی اکانومی کو مزید طاقتور بنانے کے لیئے جس طرح امریکی سٹریٹجک پالیسی سے اتفاق کیا، اسے "سیاسی سودا بازی” ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے جہاں صدر ٹرمپ نے ایران کے معاملے میں چائنا کو اپنا ہمنوا بنایا وہاں چین نے امریکہ کو تائیوان کے معاملے میں خاموشی اختیار کرنے پر آمادہ کیا۔ چائنا نے امریکی کمپنیوں کو چین میں سرمایہ کاری لانے کا راستہ بھی ہموار  کر لیا۔ 28 فروری کو شروع ہونے والی ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں عالمی خارجہ پالیسیاں ایک حد تک  مفادات کی سودی بازی میں ڈھل گئی ہیں۔ یہ جنگ سیاسی و معاشی مفادات کا عجیب نمونہ ثابت ہوئی ہے۔ بین الاقوامی خارجہ پالیسیوں کو کچھ لو اور کچھ دو کی روش کو ایرانی رجیم نے بھی محسوس کر لیا تھا۔ ایران نے خود کو بچانے کے لئے پہلے حزب اللہ کو بظاہر اسرائیل کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور اب حماس کو بھی بہت حد تک تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایران کی یہ پالیسی اس حوالے سے کسی حد تک امن پسندی پر مبنی بھی ہے کیونکہ اس سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ ایران اب "پراکسی وارز” (Proxy Wars) کو خیرباد کہنا چاہتا ہے۔

    امریکی صدر کا دورہ چین اور پیٹرو فاسٹ کمپنیاں

    موجودہ خلیجی جنگ دراصل "پیٹرو فاسٹ گیم” (Petro Fast Game) ہی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ ایک سے زیادہ بار کہہ چکے ہیں کہ انہیں ایرانی تیل اور گیس چایئے۔ ٹرمپ نے یہاں تک بیان دیا تھا کہ، "امریکی نیوی آبنائے ہرمز میں قزاقوں (Pirates) جیسا کام کرے گی.” اسی بنیاد پر امریکی ناکہ بندی سے تیل کے درجنوں بحری جہاز متاثر ہوئے تھے۔  

    آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے مہلک اثرات سے بچنے کے لیئے اور چین کے بدلتے ہوئے رویئے کو دیکھ کر ایران نے دوست ممالک کے نام پر آبنائے ہرمز کچھ وقت کے لیئے  کھول بھی دی تھی لیکن دوست ممالک محض ایک بہانہ تھا کیونکہ پہلے ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے بلیک میلنگ کی اور پھر وہی کام ناکہ بندی (Blockade) لگا کر امریکہ نے کیا۔ اصل مسئلہ متحارب ممالک کے مفادات ہیں۔ ممکن ہے کہ اس دورے کے بعد عارضی جنگ بندی مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہو جائے اور گہرے پانیوں کے نیچے بہنے والا جنگی طوفان بھی تھم جائے۔ 

    دنیا بھر میں "پیٹرو ڈالر” کی اصطلاح عام ہے جسے تیل کے ڈالر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پیٹرو ڈالر امریکی ڈالر کی برتری کا ثبوت ہے کیونکہ روزانہ اربوں کھربوں ڈالرز کی ادائیگیاں امریکی ڈالرز ہی میں کی جاتی ہیں۔ یہ اصطلاح تقریباً نصف صدی قبل وجود میں آئی تھی۔ اب پچاس سال بعد کہا جا رہا ہے کہ اگر تیل پیدا کرنے والے کچھ ممالک تیل کی خریدوفروخت ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں جیسے چینی یوآن (یا روسی روبیل) میں کرنا شروع کر دیں جیسا کہ اس کا تجربہ چین اور روس دونوں کر بھی رہے ہیں تو یہ پیٹرو ڈالر دور کا خاتمہ متصور ہو گا جسے بچانے کے لیئے صدر ٹرمپ بھیگی بلی بن کر چائنا پہنچے۔ پیٹرو ڈالر کی یہ اصطلاح اتنی مشہور اور تیز تر ہے کہ دنیا میں امریکہ، تائیوان اور متحدہ عرب امارات میں "پیٹرو فاسٹ” کے نام سے کاروباری کمپنیاں بھی کام کر رہی ہیں۔ خدا نخواستہ دنیا پیٹرو فاسٹ گیم ہی میں الجھ کر نہ رہ جائے۔ سونے کے بعد تیل کی مصدقہ اہمیت ہے، جسے "بلیک گولڈ” (Black Gold) کہا جاتا ہے۔ انسان مزدوروں کے پسینے سے اور صدیوں کی محنت سے انفراسٹرکچر تیار کرتا ہے جسے جنگ و جدل اور انسانی خون کی قیمت پر جدید بمبوں، میزائلوں اور ڈرونز سے پل بھر میں برباد کر دیا جاتا ہے۔ بنی آدم پیٹرو ڈالر کرنسی ہے اور نہ ہی تیل جیسی جنس ہے جسے کسی منڈی کا مال بنا کر داو پر لگایا جائے۔ پیٹرو فاسٹ گیم میں تیل برآمد کرنے والے وہ اوپیک ممالک وغیرہ شامل ہیں جن کو تیل کی قیمت امریکی پیٹرو ڈالرز میں کی جاتی ہے۔ خالی چین اس وقت روزانہ ایک کروڑ بیرل سے زیادہ خام تیل برآمد کرتا ہے جس کا تقریباً پانچواں حصہ سعودی عرب سے آتا ہے اور خود سعودی عرب کی تیل کی مجموعی برآمدات کا چوتھائی حصہ صرف چین کی طرف جاتا ہے۔

    امریکی صدر کے مطابق چینی صدر نے یقین دہائی کرائی کہ وہ ایران کو جنگی ساز و سامان فراہم نہیں کریں گے۔ دورے کے آخری روز امریکی صدر کی چینی صدر شی جن پنگ سے ناشتے کی میز پر بھی  ملاقات ہوئی تھی۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے معاملے پر چین اور امریکہ کا موقف ایک جیسا ہے، ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں، ہم چاہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے۔ صدر شی جن پنگ سے کئی امور پر گفتگو ہوئی جو اچھی رہی، چین مرحلہ وار اپنی مارکیٹ کھولے گا، امریکہ سے تیل اور زرعی مصنوعات خریدے گا، دونوں ممالک کے درمیان ویزا کمپنیوں اور تجارتی معاملات پر بھی پیش رفت ہوئی۔ اس سے پہلے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ چینی صدر نے ایران کے ساتھ ڈیل میں مدد کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایران کو فوجی سازوسامان فراہم نہیں کریں گے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک نیا تعلق قائم ہوا ہے، ہمارا تعلق تعمیری اور اسٹریٹجک نوعیت کا ہے، یہ دورہ ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا جا سکتا ہے، مختلف شعبوں میں تعاون کے لیئے کئی اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔

  • امن کی آشا دو انتہاؤں کے درمیان

    امن کی آشا دو انتہاؤں کے درمیان

    امن کی آشا دو انتہاؤں کے درمیان

    Dubai Naama

    بدقسمتی سے جنگ بندی کا خواب بکھرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ یہ اظہاریہ لکھتے ہوئے دلی دکھ ہو رہا ہے. گزشتہ تحریر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیڈ لائن سے صرف چند گھنٹے پہلے سیزفائر کی خبر دی تھی جو سچی ثابت ہوئی۔ اس پر دنیا بھر سے توصیفی ردعمل آیا تھا مگر اسلام آباد میں اظہاریہ کے شائع ہونے تک مذاکرات کی کامیابی کے بارے درپردہ حقائق انتہائی مایوس کن ہیں۔ اسرائیل نے حسب روایت سیزفائر کے فورا بعد لبنان اور ایران میں وہی جارحیت دوبارہ شروع کر دی ہے جسے کرنے میں وہ عادتا مجبور رہتا ہے۔ اسرائیل کا یہی معاندانہ رویہ 2025ء میں غزہ سیزفائر کے دوران سامنے آیا تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ سیزفائر کے دوران اس نے غزہ پر حملے جاری رکھے تھے۔ اب ایک بار پھر اسرائیل مستقل جنگ بندی میں انگریزی محاورے "چھرا گھونپنا” (At Daggers Drawn) کے مصداق 10اپریل کو اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے بعد پہلی بار ہونے والے براہ راست مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے۔

    حالیہ خیلجی جنگ بندی کے پہلے ہی روز اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے 100 مختلف ٹھکانوں پر شدید حملے کر کے 89 بے گناہ اور معصوم مسلمان شہریوں کو قتل اور 700 سے زیادہ افراد کو زخمی کر دیا۔ ایک ہی دن میں اسرائیل کی اس وحشیانہ بمباری سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیئے ایران اور امریکہ کے فیصلے سے بلکل سہمت نہیں ہے۔ اس عارضی جنگ بندی میں اسرائیل کو پاکستان کی سفارت کاری بھی پسند نہیں آئی ہے، جس کی پوری دنیا میں تعریف و توصیف کی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ سابق اطالوی وزیراعظم پاو’لو جینٹیلونی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ایران امریکہ جنگ بندی پر پاکستان (یا وزیراعظم شہباز شریف) کو "نوبل انعام” ملنا چایئے۔

    تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لبنان میں شہید اور زخمی ہونے والوں کی تعداد بلترتیب 250 اور 1100 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ اسرائیل کا ایسا جنگی جنون ہے جو ٹھنڈا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ ابھی کچھ دیر پہلے اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ، "ہم اپنے اہداف کو معاہدے یا جنگ دوبارہ شروع کر کے حاصل کریں گے۔” اس جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ (Yair Lapid) نے کیا جب اس نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے یہ بیان دیا کہ، "نیتن یاہو سیاسی اور حکمت عملی دونوں لحاظ سے ناکام رہے، وہ اپنے ہی طے کردہ اہداف میں سے ایک بھی ہدف حاصل نہ کر سکے۔” اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی اپوزیشن وزیراعظم نیتن یاہو سے بھی زیادہ جارحانہ مزاج رکھتی ہے اور اس نیتن یاہو سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ ایران کو افزودہ یورینیئم اور اس کی دفاعی صلاحیت مثلا میزائل اور ڈرون ٹکنالوجی سے محروم کیا جائے جس کا براہ راست مطلب یہ ہے کہ جب تک اسرائیل یہ اہداف حاصل نہیں کر لیتا ہے جہاں وہ ایران کی بقا اور سلامتی کے لیئے خطرہ بنا رہے گا، وہاں وہ حالیہ جنگ بندی میں روڑے اٹکانے سے بھی باز نہیں آئے گا۔

    امن کی آشا دو انتہاؤں کے درمیان

    پاسداران انقلاب نے بھی جنگ بندی کے پہلے ہی روز یہ دعوی کیا کہ انہوں نے جنوبی ایران میں غیر ملکی حملہ آور (اسرائیلی) ہرمیس 900 ڈرون مار گرایا۔ ایرانی پاسداران نے دھمکی دی کہ اب کسی بھی غیر ملکی طیارے کی ایران کی فضائی حدود میں داخلے کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا جس کے بعد فیصلہ کن ردعمل دیا جائے گا۔ ایران کے مطابق سیزفائر کا اطلاق لبنان پر بھی ہوتا ہے جبکہ اسرائیل نے ایران کے اس موقف کو رد کر کے لبنان پر بھی بھرپور حملے کیئے، اور پھر ایران پر بھی علامتی ڈرون پھینکا، جس کے بعد یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایران نے اسرائیل کی اس جارحیت کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا ہے حالانکہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق رائے کے بعد آبنائے ہرمز سے بحری جہاز گزرنا شروع ہو گئے تھے اور یونان اور لائبیریا کے 2 جہاز گزرے بھی تھے۔ تاہم بعد میں ایران نے اعلان کیا کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں وہ آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روک رہا ہے۔

    اسرائیل ایک قطعی متشدد ریاست ہے جو اپنے قیام کے بعد مسلسل یہ جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان 1948ء میں قیامِ اسرائیل کے بعد سے متعدد بڑی جنگیں ہوئیں ہیں، جن میں 1948، 1956، 1967 (چھ روزہ جنگ)، اور 1973 (یوم کپور جنگ) شامل ہیں۔ ان جنگوں میں اسرائیل نے عرب ممالک (مصر، شام، اردن) کو شکست دے کر فلسطین، غزہ، مغربی کنارہ، اور گولان کی پہاڑیاں چھین لیں، جس سے مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدل گیا، جبکہ موجودہ خلیجی جنگ ان تمام جنگوں میں سے سب سے زیادہ خطرناک تھی جس سے پوری دنیا ایٹمی جنگ کے کنارے پر پہنچ گئی تھی. اس پر سیزفائر کے ایک روز پہلے چین نے دنیا کو وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ، "اگر دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچانا ہے تو اسرائیل کو غیر مسلح کرنا ہو گا۔” اسرائیل اپنی جارحیت میں اس قدر آگے جا چکا ہے کہ وہ دنیا اور خطے میں قیام امن کے لیئے ایک "متواتر خطرہ” بن چکا ہے۔

    خدانخواستہ، سیزفائر کے عین دوران اسرائیل کی اس جارحیت سے اسلام آباد میں 10اپریل کو ہونے والے مذاکرات منعقد ہونے سے پہلے ہی مشکوک ہو گئے ہیں۔ بناء برین افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی کا امکان بہت کم ہے۔ حالانکہ کہ یہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد پہلے براہ راست مذاکرات ہیں۔ امریکہ میں پاکستان پالیسی انسٹیٹیوٹ یو ایس اے (PPI-USA) کے چیئرمین اور ڈونلڈ ٹرمپ کے سابقہ دور میں مشرق وسطی کے لیئے ان کے سیاسی مشیر پروفیسر ڈاکٹر غلام مجتبی نے یہ اظہاریہ لکھنے کے دوران ایک لنک بھیجا جس میں "برکس نیوز” (BRICS NEWS) کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی 10 نکاتی جنگ بندی تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔

    اسرائیل کے اس متواتر اور تاریخی جارحانہ رویئے کو خطے میں مسلم اتحاد روک سکتا ہے، جس کی افسوس ہے کہ کوئی امید نظر نہیں آتی ہے، اور یا پھر امریکہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روک سکتے ہیں۔ یہ ایک طرف سمندر اور دوسری طرف کھائی والا معاملہ ہے۔ دکھی دل کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ مشرق وسطی کی حالیہ جنگ بندی بالخصوص اور دنیا بھر کا امن بالعموم دو انتہاؤں کے درمیان کھڑا ہے جسے انگریزی میں "Between The Devil and The Deep Sea” کہتے ہیں۔ خدا خیر کرے!

  • امریکیو، ٹرمپ کو ایک دھکا اور دو

    امریکیو، ٹرمپ کو ایک دھکا اور دو

    امریکیو، ٹرمپ کو ایک دھکا اور دو

    Dubai Naama

    تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں میں لڑاکا سپاہ سے زیادہ معصوم اور بے گناہ عوام مرتی ہے، جبکہ معاشی تباہی کا سارا نزلہ بھی عوام پر ہی گرتا یے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی باری امریکی عوام کو یہ دھوکہ دیتے ہوئے گزاری کہ وہ دنیا میں کسی نئی جنگ کا آغاز نہیں کریں گے۔ ایران پر حملے سے کچھ عرصہ پہلے تک وہ خود کو امن کا دیوتا قرار دیتے رہے۔ اس بناء پر ٹرمپ خود کو نوبل پیس پرائز کا حق دار بھی سمجھتے تھے (جس کا گزشتہ اظہاریہ میں ذکر کیا تھا)۔ پھر کیا ہوا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو اپنا اصل چہرہ دکھانا شروع کر دیا۔ انہوں نے کنیڈا کو دھمکایا، گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کا مسئلہ کھڑا کیا اور وینزویلا کے صدر کو فیملی سمیت اغواء کر کے امریکہ لے گئے۔ ٹرمپ نے ایران پر 2025ء میں حملہ کیا اور مارچ 2026ء کے آغاز پر ایک بار پھر ایران پر دھاوا بول دیا جس سے دنیا بھر میں توانائی کا بحران پیدا ہوا، تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، اور دنیا پر تیسری عالمی جنگ کا خوفناک سایہ منڈلانے لگا یے، جو ابھی تک پیچھا کر رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی کسی بات پر ٹکتے نہیں ہیں اور مفاد کو دیکھ کر گرگٹ کی طرح فورا رنگ بدل لیتے ہیں۔ جنگ کے بارے وہ بہت دفعہ کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے ایران کی ایٹمی صلاحیت، میزائیل پروگرام اور ڈرونز کی طاقت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور ایران پر مزید حملے جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹرمپ خطے میں امریکی فوجیوں کی تعداد اور جنگی سازوسامان کی نئی کھیپ بھی بھیج دیتے ہیں۔ اس وقت بھی امریکی جنگی بحری جہاز یو ایس ایس جارج ڈبلیو بش 4000 نوآموز امریکی فوجیوں کو لے کر مشرق وسطی کی طرف آ رہا ہے۔ ٹرمپ پہلے کہتے رہے کہ ایران کیمیائی ہتھیار بنانا چاہتا ہے جس کو ہم روکنا چاہتے ہیں جبکہ اب ان کا یہ بیان آیا ہے کہ، "ایران کے پاس کیمیائی ہتھیار ہیں۔” امریکہ نے عراق پر بھی عین یہی الزام لگا کر اسے نیست و نابود کیا تھا، لیکن اس وقت امریکہ کو عراق پر حملے کے لیئے نیٹو اور مسلم اتحادی ممالک کی حمایت حاصل تھی اور مگر اس بار امریکہ کو اسرائیل کے سوا بنفس نفیس ایران پر حملہ آور ہونے کے لیئے کسی ایک اتحادی کی حمایت بھی حاصل نہیں ہے، پھر اس کے سامنے بھی ایران ہے، ناکہ عراق، لیبیا یا شام وغیرہ ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر ہیں جسے دنیا کا طاقتور ترین شخص سمجھا جاتا ہے لیکن ٹرمپ نے حالیہ خلیجی جنگ میں جس نوعیت کا غیر سنجیدہ رویہ اپنا رکھا ہے اسے کسی بھی طرح امریکی صدر قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے طاقتور ترین شخص کو پختہ اور ذمہ دار شخصیت کا حامل ہونا چایئے مگر ٹرمپ میں ایسی کوئی خاص پختگی نظر نہیں آتی ہے کہ انہیں امریکہ جیسے سب سے طاقتور ملک کا سربراہ سمجھا جا سکے۔ بعض دفعہ تو ڈونلڈ ٹرمپ بلکل عجیب الخلقت بیانات جاری کر دیتے ہیں جن کو پڑھ اور سن کر کامن سینس رکھنے والا ایک عام آدمی بھی حیرت زدہ ہو کر رہ جاتا ہے مثلا چند روز پہلے انہوں کہا کہ، "میں امریکی صدارت سے ریٹائر ہو کر وینزویلا جا کر صدارت کا الیکشن لڑوں گا”، پھر انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبی خامنائی کے بارے میں کہا کہ، "ہم دونوں مل کر ایران پر کامیابی سے حکومت کر سکتے ہیں۔” ٹرمپ نے پہلے ایران پر حملہ کر کے مجتبی کے والد آیت اللہ خامنائی کو اس کی فیملی سمیت شہید کیا اور اب ان کے بیٹے کو کہہ رہے ہیں کہ، "آو مل کر ایران پر حکمرانی کرتے ہیں۔”

    امریکیو، ٹرمپ کو ایک دھکا اور دو

    2025ء میں آخری بار جب ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطی کا دورہ کیا تھا تو عرب ممالک نے ان کی کافی پذیرائی کی تھی۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے کم و بیش امریکہ کے ساتھ ایک ٹریلئن ڈالر کے دفاعی معاہدے کیئے اور امریکہ میں مزید انوسمنٹ کرنے کے وعدے بھی کیئے تھے، جبکہ قطر نے ٹرمپ کو الوداع کرتے وقت تحفے میں انہیں ایک سونے کا جہاز بھی دیا تھا۔ ٹرمپ نے تیل کی وجہ سے ان خلیجی ملکوں کی ترقی کو بھی آنکھوں سے دیکھا اور برج العرب، دبئی مال اور برج خلیفہ کو بھی آنکھوں سے دیکھا تو شائد ان کی آنکھیں چندھیا گئیں، اور جس سے ٹرمپ کا دماغ اسی وقت مشرق وسطی پر ٹھہر گیا تھا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دماغی حالت کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ اقتدار اور دولت کے لانچ میں "خبطی” ہو گئے ہیں۔ ٹرمپ کے اس متضاد اور ہر لمحہ بدلتے رویئے سے تنگ آ کر اب ایران بھی جنگ بندی مذاکرات میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہا ہے کیونکہ ایران کو صدر ٹرمپ کے کسی وعدے وعید پر اعتبار نہیں رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے بلواسطہ مذاکرات بھی مکمل کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکے، جس کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چین کا دورہ کیا تاکہ جنگ بندی کی کوششوں میں اسے بھی شامل کیا جا سکے۔ اگرچہ تادم تحریر پاکستان کے وزیراعظم، چیف مارشل اور وزیر خارجہ سعودی عرب میں موجود ہیں اور سیزفائر کے لیئے شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقاتیں کر رہے ہیں جو اب تک مکمل ہو چکی ہوں گی، لیکن چین نے جنگ بندی کے لیئے مئی تک کا وقت دیا ہے، جسے پورا ایک ماہ پڑا ہے۔ کیا اسے چین کی طرف سے دھمکی سمجھا جائے کہ اگر اس دوران بھی سیزفائر نہ ہوا تو پھر چین بھی براہ راست جنگ میں شامل ہو جائے گا؟ یہ حالیہ خلیجی جنگ کا ایک انتہائی خطرناک موڑ ثابت ہو سکتا ہے!

    مشرق وسطی میں پائیدار امن اور جنگی بندی کروانے کا اب صرف ایک ہی حل بچا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے دوران جس متضاد اور غیرسنجیدہ رویئے کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطرناک جارحیت پر قائم و دائم ہیں انہیں امریکی عہدہ صدارت سے ہٹایا جائے، جس کے دو ہی طریقے بچے ہیں کہ اول ان کے خلاف کانگریس میں مواخذہ کی تحریک لائی جائے یا امریکی عوام ایک بار پھر ان کے خلاف احتجاج کرنے کے لیئے سڑکوں پر آ جائیں۔ گزشتہ احتجاج میں امریکی صدر کی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی 50 ریاستوں میں 3 ہزار سے زائد مقامات پر مظاہرے کیے گئے جن میں 70 لاکھ سے زائد عوام نے سڑکوں پر نکل کر سخت احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ٹرمپ کو آمرانہ رجحانات کا حامل اور قانون کا پامال کرنے کا ذمے دار قرار دیا تھا۔ ایک سال میں یہ تیسرا موقع تھا کہ امریکی عوام نے لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنے عدم اعتماد کا اظہار کیا۔

    امریکی عوام کو چایئے کہ وہ جتنا جلدی ہو سکے ڈونلڈ ٹرمپ سے جان چھڑا لے۔ ٹرمپ نے بطور امریکی صدر جو عجیب و غریب اور کسی حد تک مضحکہ خیز رویہ اپنا رکھا ہے وہ کسی بھی وقت امریکی سپریمیسی کا ٹائیٹانیک بحر ہرمز میں ڈبو سکتا یے۔ دنیا بھر میں تجزیئے ہو رہے ہیں کہ یہ بطور "سپر پاور” امریکہ کی آخری جنگ ہے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ امریکی عوام ہی ٹرمپ کی گرتی ہوئی ساکھ کو کرسی صدارت سے تھکا دے کر نیچے اتار دے، اس سے پہلے کہ دنیا امریکی طاقت کی دیوار کو ایران کے ہاتھوں گرتے ہوئے دیکھے۔ امریکی عوام کو امریکہ کے زوال کا یہ بوجھ اپنے کندھوں پر نہیں اٹھانا چایئے۔ اگر ایسا ہوا تو سب سے زیادہ متاثر بھی امریکی عوام ہی ہو گی۔

  • ٹرمپ کیلئے نوبل امن انعام

    ٹرمپ کیلئے نوبل امن انعام

    ٹرمپ کیلئے نوبل امن انعام

    Dubai Naama

    سنہ 2025ء میں پاکستان، اسرائیل، کمبوڈیا، تھائی لینڈ، آذربائیجان اور ریوانڈا جیسے ممالک کے سربراہان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے نوبل انعام کے لیئے نامزد کیا تھا۔ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف بھی ٹرمپ کو امن کا انعام دلانے والے سفارشیوں کی اس فہرست میں شامل ہو گئے تھے، جن کا ماننا تھا کہ دنیا میں امن قائم کرنے کی خدمات انجام دینے پر اس انعام کا سہرا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سر پر سجنا چایئے، حالانکہ امریکی صدر نے اپنی جارحانہ پالیسیوں کے بل بوتے پر ایران کے خلاف دوسری بار جنگ چھیڑ کر دنیا کے امن کو نہ صرف خطرے میں ڈالا ہے بلکہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے کنارے پر بھی لے آئے ہیں۔ اس کے باوجود ان ممالک کی رائے میں ٹرمپ نے دنیا میں جنگیں رکوانے اور امن قائم کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے نوبل انعام کی یہ سفارشات ان ممالک کے سربراہان، سفارت کاروں اور نمائندگان کو 2025ء میں خصوصی طور پر وائٹ ہاوس بلا کر حاصل کیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی 2025ء میں مداخلت کر کے جنگ ضرور بند کروائی تھی لیکن یہ سیز فائر انڈیا کو شدید مار پڑنے پر ہوئی تھی۔انڈیا نے مجبور ہو کر امریکی صدر کو مداخلت کر کے جنگ بندی کروانے کی درخواست کی تھی۔ انڈیا نے محض فیس سیونگ حاصل کرنے کے لیئے امریکی صدر سے درخواست کر کے جنگ بندی کروائی تھی۔

    جنگ دنیا کے کسی مسئلے کا حل پیش نہیں کرتی ہے۔ آخرکار متحارب گروپوں کو فتح یا شکست کی صورت میں جنگ بند کرنا ہی پڑتی ہے اور جنگ بندی مذاکرات کے ذریعے ہو جائے تو یہ جنگی مسئلے کا بہتر حل بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے دونوں متحارب ممالک امن کی حالت میں جا کر ایک دوسرے سے ازسرنو اچھے اور دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی پوزیشن میں آ جاتے ہیں۔ اگر کوئی عالمی طاقت مثلا امریکہ جنگ کا آغاز ہی اس مقصد کے لیئے کرے کہ بعد میں سیزفائر کر کے وہ اس کا کریڈٹ لے گی تو پھر یہ رویہ بدنیتی کے ضمرے میں آتا ہے۔ امریکی صدر کے لیئے ایسی جنگ بندیوں کی ستائش صرف وہی ممالک کر سکتے تھے جن کے امریکہ سے سیاسی و معاشی مفادات وابستہ ہوں یا وہ اس کے قریبی اتحادی ہوں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سیاسی طور پر بہت چالاک امریکی صدر واقع ہوئے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ جب چاہتے ہیں اسرائیل ٹرمپ کی شہہ پر فلسطین اور لبنان پر حملے تیز کر دیتا ہے اور جب امریکی صدر روکتے ہیں تو حملوں میں کمی کر دیتا ہے۔ امریکی صدر نے عزہ میں سیز فائر کا کریڈٹ لیا مگر اسرائیل نے سیزفائر کے دوران بھی غزہ پر بمباری جاری رکھی۔ 2025ء میں اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر بلاوجہ حملہ کیا اور جونہی امریکہ اور اسرائیل کو فیس سیونگ ملی ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔ ٹرمپ نے روس اور یوکرائن کی جنگ بند کروانے کی کوشش کی مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ مارچ 2026ء کے آغاز پر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنے میں پہل کی۔ اب جنگ زوروں پر ہے تو ایران کا بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان ہو چکا ہے تو امریکی صدر یہ بیانات دے رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ بلواسطہ مذاکرات ہو رہے ہیں جس کے بعد جلد دنیا کو سیزفائر کی خوشخبری ملے گی۔

    موجودہ خلیجی جنگ میں پہلی دفعہ دنیا بھر میں توانائی کا اتنا بڑا بحران پیدا ہوا ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں خود امریکی عوام لاکھوں کی تعداد میں ڈونلڈ ٹرمب کے خلاف اور جنگ بندی کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ امریکی صدر اگر اس "بیک فائر” کے دباؤ میں جنگ بندی کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور ایران کی مرضی کے برخلاف جنگ بند ہو بھی جائے تو ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ بندی کا کریڈٹ لینے کی بھی کوشش کریں گے۔

    اس ممکنہ جنگ بندی کی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی جنگ بند بھی نہیں ہوئی اور گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمب نے اپنے لیئے "نوبل پیس پرائز” حاصل کرنے کی تان دوبارہ پڑھنا شروع کر دی ہے۔ امریکی صدر کی خواہش پر ممکن ہے کہ جنگ بند ہو جائے، اور ہونی بھی چایئے کیونکہ دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جس سے امریکہ بھی متاثر ہوا ہے اور عوام جنگ بندی کے لیئے بہت بڑے پیمانے پر سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہے۔ توانائی کے بحران سے پوری دنیا شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ممکن ہے اس سے دنیا میں بہت جلد قیمتوں میں تاریخی اضافہ ہو اور دنیا بھر میں معاشی بحران (ریسیشن) پیدا بھی پیدا ہو جائے، جیسا کہ فلپائن میں پیٹرول پمپ بند ہونا شروع ہو گئے ہیں، جہاں پٹرول کی قیمتوں میں دگنا اضافہ ہوا یے۔

    ٹرمپ کیلئے نوبل امن انعام

    امریکی صدر پر نوبل امن انعام حاصل کرنے کا "جنون” سوار ہے، یہاں تک کہ اس جنگ کے آغاز سے چند دن پہلے انہوں نے ناروے کی نوبل پرائز کمیٹی کے ممبران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ، "میں دیکھتا ہوں کہ وہ مجھے نوبل پرائز کیسے نہیں دیتے ہیں۔” شائد موصوف اس وقت ایران کے ساتھ جنگ چھیڑنے اور پھر اسے بہت زیادہ نقصان پہنچا کر جنگ بند کروانے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ مرزا غالب نے کہا تھا کہ، "شرع و آئین پر مدار سہی، ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی۔

    بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔” اس جنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا حال بھی مرزا غالب کے قاتل جیسا بنتا جا رہا یے۔ گو ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیئے نامزد کرنے والے کچھ ممالک انسانی حقوق اور بدنظمیوں کے مرتکب ہیں اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو تو جنگی جرائم کے الزام میں عالمی عدالت کو بھی مطلوب ہیں لیکن اس کے باوجود ٹرمپ اگر موجودہ جنگ مستقل طور پر بند کروا دیتے ہیں تو انہیں نوبل امن پرائز دے دیا جانا چایئے۔ دنیا کو معاشی دلدل اور تیسری عالمی جنگ میں نہ دھکیلنے کے بدلے ٹرمپ کو یہ انعام دینا اتنا گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔

    کمبوڈیا کے وزیراعظم ہون مانیٹ نے 7اگست 2025ء کو ناروے کی امن پرائز کمیٹی کو خط لکھا کہ ٹرمپ کو نوبل انعام دیا جائے کیونکہ انہوں نے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی پانچ روزہ سرحدی جنگ بندی کروائی جس میں دونوں طرف 40 ہلاکتیں ہوئی تھیں اور 300000 افراد ان ملکوں سے بھاگنے پر مجبور ہوئے تھے۔ آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پیشنیان اور آذربائیجان کے صدر الہام علی ییو نے مشترکہ طور پر 8 اگست 2025ء کو وائٹ ہاوس میں ہونے والی سمٹ کے بعد ٹرمپ کو نوبل پرائز کے لیئے نامزد کیا تھا۔ کانگو اور ریوانڈا کی 8سالہ جنگ کو بھی ٹرمپ نے ان کے درمیان امن معاہدہ کروا کر بند کروایا۔ ڈونلڈ ٹرمپ دعوی کرتے ہیں کہ انہوں نے دنیا میں 8 جنگیں بند کروائیں۔ اگر وہ یہ 9ویں جنگ بھی بند کروا دیتے ہیں تو انسانیت کے مزید خون نہ بہنے کے بدلے انہیں یہ انعام دے دیا جانا چایئے۔ گزشتہ برس صدر ٹرمپ کی وائٹ ہاوس کولیگ کلاوڈا ٹینی نے تو یہاں تک کہا تھا کہ میں نوبل کمیٹی کو تب تک سفارش کرتی رہوں گی کہ جب تک ٹرمپ کو یہ انعام دے نہیں دیا جاتا یے۔

    بہت ساری امریکی شخصیات اور تنظیموں کو بین الاقوامی امن، انسانی حقوق اور مذاکرات میں خدمات پر نوبل امن انعام سے نوازا جا چکا ہے۔ نمایاں امریکی فاتحین میں سابق صدور، ماہرین تعلیم، اور سماجی کارکنان شامل ہیں، جن میں تھیوڈور روزویلٹ، ووڈرو ولسن، جمی کارٹر، باراک اوباما، اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر وغیرہ سرِفہرست ہیں۔ امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ کو 1906ء میں روس جاپان جنگ ختم کرانے میں ثالثی پر یہ انعام ملا تھا اور وہ یہ انعام پانے والے پہلے امریکی صدر تھے۔ ووڈرو ولسن کو 1919ء میں لیگ آف نیشنز کی تشکیل اور پہلی جنگ عظیم کے بعد امن کی کوششوں پر، مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کو 1964ء میں شہری حقوق کی تحریک میں پرامن جدوجہد کے لیئے، جمی کارٹر کو 2002ء میں عالمی تنازعات کے پرامن حل، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیئے دہائیوں کی کوششوں پر اور

    باراک اوباما کو 2009ء میں بین الاقوامی سفارت کاری اور لوگوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے پر نوبل امن انعام دیا گیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ وہ دنیا میں امن کی بحالی اور انسانی حقوق کی خدمات باراک اوبامہ سے زیادہ بہتر طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ اوبامہ کو یہ انعام مل سکتا ہے تو انہیں کیوں نہیں مل سکتا ہے۔ اگر اتنی امریکی شخصیات کو پہلے بھی انعام برائے امن مل چکا ہے تو ٹرمپ کو مل گیا تھا کونسی قیامت آ جائے گی۔ امن انعام کمیٹی موصوف سے پہلے حالیہ جنگ بند کروائے اور حلف نامہ لے کہ ایران پر دوبارہ کبھی حملہ کیا جائے گا اور نہ مشرق وسطی میں ایسی کوئی سازش کی جائے گی کہ جس سے خطے کا امن تباہ ہو جائے۔ نوبل پرائز کے لیئے ٹرمپ اتنے جنونی ہو چکے ہیں کہ اگر مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی شرط رکھی جائے تو امید ہے امن انعام ملنے کے لالچ میں وہ مسئلہ فلسطین بھی حل کرنے پر تیار ہو جائیں گے۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔۔۔!!

  • نہ تیسری عالمی جنگ نہ تیسرا ایٹم بم

    نہ تیسری عالمی جنگ نہ تیسرا ایٹم بم

    نہ تیسری عالمی جنگ نہ تیسرا ایٹم بم

    Dubai Naama

    گزشتہ چند ہفتے اسرائیلی صدر نیتن یاہو کے ہلاک ہونے کی خبریں چلتی رہیں لیکن یاہو زندہ ہے اور ٹرمپ کو اپنی مرضی سے استعمال کرنے کے لیئے دوبارہ منظر عام پر آ گیا ہے۔ شائد اسرائیل کو تحفظ دینے کی کچھ امریکی مجبوریاں بھی ہوں گی مگر یہ پہلا اسرائیلی صدر ہے جس کو ٹرمپ کی صورت میں ایک گٹھ پتلی امریکی صدر مل گیا ہے۔ نتین یاہو ایران پر گزشتہ حملوں کے بعد سے ہمہ وقت پریشان تھا کہ ایران کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا منصوبہ ادھورا جا رہا ہے۔ اس کے بعد نیتن یاہو مسلسل اس کوشش میں تھا کہ ٹرمپ کو ایران پر بھاری حملہ کرنے کے لیئے کس طرح اکسایا جائے۔ بلآخر نیتن یاہو کو ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں وہ مہرہ مل گیا ہے جس کو چابی والے جن کی طرح نیتن یاہو جس طرح چاہتا ہے اسے  استعمال کر رہا ہے۔ اسرائیل پر ایران کی شدید بمباری اور تباہی کے بعد اب اسرائیل نے ٹرمپ کا جنگی بندی بندی والا بٹن دبا دیا ہے۔  

    سابق انگلش ممبر پارلیمنٹ جارج گیلوے نے از راہ تفنن مگر برمحل  کہا تھا کہ، "نیتن یاہو ہلاک ہو گیا ہے تو پھر امریکہ کو کون چلا رہا یے؟” امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ہاتھوں بری طرح استعمال ہوئے اور اتنے استعمال ہوئے کہ یوں لگ رہا تھا جیسے نیتن یاہو ٹرمپ پر ہی نہیں بلکہ اس کی جگہ وہ امریکہ پر بھی حکمرانی کر رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر ایٹمی حملے کا کوئی امکان نہیں تھا لیکن نیتن یاہو کی پوری کوشش تھی کہ امریکہ کو استعمال کر کے ایران کو اتنی ہی بربادی سے دوچار کر دیا جائے کہ جتنی تباہی ایٹم بم لے کر آتا یے۔ یہاں تک کہ اسرائیل کو تیسری عالمی جنگ کے چھڑ جانے کا بھی کوئی ملال نہیں تھا۔ ایک تو یہ دونوں ممالک جنگ کی بھرپور تیاری کے ساتھ ایران پر حملہ آور ہوئے اور ایران کو جانی اور معاشی حوالے سے نقصان پہنچا کر جنگ جیت بھی رہے تھے۔ دوئم، ان دونوں ممالک پر ایسا کوئی دباؤ بھی نہیں تھا کہ اس جنگ سے الٹا ان کی اپنی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔ البتہ اگر ایران کے پاس کوئی بڑا خفیہ ہتھیار ہے تو  بدحواس ہو کر اسے چلا سکتا تھا جو امریکہ اسرائیل کو ایٹمی حملہ کرنے پر مجبور کرتا، جیسا کہ جاپان کے پرل ہاربر پر حملے کے بعد امریکہ نے جنگ عظیم دوم میں جاپان پر یکے بعد دیگرے دو ایٹم بم گرا دیئے تھے۔ لیکن ایران نے جنگ کے آغاز ہی میں ایسی جنگی پالیسی اختیار کی کہ اس نے عالمی جنگ کی طرز پر شروع ہی میں جنگ کو خلیجی ممالک میں پھیلا دیا۔ ایک تو ایران نے جنگ کی وجہ سے اپنے ملک کے اندر کوئی خوف یا افراتفری پیدا نہیں ہونے دی اور دوسرا جس بہادری سے اس نے جنگ کے دوران ایرانی قوم کا مورال بلند رکھا اس سے ایرانی عوام ایک مضبوط اور متحد قوم بن کر ابھری۔ جنگ کے پہلے ہی دن ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کی شہادت سے ایران میں جو صورتحال پیدا ہوئی اس میں مایوسی کی بجائے متحد ہو کر لڑنے کا جذبہ سامنے آیا۔ پھر ایران اس صدمے کی وجہ سے بدحواس نہیں ہوا جسے دیکھ کر قیاس کیا جا سکتا تھا کہ اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو عین ممکن تھا کہ وہ بدحواس ہو کر یا عالم جنون میں آ کر اپنے قریبی دشمن اسرائیل پر ایٹم بم چلا دیتا۔

    نہ تیسری عالمی جنگ نہ تیسرا ایٹم بم

    دنیا میں اس خلیجی جنگ کے بعد اب ایٹم بنانے کے بارے بہت سے ممالک سوچنے لگے ہیں۔ یاد رہے کہ ایٹم بم کو تیار کرنا کافی سارے ترقی یافتہ ممالک مثلا جاپان، جنوبی کوریا، جرمنی، کینیڈا، نیدرلینڈ، سعودی عرب اور ترکیہ وغیرہ کے لیے آسان کام ہے مگر وہ ایٹم بم خود ہی تیار نہیں کرتے۔ ایٹم بم کو اپنی ملکیت میں رکھنا اور اسے سنبھالنا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ زمانہ جدید میں ایٹم بم سے دشمن ملک کو شکست دینے کا کوئی تصور موجود نہیں یے۔ ایٹم بم صرف "بیلنس آف پاور” کو نمایاں کرتا ہے۔ جہاں تک مفروضاتی منظر کشی کی بات ہے تو کسی بھی ملک پر ایٹمی حملے سے اس کے پڑوسی ممالک پر کچھ نہ کچھ برے اثرات ضرور پڑ سکتے ہیں مثلا ریڈیشن کا پھیلاؤ وغیرہ، مگر ان سب خطرات کا تعین اس بات سے طے ہوتا ہے کہ چلائے گئے کسی ایٹم بم کی طاقت اور اثرات کی رینج کیا ہو سکتی ہے اور وہ کہاں گرایا گیا ہے یا ایٹم بم گرنے کے آس پاس کون کونسے، کس نسل اور مذہب کے، اور کتنی طاقتور معیشت کے ممالک واقع ہیں۔

    ایٹم بم کے چلنے کے بعد یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ایٹمی وقوعہ کے مہینوں میں ہواؤں کا رخ ایران اور اسرائیل سے کن ممالک کی طرف ہوتا ہے۔ اسرائیل امریکہ یا ایران کی طرف سے کسی بھی ایٹمی حملے کی صورت میں ہمسایہ ممالک کا اس کے ایٹمی اثرات سے بچنا ممکن نہیں تھا۔ پھر کسی بھی ایٹمی حملے کی صورت میں واشنگٹن سمیت پوری دنیا ایٹمی حملوں کی لپیٹ میں آ سکتی تھی۔ اس لیے ننانوے فیصد یہی چانس تھا کہ امریکہ کسی بھی صورت میں ایران پر تیسرا ایٹم بم نہیں چلائے گا اور نہ ہی اس کی اجازت اسرائیل کو دے گا۔ ہاں اسرائیل اپنا  وجود کھونے کے ڈر سے شاید کچھ بھی کر سکتا تھا۔ لیکن بیک ڈور جنگ بندی اور زیادہ اسرائیلی و امریکی نقصانات کی بناء پر اس کے بھی بہت کم چانسز تھے۔

    جہاں ایٹم بم گرتا ہے اسکے بیس تیس کلومیٹر کے علاقے میں ھولناک اثرات پیدا ہوتے ہیں۔ روسی ایٹمی پلانٹ چرنوبل میں معمولی  ایٹمی خرابی کے اثرات کی مثال سامنے ہے جس سے ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں۔ تیسری عالمی جنگ کی صورت میں تو پوری دنیا ہی ایٹمی جنگ سے آگ کے الاوء میں بدل کر راکھ کا ڈھیر ہو جانی تھی۔ ایٹم بم کی تابکاری بارش، ریڈی ایشن کے  طوفان اور خوفناک ایکو سسٹم کی خرابی کی صورت میں آدھی سے زیادہ دنیا نے اپاہج ہو جانا تھا، گرمی سے عمارات پگل جانی تھی، صحت مند انسانوں کی ہڈیوں سے گوشت یکدم جدا ہو جانا تھا اور سانس لینے سے آنا فانا کینسر پھیل جاتا۔ ناجانے ایک ایٹم کے بعد کتنے مزید ایٹم بم چلنے تھے اور دنیا انسان کے بنائے ہوئے ہتھیاروں ہی سے قیامت صغرا کا منظر پیش کرنے لگنی تھی۔ اول تو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر ایٹمی حملہ کا ذرا برابر بھی امکان نہیں تھا۔ لیکن بنی آدم کی خوش قسمتی ہے کہ اب جنگ بندی کی کوششیں تیز تر ہو گئی ہیں۔

    موسمِ سرما اور بہار کے آغاز میں سائبیریا اور وسطی ایشیا سے آنے والی ہوائیں ایران کے راستے پاکستان (خاص طور پر بلوچستان اور سندھ) میں داخل ہوتی ہیں۔ اگر ایٹمی حملہ ایران کے مشرقی یا وسطی حصوں میں ہوتا، تو یہ ہوائیں تابکار گرد و غبار کو چند گھنٹوں یا دنوں میں پاکستان کے سرحدی علاقوں (تفتان، گوادر، کوئٹہ) اور پھر کراچی تک پہنچا سکتی تھیں۔ یہ ایٹمی گرد و غبار بارش کے ذریعے زمین پر بیٹھ سکتا ہے، جس سے پینے کا پانی، فصلیں اور لائیو اسٹاک شدید متاثر ہو سکتے تھے۔ تمام ایٹمی طاقتوں کی زمہ داری ہے کہ وہ بھی اعلان کریں کہ اگر کسی نے کوئی انتہائی اقدام اٹھانے کی کوشش کی تو پھر اس کی بھی خیر نہیں ہو گی۔ آج کے دور میں بڑق  مشکل ہے کہ کوئی ملک ایٹمی حملہ کر دے کیونکہ اب ہر ملک نے اپنی ایٹمی آبدوزیں ایک دوسرے کے خلاف پانی کے اندر چھپا رکھی ہیں، اس وجہ سے ایران پر ایٹمی حملہ ہونے کا امکان بہت کم تھا۔ ایران کا اپنا آبدوز 15 ماہ تک پانی کے اندر رک سکتا ہے، جس کے بعد اسے مزید ایندھن کی کمک بھی پہنچائی جا سکتی ہے۔

    اگر خدانخواستہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر ایٹمی حملہ کرتے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہنا تھے، کیونکہ ایٹمی دھماکے کے بعد تابکاری ہوا کے ذریعے دور دور تک پھیل سکتی ہے۔ پاکستان اور عرب ممالک پر اثرات ہوا کی سمت، دھماکے کی جگہ اور ایٹمی ہتھیار کی طاقت پر منحصر ہونا تھے۔ یوں سمجھ لیں اگر دھماکہ ایران کے مشرقی علاقوں میں ہو اور ہوا پاکستان کی طرف چل رہی ہو تو بلوچستان کے سرحدی علاقوں تک تابکاری پہنچ سکتی تھی جو پورے پاکستان کو بھی لپیٹ میں لے سکتی تھی۔ اگر ہواؤں کا رخ ایٹم بم کے چلنے کے بعد اسرائیل کی طرف مڑ جاتا تو سمجھ لیں یہ ایٹم بم تباہی و بربادی کے حوالے سے اسرائیل پر چلایا جانا متصور ہوتا۔ لیکن اچھا ہوا کہ پاکستان سمیت مصر، ترکی اور عمان جنگ بندی کی کوششوں میں متحرک ہو چکے ہیں۔ ایٹمی جنگ صرف ایک ملک نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے تباہی لاتی ہے، اس لیے دنیا بھر میں امن پسند طبقات کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ ایسے حالات کبھی پیدا نہ ہوں جب تیسری عالمی جنگ ہو یا خدانخواستہ کسی ملک کو تیسرا ایٹم بم چلانا پڑے۔

  • بیک ڈور جنگ بندی

    بیک ڈور جنگ بندی

    بیک ڈور جنگ بندی

    Dubai Naama

    پنجہ یہود کمزور پڑ گیا ہے۔ اسرائیل نے جونہی تباہی کے مناظر ظاہر کیئے ڈونلڈ ٹرمپ نے پتلی گلی سے نکلنے کی کوشش شروع کر دی۔ جنگ کے دوران نیتن یاہو کی امریکی صدر پر مکمل گرفت تھی جو اب تقریبا ختم ہو چکی ہے۔ حالیہ خلیجی جنگ کے دوران ایک امریکی عہدے دار کا یہ دلچسپ تبصرہ سامنے آیا کہ، "اسرائیل کو ٹرمپ جیسے صدر کو استعمال کرنے کے لیئے 40 سال تک انتظار کرنا پڑا۔” اس  جنگ میں صدر ٹرمپ نیتن یاہو کے ہاتھوں بہت بری طرح استعمال ہوئے۔ امریکی صدر کو ایران کے خلاف غلط معلومات فراہم کی گئی تھیں جو ایران پر جنگ مسلط کرنے کے لیئے ناکافی تھیں۔ اس کے باوجود امریکی، صدر نے اسرائیلی صدر کی شہہ پر ایران پر دھاوا بولنے کی غلطی کی۔ کل جب اسرائیل نے اپنی تباہی کی وڈیوز جاری کرتے ہوئے اقوام متحدہ  کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کرتے ہوئے دنیا بھر سے مدد کی اپیل کی تو جنگ کے نتائج واضح ہو گئے، اور پھر یہ خبر آئی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 5 دن کے لیئے سیزفائر کرنے کے لیئے راضی ہو گئے ہیں۔

    امریکی صدر کی آبنائے ہرمز کو ایران کے قبضے سے چھڑوانے کے لیئے یورپی اور عالمی اتحاد بنانے کی کوشش ناکام ہو گئی تھی۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہد کا بھرم رکھنے کے لیئے جاپان سے اپنا طاقتور ترین بحری بیڑا یو ایس ایس ٹری پولی اور پانچ ہزار امریکی میرین ایران کی طرف روانہ کیئے لیکن ہرمز سے ایران پر حملہ کرنے میں بوجوہ تاخیر کی جو اس خلیجی جنگ کو بند کرنے کی امید لے کر آئی ہے۔ ایران جنگ کے آغاز سے لے کر ابھی تک ایک لمحہ کے لیئے بھی مایوس یا کمزور نظر نہیں آیا۔ ایران ڈونلڈ ٹرمپ کی بار بار کی دھمکیوں اور بلیک میلنگ سے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہوا اور نہ ہی اپنے خلاف جارحیت کا جواب دینے سے پیچھے ہٹا۔

    ایران کی طرف سے معتدل مزاج علی لاریجانی کی جگہ خوفناک سخت گیر حسین دہقان کو سپریم سلامتی کونسل کا سربراہ مقرر کیا جانا امریکہ اور اسرائیل کے لیئے واضح پیغام تھا کہ ایران اپنی بقا کی جنگ پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کرے گا۔ ایران نے یہ تقرری جنگ کے ایک ایسے فیصلہ کن  مرحلے پر کی جب امریکہ آبنائے ہرمز پر بحری حملے کے بعد زمینی حملہ کرنے کی تیاری کر رہا تھا جس میں ایک منصوبہ یہ بھی تھا کہ ایران کی سپریم کونسل اور پاسداران انقلاب کی قیادت کو وینزویلا طرز کا آپریشن کر کے گرفتار کیا جائے اور اغواء کر لیا جائے۔ایران نے اس امریکی جنگی چال کو ناکام بنانے کے لیئے سپریم کونسل کا جارحانہ مزاج لیڈر حسین دہقان کو بنا دیا جس نے 1979ء کے اسلامی انقلاب میں اپنے زمانہ طالب علمی میں 54 امریکی سفارت کاروں کو 15ماہ تک یرغمال بنائے رکھا تھا۔ اس تقرری کے فوراً بعد ایران نے 4000 کلو میٹر دور ڈیگو گارشیا کے فوجی اڈے پر میزائل پھینک دیئے، اسرائیلی ایٹمی تنصیبات پر بمباری کی، جس کے ساتھ ہی امریکہ نے ایران کو اپنا تیل عالمی منڈی میں فروخت کرنے کی اجازت دے دی، اور اس کے فورا بعد پانچ دن کے لیئے عارضی جنگ بندی کا اعلان بھی کر دیا۔

    عالمی نظام کی تبدیلی کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ اگر حالیہ خلیجی جنگ چند ماہ یا چند سالوں کے لیئے بند ہو جاتی ہے تو یہ خطے میں مستقل امن کا پیغام لے کر آئے گی۔ آبنائے ہرمز پر ایران نے فیس وصولی کا نظام متعارف کروا دیا ہے۔ اس سے ایران کا ریاستی نظم مزید مستحکم ہو جائے گا۔ دو بڑی طاقتوں کی شکست بذات خود مستقبل کے امن کی ضمانت ہے. ایران کی مستقل مزاجی نے عرب خلیجی ریاستوں کو بھی نئے دفاعی اتحاد بنانے کے بارے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس سے اسرائیل کا ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا خواب بھی، وقتی طور پر ہی سہی، ماند پڑ گیا ہے کیونکہ ایران نے اسرائیل پر اپنی بقا اور سلامتی کا مضبوط ٹھپہ گاڑ دیا ہے۔

    امریکہ نے پہلی دفعہ کھل کر بے بسی کا اظہار کیا اور گڑگڑا کر آبنائے ہرمز کھلوانے میں دوسروں سے مدد کی اپیل کی۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ سے ایک دن میں ایک ٹریلین ڈالر نکال لیئے گئے اور تاریخ میں پہلی بار امریکی ففتھ جنریشن اسٹیلتھ جنگی طیارہ "F35” کامیابی سے ٹریک، لاک اور ہٹ کیا گیا۔

    مشرق وسطیٰ کے 14 ممالک میں امریکی اڈوں پر ایرانی میزائل و خودکش ڈرونز کے کامیاب حملوں کا سلسلہ دن رات جاری رہا۔ ایران نے چار ہزار کلومیٹر دور امریکی و برطانوی مشترکہ اڈے پر بلیسٹک میزائل سے کامیاب حملہ  کر کے دنیا کے جنگی ماہرین کو حیران کر دیا۔ 

    بیک ڈور جنگ بندی

    ایرانی جوہری پروگرام کے 450 کلوگرام یورینیم سمیت میزائل و ڈرون کے زیرِ زمین شہر اب بھی محفوظ ہیں اور ایران کا عوامی ردعمل بتا رہا ہے کہ اسلامی حکومت مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ ایران کی قومی سلامتی کے امن پسند مشیر کی جگہ اب انتہائی سخت گیر اور ماضی میں اسرائیلی و امریکی اڈوں پر حملوں کا ماسٹر مائینڈ حسین دہقان نے قیادت سنبھال لی۔ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے قبضے میں ہے اور دنیا گواہی دے رہی ہے کہ امریکی فضائیہ اور بحریہ آبنائے ہرمز کھلوانے میں اور ایران کے اندر اہداف حاصل کرنے میں مکمل ناکام ہوئی ہے۔ایرانی حملوں میں اعتراف شدہ 14 امریکی فوجی اور 20 اسرائیلی فوجی مارے گئے جبکہ 260 سے زائد امریکی اور 3000 سے زائد اسرائیلی زخمی ہیں۔ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یمنی مزاحمت کا بحیرہ احمر میں باب المندب بند کرنے کا اعلان متوقع تھا جبکہ دوسری طرف اسرائیلیوں کی ایک بڑی تعداد سمندر کے ذریعے قبرص بھاگ گئی تھی اور بقیہ اسرائیلی رجیم چینج کیلئے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ 

    بلومبرگ کے مطابق 16 امریکی طیارے تباہ ہو چکے تھے اور خلیجی ممالک میں امریکی بینکوں، تکنیکی اداروں اور تیل و گیس کے پلانٹس پر مسلسل حملوں نے مغربی معیشت کو بڑا دھچکا دیا، جسکی وجہ سے تیل کی عالمی قیمتوں میں 26 فیصد اضافہ ہوا اور مزید اضافہ جاری ہے۔ نیٹو فوجی اتحاد اور پورے یورپ نے امریکہ کو سرخ جھنڈی دکھا دی جس سے امریکہ و نیٹو میں دراڑ پڑ گئی اور یورپی ممالک کے بعد سری لنکا جیسے کمزور ملک نے بھی امریکہ کو اڈے دینے سے انکار کر دیا۔ ٹرمپ سمیت امریکہ کی مقبولیت میں واضح کمی ہوئی اور امریکی انتظامیہ میں بڑے پیمانے پر احتجاجاً استعفیٰ دینے کا سلسلہ جاری ہو گیا۔

    لبنانی مزاحمت کا اسرائیل پر ایک دن میں تاریخ میں سب سے زیادہ 55 حملے ریکارڑ ہوئے ہیں اور اطلاعات آئی ہیں کہ حملوں کی شدت میں مزید اضافہ ہونے والا تھا۔

    امریکی میڈیا نے اعتراف کیا کہ مشرق وسطیٰ میں 100 ارب سے زائد ڈالر مالیت کے ریڈار تباہ ہوئے ہیں اور قطر میں گیس تنصیبات پر حملوں سے امریکہ کو الگ سے سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ بحرین میں امریکی نیوی کا 5واں فلیٹ ہیڈکوارٹر تباہ ہو چکا تھا جبکہ امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس فورڈ میں ایرانی حملے (جسے امریکہ نے فوجی تھکاوٹ اور بغاوت کا نام دیا) کے بعد 30 گھنٹے سے زائد آگ لگی رہی جس میں تین فوجی زخمی ہوئے جو بعد میں مرمت کیلئے یونان روانہ کیا گیا اور یو ایس ایس ابراہیم لنکن ایرانی حملے کے بعد 1000 کلومیٹر پیچھے فرار ہونے پر مجبور ہوا۔

    جبکہ پولینڈ، اٹلی، فرانس اور نیٹو افواج نے عراق سے مکمل انخلا کر دیا تھا جبکہ پاکستان، روس اور چین سمیت پوری دنیا کی عوام نے کھل کر ایران کی حمایت کی۔

    ستر ہزار امریکی شہری اور فوجی مشرق وسطی سے فرار ہو کر امریکہ پہنچ گئے۔ ٹرمپ نے خلیجی ریاستوں سے ایران پر حملے کے عوض 5 ٹریلین ڈالر مانگ لیئے۔

    پوری دنیا میں شیعہ سنی اتحاد قائم ہوا ہے اور استکبار و استعمار کا دیرینہ "لڑاؤ اور حکومت کرو” (Divide and Rule) والا خواب چکنا چور ہو گیا ہے۔ مجبورا امریکہ کو چالیس سال کے بعد روسی و ایرانی تیل سے پابندیاں ہٹانی پڑی ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کے اربوں ڈالر کے معاشی و فوجی اثاثے اب تک تباہ ہو چکے ہیں جبکہ دوسری طرف بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے ایران کو 2 ملین ڈالر ٹول ٹیکس چائنیز کرنسی یوآن میں اب تک ادا کیا جا چکا ہے۔

    اس خلیجی جنگ کو جو روکنا چاہ رہے تھے یا اور جو کرانا چاہ رہے تھے وہ سب امریکی کیمپ کا حصہ تھے جبکہ ایران کے کیمپ میں موجود روس اور چین سمیت کوئی بھی صلح صفائی کی بات نہیں کر رہا تھا اور نہ ہی انہیں جنگ روکنے کی کوئی اتنی جلدی تھی۔ امریکہ یہ بات سمجھ گیا تھا کہ یہ محوری طاقتیں دہرا معیار اپنا کر کیا حاصل کرنا یا کسے گرانا چاہتی ہیں؟ اس وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد کی طرف دیکھا اور پھر مستقل  جنگ بندی کی بیک ڈور پالیسی کا آغاز کر دیا۔

    ۔

  • ایران پر امریکہ اور جی7 کے دباؤ کی حقیقت

    ایران پر امریکہ اور جی7 کے دباؤ کی حقیقت

    ایران پر امریکہ اور جی7 کے دباؤ کی حقیقت

    Dubai Naama

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جی7 ممالک نے مشترکہ طور پر بتایا ہے کہ ایران ہتھیار ڈالنے والا ہے۔ دنیا کی سات بڑی اور ترقی یافتہ معیشتیں "جی7” کہلاتی ہیں، جن میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریک شامل ہیں۔ امریکہ بجٹ اور دفاعی  اعتبار سے بڑا ملک ضرور ہے لیکن یہ امریکہ ہی ہے جو دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک بھی ہے۔ امریکہ کا مجموعی قومی قرضہ مئی 2025 تک 36.2 ٹریلین ڈالر (36 ہزار 200 ارب ڈالر) سے تجاوز کر گیا تھا، جو ملک کی تاریخی بلندی تھی۔ یہ قرض ملک کی کل جی ڈی پی سے بھی زیادہ بنتا ہے اور مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک ہے یعنی اس وقت بھی امریکہ کا کل قرضہ 36.2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے  جس کے 36,200,000,000,000 اعداد ہیں۔ یہ امریکہ کا قومی قرضہ ہے۔ ایران پر  12,840,000,000 ڈالر کا بیرونی قرضہ ہے۔ ایران پر امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے مختلف نوعیت کی پابندیاں تقریباً 45 سال (1979 کے انقلاب ایران) سے عائد ہیں، جن میں شدت اور نرمی آتی رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی 8 سالہ میزائل پابندیاں 18 اکتوبر 2023 کو ختم ہوئیں۔ تاہم امریکی یکطرفہ اقتصادی اور عسکری پابندیاں ایران پر اب بھی جاری ہیں، اور اسے امریکہ و اسرائیل کی جنگ کا بھی سامنا ہے۔ اس  وجہ سے ایران کی کرنسی کی قدر نہ ہونے کے برابر ہو گئی ہے۔ ایک امریکی ڈالر 1,321,725.00 ایرانی ریال کا ہے، جو الفاظ میں تیرہ لاکھ ایرانی ریال سے زیادہ بنتے ہیں۔ ایران میں بکنے والے باغیوں کی کمی نہیں ہے جو ایرانی ٹاپ لیڈرشپ کی مخبری کرنے میں بھی ملوث رہے ہیں جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کی شہادت بھی سرفہرست ہے۔ اگر پیسے سے ملکوں کی غیرت خریدی جا سکتی تو جتنی ایرانی کرنسی ڈؤن ہے اس سے چند سو ایرانی غدار تو کیا پورا ملک ہی خریدا جا سکتا ہے، پھر جنگوں کی ہار جیت یا ہتھیار پھینکنے کا تعلق ملکی معیشت یا ترقی یافتہ ہونے پر ہو تو افغانستان میں روس اور امریکہ کو افغانیوں سے ہتھیار ڈلوانے کے لیئے دہائیوں تک ناک رگڑنے کی کیا ضرورت تھی۔

    بلاشبہ "گروپ آف سیون” دنیا کی سات بڑی ترقی یافتہ اور صنعتی ممالک کی ایک غیر رسمی تنظیم ہے۔ یہ  ایک بااثر بین الاقوامی فورم ہے۔ یہ ممالک عالمی دولت کا 58 فیصد اور خام ملکی پیداوار کا بڑا حصہ رکھتے ہیں، جو عالمی معاشی پالیسیوں، سلامتی اور اہم بین الاقوامی مسائل پر سالانہ اجلاس کے ذریعے مشترکہ لائحہ عمل طے کرتے ہیں۔ ان ممالک کو دنیا کی سب سے بڑی آئی ایم ایف یعنی ترقی یافتہ معیشتوں کے طور پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے، جو عالمی سیاست اور اقتصادیات میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ جی7 فورم 1975ء میں قائم ہوا تھا۔ جس طرح آج ایران کے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتوں میں حد درجہ اضافہ ہوا ہے، 1975 میں بھی دنیا کو معاشی بحرانوں اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا تھا۔ ہرمز کی تنگ آبی گزرگاہ پر ایران کو مکمل کنٹرول حاصل ہے جو دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے روزانہ عالمی کھپت کا تقریباً 20 فیصد سے 25 فیصد تک تیل گزرتا ہے۔ اس گزرگاہ میں ایران نے بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں جن میں وہ مزید اضافہ کر رہا ہے۔ اس کی خطرناک بندش کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زائد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے برینٹ کروڈ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر کے 103 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بھی 98 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہے، جو 2020ء کے بعد سے سب سے زیادہ اضافہ ہے۔

    ایران پر امریکہ اور جی7 کے دباؤ کی حقیقت

    ابتدائی طور پر یہ گروپ 6 ممالک پر مشتمل تھا، لیکن جلد ہی کینیڈا کی شمولیت سے یہ جی7 بن گیا۔ اس فورم کا مقصد دنیا کے اہم معاشی اور سیاسی مسائل پر بات چیت اور مشترکہ حل تلاش کرنا بھی تھا۔ ایران کی جنگی پالیسی سے واضح ہوتا ہے کہ وہ بحر ہرمز کی بندش کو ایک عالمی معاشی اور سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ میر تقی میر کے اس شعر کہ، "ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا”، ڈونلڈ ٹرمپ نے چین اور روس کو دہائی دی ہے کہ وہ ایران سے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیئے اس کی مدد کریں۔ایران چند ہفتے یا مہینوں  آبنائے ہرمز کو بند رکھے رہنے میں کامیاب رہا اور امریکہ اسرائیل نے بھی ایران حملے کرنے جاری رکھے اور "سیز فائر” نہ ہوئی تو دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی اور دنیا بھر کو تاریخ کا سب سے بڑا معاشی بحران دیکھنا پڑے گا۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ کچھ ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے جنگی بحری جہاز بھیج رہا ہے، اور پھر بشمول فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سے درخواست کی کہ وہ بھی اپنے بحری جہاز بھیجیں۔ حد تو یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیئے ڈونلڈ ٹرمپ نے چین اور روس سے بھی مدد مانگ لی، جو جنگ میں ایران کے حلیف ہیں، جبکہ چین روس سے بذریعہ زمین تیل بھی لے رہا ہے، اور امریکہ کی ٹکر کی ان دونوں عالمی طاقتوں کو تیل کی اتنی کوئی مجبوری بھی نہیں ہے۔

    امریکی صدر نے اسی دوران یہ بیان بھی جاری کیا کہ "ہم نے ایران کی فوجی صلاحیت کا 100 فیصد تباہ کر دیا ہے۔” آبنائے ہرمز میں عالمی مدد لینے کے لیئے ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران ہرمز کے قریب ہونے کی وجہ سے وہاں میزائل بھی مار سکتا ہے اور بارودی سرنگیں بھی بڑھا سکتا ہے۔ اگر ایران کی طاقت کو سو فیصد ختم کر دیا گیا ہے تو پھر دنیا کو کسی قسم کے معاشی بحران کا خطرہ نہیں ہونا چایئے۔ امریکی صدر یہ حربے ایران پر صرف نفسیاتی دباؤ بڑھانے کے لیئے استعمال کر رہے ہیں۔

    اگرچہ دنیا کے اقتصادی استحکام، بین الاقوامی سلامتی، توانائی کی پالیسیوں، جمہوریت، انسانی حقوق اور ترقیاتی معاونت جیسے امور میں جی7 کے ممالک اہم کردار ادا کرتے ہیں، دنیا بھر میں ان کا معاشی اثر و رسوخ ہے اور یہ ممالک عالمی دولت کا اٹھاون فیصد اور عالمی جی ڈی پی کا بہت بڑا حصہ بھی رکھتے ہیں لیکن  جنگ تو جنگ ہے جس کا تعلق فتح اور شکست سے ہوتا ہے۔ پھر ویت نام جیسی امریکی جنگ کی طرح بعض جنگیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کا تعلق ہار جیت کی بجائے ان سے نکلنے والے نتائج اور اثرات سے ہوتا ہے۔ اس جنگ میں جہاں امریکہ کو اپنے ہی ملک میں "بیک فائر” ہو رہا ہے وہاں پوری دنیا تیل کی قیمتوں میں اضافے اور معاشی بحران کا الزام امریکہ اور اسرائیل کو دے رہی ہے کیونکہ بے بنیاد الزامات لگا کر اس جنگ کی ابتداء امریکہ اور اسرائیل ہی نے کی تھی۔ 

    جی7 کے اجلاسوں میں یورپی یونین بھی ایک مہمان کی حیثیت سے شرکت کرتی ہے، جس سے اس کی عالمی اہمیت کا وزن بڑھتا ہے لیکن حالیہ برسوں میں، جی7 نے مشرق وسطیٰ کے تنازعات، ایران کے ایٹمی پروگرام، یوکرین روس جنگ، اور چین کے ساتھ تعلقات جیسے اہم معاملات پر مشترکہ بیانات جاری کیے ہیں۔ یہ گروپ عالمی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اسرائیل جیسے اتحادیوں کی حمایت اور ایران کی پالیسیوں پر تنقید کرتا رہا ہے۔

    جی7 دنیا کی سات بڑی ترقی یافتہ طاقتوں کا ایک اہم اتحاد ضرور ہے لیکن اس کا حالیہ کلیدی سیاسی کردار جنگ میں ایران کی مخالفت اور امریکہ اسرائیل کے حلیف جیسا ہے۔ کینیڈا میں ہونے والی حالیہ سمٹ میں ایران کو عدم استحکام کا سبب قرار دیتے ہوئے جی7 نے اپنے مشترکہ بیان میں اسرائیل کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اب اسی پس منظر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے جی7 کے طاقتور وجود کو ایران کے خلاف ایک اور نفسیاتی دباؤ کے طور پر استعمال کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران عنقریب  ہتھیار پھینک دے گا یعنی وہ اپنی شکست تسلیم کر لے گا۔

  • فیصل بن فرحان آل سعود کی برمحل نشاندہی 

    فیصل بن فرحان آل سعود کی برمحل نشاندہی 

    فیصل بن فرحان آل سعود کی برمحل نشاندہی 

    Dubai Naama

    بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن کا پرچار کرتے ہیں۔ موصوف نے دنیا کی سات جنگیں بند کروانے کا دعوی کیا۔ وہ امن کا نوبل انعام لینے کے خواہش مند رہے۔ انہوں نے مشرق وسطی میں امن بحالی کے لیئے "غزہ امن بورڈ” بھی بنایا، جس کے وہ تن تنہا تاحیات صدر بن بیٹھے۔ اس کے ساتھ ہی جنیوا میں ایران سے ہونے والے امن مذاکرات کے عین درمیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 فروری کو نیتن یاہو سے مل کر ایران پر حملہ بھی کر دیا، اور موقف یہ اختیار کیا کہ وہ ایسا کر کے خطے میں امن بحال کرنے کے خواہاں ہیں۔ امریکی صدر کے اس امن پسند چہرے کو دنیا نے اچھی طرح پہچان لیا ہے کہ یہ کتنا حقیقی چہرہ ہے۔ کیا اس چہرے کے پیچھے خود ڈونلڈ ٹرمپ بولتے ہیں؟ ڈونلد ٹرمپ  کہہ سکتے ہیں کہ وہ یہودیوں کے ہاتھ استعمال نہیں ہوئے ہیں۔ شائد ڈونلڈ ٹرمپ پہلے امریکی صدر ہیں جو اپنے چہرے پر امن کا ماسک چڑھائے بغیر دنیا میں امن بحال کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ یہ جنگ کے ذریعے انسانی خون بہانے اور امن کے درمیان ایک مدھم اور بلکل نازک سی لکیر ہے۔ ایران پر مسلط کی گئی موجودہ جنگ کی روشنی میں، اب یہ راز پوری دنیا پر کھل گیا ہے کہ امریکی صدر امن کی بحالی کی آڑ میں امن پسندی کے کتنے بڑے دشمن ہیں۔ اس جنگ کے بعد انہوں نے دنیا بھر کو ایک بڑی اور ہولناک تباہی کے کنارے پر لا کھڑا کیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے امن کے نام پر سلامتی کونسل میں اسرائیل کے حق میں  حسب روایت ایک بار پھر جنگ بندی کو ویٹو بھی کیا۔ اس جنگی حکمت عملی کو ” عالمی دہشت گردی”  کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ اسرائیل کی سلامتی اور بقا چاہتے ہیں جس کا وزیراعظم نیتن یاہو ہیگ میں عالمی عدالت انصاف کا جنگی سزا یافتہ مفرور مجرم ہے۔ ایک سابق امریکی میرین کے بقول یہ جنگ ظلم، ناانصافی اور بربریت کی انتہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "اسکول پر پہلے حملے کے بعد، جو بچے بچ گئے تھے، ان کے ماں باپ کو بلایا گیا، جب وہ اکٹھے ہو گئے تو ان پر بمباری کر دی گئی۔” ان کے مطابق، "امریکہ نے جنگ کے پہلے دن ایک ایسے مرکز پر چار کروز میزائل داغے تھے جسے انقلابی گارڈ کمانڈ نے جنگ شروع ہونے سے بہت پہلے خالی کر دیا تھا۔ تین میزائل خالی گوداموں پر لگے، ان میزائلوں میں سے چوتھا میزائل اس مقام کے اوپر منڈلا رہا تھا، معلومات جمع کر رہا تھا اور نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے معلومات واپس بھیج رہا تھا۔ لیکن اسرائیل امریکہ نے جس مقام کو نشانہ بنایا تھا، انہوں نے دیکھا کہ وہاں انسانوں کی بڑی تعداد جمع ہو رہی ہے، لوگ اس جگہ کی طرف دوڑ رہے ہیں، تو انہوں نے اس چوتھے میزائل کو حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ میزائل اوپر گیا، پھر نیچے آیا اور ان بچوں اور والدین کو جا لگا۔ اس میزائل میں ایک تھرمو بیریک ہتھیار، یعنی فیول ایئر ایکسپلوسیو تھا۔ چنانچہ انہوں نے بٹن دبایا اور اس اضافی ایندھن کو تھرمو بیریک ہتھیار میں تبدیل کر دیا۔ جن لوگوں کو وہ بھاگتے ہوئے دیکھ رہے تھے، وہ دراصل وہ بچے تھے جو ابتدائی حملے میں بچ گئے تھے۔ انہوں نے اس تھرمو بیریک کروز میزائل کو بم میں بدل دیا، اور ان بچوں جن میں زیادہ تر لڑکیاں تھیں کو زندہ جلا دیا۔ اس سے 170 طالبات، بچے اور ان کے والدین قتل ہو گئے۔ یہ امریکی میرین کہتا ہے، "تم قاتل ہو اور جنگی مجرم ہو۔” لیکن امریکی صدر ٹرمپ اب بھی اپنے اوپر امن پسندی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں۔

    فیصل بن فرحان آل سعود کی برمحل نشاندہی 

    امریکی صدر کی خواہش ہے کہ دنیا کے سارے ممالک ان کی مرضی کے مطابق چلیں, اسکے غلام بن کر رہیں,جو ملک اسکی غلامی سے انکار کر دے تو پھر وہ ایک دم امن کیلیے خطرہ بن جاتا ہے۔ عالی مقام، امریکی صدر کو بس یہی ایک بہانہ چایئے جس کے بعد وہ امن کے نام پر اس کے اوپر چڑھ دوڑتے ہیں۔

    مشرق وسطی کے عرب مسلم ممالک ٹرمپ کا آسان ٹارگٹ ہیں جن کو قابو کرنے کے لیئے امن کی آڑ میں پہلے ٹرمپ نے ان ممالک سے اڈے لیئے اور انہیں اربوں ڈالر کا اسلحہ بیچا اور اب ایران کے خلاف ان کی حفاظت کی بجائے اسرائیل کو بچانے کے لیئے اپنی طاقت استعمال کر رہے ہیں۔ ایک عرب فیصل بن فرحان آل سعود نے اس صورتحال پر بڑی برمحل بات کہی کہ، "36 سال تک ہمیں یقین دلایا جاتا رہا کہ امریکی اڈے ہماری حفاظت کے لیے ہیں مگر پہلی جنگ میں ہی ہمیں معلوم ہوا کہ دراصل ہم ہی ان کی حفاظت کر رہے تھے۔”. ایران کے خلاف اسرائیل امریکہ کی سیاست میں یہ جملہ میزائلوں سے زیادہ اثر رکھنے والا ہے، جو خلیجی ممالک کی آنکھیں کھولنے کے لیئے کافی ہے۔ 

    کبھی کبھی ایک مختصر سا اعتراف بھی دہائیوں کی دفاعی اور سیاسی پالیسیوں پر سوالیہ نشان بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ ان دنوں فیصل بن فرحان آل سعود کا بیان عرب دنیا کے سیاسی ایوانوں کو امریکہ کے بارے اپنی پالیسیاں ازسرنو مرتب کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ یہ محض ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ اس تاریخ کا آئینہ ہے جس میں دیکھ کر عرب حکمرانوں نے اپنی سلامتی کی ذمہ داری امریکہ اور ٹرمپ جیسے بے وفا صدر کے کندھوں پر ڈال کر خود کو مطمئن رکھنے کی ناکام کوشش کی، اور جب خلیجی اتحادی ممالک کی حفاظت کا وقت آیا تو امریکی نے اس جنگ میں خطے میں امن قائم کرنے کے نام پر مسلم بردار ممالک کو آپس میں لڑانے کے لیئے اکیلا چھوڑ دیا۔

  • ایران پر اسرائیلی حملے 

    ایران پر اسرائیلی حملے 

    ایران پر اسرائیلی حملے 

    Dubai Naama

    اسرائیل نے ایران پر تین فضائی حملے کیئے ہیں۔اس وقت تہران میں اسرائیلی فضائی حملوں کی دوسری لہر جاری ہے جبکہ ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر کے دفتر کے قریب دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تہران میں موجود نہیں اور انہیں ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    اس وقت بھی تہران میں اسرائیلی فضائی حملوں کی دوسری لہر جاری ہے اور ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر کے دفتر کے قریب بمباری ہو رہی ہے۔ ایران پر یہ اسرائیلی حملہ ایران کو جوابی حملہ کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ اس حملے سے قبل  امریکی سفارت خانے کے عملے کو اسرائیل سے فوری انخلاء کا حکم دیا گیا تھا، جبکہ اسرائیل نے ایران کے جوابی حملے کے پیش نظر سکول بند کر دیئے ہیں، اجتماعات پر پابندی لگا دی ہے اور عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ اب کسی بھی وقت امریکہ بھی اس جنگ میں کود پڑے گا۔ 

    عراق کی جانب سے بھی اسرائیل نے ایران پر میزائیل داغے ہیں۔ ایران پر اسرائیل کا حملہ ہوا ہےتو اب ظاہر ہے کہ ایران کا پہلا ٹارگٹ اسرائیل ہی ہو گا۔ ایران کے بیلسٹک میزائل کافی خطرناک ہیں۔ ان ایرانی میزائلوں کے بارے اسرائیلی میڈیا بھی کافی بدگمانیاں پھیلاتا رہا ہے۔ اسرائیل کا خیال رہا ہے کہ گنتی کے صرف چند ایرانی بیلسٹک میزایل ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے ایٹم بموں کے برابر آرسینل برسا سکتے ہیں۔ اگر یہ بات سچ ہے تو  امریکہ بھی بہت جلد اس جنگ میں شامل ہونے جا رہا ہے۔ امریکہ کا لاو’لشکر پہلے ہی خلیج فارس میں موجود ہے۔ جب امریکہ اور اسرائیل مل کر ایران پر حملہ کریں گے، تو حملہ کافی بھرپور ہو گا تاکہ اسرائیل پر ایران کو خطرناک جوابی حملہ کرنے کا موقعہ نہ مل سکے۔   

    اسرائیلی وزیراعظم وقفے وقفے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر حملے کے لیئے اکساتے رہے ہیں۔ واشنگٹن میں امریکی صدر سے اپنی آخری ملاقات میں بھی نیتن یاہو نے انہیں ایران پر فوری حملہ کرنے کے لیئے ترغیب دی تھی۔ نتین یاہو کا یہ رویہ "آ بیل مجھے مار” والا تھا۔ ایک شاعرانہ محاورہ ہے کہ، "ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔” ایران پر اسرائیلی حملے بعد ایران کے لیئے تختہ یا تختے والا معاملہ پیدا ہو گیا ہے۔ ایران کے ساتھ ہجر جیسا امریکی رومانس 1979 سے شاہ ایران کا تختہ الٹنے سے چلا آ رہا تھا لیکن اب یہ شاعرانہ رومانس ” جنگی وصل” میں گیا ہے۔

    ایران پر اسرائیلی حملے 

    ایران خلیج فارس میں روس اور چین کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقیں کرتا رہا ہے۔ امریکی جنگی جہاز ایف22 اسرائیلی اوودا اڈے کے رن وے پر تیار کھڑے دیکھے گئے تھے، جبکہ مزید سی17 کارگو جہاز میزائل لے کر اسرائیل اترے تھے۔ تل ابیب بن گوریان اڈے پر بھی 20 سے زائد امریکی ایئر ریفیولنگ ٹینکرز جہاز دیکھے گئے تھے جو جنگی لڑاکا جہازوں کو فضا میں ایندھن بھرتے ہیں۔ اسرایلی جنگی طاقت کا جن بوتل سے باہر آ چکا ہے۔ اب روس، چین اور شمالی کوریا بھی امریکہ کی سپر طاقت کے غبارے سے ہوا نکالنے کے لیئے بیتاب ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس جنگ میں چین کھل کر ایران کی مدد نہیں کرے گا کیونکہ امریکہ کے ساتھ اس کی اربوں ڈالرز کی تجارت ہے۔ لیکن آج کے دور میں جنگ سرمایہ کاری سے زیادہ بڑا ذریعہ آمدن ہے۔ یہ جنگ جو بھی رخ اختیار کرے چین کو تجارت کے لیئے نئی عالمی منڈیاں ملنے کا بھی امکان ہے۔ اس سے زیادہ چین کے لیئے یہ بات اہم ہے کہ امریکہ کو شکست یا رسوائی ہوتی ہے تو اس کے بدلے چین کو سپر پاور کے طور پر امریکہ کے مقابلے میں برتری حاصل ہو جائے گی۔ سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ روس پہلے ہی چین کی پشت پر کھڑا ہے۔ امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے میں تاخیر کے پیچھے یہ بنیادی وجہ شامل ہے کہ اگر امریکہ کو ویت نام اور افغانستان کی طرح ایران میں شکست ہوئی تو اس کا سپر پاور رہنے کا خواب تحلیل ہو جائے گا۔ ایران کے ایٹمی طاقت ہونے کے بارے میں بھی کچھ ایسی ہی اطلاعات ہیں۔ یوں چین ایران کی ہمہ وقت جنگی مدد کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرے گا۔ یہاں تک کہ امریکی حملے میں تاخیر کے پیش نظر ایران کو بھی بعض شعلہ بیان سیاسی تجزیہ کار میڈیا پر سپر پاور کے طور پر دکھاتے رہے ہیں، جو اسرائیل کے وجود کے لیئے انتہائی خطرناک موڑ ہے۔

    ٹرمپ کے قریبی حلقوں کا خیال تھا کہ اگر ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کا امکان زیادہ ہے۔ خطے میں اس جنگ کے آغاز سے پہلے 11 ممالک کی اپنے شہریوں کو مشرق وسطیٰ کے سفر میں محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ متعدد ممالک نے مشرق وسطیٰ کے بعض مقامات سے سفارت کاروں کے اہل خانہ اور غیر ضروری عملے کو نکالنے کا عمل شروع کر دیا تھا یا اپنے شہریوں کو ایران کے سفر سے گریز کا مشورہ دیا تھا۔ اسرائیلی فوج کی ترجمان ایلا واویہ نے کہا تھا کہ اسرائیلی فورسز نے لبنان کے اندر بعلبک کے علاقے میں حزب اللہ کی "رضوان فورس یونٹ” سے وابستہ آٹھ کیمپوں پر بمباری کی تھی۔ نشانہ بنائے گئے کیمپوں کو جنگی سازوسامان، اسلحہ اور میزائل ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ اسرائیلی حملہ ایران پر حملے کی صورت میں حزب اللہ کے ردعمل کو روکنے کے لیئے کیا گیا تھا۔ عرب ذرائع کے مطابق اگر ایران پر امریکی حملے محدود ہوئے، تو حزب اللہ کا موقف فوجی مداخلت نہ کرنا ہے۔ لیکن اگر ان کا مقصد ایرانی نظام کو گرانا یا رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ذات کو نشانہ بنانا ہوا تو حزب اللہ تب مداخلت کرے گی جس کا نشانہ براہ راست اسرائیل ہو گا۔ 

    اسرائیل کے خیال میں تو ایران پر امریکی حملہ اسرائیلی بقا اور سالمیت کو مستحکم کرے گا لیکن ایران کو اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد سنھبلنے کا موقعہ مل گیا تو اسرائیل کے صفحہ ہستی سے مٹنے کا موقعہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ امریکی انٹیلیجنس کے پاس جو خفیہ اطلاعات ہیں وہ اسرائیل کے لیئے کافی تشویشناک ہیں۔ امریکہ ایران پر حملہ کر کے جنگ جیت لے یا ہار جائے دونوں صورتوں میں ایران اور اس کے اتحادیوں کا سارا نزلہ اسرائیل پر گرے گا۔ خطے میں ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ نے جو جنگ چھیڑی ہے، اس کا ممکنہ نتیجہ فیصلہ کن ہو گا، اور ایران پر اسرائیل امریکہ حملہ فیصلہ کن ہو گا اور اسرائیل کے خلاف ایران جو "لونگ ویٹڈ” حملہ کرے گا وہ بھی فیصلہ کن ہی ہو گا۔

    Read in English Israeli Offensives Directed at Iran