بیک ڈور جنگ بندی
پنجہ یہود کمزور پڑ گیا ہے۔ اسرائیل نے جونہی تباہی کے مناظر ظاہر کیئے ڈونلڈ ٹرمپ نے پتلی گلی سے نکلنے کی کوشش شروع کر دی۔ جنگ کے دوران نیتن یاہو کی امریکی صدر پر مکمل گرفت تھی جو اب تقریبا ختم ہو چکی ہے۔ حالیہ خلیجی جنگ کے دوران ایک امریکی عہدے دار کا یہ دلچسپ تبصرہ سامنے آیا کہ، "اسرائیل کو ٹرمپ جیسے صدر کو استعمال کرنے کے لیئے 40 سال تک انتظار کرنا پڑا۔” اس جنگ میں صدر ٹرمپ نیتن یاہو کے ہاتھوں بہت بری طرح استعمال ہوئے۔ امریکی صدر کو ایران کے خلاف غلط معلومات فراہم کی گئی تھیں جو ایران پر جنگ مسلط کرنے کے لیئے ناکافی تھیں۔ اس کے باوجود امریکی، صدر نے اسرائیلی صدر کی شہہ پر ایران پر دھاوا بولنے کی غلطی کی۔ کل جب اسرائیل نے اپنی تباہی کی وڈیوز جاری کرتے ہوئے اقوام متحدہ کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کرتے ہوئے دنیا بھر سے مدد کی اپیل کی تو جنگ کے نتائج واضح ہو گئے، اور پھر یہ خبر آئی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 5 دن کے لیئے سیزفائر کرنے کے لیئے راضی ہو گئے ہیں۔
امریکی صدر کی آبنائے ہرمز کو ایران کے قبضے سے چھڑوانے کے لیئے یورپی اور عالمی اتحاد بنانے کی کوشش ناکام ہو گئی تھی۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہد کا بھرم رکھنے کے لیئے جاپان سے اپنا طاقتور ترین بحری بیڑا یو ایس ایس ٹری پولی اور پانچ ہزار امریکی میرین ایران کی طرف روانہ کیئے لیکن ہرمز سے ایران پر حملہ کرنے میں بوجوہ تاخیر کی جو اس خلیجی جنگ کو بند کرنے کی امید لے کر آئی ہے۔ ایران جنگ کے آغاز سے لے کر ابھی تک ایک لمحہ کے لیئے بھی مایوس یا کمزور نظر نہیں آیا۔ ایران ڈونلڈ ٹرمپ کی بار بار کی دھمکیوں اور بلیک میلنگ سے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہوا اور نہ ہی اپنے خلاف جارحیت کا جواب دینے سے پیچھے ہٹا۔
ایران کی طرف سے معتدل مزاج علی لاریجانی کی جگہ خوفناک سخت گیر حسین دہقان کو سپریم سلامتی کونسل کا سربراہ مقرر کیا جانا امریکہ اور اسرائیل کے لیئے واضح پیغام تھا کہ ایران اپنی بقا کی جنگ پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کرے گا۔ ایران نے یہ تقرری جنگ کے ایک ایسے فیصلہ کن مرحلے پر کی جب امریکہ آبنائے ہرمز پر بحری حملے کے بعد زمینی حملہ کرنے کی تیاری کر رہا تھا جس میں ایک منصوبہ یہ بھی تھا کہ ایران کی سپریم کونسل اور پاسداران انقلاب کی قیادت کو وینزویلا طرز کا آپریشن کر کے گرفتار کیا جائے اور اغواء کر لیا جائے۔ایران نے اس امریکی جنگی چال کو ناکام بنانے کے لیئے سپریم کونسل کا جارحانہ مزاج لیڈر حسین دہقان کو بنا دیا جس نے 1979ء کے اسلامی انقلاب میں اپنے زمانہ طالب علمی میں 54 امریکی سفارت کاروں کو 15ماہ تک یرغمال بنائے رکھا تھا۔ اس تقرری کے فوراً بعد ایران نے 4000 کلو میٹر دور ڈیگو گارشیا کے فوجی اڈے پر میزائل پھینک دیئے، اسرائیلی ایٹمی تنصیبات پر بمباری کی، جس کے ساتھ ہی امریکہ نے ایران کو اپنا تیل عالمی منڈی میں فروخت کرنے کی اجازت دے دی، اور اس کے فورا بعد پانچ دن کے لیئے عارضی جنگ بندی کا اعلان بھی کر دیا۔
عالمی نظام کی تبدیلی کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ اگر حالیہ خلیجی جنگ چند ماہ یا چند سالوں کے لیئے بند ہو جاتی ہے تو یہ خطے میں مستقل امن کا پیغام لے کر آئے گی۔ آبنائے ہرمز پر ایران نے فیس وصولی کا نظام متعارف کروا دیا ہے۔ اس سے ایران کا ریاستی نظم مزید مستحکم ہو جائے گا۔ دو بڑی طاقتوں کی شکست بذات خود مستقبل کے امن کی ضمانت ہے. ایران کی مستقل مزاجی نے عرب خلیجی ریاستوں کو بھی نئے دفاعی اتحاد بنانے کے بارے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس سے اسرائیل کا ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا خواب بھی، وقتی طور پر ہی سہی، ماند پڑ گیا ہے کیونکہ ایران نے اسرائیل پر اپنی بقا اور سلامتی کا مضبوط ٹھپہ گاڑ دیا ہے۔
امریکہ نے پہلی دفعہ کھل کر بے بسی کا اظہار کیا اور گڑگڑا کر آبنائے ہرمز کھلوانے میں دوسروں سے مدد کی اپیل کی۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ سے ایک دن میں ایک ٹریلین ڈالر نکال لیئے گئے اور تاریخ میں پہلی بار امریکی ففتھ جنریشن اسٹیلتھ جنگی طیارہ "F35” کامیابی سے ٹریک، لاک اور ہٹ کیا گیا۔
مشرق وسطیٰ کے 14 ممالک میں امریکی اڈوں پر ایرانی میزائل و خودکش ڈرونز کے کامیاب حملوں کا سلسلہ دن رات جاری رہا۔ ایران نے چار ہزار کلومیٹر دور امریکی و برطانوی مشترکہ اڈے پر بلیسٹک میزائل سے کامیاب حملہ کر کے دنیا کے جنگی ماہرین کو حیران کر دیا۔
ایرانی جوہری پروگرام کے 450 کلوگرام یورینیم سمیت میزائل و ڈرون کے زیرِ زمین شہر اب بھی محفوظ ہیں اور ایران کا عوامی ردعمل بتا رہا ہے کہ اسلامی حکومت مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ ایران کی قومی سلامتی کے امن پسند مشیر کی جگہ اب انتہائی سخت گیر اور ماضی میں اسرائیلی و امریکی اڈوں پر حملوں کا ماسٹر مائینڈ حسین دہقان نے قیادت سنبھال لی۔ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے قبضے میں ہے اور دنیا گواہی دے رہی ہے کہ امریکی فضائیہ اور بحریہ آبنائے ہرمز کھلوانے میں اور ایران کے اندر اہداف حاصل کرنے میں مکمل ناکام ہوئی ہے۔ایرانی حملوں میں اعتراف شدہ 14 امریکی فوجی اور 20 اسرائیلی فوجی مارے گئے جبکہ 260 سے زائد امریکی اور 3000 سے زائد اسرائیلی زخمی ہیں۔ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یمنی مزاحمت کا بحیرہ احمر میں باب المندب بند کرنے کا اعلان متوقع تھا جبکہ دوسری طرف اسرائیلیوں کی ایک بڑی تعداد سمندر کے ذریعے قبرص بھاگ گئی تھی اور بقیہ اسرائیلی رجیم چینج کیلئے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔
بلومبرگ کے مطابق 16 امریکی طیارے تباہ ہو چکے تھے اور خلیجی ممالک میں امریکی بینکوں، تکنیکی اداروں اور تیل و گیس کے پلانٹس پر مسلسل حملوں نے مغربی معیشت کو بڑا دھچکا دیا، جسکی وجہ سے تیل کی عالمی قیمتوں میں 26 فیصد اضافہ ہوا اور مزید اضافہ جاری ہے۔ نیٹو فوجی اتحاد اور پورے یورپ نے امریکہ کو سرخ جھنڈی دکھا دی جس سے امریکہ و نیٹو میں دراڑ پڑ گئی اور یورپی ممالک کے بعد سری لنکا جیسے کمزور ملک نے بھی امریکہ کو اڈے دینے سے انکار کر دیا۔ ٹرمپ سمیت امریکہ کی مقبولیت میں واضح کمی ہوئی اور امریکی انتظامیہ میں بڑے پیمانے پر احتجاجاً استعفیٰ دینے کا سلسلہ جاری ہو گیا۔
لبنانی مزاحمت کا اسرائیل پر ایک دن میں تاریخ میں سب سے زیادہ 55 حملے ریکارڑ ہوئے ہیں اور اطلاعات آئی ہیں کہ حملوں کی شدت میں مزید اضافہ ہونے والا تھا۔
امریکی میڈیا نے اعتراف کیا کہ مشرق وسطیٰ میں 100 ارب سے زائد ڈالر مالیت کے ریڈار تباہ ہوئے ہیں اور قطر میں گیس تنصیبات پر حملوں سے امریکہ کو الگ سے سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ بحرین میں امریکی نیوی کا 5واں فلیٹ ہیڈکوارٹر تباہ ہو چکا تھا جبکہ امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس فورڈ میں ایرانی حملے (جسے امریکہ نے فوجی تھکاوٹ اور بغاوت کا نام دیا) کے بعد 30 گھنٹے سے زائد آگ لگی رہی جس میں تین فوجی زخمی ہوئے جو بعد میں مرمت کیلئے یونان روانہ کیا گیا اور یو ایس ایس ابراہیم لنکن ایرانی حملے کے بعد 1000 کلومیٹر پیچھے فرار ہونے پر مجبور ہوا۔
جبکہ پولینڈ، اٹلی، فرانس اور نیٹو افواج نے عراق سے مکمل انخلا کر دیا تھا جبکہ پاکستان، روس اور چین سمیت پوری دنیا کی عوام نے کھل کر ایران کی حمایت کی۔
ستر ہزار امریکی شہری اور فوجی مشرق وسطی سے فرار ہو کر امریکہ پہنچ گئے۔ ٹرمپ نے خلیجی ریاستوں سے ایران پر حملے کے عوض 5 ٹریلین ڈالر مانگ لیئے۔
پوری دنیا میں شیعہ سنی اتحاد قائم ہوا ہے اور استکبار و استعمار کا دیرینہ "لڑاؤ اور حکومت کرو” (Divide and Rule) والا خواب چکنا چور ہو گیا ہے۔ مجبورا امریکہ کو چالیس سال کے بعد روسی و ایرانی تیل سے پابندیاں ہٹانی پڑی ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کے اربوں ڈالر کے معاشی و فوجی اثاثے اب تک تباہ ہو چکے ہیں جبکہ دوسری طرف بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے ایران کو 2 ملین ڈالر ٹول ٹیکس چائنیز کرنسی یوآن میں اب تک ادا کیا جا چکا ہے۔
اس خلیجی جنگ کو جو روکنا چاہ رہے تھے یا اور جو کرانا چاہ رہے تھے وہ سب امریکی کیمپ کا حصہ تھے جبکہ ایران کے کیمپ میں موجود روس اور چین سمیت کوئی بھی صلح صفائی کی بات نہیں کر رہا تھا اور نہ ہی انہیں جنگ روکنے کی کوئی اتنی جلدی تھی۔ امریکہ یہ بات سمجھ گیا تھا کہ یہ محوری طاقتیں دہرا معیار اپنا کر کیا حاصل کرنا یا کسے گرانا چاہتی ہیں؟ اس وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد کی طرف دیکھا اور پھر مستقل جنگ بندی کی بیک ڈور پالیسی کا آغاز کر دیا۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |