آزاد کشمیر میں اردو غزل کی روایت
غزل کی تعریف:
غزل اردو ادب کی سب سے مقبول صنفِ سخن ہے۔اردو کے قریب قریب سبھی شعرا نے اس صنف پر طبع آزمائی کی ہے۔لیکن اس صنف نے تمام شعرا کو قبول نہ کر کے اپنی سنگ دلی کا ثبوت دیا۔اگر ہم لغوی اعتبار سے غزل کو دیکھیں تو شان الحق حقی کے مطابق غزل پیار محبت کے بو ل، اظہار ،محبت ،عاشقانہ گفتگو، عشقیہ کلام ہے۔ نظم کی ایک صنف جو ایک ہی زمین میں متفرق اشعار پر مشتمل ہوتی ہے جس میں معنوی ربط ضروری نہیں ۔علمی اُردو لغت کے مولف وارث سرہندی غزل کے معنی یوں بتاتے ہیں:
’’عورتوں سے باتیں کرنا، عورتوں کے حسن و جمال کی تعریف کرنا، نظم کی ایک صنف جس میں عشق و محبت کا ذکر ہوتا ہے ، پہلا شعر مطلع اور آخری مقطع کہلاتا ہے۔‘‘ ۱
مصباح اللغات کے بہ موجب غزل کی تعریف کچھ اس طرح سے ہے:
ـ’’غزل کے لغوی معنی عورتوں یاعورتوں کے متعلق گفتگو کرنا ہیں۔ہرن کے منہ سے بہ وقت خوف جو درد ناک چیخ نکلتی ہے اسے بھی غزل کہتے ہیں ۔اس نسبت سے غزل وہ صنف شعر ہے جس میں حسن و عشق کی مختلف کیفیات کا بیان ہو اور اس میں دردو سوز بہت نمایاں ہو۔اصطلاحاً غزل کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیںجن کا مفہوم یہ ہے کہ غزل کے ہر شعر میں ایک مکمل مفہوم ادا ہوتا ہے ۔ ہر شعر اپنا اپنا الگ مفہوم دیتا ہے ۔‘‘۲
حامد حسن قادری غزل کی تعریف اِن الفاظ میں کرتے ہیں :
’’غزل کے معنی ہیں عشق و جوانی کا ذکر کرنا شاعری میں غزل اُس نظم کو کہتے ہیں جس میں حُسن و عشق ، اَخلاق و تصوف وغیرہ مختلف مضامین ہوں اور ہر شعر الگ مضمون کا ہو۔‘‘۳
درجہ بالا تعریفوں کی روشنی میں جب ہم غزل کو دیکھتے ہیں تو واضح ہوجاتا ہے کہ ایسی نظم جس میں عورتوں سے متعلق بیان ہو اور عشق کی باتیں ہوں غزل کہلائے گی۔ غزل کی یہ تعریف کافی نہیں معلوم ہوتی ہے۔موجودہ دور میں غزل اس تعریف سے کہیں آگے دکھائی دیتی ہے۔ آج کی غزل میں ہر طرح کے موضوعات ملتے ہیں۔ معاشرتی ، معاشی ، سیاسی ہر اعتبار سے غزل کے اشعار موجود ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی وسعت میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا ۔ لغات کے بعد اب ذرا اصناف ادب میں غزل کی تعریف کو دیکھتے ہیں۔ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی لکھتے ہیں:
’’غزل کے لغوی معنی عورتوں یا عورتوں کے متعلق گفتگو کرنا ہیں ۔ ہرن کے منہ سے بہ وقت خوف جو دردناک چیخ نکلتی ہے اسے بھی غزل کہتے ہیں ۔اسی نسبت سے غزل وہ صنف شعر ہے جس میں حسن و عشق کی مختلف کیفیات کا بیان ہو اور اُس میں درد و سوز بہت نمایاں ہو ۔اصطلاحاً غزل کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ غزل کے ہر شعر میں ایک مکمل مفہوم ادا ہوتا ہے ۔ہرشعر اپنااپنا الگ مفہوم دیتا ہے ۔‘‘ ۴
غزل کی اس تعریف کی روشنی میں پتا چلتا ہے کہ غزل ایک ایسی صنف نظم ہے جس میں بحر ایک ہی رکھی جاتی ہے ۔ اس میں عموماً قافیہ اور ردیف موجود ہوتا ہے لیکن غیر مردف غزلیں بھی شعر ا کے ہاں ملتی ہیں۔ مطلعے ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہے ۔ مقطع کے بغیر بھی غزلیں کہی جاسکتی ہے۔ ابتداسے لے کر تاحال غزل کے اندر تغیر و تبدل نظرآتا ہے لیکن اس کا بنیادی ڈھانچہ وہی ہے جو ہمیں ولیؔ، میرؔ، سوداؔ، ذوقؔ ، غالب ؔاورداغؔ وغیرہ کے ہاں نظر آتا ہے۔ ہر اس علاقے میں جہاں اُردو ادب نے نمو پائی وہاں غزل کہنے والے موجود رہے ۔ خطۂ کشمیر میں اُردو ادب کی ابتدا کا جائزہ لیا جائے تو یہاں بھی روزِ اول سے اس صنف میں طبع آزمائی کی گئی بالخصوص آزادکشمیر میں اُردو غزل نے جو ترقی حاصل کی وہ یقینی طور پر اُردو ادب کے خزانے میں بیش بہا اضافہ ہے۔
آزادکشمیر میں اُردو غزل کی روایت
آزادکشمیر میں اُردو غزل کی روایت بیان کرنے سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ اس خطے میں اُردو زبان و ادب کا آغاز کب ہوا؟ اُردو زبان جب دکن اور گجرات میں پھل پھول رہی تھی تو اسی دوران میں شیخ غلام محی الدین نے مثنوی گلزار فقر رقم کرکے یہاں ادب کا بیج ڈالا ، حافظ محمو د شیرانی کے مطابق:
’’گجرات و دکن میں اگرچہ اُردو تالیفات دسویں صدی ہجری سے شرو ع ہوجاتی ہیں ۔لیکن شمالی ہندوستان میں دوصدی بعد تک ان کا پتا نہیں ملتا۔ دہلی میں ابھی اُردو دبستان قائم نہیں ہوچکتاکہ پنجاب میں لوگ اُردو زبان میں مثنوی لکھنی شروع کردیتے ہیں ۔ میرپور (کشمیر ) کے شیخ غلام محی الدین مثنوی گلزا ر فقر۱۱۳۱ہجری میں ختم کردیتے ہیں۔‘‘۵
میرپور آزادکشمیر کا ایک بڑا علمی وادبی مرکز ہے۔ اس خِطے سے اُردو شاعری کا آغاز گلزا ر فقر (۱۷۱۷ء)کی صورت میں ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس خطے سے اُردو کی شمع روشن ہوئی۔ کشمیر میں اُردو زبان کے حوالے سے پریم ناتھ بزاز لکھتے ہیں کہ ۳۰،۲۹ستمبر۱۹۴۴ء کو نیشنل کانفرنس کا سالانہ اجلاس سوپور میں منعقدکیا گیا جس میں تمام شرکااور مندوبین نے اردو اورکشمیری کو نیشنل کانفرنس کا آئندہ نصب العین قرار دیتے ہوئے متفقہ طور پر منظور کرلیا کہ:
’’ریاست کی قومی زبانیں کشمیری ،ڈوگری ، بلتی (پالی)دری ، پنجابی ، ہندی اور اُردو ہوں گی۔ اُردو کو ساری ریاست کی مرکزی قومی زبان کی حیثیت حاصل ہوگی۔‘‘۶
اس اقتباس کی روشنی میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ مہاراجا کشمیر نے تقسیم سے قبل ہی یہاں اُردو کو مرکزی زبان کا درجہ دے دیا۔ اب اس تناظر میں بھی یہاں اُردو ادب کی ترویج و ترقی اچنبھے کی بات نہیں ۔ خطے میں اُردو کی ترقی وترویج کی تاریخ دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ ہندوستان اور پنجا ب کے مختلف علاقوں سے جب لوگ یہاں ملازمت و سیاحت کی غرض سے آنے لگے تو وہ اپنے ساتھ وہاں سے اُردو زبان بھی لائے مقامی زبانوں کے میل ملاپ نے اُردو کو یہاں مزید ثروت مند بنادیا ۔ مواصلات میں بہتری آئی اور اُردو ادب کے فروغ میں یہ چیز نہایت مفید ثابت ہوئی۔ اس حوالے سے کشمیر میں اُردو کے مصنف حبیب کیفوی لکھتے ہیں:
’’ریاست کو پڑھے لکھے لوگوں اور ہنرمندوں کی ضرورت محسوس ہوئی تو ہندوستان اور پنجاب سے لوگ کشمیر میں آنے لگے ۔ حکومت نے اپنے مفاد کے لیے ان لوگوں کو ملازمتیں دیں اور اچھے اچھے عہدوں پر فائز کیا۔ یہ لوگ اپنی زبان اُردو بھی ساتھ لائے اور مقامی لوگوں کے میل ملاپ سے کشمیر میں اُردو کی سبیل نکل آئی۔‘‘۷
آزادکشمیر میں اُردو کے حوالے سے یہ اقدامات آج بھی دیکھنے میں آتے ہیں کہ پاکستان کے مختلف شہروں سے لوگ روزگار اور سیاحت کی غرَ ض سے یہاں آتے ہیں تو مقامی زبان کی بہ جائے اُردو ہی کو رابطے کی زبان بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست جموںوکشمیر کے ہر گھراور ہراِدارے کے ساتھ ساتھ کوچہ و بازار میں بھی اُردوہی نظرآتی ہے ۔اُردو یہاں کی مقامی بولیوں پر اس قدر غالب آچکی ہے کہ نوجوان نسل اُردو تو بہ خوبی جانتی ہے لیکن علاقائی بولیوں کو بھولتی چلی جارہی ہے ۔ ایسے ماحول میں اُردو ادب نے خوب ترقی کی اور بالخصوص اُردو غزل نے جو ترقی کی راہیں طے کیں وہ قبل اس کے نہیں کرسکی۔
یوں تو تمام آزادکشمیر میں اُردو زبان و ادب نے نمو پائی اور ہر طرح کا ادب تخلیق ہوا۔ لیکن ادب کی ترقی و ترویج میں دو بڑے مراکز مظفرآباد اور میرپور کہلائے۔ مظفرآباد آزاد کشمیر کا دارالحکومت ہونے کی وجہ سے ایک بڑا دبی مرکز کہلاتا ہے۔ اس علاقے میں اُردو کے نام و ر ادبا اور شعرا نے جنم لیا جو نہ صرف ملکی بل کہ بین الاقوامی سطح پر بھی اُردو کے حوالے سے اہم مقام رکھتے ہیں ۔ مظفرآباد، سری نگر اور اسلام آباد سے قریب ہونے کی وجہ سے بھی یہاں ادبا آتے رہے۔ بہ سلسلہ ٔملازمت بھی آزاد کشمیر کے دوافتادہ دیہات اور چھوٹے اضلاع کے لوگوں نے یہاں کا رُخ کیاجس کے باعث مظفرآباد نے باقاعدہ ایک دبستان کی سی حیثیت اختیار کرلی ۔ یہاں نظم، غزل، مرثیہ، رباعی، افسانہ ، ڈراما اور دیگر اصناف ادب میں طبع آزمائی کرنے والے کئی لوگ اعلیٰ ادبی مقام کے حامل ہیں۔ ڈاکٹر صابرؔ آفاقی ، ڈاکٹر افتخارؔ مغل، الطافؔ قریشی، زاؔہد کلیم، آزرؔ عسکری، محمد خان نشترؔ ، سیدہ آمنہ ؔبہار ، مخلص وجدانیؔ ، ڈاکٹر ندیمؔ بخاری ،احمد عطاؔ اللہ ،اعجازؔنعمانی، ایم یامینؔاورواحدؔ اعجاز میرسمیت بے شمار لکھنے والوں نے اسی ضلع کی نمائندگی کی ۔ ضلع میرپور میں اگر دیکھیں تو وہاں مظفرآباد کی نسبت ادبی ماحول مدہم ہے لیکن میرپور چوں کہ ایک بڑا شہر ہے پنجاب کے اہم شہروں جہلم اور گجرات سے قریب تر ہے۔ جہلم اور گجرا ت کے اکثر شعرا اور ادیب بھی میرپور کے دبستان سے متعارف ہوئے ۔ میرپور میں ادبی سرگرمیاں بھی بڑھ چڑھ کر ہوتی رہیںجو تاحال جاری ہیں یہاں کے اہم لکھنے والوں میں پروفیسر رفیقؔ بھٹی، پروفیسر صغیرؔ آسی ، نصیر اؔحمد ناصر، احمد شمیمؔ ، زیدؔ اللہ فہیم، پروفیسر نذیرؔ انجم ،مشتاق ؔشاد،اکرم ؔطاہر،ذوالفقار علی اسدؔاور عابد محمود عابدؔ وغیرہ چند نام ہیں اس کے علاوہ نئے لکھنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔
ان دواضلاع کے علاوہ اب دیگر چھوٹے اضلاع میں بھی اُردو غزل کہنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی جو اہل زبان ہونے کے ساتھ ساتھ علم عروض پر بھی دستر س رکھتے تھے۔ آپ نے آزادکشمیر کے ضلع سدھنوتی کے شہر پلندری میں اپنے قیام کے دوران میںعلامہ اقبالؔ کے فارسی کلام کا منظوم اُردو ترجمہ کرکے جہاں ایک بڑا کام کیا وہیں آپ نے اس علاقے کے نوجوانوں کے لیے اپنی خدمات و قف کردیں ۔ عبدالعلیمؔ صدیقی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج اس علاقے میں باقاعدہ ادبی نشست ہر پندرہ دن بعد منعقد ہوتی ہے۔اس علاقے میں باقاعدگی سے مشاعرے بھی انعقاد پذیر ہورہے ہیںجن میں پاکستان اور آزادکشمیر بھر سے شعرا حضرات مدعو کیے جاتے ہیں ۔ پلندری کے شعرا میں ڈاکٹر ماجد محمود ماجدؔ ایک اہم نام ہے جنھوں نے حقیقی معنوں میں پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی کا جاں نشین ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ ڈاکٹر ماجدؔ علم ِ عروض پر دسترس رکھنے کے ساتھ ساتھ فنِ شعر سے بھی آشنا ہیں۔ علاوہ ازیںجمیل اختر جمیلؔ ، آصفؔ اسحاق، ضیا الرحمن ضیاؔ، جاوید الحسن جاویدؔاور صداقت طاہرؔ اس ضلع کے اہم غزل گو ہیں۔
آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں بھی علم و ادب کی محافل باقاعدہ انعقاد پذیر ہوتی ہیں۔ باغ میں بھی غزل کے حوالے سے کئی اہم نام دکھائی دیتے ہیںجو اُردو غزل میں اپنا لوہا منوا چکے ہیں ۔اسلم ؔراجا، پروفیسر شفیق راجا ، زبیر حسن زبیریؔ، سید شہبازؔ گردیزی ،احمد فرہادؔ،عبدالحق مرادؔ،سید علی شاہ باغ کے معروف شعر امیں شمار ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ دیگر اضلاع میں اگر اُردو غزل کہنے والوں کی تعداد دیکھی جائے تو بہت کم ہے عباس پور سے جاوید سحرؔ، راولاکوٹ سے لیاقت ؔشعلان، شوزیب ؔکا شر ،فاروق صابرؔاورڈاکٹر کبیرخان وغیرہ اہم لکھنے والوں میں شامل ہیں۔ ضلع نیلم سے احمد وقار ؔ ، عبدالبصیر تاجوؔر اور لطیف ؔآفاقی نے غزل گوئی میں نام کمایا ہے۔
آزادکشمیر کی غزل میں جہاں جدت دکھائی دیتی ہے وہیں یہ روایت کی پاس دار اور امین بھی ہے۔ یہاں کے شعرا کے ہاں موضوعاتی اور اسلوبیاتی سطح پر کئی طرح کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ آزادکشمیر میں اُردو غزل کی روایت کو جانچتے ہوئے ذیل میں چند شعرا کا تعارف اور ان کے کلام کی خصوصیات کا جائزہ لیا جائے گا جس سے یہاں اُردو غزل کی روایت کو سمجھنے میں آسانی رہے گی۔
آزادکشمیر کے غزل گو شعرا:
آزرؔ عسکری(اپریل ۱۹۱۴ء تا ۶ مارچ ۱۹۸۳ء ) سکردو ، گلگت بلتستان میں پیدا ہوئے آپ قادر الکلام شاعر تھے۔ آزرؔ عسکری ابتدائی تعلیم سکردو اور بعدازں سری نگرسے حاصل کرنے کے بعد فارسی اور اُردو میں فاضل کا امتحان پاس کیا ۔ ۱۹۳۲ء میں شاعری کا آغاز کیا پروفیسرصغیرؔ آسی کے مطابق:
’’آپ نے اُردو شاعری کی ابتدا۱۹۳۲ء میں کی اور کلام کی اصلاح ابوالاثر ،حفیظ ؔجالندھری سے لیتے رہے ۔‘‘۸
آزرؔ عسکری نے اُردو کے علاوہ پنجابی ، کشمیری اور فارسی میں شاعری کی ۔آپ غزل کے ساتھ ساتھ نظم کے بھی شاعر تھے ۔ آزرؔ عسکری کا بیشتر کلام مزاح پر مبنی ہے۔ "کشت زعفران "کے نام سے ۱۹۷۶ء میں شعری مجموعہ منظر عام پر آیا ۔ مظفرآباد میں وفات پانے والے آزرؔ عسکری کے بیٹے ابراہیمؔ گل بھی پر تاثیر شاعر ہیں۔ آزرؔ عسکری کے کلام سے بہ طور نمونہ چند شعر ملاحظہ ہوں:۔
دیے جس نے دستِ دعا اور دے گا
تجھے جس نے اب تک دیا اور دے گا
نہ کر غم تو امروز وفردا کا آزرؔ
خدا اور دے گا خدا اور دے گا ۹
ڈھونڈتے پھرتے ہیں پروانے ضیائے شمع کو
شمع کو بھی یورشِ پروانہ سے فرصت نہیں ۱۰
عبدالغنی غنیؔ(۱۸ جون۱۹۱۴ء )آزادکشمیر کے معروف شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ضلع پونچھ میں آنکھ کھولنے والے عبدالغنی نے ابتدائی تعلیم پونچھ کے اسلامیہ ہائی اسکول میں حاصل کی۔نویں جماعت میں شعر کہنا شروع کیا۔ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں۔ میٹرک کے بعد حکومت ِآزاد جموںوکشمیر میں ملازمت اختیار کی اور ساتھ ہی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا 1۱۹۵۵ء میں پنجاب یونی ورسٹی سے بی ۔اے پاس کرنے کے بعد۱۹۵۷ء میں اسی ادارے سے صحافت کا ڈپلوما حاصل کرلیا۔ جگرؔ مراد آبادی اور فیض احمد فیضؔ کے ساتھ مشاعرے پڑھنے کا اعزا ز بھی حاصل رہا ۔ مظفرآباد میں حلقہ اربابِ ذوق قائم کروانے میں پیش پیش رہے ۔ آزاد کشمیر میں اُردو زبان و ادب کی ترقی کے حوالے سے آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔۱۹۶۳ء میں عبدالغنی غنیؔ کو انجمن ترقیٔ اُردو کا صدر منتخب کرلیا گیا۔ اس پلیٹ فارم سے علمی و ادبی سرگرمیاں باقاعدگی سے انعقاد پذیرکروانے کے علاوہ آپ نے ۱۹۴۴ء میں آزادکشمیر میں اُردو کو سرکاری زبان کا درجہ دلانے میں اہم کردار اداکیا ۔آپ کی دعوت پر ڈاکٹر سید عبداللہ، مولانا ماہر القادری، آغاشورش کاشمیری،استاد قمر جلالوی جیسی نابغہ روزگار شخصیات نے آزاد کشمیر میں قدم رکھا ۔ "ذار ذار”اور "فکر و فن "کے نام سے شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں ۔عبدالغنی غنی ؔکے کلام سے چند اشعار بطور نمونہ ملاحظہ ہوں۔
نہ پوچھ اس بت توبہ شکن کے کیا ارادے ہیں
یہ دیکھو عاشقِ دار و رسن کے کیا اردے ہیں ۱۱
یہ فصلِ گل ،یہ چاندنی راتیں ،یہ بے کسی
اب نغمۂ فرا ق نہ گاؤں تو کیا کروں ۱۲
غنیؔ سرمستیاں اپنی گزری ہیں گراں ان کو
وہ کیا جانیں مرے دیوانے پن کے کیا ارادے ہیں ۱۳
جب کوئی لطفِ زندگی نہ رہا
زندگی بسر ہوئی نہ ہوئی ۱۴
آپ بالائے بام آ جائیں
ہم کو تابِ نظر ہوئی نہ ہوئی ۱۵
پروفیسر نذیر انجمؔ (۱ جنوری ۱۹۴۶ء تا۲۰۱۲ء )کا شمار بھی آزاد کشمیر کے نمائندہ شعرا کی فہرست میں ہوتا ہے۔ میرپور کے قصبے اکال گڑھ میں آنکھ کھولی۔ابتدائی تعلیم اسی قصبے سے حاصل کرنے کے بعد انٹرمیڈیٹ اور بی اے گورنمنٹ کالج میرپور سے کیا۔ جامعۂ پنجاب،لاہور سے سیاسیات میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ عملی زندگی کا آغاز بحیثیت لیکچرار کیا۔ کئی کالجز میں فرائض منصبی سرانجام دینے کے بعد آزاد جموںوکشمیر یونی ورسٹی تک پہنچے جہاں سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ آزادکشمیر میں شعری ادب کے حوالے سے نذیرؔ انجم کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ نمودو نمائش کے قائل نہیں گوشہ نشینی کی زندگی کو پسند کرتے ہیں ۔ پروفیسر صغیر آسیؔ لکھتے ہیں:
’’طبیعت میں سادگی ،مزاج میں بے تکلفی اورکردار میں بے باکی، جسمانی اعتبار سے دبلے مگر فکری لحاظ سے عمومی سطح سے بلند اور عمیق تر، ارادے میں چٹان کی طرح پختہ اور قول و فعل میں یک رنگ ، بہت کم شاعروں میں ایسی خوبیاں یک جا ملتی ہیں۔‘‘ ۱۶
رانا غلام سرور سے مقالہ نگار نے جب پروفیسر نذیرؔ انجم کے بارے میں بات کی تو انھوں نے یوں اپنے تاثرات بیان کیے:
’’نذیر انجم یک زندہ دل شخصیت کے مالک تھے ۔نہایت اعلیٰ ادبی ذوق رکھتے تھے۔صبح سویرے گھر سے نکل آتے اور اپنے چاہنے والوں سے مل کر خوشی محسوس کرتے۔میرپور کے چوک شہیداں میں واقع ارشد بک ڈپو پر اکثر بیٹھا کرتے اور کتابوں کا جائزہ لیتے رہتے۔‘‘ ۱۷
نذیر اؔنجم کی شاعری ایک ایسے معاشرے کی عکاس ہے جس ظلم و جبر کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ آپ کا ایک حرف جذبہ حب الوطنی کا غماز ہے۔ نذیرؔ انجم کا یہ شعر اتنا معروف ہوا کہ کشمیر کے بچے بچے کی زبان پر آگیا ۔
نعرہ ہی نہیں ایمان ہے، یہ آزادی کے متوالوں کا
کشمیر کا ذرہ ذرہ ہے کشمیر کے رہنے والوں کا (نذیر انجم ،قرض سخن ، ص ۴۱)
نذیر انجم کی شاعری میں تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا پر توبہ آسانی دیکھا جا سکتا ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ ان کے کئی ایک اشعار کشمیر میں روز مرہ محاورے کا درجہ رکھتے ہیں تو غلط نہ ہو گا۔
ظلم کو امن ،عداوت کو وفا کہتے ہیں
کیسے نادان ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں (نذیر انجم ،قرض سخن ، ص ۵۹)
میرے کشمیر ذرا جاگ کہ کچھ جاہ طلب
غیر کو تیرے مقدر کا خدا کہتے ہیں (نذیر انجم ،قرض سخن ، ص۹۰)
کشمیر میں شعری ادب کے افق پر نذیرؔ انجم بیس ویں صدی کے نمایاں اور ممتاز شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ان کے کلام میں مزاحمتی اور ترقی پسند ادب سے وابستگی بھی واضح دیکھی جا سکتی ہے۔جیسا کہ ڈاکٹر افتخارؔمغل لکھتے ہیں:
’’انھوں نے اپنی مزاحمتی آواز کو مؤثر اور مستحکم بنانے کے لیے ترقی پسندوں کی ادبی روایت سے وابستہ علامتی نظام کو نہایت خوش اُسلوبی سے برتا ہے۔ـ‘‘ ۱۸
جہاں نذیرؔ انجم انقلابی اور مزاحمتی انداز اپناتے ہوئے نظرآتے ہیں وہیں ان کے ہاں خُم و کاکل اور عشق و محبت کی داستانیں ملتی ہیں ۔ وہ انقلابی اندا ز کے علاوہ حسن و عشق میں بھی فراز ؔاور فیضؔ کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں ۔ محبت کی کیفیات کو وہ یوں اپنے شعر میں سموتے ہیں کہ جیسے کسی پھول کو مالا میں پرویا جاتا ہے۔ وہ دِلی کیفیات کو کِس طرح لفظیات کا جامہ پہناتے ہیں ملاحظہ ہو:
بجھ گیا دل تو ارمان جلتے رہے
پردۂ یاس میں سوز عریاں رہا
(نذیر انجم ،قرض سخن ، ص ۹۴)
آئنہ گر بہت ہوئے لیکن
کوئی انجم ؔسا عکس گر نہ ہوا
(نذیر انجم ،قرض سخن ، ص۱۰۴)
نذیر ؔانجم کی شاعری کے حوالے سے قدرت اللہ شہاب کے الفاظ دیکھیے:
ــ’’نذیراؔنجم کا نہایت اعلیٰ او ارفع کلام روح کے احتظاظ کا باعث بنتا ہے۔۔۔آزاد کشمیر کے صاحبانِ علم و ادب کو نازاں ہونا چاہیے کہ ایسا صاحبِ اُسلوب اور منفرد غزل گو شاعر بھی ہم میں موجود ہے۔ ‘‘۱۹
جاوید الحسن جاویدؔ(ا جنوری ۱۹۶۹ء) بھی آزاد کشمیر کے ادبی منظر نامے کے اہم شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔آزاد کشمیر کے شہر پلندری میں ان کی ولادت ہوئی۔ابتدائی تعلیم اپنے علاقے سے حاصل کی۔ شاعری میں ابتدا ً پروفیسر عبدالعلیم ؔصدیقی سے اصلاح لی بعدازاں راول پنڈی میں پروفیسر یوسف ؔحسن کو اپنا کلام دکھایا۔ اصغر مال کالج راول پنڈی سے انگریزی ادبیات میں ایم ۔اے کی سند حاصل کرنے کے بعد آزادکشمیر کے ضلع عباس پور میں بہ طور انگریزی لیکچرر تعینات ہوئے اسی زمانے میں پہلا مجموعہ کلام "محبت پھول کی مانند”منظر عام پر آیا۔۱۹۹۹ء میں سول سروسز میں سیشن افسر تعینات ہوئے اس عرصے میں دوسرا مجموعہ کلام "پون”کشمیر کلچراکیڈمی نے شائع کیا جاوید الحسن جاویدؔ ابتدا میں جاوید الحسن نشترؔ کے نام سے لکھتے رہے تاہم جلدی ہی نشتر کی بہ جائے جاویدؔ تخلص کرلیا دمِ تحریر جاوید الحسن جاویدؔ آزادکشمیر حکومت میں بہ طور ایڈیشنل سیکرٹری صحت عامہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں حال ہی میں تیسرا مجموعہ "گل و گل زار کا موسم”شائع ہوا۔
جاوید الحسن جاوید ؔکے پاس روایتی موضوعات کے ساتھ ساتھ حقیقت نگاری بھی ملتی ہے۔ انھوں نے جس کو دیکھا اسے ویساہی بیان کردیا ۔ کئی حوالوں سے آ پ آزادکشمیر کی شاعری میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ وطن سے محبت، کشمیر کا نوحہ اور عشق و محبت آپ کی شاعری کا خاص موضوع ہیں۔ حالاتِ حاضر ہ پر بھی آپ نے قلم کا خوب استعمال کیا ہے۔
پھر سے تعمیر وطن ہے سب حوداث کا جواب
تانہ کوئی ہم نفس حیراں رہے گریاں رہے
تا قیامت اب نہ کوئی حادثہ گزرے یہاں
تا قیامت ہر بشر شاداں رہے خنداں رہے
(جاوید الحسن جاوید، گل وگلزار کا موسم ، ص ۲۳)
جاوید الحسن جاویدؔ نے عام فہم اور سادہ الفاظ میں جان دار شاعری کی ہے اُن کے ہاں دلی کیفیات اور جذبات کی بہت عمدہ عکاسی ملتی ہے۔
جیتا ہوں ،میں اچھا ہوں یونہی بول دیا ہے
سچ یہ ہے محبت نے مجھے رول دیا ہے
پوچھا تھا کسی نے یونہی احوال ہمارا
ہم سادہ مزاجوں نے تو دِل کھول دیا ہے
زنجیر ہی دیتا مرے پیروں میں تو کیا تھا
اُس نے تو مرے ہاتھ میں کشکول دیا ہے
(جاوید الحسن جاوید، گل وگلزار کا موسم ، ص ۴۵)
پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی (۱۹۲۵ء تا۳ دسمبر ۲۰۰۹ء) میںضلع سلطان پور اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد ہجرت کی اور آزدکشمیر کے ضلع سدھنوتی میں پلندری کو اپنا مسکن بنایا تمغا ٔامتیاز جیسے اعزازات پانے والے عبدالعلیمؔ صدیقی کے کئی نام و شاگر ہوئے ۔علامہ اقبالؔ کے سارے کے سارے فارسی کلام کو منظوم اُردو ترجمہ کیا۔ اس کے علاوہ بوستان سعدیؒ، حکایات رومی اور رباعیات عمر خیام کو بھی منظوم اُردو قالب میں ڈھالا۔پلندری میں انتقال کرنے والے عبدالعلیمؔ صدیقی کی غزلیات کا مجموعہ” نہاں خانہ دِل "کے نام سے ان کی وفات کے بعدشائع ہوا۔
عبدالعلیمؔ صدیقی کے کلام میں فارسیت کے ساتھ ساتھ عربی رنگ بھی موجود ہے۔ ان کا کلام کلاسیکی اور روایتی غزل سے قریب نظرآتا ہے۔ عبدالعلیم ؔصدیقی کے ہاں فن کمال عروج پر ہے۔ ان کی شاعری بلاشبہ آزادکشمیر کے شعرا میں اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔
بیمار شِفا پائے گا اے چارہ گرو کیا
دکھ اور طرح کا ہے ، دوا اور طرح کی
یہ کون بصد شوق چلادار کی جانب
لکھی ہے مشیت نے بقا اور طر ح کی ۲۰
پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی چوں کہ شاعری میں کئی شعرا کے استاد تھے۔ اہل زبان ہونے کی وجہ سے ان کو شاعری پر مکمل دسترس حاصل تھی جس کا ثبوت وہ اپنے کلام میں دیتے ہیں۔ ان کے ایک غیر مردف غزل کے یہ اشعار دیکھیں۔
ایسا کمال جاتا ہے میرا فکر و فن
آجائے حرف و صوت میں فطرت کا بانکپن
اِس کارزارزِیست میں سرگرم رکھتی ہے
مجھ کو دِل حزیں میں اک اُمید کی کرن
ڈرتا ہوں ایسے آج سے جب میر ے قلب میں
ایک خوش گوار کل کی لگن ہو نہ مؤجزن ۲۱
اپنے وطن کی مٹی کو انوکھا خراج پیش کرتے ہوئے پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی کہتے ہیں۔
جنت کی حوریں شرمائیں اس سے حسن و جوانی میں
ایسی بھی تاثیر ہے اپنے دیس کے مٹی پانی میں ۲۲
اسلم ؔراجا(۱۳ اکتوبر ۱۹۴۸ء) آزادجموںوکشمیر کے شعری ادب میں اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں پتراٹہ کفل گڑھ ضلع باغ میں ولادت ہوئی۔ شاعری کے علاوہ "تاریخ نامہ راجپوت "آپ کی علمی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔”کونپل کا بدن”اور "آب ریزے "آپ کے فن کا اعتراف ہیں کئی اعزازات آپ کو آپ کی قابلیت کے اعتراف میں دیے گئے۔
اسلمؔ راجا کے شاگردوں میں بھی ایک بڑی تعدادموجود ہے ۔ آپ کا کلام بھی آزادکشمیر کے شعری منظرنامے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔
شفق جب بادلوں کے ساتھ ہم آغوش ہوتی ہے
مجھے تیری محبت کا زمانہ یاد آتا ہے ۲۳
یہ لفظ لفظ چن کر سوچوں کے ساتھ بننا
میرا یہی تو فن ہے ، جولاہا ہوں سخن کا ۲۴
سخن کا جولاہا سمیت کئی طرح کی نئی تشبیہات اسلم ؔراجا کے کلام کانمایاں وصف ہے اپنے شہر کو بھی کئی خوب صورتی سے عدن بتاتے ہیں ملاحظہ ہو۔
رنگوں میں میری رنگت ، خوش بو سے میری نسبت
میں باغ پالتا ہوں ، باسی ہوں میں عدن کا ۲۵
مخلص و جدانیؔ(۲۱ مارچ ۱۹۴۴ء) ڈاکٹر صابر ؔآفاقی کے چھوٹے بھائی ہیں ۔مظفرآباد کے مضافاتی گائوں گوہاڑی میں پیدا ہوئے ۔ اُردو شاعری کے علاوہ گوجری شاعری آپ کی پہچان بنی۔ شاعری میں ابراحسنی (شاگرد احسن مارہروی) سے اصلاح لی۔آپ کا مجموعہ کلام "صلیبوں کا شہر”منظر عام پر آچکا ہے۔ اس کے علاوہ ’’نئی بہار نئے پھول ‘‘ آپ کا دوسرا مجموعہ ہے گوجری میں کئی مجموعے آپ کی پہچان بنے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی، مخلص وجدانیؔ کی شاعری کے حوالے سے لکھتے ہیں۔
’’آپ کی شاعری میں ذاتی تجربے ، اجتماعی واردات سے گھل مل کر ایک وحدت بن رہے ہیں اور اس تخلیقی عمل سے ایک ایسا امکان سامنے آرہا ہے جو منفرد بھی ہے اور مؤثر بھی۔‘‘ ۲۶
مخلص ؔوجدانی کی شاعری میں مقامی علامات واستعارات کا استعمال خوب صورتی سے کیا گیا ہے ۔ بہ غور مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلص ؔوجدانی کی غزل میں بے شمار نفسیاتی واقعاتی اور وارداتی عوامل کا اجتماع ملتا ہے۔ ان کی غزل میں اُن کی جنم بھومی سے محبت نظرآتی ہے ۔ان کا انداز اس قدر دِل پذیر ہے کہ قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ کبھی ان کے کلام میں قاری خود کو غرق پاتا ہے اور کبھی سطح پر تیرتا ہے۔ مخلص ؔوجدانی کی شاعری کے حوالے سے جگن ناتھ آزاد رقم طراز ہیں:
’’نام نہاد جدید شعرا کے ہجوم میں مخلصؔ وجدانی ایسے شاعر کے کلام کا نظرمیں آجانا ایسا ہی ہے جیسے دھوپ میں چلتے ہوئے مسافر کے لیے کہیں سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آجائے۔‘‘۲۷
مخلص وؔجدانی نے اپنی غزل میں ایسے ایسے جوہر دکھائے ہیںکہ وہ آزاد کشمیر کے شعری ادب میں منفرد مقام حاصل کر چکے ہیں۔ان کے شعروں میں ذہن کا کرب ،گردو پیش کا غم ، مجبور یوں ، معذوریوں کا ماتم جابہ جا ملتا ہے۔ وہ اپنے ہم وطنوں کے دکھ سے اور ان کے مسائل سے پوری طرح آشنا ہیں ان کی فکری سطح جدت کی حامل ہے۔ جبھی تو ڈاکٹر فرمان فتح پور ی نے کہا کہ ۔
’’آپ کی شاعری بہ اعتبار فکر نو اور اُسلوب تازہ گوہر نایاب ہیں۔‘‘۲۸
مخلص وؔجدانی کی شاعری سے کچھ اشعار مثال کے طور پر دیکھیں۔
آئو سب مل کر فصیلِ شہر کو اونچا کریں
ہے سلامت شہر تو محفوظ اپنا گھر بھی ہے
(مخلص وجدانی ، صلیبوں کا شہر ، ص ۱۷)
ترا غم ہے ان مول شے اِس جہاں میں
یہ جنس گراں، جس کو بھی راس آئے
(مخلص وجدانی ، صلیبوں کا شہر ، ص۳۵)
زمانے کے کوئی معیار پر اترا نہیں مخلصؔ
خرد کو دارپر کھینچا ، جنوں پر سنگ باری کی
(مخلص وجدانی ، صلیبوں کا شہر ، ص ۴۳)
لیاقت ؔشعلان(۱ جنوری ۱۹۷۹ء) آزادکشمیر کے لکھنے والوں میں نووارد ہیں۔ لیاقت ؔشعلان کا اصلی نام محمد لیاقت خان ہے آپ کیاٹ کلاں راولاکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ایم اے اُردو تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک مقامی اسکول میںبہ طور جونیئر مدرس پڑھا رہے ہیں۔لیاقت ؔشعلان ک شاعری وارداتِ قلبی کی شاعری ہے ۔اُن کو غزل میں کمال مہارت حاصل ہے۔ ان کی غزل جان دار اور عمدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادبی محافل میں و خوب جانے جاتے ہیں۔ لیاقت ؔشعلان کی غزل سے کچھ اشعار دیکھیں۔
ہیں وہ حالات کہ خاموش رہوں، اف نہ کروں
کاٹا جاتا ہوں کہیں میں بھی شجر کے اندر
اتنا منصب سے ہوا جاتا ہے غافل انسان
روتے دیکھا ہے خدا میں نے بشر کے اندر ۳۴
تاریخ دکھائے گی زمانے کو یہ منظر
طوفانی ہوا سے یہ دیا کتنا لڑا ہے ۳۵
کتنی بار پیاسے مرے ہیں خوش فہمی کے ہاتھوں
لیکن اب تک اترے نہیں ہیں دریا سرابوں والے ۳۶
صحرا نے خود اپنی آگ سے پیا س بجھائی اپنی
جنگل جنگل برس رہے تھے دور سحابوں والے ۳۷
علامہ جوادؔ جعفری(۴ جنوری ۱۹۵۶ء)آزادکشمیر کے شعری روایت کے ایک اہم شاعر ہیں۔ آزادکشمیر کے ضلع باغ میں ولادت ہوئی۔ جوادؔ جعفری کو جو ماحول میسر آیا اس نے ان کے شعروادب سے دل چسپی پید اکرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ ان کی علمی قابلیت نے ان کو شاعر کے ساتھ ساتھ عمدہ نثر نگار بھی بنا دیا۔ چودھری غلام عباس کی شخصیت، رومیٔ کشمیر میاں محمد بخش کے علاوہ سردار عبدالقیوم خان کی زندگی پر تصانیف ان کے فن کا ثبوت ہیں ۔ شاعری میں آپ کا مجموعۂ کلام’’ احتجاج‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے جب کہ ’’فکر ِامروز‘‘ زیر طبع ہے۔ جوادؔ جعفری نے فارسی زبان پر دسترس کے بدولت اِس زبان سے خوب استفادہ کیا ۔انھوں نے ریڈیو آزادکشمیر سے وابستگی کے دوران میں کئی طرح کے اعزازات حاصل کیے۔ علاوہ ازیں کشمیرکلچر اکیڈمی کے صدر نشین کی حیثیت سے بھی انھوں نے اُردو ،فارسی اور کشمیری ادب کو بڑی تعدادمیں شائع کرکے بھی ادب کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔
جواد ؔ جعفری کی شعر و ادب سے وابستگی بچپن سے ہی رہی بارہ برس کی عمر میں "برسات کا موسم”کے عنوان سے نظم لکھی۔ جو شؔ ملیح آبادی، احمد ندیمؔ قاسمی ، احمد فرازؔ، اور افتخارؔ عارف جیسے بڑے شاعر وں کی صحبت میں آپ کے شعر کہنے میں نفاست اور تازگی آئی۔جوادؔ جعفری نے حالاتِ حاضرہ کو اپنے شعروں میں سمونے کا کامیا ب تجربہ کیا ہے۔ ان کا کلام ایک دھرتی کی نمائندگی کرتا ہے ۔جذبات واحساسات ان کی شاعری کا خاص وصف ہے۔وہ اپنے وطن ،اپنی مٹی اور اپنی دھرتی سے جو محبت کرتے ہیں وہ ان کی شاعری میں دیکھی جا سکتی ہے۔جواد ؔجعفری اپنی شاعری کے حوالے سے لکھتے ہیں۔
’’مجھے معلوم ہے کہ یہ نقار خانے میں طوطی کی آواز ہے یا پھر ایک شبِ تاریک میں ٹوٹے ہوئے مٹی کے چراغ کی لو ،لیکن مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اس آواز کا اپنا ایک آہنگ ہے جو اپنا وجود ضرور برقرار رکھے گا،اور اس ٹوٹے ہوئے چراغ سے نکلنے والی روشنی گھمبیر اندھیروں میں اجالوں کی نمائندگی کا عظیم فریضہ سر انجام دے گی۔‘‘۳۳
علامہ جواد ؔجعفری کے کلام سے کچھ اشعار بہ طور نمونہ دیکھیے۔
ابنِ آدم کو ملی کن گناہوں کی سزا
لغزشِ آدم کا واجب ہم پہ کفارہ نہ تھا
(جواد جعفری ، احتجاج ، ص ۶۰)
جنھیں معلوم نہ ہو فرق الفت اور نفرت کا
انھیں چاہتے اگر ہیں آپ تو بے کار چاہتے ہیں
(جواد جعفری ، احتجاج ، ص۶۵)
تعلُق کچھ نہ کچھ جواد ؔکا ان سے تو ہے اب بھی
اسے چاہیں نہ چاہیں اس کے وہ اشعار چاہتے ہیں
(جواد جعفری ، احتجاج ، ص۶۵)
گنوایا تم نے مجھ کو ہر قدم پر
تجھے میں ہر قدم پر پا گیا ہوں
(جواد جعفری ، احتجاج ، ص ۶۰)
نا زؔ مظفرآبادی (۱ جنوری ۱۹۶۰ء)آزادکشمیر کے شعروادب کی روایت میں نازؔ مظفرآباد ی کا نام بھی اہمیت کا حامل ہے۔مظفرآباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر سے ہی شعرگوئی کی طرف رجحان تھا۔ غزل اور نظم دونوں میں طبع آزمائی کی ۔ ناز ؔمظفرآبادی کے چار شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ان کی شاعری پر پروفیسر سحر ؔانصاری لکھتے ہیں۔
’’نازؔ مظفرآبادی کہنہ مشق شاعر ہیں ۔۔۔وہ اپنے سخن کو سنوارنا اور نکھارنا چاہتے ہیں۔ شاعری ان کے لیے زندگی کا سنجیدہ مسئلہ ہے اس لیے وہ توجہ اور انہماک سے اپنے فن کا معیار قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ‘‘۳۴
نازؔ مظفرآبادی غزل کے شاعر ہیں اور غزل ہی کا مزاج رکھتے ہیں لیکن ان کی نظمیں بھی کئی طرح سے خصوصیت کی حامل ہیں۔ ان کی شاعری کا بڑا حصہ حقیقت اور جذبات کی غمازی کرتا ہے۔ نازؔ مظفرآبادی نے چوں کہ زندگی کا بڑا حصّہ غریب الوطنی میں بسر کیا اس وجہ سے یہ چیز بھی ان کے کلام میں شامل نظرآتی ہے۔ ان کی شخصیت ان کے کلام میں جھلکتی ہے ناز ؔمظفرآبادی کے کلام سے چند مثالیں دیکھیے۔
وہ تو ظرف تھا ایک سمندر کا
ورنہ دکھ دریائوں جیسا تھا
(ناز مظفرآباد ی ، ہم سُخن ، ص ۲۴)
سوچ کر قدم رکھنا عشق کی عدالت میں
عمر بیت جاتی ہے فیصلہ نہیں ہوتا
(ناز مظفرآباد ی ، ہم سُخن ، ص ۳۰)
جذبہ عشق اگر دل میں نہیں ہے زندہ
آدمی صاحب ایمان نہیں ہوتا
(ناز مظفرآباد ی ، ہم سُخن ، ص۴۵)
وہ کسی ایک کا بھی ہو نہ سکا
ہاں اسی بات کا تورونا تھا
(ناز مظفرآباد ی ، ہم سُخن ، ص ۸۱)
زکریا شازؔ (۱۹۶۵ء )آزادکشمیر میں زکریا شازؔ بھی غزل کے حوالے سے معتبر نام ہے۔ آزادکشمیر کے ضلع کوٹلی سے تعلق رکھنے والے زکریا شازؔ اپنی غزل کے داخلی و خارجی دونوں سطحوں پر یکساں توجہ دیتے ہیں ۔آپ کا مجموعہ کلام ’’خاموشی کی کھڑکی سے‘‘ ۲۰۱۴ء میں شائع ہوا۔ زکریا شازؔ کی غزل کلاسیکی روایت کے گہرے مطالعے کا پتا دیتی ہے اُن کی غزل میں تصورات کا عنصر زیادہ ملتا ہے۔ زبان و بیان کے اعتبار سے اُن کا کلام خاص اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے مضامین زیادہ تر داخل سے برآمد ہو کر خارج میں وارد ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ دریائے پونچھ کے کنارے زندگی کے شب وروز گزارنے والے زکریا شازؔ کے ہاں محبت نمایاں موضوع ہے جس کو انھوں نے بری کامیابی کے ساتھ نبھایا ہے۔ان کی جزئیات نگاری اور معاشرے کی مختلف قدروں کی عکاسی بھی خاص وصف بن چکی ہے ۔ ان کے ہاں مضامین اور کیفیات میں یکسانیت فنی معیار اور ابلاغ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتی لیکن موضوعاتی پھیلائوکو قدرے محدود کردیتی ہے۔جس کی بِنا پر فکری یکسانیت کے سلسلے میں حبس کا احساس ہوتا ہے۔ محبت کے موضوعات میں زکریا شاز ؔکی ثروت مندی پر محمد اظہارؔ الحق لکھتے ہیں۔
’’محبت کے باب میں اُس نے مضامینِ نولانے کی کوشش کی ہے اور یہ کوشش بہت حد تک کامیاب رہی ہے۔ اس نے نقشے کے بغیر محبت کے راستے پر چلنے کی دعوت دی ہے۔ ۔۔سب سے بڑھ کر یہ کہ اس نے زمانے سے الگ چلنے کا اہتمام کیا ہے۔‘‘۳۵
زکریا شازؔخیال و معنی کو شعری سرمایہ سمجھتے ہوئے اس کے تمام تر لوازمات کو نبھاتے ہیں ۔ زکریا شازؔ کے کلام سے یہ اشعار ان کے اُس وصف کو سمجھنے میں مدد دیں گے۔
پیار کا ساون برستا ہے تو تھمتا ہے کہاں
بھیگتا ہوں میں اِدھر اور وہ اُدھر بارش کے بیچ
(زکریا شاز ، خاموشی کی کھڑکی سے ، ص ۳۳)
اب لطف کے اسرار نہیں کھلتے ہیں مجھ پر
کر مجھ سے ملاقات کسی اور طرح سے
(زکریا شاز ، خاموشی کی کھڑکی سے ، ص ۴۱)
اس نے اس بار توحیران ہی کر ڈالا ہے
میں سمجھتا تھا کہ جذبات سمجھتا ہے کوئی
(زکریا شاز ، خاموشی کی کھڑکی سے ، ص۴۹)
شازؔ خود میں ہی گنواتے ہوئے خود کو رکھنا
ہاتھ جب تک نہ کوئی اپنی نشانی آئے
(زکریا شاز ، خاموشی کی کھڑکی سے ، ص ۵۶)
ڈاکٹر وزیر آغا کے بہ قول:
"زکریاؔ شاز کی غزل جدید لب و لہجے کی حامل ہے کہیں بھی
شاعر کی بھیگی ہوئی آواز جذباتی خروش میں تبدیل نہیں ہوتی۔‘‘ ۳۶
سید شہباز ؔگردیزی (۱۹۷۶ء ) کا تعلق آزادکشمیر کے ضلع باغ سے ہے۔ آپ کی پیدائش حیدر آبادسندھ میں ہوئی۔ شاعری کاشغف ابتدائی عمر سے ہی تھا۔ شہباز ؔگردیزی نے اپنے اس شوق کو پروان چڑھایا اور شاعری میں پروفیسر شفیق رؔاجا اور ڈاکٹر افتخارؔ مغل سے اصلاحِ سخن لی۔ ان کے ہاں جذبات واحساسات کی ملی جلی فضا نظرآئی ہے۔ شہبازؔ گردیزی کے دوشعری مجموعے "حقیقتوں کے عذاب "اور "خواب کون دیکھے گا”منظر عام پر آچکے ہیں ۔اس کے علاوہ شعرائے ضلع پونچھ کا انتخاب "اجلی مٹی”کے نام سے شائع کرنے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ "متاع حسن”کے عنوان سے تاریخ کشمیر اور "جمہوریت کی دیوی”کے نام سے اخباری کالمز کا مجموعہ بھی شہبازؔ گردیزی کی صلاحیتوں کا ثبوت پیش کرتے ہیں ۔طلوع ادب آزادکشمیر کے معتمد اعلیٰ چیئرمین افکار پاکستان ، صدر حسنِ بیان آزادکشمیر ،ممبر کشمیر کلچرل بورڈ کے علاوہ کئی ادبی تنظیموں سے وابستگی رکھتے ہیں۔ ۲۰۰۵ء میں ان کو کلچرکلچرل اکیڈمی ایوارڈ مل چکا ہے۔۲۰۰۹ء میں امیزنگ فیلڈ کارکردگی ایوارڈ ۲۰۱۱ء میں مرسی کور کارکردگی ایوارڈ کے علاوہ کئی طرح کے اعزازات حاصل کرچکے ہیں۔ سید شہباز ؔگردیزی دیگر شعرا کی طرح محبت کی جذبوں سے لبریز ہیں جب کہ جذبہ حب الوطنی آپ کی شاعری کا خاصا ہے۔ خواب سید شہبازؔ گردیزی کا ایک کامیاب استعارہ ہے وہ خواب دیکھتے ہیں آزادیٔ کشمیر کا خواب ، امن و قرار کا خواب، محبت وآتشی کا خواب یہی وجہ ہے کہ ان کو یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ ان کے بعد ان کے یہ خواب کہیں دم نہ توڑ دیں ۔ ڈاکٹر افتخارؔ مغل لکھتے ہیں۔
’’سید شہبازؔ گردیزی کی شاعری میں خواب کا استعارہ ایک نئے تصور ، ایک نئی معنویت ، ایک نئے رنگ ایک نئے امکان اور ایک نئے روپ کے ساتھ آیا ہے سید شہبازؔ گردیزی خواب کا خواب دیکھ لینے پر قادر ہے اس کے ہاں خواب ایک پرچھائی نہیں ایک مکمل امکان ہے وہ اس امکان کے امکان میں جھانک لیتا ہے وہ اپنے وجدان سے اپنے Visionکے کیمرے سے خواب کے پس منظر کی تصویر لے لیتا ہے۔‘‘ ۳۷
سید شہباز ؔگردیزی کے کلام میں خوابوں کا بیان اس قدر نفاست سے ملتا ہے کہ قاری کے دِل پر ایک کیف و سرور کی سی سرشاری چھا جاتی ہے۔ ان کے کلام سے یہ اشعار بہ طور مثال:
عجیب طرح کے خوابوں سے واسطہ ہے مرا
عجیب ہی مرے دِل میں خیال آیا ہے
(شہباز گردیزی ، خواب کون دیکھے گا ، ص ۱۶)
اس اک بات پر اٹکی ہوئی ہے سانس میری
میں مرگیا تو میرے خواب کو ن دیکھے گا
(شہباز گردیزی ، خواب کون دیکھے گا ، ص ۲۶)
تری آنکھوں میں یہ جو خواب سا ہے
اسے میں نے کہیں دیکھا ہوا ہے
(شہباز گردیزی ، خواب کون دیکھے گا ، ص ۳۰)
اتنے محتاط ہیں ہم لوگ تری دُنیا میں
اپنی آنکھوں سے بھی کچھ خواب چھپا کر دیکھے
(شہباز گردیزی ، خواب کون دیکھے گا ، ص ۷۵)
سرخ آنکھوں کا حال مت پوچھو
شب گزاری ہے اضطراب کے ساتھ
(شہباز گردیزی ، خواب کون دیکھے گا ، ص ۸۱)
احمد عطا ؔاللہ (۱۰ اپریل ۱۹۶۵ء )خطہ کشمیر سے متعلق ایک اور اہم شاعر احمد عطا ؔاللہ ہیں ۔احمد عطاؔاللہ کے والدین بسلسلہ روزگار لاہور میں مقیم ہیںیہی وجہ ہے کہ انھوں نے لاہور میں ہی جنم لیا۔ اپنی تعلیم لاہور میں ہی مکمل کی۔ ۱۹۸۹ء میں اُردو زبان و ادب میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کیا۔ اسی ادارے میں عباس تابشؔ کی صحبت نے آپ کو باقاعدہ شاعر بنادیا۔ عباس تابشؔ آپ کے سینئر تھے۔ احمد عطاؔ اللہ لاہور میں احمد ندیم ؔقاسمی کی صحبت سے بھی مستفید ہوئے۔ یہی وجہ ہے ان کے کلام میں دیہات اور گائوں کی زندگی جا بہ جا موجود ہے۔ ترقی پسندی کے عناصر بھی احمد عطاؔاللہ کی شاعری کا خاصا ہیں۔
احمد عطاؔاللہ جدید لفظیات کے شاعر ہیں ان کے امکانات بالکل تازہ جب کہ ُاسلوب جداگانہ اور منفرد ہے۔ وہ ایک فطرت شناس اورزندگی کا گہر امشاہدہ رکھنے والے انسان ہیں۔ دیہی خصوصیات اُن کی شاعری میں ملتی ہیں۔ شعری تخیل اور فکری سطح پر ان کے تمام اشعار میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ احمد عطاؔ اللہ گائوں کی فطری محبت کے اسیر ہیں ان کے مطابق گائوں میں محبتوں کا موسم شہروں کی نسبت زیادہ ہے جب کہ فطری حسن بھی گائوں میں ہی ملتا ہے ۔ان کی شاعری میں لہے کا نیا پن اور محبت کا غیر روایتی اظہار بھی انوکھے انداز میں موجود ہے۔ احمد عطاؔاللہ کا خاص اُسلوب جہاں بڑی سے بڑی غیر معمولی بات کو سادہ الفاظ کی لڑی میں پروسکتا ہے۔ وہاںان کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ آپ بات کو قاری کی ذہنی سطح کے مطابق بیان کرتے ہیں۔ وہ خارجیت سے زیادہ داخلیت پر محنت کرتے ہیں۔ احمد عطاؔ اللہ نے غزل کے میدان میں نئے مضامین لانے کی کوشش کی ہے اپنی اس کوشش میں وہ خاصی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ ظفرؔاقبال ان کی شاعری کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’جو لوگ میری نحوست طبع سے واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرا یہ اعتراف کیا معنی رکھتا ہے اور اپنی تمام تر بدلحاظی کے باوجود میرا سے عمدہ ، بلکہ قابل رشک قرار دینے کا مطلب کیا ہے مجھے اس شاعر نے خوش کیا ہے اور واقعتا یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔‘‘۳۸
احمد عطاؔاللہ کے کلام میں سے نمونے کے طور پر کچھ شعر درج ذیل ہیں۔
سازشی دِل تجھے ہمت نہیں ہونے دوں گا
دوسری بار محبت نہیں ہونے دوں گا
(احمد عطا اللہ ، ہمیشہ ، ص ۳۵)
بیچ رستے کے روک دوں گا تجھے
زندگی! میں بھی دیکھ لوں گا تجھے
(احمد عطا اللہ ، ہمیشہ ، ص ۳۹)
پہلے ہی یقین شہر پر گائوں نہیں کرتا
کیا سوچے گا واپس میں دوبارہ نہ گیا تو
(احمد عطا اللہ ، ہمیشہ ، ص۴۶)
شہر گائوں کی نیندیں چرالیں جس کی خوش بو نے
وہ کیسا پھو ل تھا کب بات سے باہر نکل آیا
(احمد عطا اللہ ، ہمیشہ ، ص ۸۷)
ایاز ؔعباسی آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں پیدا ہوئے بچپن سے ہی شعر و ادب کی طرف رغبت تھی ۔ ابتدامیں نظم اورہائیکو لکھیں تاہم غزل اور نعت میںپہچان بنائی۔ ایاز ؔعباسی مقدار سے زیادہ معیار کو ترجیح دیتے ہیں ۔ ایاز ؔعباسی کا مجموعہ کلام "ظہور”کے نام سے منظر عام پر آچکا ہے ۔ جب کہ دوسرا مجموعہ زیر طبع ہے۔ ایازؔ عباسی کی شاعری میں حبِ رسولؐ بھی موجود ہے اور حب الوطنی بھی ۔خم وکاکل بھی ہے اور عشق و محبت بھی ایازؔ عباسی اپنے جذبات کو غزل اور نظم کے لبادے میں بہت نفاست کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔تلخی ٔایام اور کربِ محبت ان کا اہم ترین موضوع ہے۔ وہ کبھی چلچلاتی دھوپ میں سفر کرتے ہیں تو کبھی گھنی چھائوں میں پڑائو ڈالتے ہیں۔ یادوں کی اک بستی کے مکین ایازؔ عباسی قلم اور زبان کے ازراں الفاظ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق عشق ِمحمدﷺ وہ شے ہے کہ جو زمانے کے ظلم و ستم سے اور اذیتوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے ۔ایازؔ عباسی کی شاعر ی میں حقیقت نگاری اور واردات قلبی یکساں طور پر ملتی ہیں۔ان کے مجموعہ کلام سے چند اشعار دیکھیے ۔
عمر تیری بھی ماہ و سال میں ہے
بادشاہا ! تو کس خیال میںہے
(ایاز عباسی ، ظہور ، ص، ۹۷)
ساربان اُونٹنی پر بیٹھتا تھا
جب عمرؓ کو مہار دی گئی تھی
(ایاز عباسی ، ظہور ، ص،۹۹)
منقبت ہدیہ کروں حضورؐ کے گھرانے کے لیے
لفظ منت کریں تحریر میں آنے کے لیے
(ایاز عباسی ، ظہور ، ص، ۲۱)
اس زمانے نے تو بس مار ہی ڈالا ہوتا
مصطفیؐ نے نہ اگر ہم کو سنبھالا ہوتا
(ایاز عباسی ، ظہور ، ص، ۹۷)
الطاف ؔعاطف( ۲۲دسمبر ۱۹۵۰)آزادکشمیر کے شعری ادب کی روایت میں کیپٹن (ر) الطافؔ عاطف کا نام بھی جانا پہچانا جاتا ہے ۔ آزادکشمیر کے ضلع باغ کے مشہور گائوں کفل گڑھ میں پیدا ہوئے۔ ایف ۔اے انٹر کالج باغ اور گریجویشن جامعہ پنجاب ، لاہور سے مکمل کرنے کے بعد آرمی ایجوکیشن کور میں جونیئر کمیشن حاصل کیا ۔ اپنی خدمات ملک و قوم کے لیے پیش کرتے ہوئے۲۰۰۳ء میں بہ طور آنری کیپٹن ریٹائرہوگئے۔
باغ آزادکشمیر میں پہلی طلبہ تنظیم کا بانی و صدر ہونے کا منفرد اعزاز رکھنے والے الطاف ؔعاطف نے اپنے کالج کے عرصے میں ۱۹۶۷ء سے شاعری میں طبع آزمائی شروع کردی۔ طویل مشقِ سخن کے بعد ۲۰۱۲ء میں پہلا مجموعہ کلام ’’جھیل کا چاند‘‘کے نام سے منظر عام پر آیا ۔ باغ کی کوئی بھی ادبی محفل آپ کے ذکر اور آپ کی شرکت کے بعد نامکمل تصور کی جاتی ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کی مکمل توجہ شعر و سخن پر مرکوز ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کا دوسرا مجموعہ کلام بھی زیر طبع ہے۔
توانا اور مثبت شعری سوچ کے حامل الطافؔ عاطف کے کلام میں ہر طرح کے موضوعات ملتے ہیں ۔ ان کے کلام کو دیکھ کرقاری باآسانی اندازہ کرسکتا ہے کہ زندگی کا بیشتر حصہ فوج میں گزارنے والا یہ شاعر موضوعات کی کمی کا ہرگز شکار نہیں رہا۔ وہ محبت کے لازوال جذبے کے مختلف پہلوئوں کو موضوع سخن بناتے ہیں ۔سید شہبازؔ گردیزی کے مطابق:
’’انھوں نے زندگی میں بے شمار نشیب وفراز دیکھے ہیں حادثات ِزمانہ پر گہری نظر رکھی ہے اس لیے ان کی شاعری میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج اور تنوع پایا جاتاہے ۔ ان کی شاعری میں جہاں حال کا عکس نمایاں ہے وہاں ماضی اور مستقبل کی جھلک بھی پائی جاتی ہے۔۳۹
عزم و ہمت کے جذبات کے حامل الطافؔ عاطف ہمیشہ حالات کے روشن پہلو تلاش کرتے ہیں ۔اِن کے کلام سے چند اشعار نمونے کے طور پر دیکھئے۔
جلوہ تمھارے حسن کا ہر پھول میں عیاں
چرچے ہیں پھر بھی دہر میں تیرے حجاب کے
(الطاف عاطف ، جھیل کا چاند ، ص ۲۱)
جو تو بچھڑا تو لگتا ہے مجھے ایسا
کہ جیسے میں سمند ر پار بیٹھا ہوئے
(الطاف عاطف ، جھیل کا چاند ، ص ۳۳)
چپکے چپکے جھانکتی رہتی ہیں جب بھی
راز کی باتیں بتاتی ہیں یہ آنکھیں
(الطاف عاطف ، جھیل کا چاند ، ص۴۱)
زندگی ہاری ہے عاطفؔ جن کی خاطر
روپڑے وہ ، بات آئی جب سمجھ میں
(الطاف عاطف ، جھیل کا چاند ، ص ۵۲)
چین آتا نہیں انھیں عاطفؔ
دوسروں کا جو دِ ل دکھاتے ہیں
(الطاف عاطف ، جھیل کا چاند ، ص ۲۱)
محمد خان نشترؔ(۱۹۲۷ تا ۱۹۸۵) آزادکشمیر کی ایک منفرد پہچان ہے۔ اُردو شاعری میں آپ روایت کی پاسداری کرتے ہیں۔محمد خان نشترؔ نے آزادکشمیر میں اُردو شعر و ادب کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دیں ۔محمد خان نشترؔ کے بیٹے زاہد ؔکلیم کے مطابق ۱۹۲۷ میں مظفرآباد شہر میں پیداہوئے۔ ۱۶سال کی عمر میں والدہ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا ۔ طالب علمی کے زمانے میں سیر و سیاحت کے ساتھ ساتھ مضامین نویسی علم و ادب اور کھیلوں میں دل چسپی لینے کے ساتھ ساتھ علامہ اقبالؔ کو بھی بڑے شوق سے پڑھتے تھے ۔ اپنے اس دور میں بال جبریل کو سرخ اور نیلی روشنائی سے خوش خط لکھ کر اپنے ادبی ذوق کا ثبوت دیا۔ معاشی طور پر زیادہ سازگار حالات نہ تھے۔ محکمہ جنگل میں کلرک کی حیثیت سے ملازمت کرتے رہے ۔ زاہدؔ کلیم کے مطابق:
’’محکمہ جنگل میں تمام عمر کلرکی کی ، لیکن شرافت اور وضع داری کے سبب افسرانِ بالا بھی ہمیشہ احترام کرتے تھے ۱۹۷۶ء میں ملازمت سے سبک دوش ہو کر ذوق کی تسکین کے لیے کتابوں کی دُکان ’’نیلم بک ڈپو‘‘ کے نام سے کھول لی جو کہ دُکان کم اور مرکزعلم و ادب زیادہ تھی۔‘‘۴۰
محمد خان نشترؔ نے اپنی زندگی علم و ادب کے لیے وقف کررکھی تھی۔ ان کی یادگار ایک تاریخ ’’رشحات نشتر‘‘ اور ایک مجموعہ شاعری’’ لمحات نشتر ‘‘، ان کی وفات کے بعد شائع ہوئے محمد خان نشتر ؔاپنے وقت کے اہل سخن سے رابطے میں تھے اس وقت کے تمام رسائل و جرائد باقاعدگی سے آپ کو ارسال کیے جاتے تھے۔
محمد خان نشترؔ فشار خون کے مریض تھے او اسی سبب ۲۸ مئی ۱۹۸۵ء برین ہیمرج کا شکار ہوکر دُنیا سے رخصت ہوئے۔زاہد ؔ کلیم کے مطابق:
’’وفات سے کچھ وقت پہلے میرے چھوٹے بھائی زبیر کو بلا کر آخری شعر لکھوایا جو بعدازاں قبر کے کتبے پر کندہ کیا گیا۔‘‘ ۴۱
محمد خان نشتر ؔکا یہ آخری شعر ان کی پہچان بن گیا ۔ بلاشبہ یہ ایک زندہ شعر ہے جو صداقت کے ساتھ ساتھ اپنے اندر ایک کرب اور دکھ رکھتا ہے۔یہ شعر اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے کہ موت سے کوئی بچ نہیں سکتا بڑے سے بڑا جابر بھی اک روز موت کے چنگل میں آئے گا۔
نشترؔ بہت دکھاتے تھے دم خم حیات میں
یہ کیا ہوا کہ ایک ہی ہچکی میں سو گئے
(محمد خان نشتر، لمحات نشتر ، ص ۷۳)
مری نزاکت ِ احساس اس زمانے میں
ہجوم ِ لالہ و سرووسمن سے روٹھ گئی
(محمد خان نشتر، لمحات نشتر ، ص۸۰)
پھر زندہ ہورہی ہیں روایات ِ دشتِ قیس
محشر ، خرام لیلی شام و سحر میں ہے
(محمد خان نشتر، لمحات نشتر ، ص ۹۸)
یہ حادثہ بھی دل نے ہے یک سر بھلادیا
وہ کب ملے کہاں ملے اور مجھ سے کیوں ملے
(محمد خان نشتر، لمحات نشتر ، ص ۷۳)
اکرم ؔسہیل (۱۹۵۵ء)آزادکشمیر کی شعری روایت میں اکرمؔ سہیل کا نام خاصا معروف ہے۔ اکرمؔ سہیل کی شاعری حقیقت کی شاعری ہے ۔ جہاں کوئی واقع رہنما ہوتا دیکھا فوراً اسے موزوں کرلیا۔ ترقی پسند تحریک کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی ترقی پسندشاعری کو پسند کرتے ہیں۔ کوٹلی آزادکشمیر کے ڈگری کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد پنجاب یونی ورسٹی سے لاکا امتحان پاس کیا۔ مختلف اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تعینات رہے ۔ دمِ تحریرپبلک سروس کمیشن ،آزادکشمیر کے ممبر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ ادب کے لیے بھی پھرپور خدمات جاری رکھی ہوئی ہیں۔۲۰۱۶ء میں اولین شعری مجموعہ ’’نئے اُجالے ہیں خواب میرے‘‘کے نام سے شائع ہوچکا ہے ۔ اکرمؔ سہیل کی شاعری کے حوالے سے ڈاکٹر مقصودؔ جعفری لکھتے ہیں۔
’’اکرم ؔسہیل کی شاعری روایت اور جدت کا حسین سنگم ہے ۔ افکار جدید ہیں اور لہجہ روایتی ہے۔۔۔آزادی اور مساوات ان کا مسلک اور انسان دوستی مذہب ہے۔‘‘۴۲
اکرم سہیل ؔکی شاعری کے چند نمونے ملاحظہ ہوں۔
غریب ، مفلس و محکوم کی یہ قسمت ہے
مرے نہ جو وہ دھماکوں سے مارا جائے گا
(اکرم سہیل ، نئے اُجالے ہیں خواب میرے ، ص ۱۸۹)
بس اہلِ درد ہی جانیں یہ زبانِ درد
سخن ہے ایسا کہ محتاج قیل و قال نہیں
(اکرم سہیل ، نئے اُجالے ہیں خواب میرے ، ص۲۰۵)
جھول کر دارپر منصور نے قاتل سے کہا
ہم کہاں مرتے ہیں مصلوب دوبارہ کیجیے
(اکرم سہیل ، نئے اُجالے ہیں خواب میرے ، ص۲۰۸)
شفیق ؔراجا (۴فروری ۱۹۵۶ء) آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں پید اہونے والے راجا محمد شفیقؔ خان ادبی دُنیا میں شفیق ؔراجا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ شفیق رؔاجا نے ایم اے اُردو تک تعلیم حاصل کی پھر درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے پرنسپل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے ۔ ضلع باغ میں آپ کے شاگردوں کا ایک وسیع حلقہ ہے جن میں سید شہبازؔ گردیزی معروف شاعر ہیں۔ پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی کے مطابق:
’’ان کے کلام میں فکر کی ندرت بھی ہے اور اظہار کی دلاویزی بھی۔ شاعری کی فطری استعداد کو وسیع مطالے نے جلا بخشی ہے اور زبان و بیان کو دِ ل کش اور موثر بنایا ہے ۔ وہ قدیم و جدید شعری اسالیب سے بہ خوبی واقف ہیں روایت سے بغاوت نہ کرتے ہوئے رویوں کو اپنایاہے‘‘۴۳
شفیق ؔراجا کے کلام میں جذبہ حب الوطنی اور حسن و محبت کے موضوعات بہ کثرت ملتے ہیں۔ آسان و عام فہم زبان ان کے کلام کا خاصا ہے۔ شفیق ؔراجا کا پہلا مجموعہ ’’میں حرف حرف سمیٹوں ‘‘ ۱۹۹۸ ء میں منظر عام پر آیا ۔ آپ باغ کی سب سے فعال ادبی تنظیم طلوع ادب کے صدر نشین او ربانی ہونے کے علاوہ پہاڑی ادبی سنگت کے بھی ضلعی صدر ہیں۔ شفیق ؔراجا کے مجموعہ کلام میں سے چند اشعار دیکھیں۔
ستم کی ، ظلمت کی ماری ہوئی رُتیں کب تک
مرے وطن تیری قسمت میں ظلمتیں کب تک
(شفیق راجا ، میں حرف حرف سمیٹوں ، ص ۴۵)
ایک حیرت کا سمندر مؤجزن پاتے ہیں ہم
جب تخیل میں کبھی کرتے ہیں ہم پیکر شمار
(شفیق راجا ، میں حرف حرف سمیٹوں ، ص ۶۲)
مرے خیال کی حرمت اِسی سے قائم ہے
کہ تیرے پیار نے کرنا ہے سرخرو مجھ کو
(شفیق راجا ، میں حرف حرف سمیٹوں ، ص ۸۳)
احسن ؔسلیمان(۲۸ مئی ۱۹۹۱) آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی کے گائوں تتہ پانی میں پیدا ہوئے۔ احسن ؔسلیمان کو اسکول دور سے ہی شعر و ادب سے دل چسپی پیدا ہو گئی جس کی بنیادی وجہ کم سنی میں ہی کتاب سے محبت ہے۔ پروینؔ شاکر، احمد فرازؔ، جون ؔایلیا اور ساغر ؔصدیقی سے متاثر رہنے والے احسن سلیمان نے سید شہباز ؔگردیزی سے اصلاح لی ۔ لیکن خدا داد صلاحیتوں کی بدولت سر شت میں شاعری کا ملکہ موجود تھا لہذا ستمبر ۲۰۱۶ء میں ہی ’’مجھے تم سوچ کر دیکھو‘‘ کے نام سے شعری مجموعہ منظر عام پر آیا۔ کم عمری میں شعری مجموعہ شائع ہوا لیکن اس کے ہاں فکر،پختہ نظر آتی ہے۔ ظہیرؔ احمد مغل کے مطابق:
ـ’’ اس عمر میں ہر شخص زیادہ تر محبت کی باتیں کرتا ہے۔ لیکن احسن ؔسلیمان کی ایک خاص بات ہے۔ کہ اسے محبت کے ساتھ ساتھ اپنے وطن عزیز سے عشق ہے۔ جو اس کے اشعار اور اس کی نظموں میں نظر آتا ہے۔‘‘۴۴
احسن ؔسلیمان کم عمر ہونے کے باوجود الفاظ کے استعمال میں بہت محتاط واقع ہوا ہے۔ وہ اس بات کی ہمیشہ کوشش کرتا ہے کہ اس کے کلام میں کوئی فنی سقم نہ رہ جائے۔ زبان و بیان کے حوالے سے بھی اس کی کوشش قابل قدر ہیں ۔ احسنؔ سلیمان ابھی عمر کے اس حصے میں ہے جس میں عموماً فکری سطح کمزور ہوتی ہے۔ لیکن اس کے کلام سے بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک سنجیدہ تخلیق کار ہے۔ جو شاعری کو فرض ِاولین سمجھتا ہے اور پوری دل جمعی سے یہ کام کرتا ہے۔
احسن ؔسلیمان کی شاعری ابھی ارتقا کی ابتدائی سیڑھیوں پر ہے۔ اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ آنے والے وقت میں آزاد کشمیر کا ایک اہم شاعر بن جائے گا۔ احسن وؔقت کے ساتھ ساتھ بہتر سے بہتر شاعری کر رہا ہے۔احسن ؔکے ہاں باغیانہ روش بھی اس کے خاص اندازکا حصہ ہے وہ اپنی دھرتی سے جنوں کی حد تک پیار کرتا ہے اور اس دھرتی کے لیے وہ ہر طرح کی قربانی دینے کے جذبے سے سرشار ہے۔ احسن ؔکی شاعری کے حوالے سے رانا توفیق صدیقی لکھتے ہیں:
’’احسنؔ کی عمر کے اعتبار سے ان کی غزلیات بھی بہترین ہیں۔ ان غزلیات میں انھوں نے غزل کی روایت کو ملحوظ رکھا ہے۔ غزلیات احسن کو پڑھ کر قاری محسوس کرتا ہے کہ شاعر کو کسی بھی مقام پر قافیے اور ردیف کی کمی نہیں رہی۔ ان کی غزلیات واردات قلبی کے سادہ اور دل کشں اظہار سے مزین ہیں۔ مجموعی طور ان کا کلام ان کے عمدہ تخیل اور جذبات واحساسات کا حسین مرقع ہے۔‘‘۴۵
احسن ؔسلیمان کی شاعری میں سے چند مثالیں دیکھیں جن سے اس کے رنگ کا پتا چلتا ہے۔
مرے سینے میں اے لوگو مرے کشمیر کا غم ہے
مرے دل میں وطن تیری محبت شعلہ بنتی ہے
(احسن سلیمان ،مجھے تم سوچ کر دیکھو، ص۳۴)
کہیں سنی ، کہیں شیعہ ، کہیں دیوبند کا جھگڑا
کہ میں نے فرقہ واریت کا وہ فتور دیکھا ہے
(احسن سلیمان ،مجھے تم سوچ کر دیکھو، ص۳۷)
کسے خبر تھی کہ ہوں میں بھی عشق کا مارا
کہ ہم کو نیند نہیں رتجگوں نے لوٹا ہے
(احسن سلیمان ،مجھے تم سوچ کر دیکھو، ص۷۵)
کچھ لوگ میرے شہر کے قارون تھے مگر
اچکا کے لے گئی انھیں اندھی عدم کہاں
(احسن سلیمان ،مجھے تم سوچ کر دیکھو، ص۱۱۵)
ظہیرؔ احمد مغل (۵ نومبر ۱۹۹۱ء)آزاد کشمیر کے ضلع حویلی میں جنم لینے والے ظہیر ؔاحمد مغل بھی شاعری میں سید شہباؔزگردیزی کے شاگرد ہوئے۔ظہیر اؔحمد مغل کے ہاں ادبی ذوق اس قدر ہے کہ وہ بیک وقت کئی ادبی تنظیموں سے وابستگی رکھے ہوئے ہیں۔ ظہیرؔ مغل آزاد کشمیر کی معروف ادبی تنظیم ’’طلوع ادب‘‘ کے معتمد نشرواشاعت ہونے کے ساتھ ساتھ افکار پاکستان کے آزاد کشمیرریجن کے معتمد بھی ہیں۔ ظہیر اؔحمد مغل نے اردو شاعری میں خاص پہچان بنا لی ہے وہ آزاد کشمیر کے ادبی حلقوں میں اپنے ادبی کارناموں کے باعث خاصے مقبو ل ہو رہے ہیں۔ نظم و غزل دونوں میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ظہیرؔ احمد مغل کا پہلا شعری مجموعہ ’’میرا چاند‘‘ کے نام سے زیر ِطبع ہے۔ ظہیر اؔحمد مغل کی شاعری اپنے وقت کا نوحہ ہے وہ اپنے احساسات کو بڑے خوب صورت انداز میں شعری قالب میں ڈھالتے ہیں۔ ان کا کلام ملکی اخبارات و جرائد کی زینت بنتا رہتا ہے۔ ظہیرؔ احمد مغل کے کلام سے کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں:۔
خواب جب ایڑھیاں رگٹرتے ہیں
اشک آنکھوں سے بہہ نکلتے ہیں ۴۶
کبھی وہ یاد آجائے یا اس کا خواب آ جائے
کسی صورت بھی ہو وہ دو بدو تو شعر ہوتا ہے ۴۷
کیسے دیکھوں میں اسے جی بھر کے
جی ہے آخر یہ بھر بھی سکتا ہے ۴۸
ڈاکٹر ماجدؔ محمود(۱ جنوری۱۹۸۰ء) کاتعلق آزاد کشمیر کے ضلع سدھنوتی کی تحصیل پلندری ہے۔ آپ کے والد محمد حنیف خود تو زیادہ پڑھے لکھے نہ تھے لیکن انھوں نے اپنی اولاد کی بہترین تربیت کرتے ہوئے ان کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ ڈاکٹر ماجدؔ سدھن قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں یہ قبیلہ افغانستان کے قبائلی علاقوں سے برسوں پہلیآزاد کشمیر میں آ کر آباد ہوا۔
ڈاکٹر ماجد ؔبچپن سے ہی بہت محنتی اور ذہین واقع ہوئے ہیں۔ اپنی شبانہ روزمحنت کے باعث وہ اپنی ابتدائی جماعتوں میں ہمیشہ اول آتے۔ نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سر گرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ ماجدؔ محمود زمانہ طالب علمی میں ایک اچھے مقرر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ وہ متعدد دفعہ بڑی سطح کے تقریری مقابلوں میں اول انعام کے حق دار ٹھہرے۔
ماجدؔ محمود کی ابتدائی تعلیم پلندری سے ہی ہوئی بعد ازاں آزاد جموں و کشمیر یونی ورسٹی مظفرآباد سے بی ایس سی اور ایم ایس سی زوالوجی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ پیر مہر علی شاہ یونی ورسٹی راول پنڈی سے ۲۰۱۵ء میں ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد پونچھ یونی ورسٹی ، راولاکوٹ کے شعبہ زوالوجی میں بہ طور اسسٹنٹ پروفیسر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر ماجدؔ اپنے زمانہ طالب علمی سے ہی شعری ذوق رکھتے تھے۔ اسی ذوق کی تسکین کے لیے پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی (مرحوم) کے باقاعدہ شاگرد ہوئے اور شعری رموز سیکھے۔ ڈاکٹر ماجدؔ نے شاعری کے ساتھ تنقید اور نثر میں بھی کسی حد تک کام کیا۔ یونی ورسٹی آف آزاد جموں وکشمیرمیں کئی اسٹیج ڈرامے لکھے اور انعام کے حق دار ٹھہرے۔ ڈاکٹر ماجد ؔمحمود کا کلام بے ساختہ اور سائنسی ادراک کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ زبان کے حوالے سے بھی خاصااہم ہے۔ ڈاکٹر ماجدؔ کی اردو کی ادبی تاریخ پر بھی گہری نظر ہے۔ میرؔؔ ، غالبؔ ، داغؔ، فراز ؔتک سبھی شعرا کو شوق سے پڑھا جب کہ نثر میں مشتاق احمد یوسفی اور سعادت حسن منٹو کے مداح ہیں۔ ڈاکٹر ماجدؔ کی شاعری میں روایت کی واضح جھلک ملتی ہے۔ شوکت اقبال مصورؔ کے مطابق:
’’ماجد کی شاعری اپنے عہد کی ایک صاف آواز بن گئی ہے۔ وہ اپنے اردگرد کے حالات سے قطعی طور پر غافل نہیں۔ اس کا کلام اپنے ہونے کا خود پتا دیتا ہے۔‘‘۴۹
ڈاکٹر ماجدؔمحمود آزاد کشمیر کے نئے لکھنے والوں میں ایک نمایاں آواز ہے۔ان کے اکثر اشعارمقبولیت حاصل کر چکے ۔ ملکی اور ریاستی سطح پر جانے جانے والے ماجد ؔمحمود کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کا ایک شعر معروف غزل گو اور کالم نگار ظفرؔ اقبال نے اپنے کالم کا حصہ بنایا اور اسے پسندیدگی کا خلعت بخشا۔ظفر ؔاقبال اپنے کالم بہ عنوان ـ’’ سرخی، متن، ٹوٹے، ڈاکٹر ضیا الحسن اور ماجد محمود ماجد ؔکے اختتام میں لکھتے ہیں۔
’’اور اب چلتے چلتے پلندری سے ماجدؔ محمود کا یہ لاجواب شعر
ہوس ہوتی تو پوری کر بھی لیتے
محبت تھی ، ادھوری رہ گئی ہے‘‘ ۵۰
ماجد ؔمحمود نے غزل ہی کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا اور اس میں نام کمایا ۔ ماجدؔ محمود کی شاعری میں مزاج کی نرمی ، حسن و عشق کے مضامین، زبان کی سادگی ، روانی ،برجستگی اور صاف گوئی جیسی خصوصیات موجود ہیں۔ وہ زمانے کی اونچ نیچ سے آگاہ ہیں اورا ن ہی معاشرتی رویوں کو مضمون کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر ماجد محمود ماجدؔ کے چند اشعار بہ طور مثال دیکھیں۔
لوگ نہ جانے کیسی کیسی باتیں کرتے
تجھ سے بچھڑ کر فوراً مرنا ٹھیک نہیں تھا ۵۱
ممکن ہی کہاں ہ کہ کبھی تجھ کو بھلادوں
رہتے ہے ہمیشہ مجھے گھیرے تیری خوش بو ۵۲
اترنا پڑتا نہ پیغمبروں کو جنگوں میں
اگر سمجھتی یہ دنیا زباں محبت کی ۵۳
ظہور ؔمنہاس (۱۵،مارچ ۱۹۹۶ء)آزاد کشمیر کے شعری ادب کا مستقبل نوجوان شاعر ظہورؔ منہاس کے صورت میں بھی روشن ہے۔ ظہورؔر منہاس کا پورا نام ظہورؔ اللہ منہاس ہے۔ ظہور ؔمنہاس آزادکشمیر کے ضلع مظفرآباد کے ایک خوب صورت گائوں گلی کھیتر، بھیڑی میں پیدا ہوئے۔ ابتدا سے مطالعے کا شوق رہا تا ہم۲۰۱۴ء میں حصول ِمعاش کے لیے باغ گئے جہاں سید شہباز ؔگردیزی اور ظہیرؔ احمد مغل کی صحبت میں مشق سخن جاری رکھی ۔ ظہورؔ کے کلام میں نایاب ردیفیں اور اعلیٰ خیال اس کی خاص پہچان ہیں۔ ظہور ؔمنہاس کے ہاں کئی ایسے اشعار ہیں جو آزاد کشمیر کے ادبی حلقوں میں مقبول ہو چکے ہیں۔ اس کے کلام میں سے چند اشعار ملاحظہ ہوں جو اس بات کی امکان ہیں کہ وہ کس قدر باصلاحیت تخلیق کا رہیں۔
ہزار حیف ہے کوفہ کی وادیوں تم پر
حسینؓ آنے سے پہلے ہی جل گئی ہوتیں ۵۴
میرؔ، کشمیراور میں خود بھی
درد کے مستند حوالے ہیں ۵۵
یہ کیا سادہ دلی تھی وصل میں جو
کلائی کی گھڑی کو روک رکھا ۵۲
بیجھی تصویر بھی تو آنکھوں کی
یعنی آنکھیں دکھا رہی ہو مجھے ۵۷
آصف ؔاسحاق (۰۴،ستمبر ۱۹۸۰ء)کا تعلق بھی آزاد کشمیر کے ضلع سدھنوتی سے ہے۔ پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی (مرحوم) کے ہونہار شاگردوں میں شمار ہونے والے آصف ؔاسحاق کے شعری ذوق کا پتا ان کا ہر ہر شعر دیتا ہے۔ایم ۔اے اسلامیات کرنے کے بعد پرائیویٹ امیدوار کے طور پر جامعہ آزاد کشمیرسے ایم اے اردوکیا اوراب علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سے ایم فل اردو کے لیے مقالہ لکھ رہے ہیں۔ آصف اؔسحاق بزم فکر وسخن پلندری کے نہایت فعال کارکن ہیں اور باقاعدگی سے ادبی نشستیں انعقاد پذیرکرواتے ہیں۔آصف ؔاسحاق کی شاعری بھی ان کے خوب صورت خیالات کا مجموعہ نظر آتی ہے۔ بہت کم لکھتے ہیں لیکن جو بھی لکھتے ہیں وہ سب انتخاب لگتا ہے۔ آصفؔ اسحاق کے لیے یہ اعزاز بھی کیا کم ہے؟ کہ ظفر ؔاقبال نے ان کے ایک شعر پر ان کو اپنے کالم کے ذریعے داد دی۔ ۱۱ جنوری ۲۰۱۷ء کے کالم میں ظفرؔ اقبال نے لکھا۔
’’ آصف ؔاسحاق کا پلندری سے یہ خوب صورت شعر موصول ہوا۔ آپ بھی سنیئے
اب دکھائی نہیں دیتا کہ کہاںرکھا تھا
لوٹ آنے کے لیے ایک نشاں رکھا تھا
مطلب یہ کہ عمدہ شعر کہیں بھی اور کسی پر بھی اتر سکتا ہے۔ امید ہے موصوف اپنے کچھ اور اشعار بھی بھیجیں گے۔‘‘۵۸
ظفر ؔاقبال کا اعتراف بلاشبہ آزاد کشمیر کے اس شاعر کے لیے باعث فخر ہے ۔ آصف اؔسحاق کے کلام سے چند مزید اشعار دیکھیں:
اگر لوح و قلم آصفؔ مجھ تفویض ہو جاتے
محبت کے قلم سے میں فقط تیری ثنا لکھتا ۵۹
کوئی آواز مقتل سے نکل کر
صدائے دہر ہوتی جارہی ہے ۶۰
اے مرے شاہ! ملاقات کے قابل ہو ں کہاں
مجھ کو جگما ہی کرو تم سردربار طلب ۶۱
جاویدؔ سحر(۲۶، جون ۱۹۸۰ء) جن کا اصل نام جاوید اقبال ہے مقبوضہ کشمیر کے ضلع سوپور میں پیدا ہوئے۔ نوے کے عشرے میں والدین کے ساتھ ہجرت کا دکھ اٹھایا اور آزاد کشمیر کے ضلع عباس پور میں سکونت اختیار کی ۔ جاویدؔ سحر کا ایک گوجری مجموعہ ’’گھر‘‘ کے نام سے ۲۰۱۷ء میں شائع ہو چکا ہے جب کہ اردو شعری مجموعہ’’ دستک‘‘ زیر طبع ہے۔ جاویدؔ سحر نے اردو سے محبت کا ثبوت ایم اے اردو کر کے دیا ۔ جاوید کی شاعری بھی امکانات کی شاعری ہے۔ ان کے کلام میں سے چند اشعار دیکھیں:
ہزار درپیش اب وجد اندگی پیارے
اگر یہ درد نہ ہوتے تو میں مر گیا ہوتا ۶۲
ان دنوںبے خطر ملو مجھ سے
ان دنوں پارسا نہیں ہوں میں ۶۳
ہمارے ہاتھ کی ریکھا میں صرف ہجرت ہے
ہمارے ساتھ سفر پر اگر گئے تو گئے ۶۴
احمد وقارؔ(۷ اکتوبر ، ۱۹۸۶ء) کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع نیلم کے سرحدی گائوں لیسوا سے ہے۔ آپ کا پیدائشی نام وقار احمد میر ہے۔ لیکن ادبی حلقوں میں احمد وقارؔ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ احمد وقار ؔنے ابتدائی تعلیم لیسوا اور اٹھ مقام کے اداروں سے حاصل کی۔ جامعہ کراچی سے معاشیات میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ آزادکشمیر یونی ورسٹی مظفرآباد سے ایم ۔اے اردو کیا۔ احمد وقارؔ نے پی ایس سی کرنے کے بعد بہ طور لیکچرراپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اس وقت وہ گورنمنٹ ڈگری کالج شاردہ میں لیکچرر معاشیات خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ احمد وقارؔ نے اپنی فطری صلاحیتوں کی بدولت شعر وسخن سے بھی ناتا قائم رکھاہے۔ علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سے ایم فل اردو کے لیے مقالہ لکھنے والے احمد وقارؔ نے شعرائے نیلم کا ایک انتخاب ۲۰۱۴ء میں شائع کیا۔
احمد وقارؔ نے سنجیدہ شاعری کے ساتھ ساتھ مزاحیہ شاعری میں بھی خود کو منوایا ہے۔ ان کی شاعری حالات حاضرہ کے ساتھ ساتھ معاشرتی ناہمواریوں کے گرد گھومتی ہے جیسا کہ پروفیسر فرزانہ ناز رقم طراز ہیں:
’’سماجی و معاشرتی مسائل و ناہموار یاں بھی ان کی نظر میں ہیں۔ محبوب سے اظہار محبت اور بے التفاتی کو مزاح کی چاشنی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔‘‘ ۶۵
احمد وقار ؔضلع نیلم کے اچھی شہرت کے حامل شاعر ہیں جن کا اوڑھنا، بچھونا ادب ہی ہے۔ گھر میں ایک ضخیم لائبریری اس بات کا ثبوت ہے۔ مشتاق احمد یوسفی سے عقیدت کی حد تک محبت ہے۔ شاعری میں احمد فرازؔ، اقبالؔ ، فیضؔ، اور غالبؔ ان کے پسندیدہ شعرا ہیں تاہم عصر حاضر کے نوجوانوں کا کلام بھی ان کے زیر مطالعہ رہتا ہے۔ احمد وقارؔ کے کلام میں سے چند اشعار بہ طور نمونہ دیکھیے۔
دیکھ لو موت تلک ساتھ نبھایا ہے وقارؔ
بھری دنیا میں ترا غم ہی ہمارا نکلا ۶۶
صحرا بھی چھن گئے ہیں سرابوں کے ساتھ ساتھ
آنکھیں بھی لے گیا ہے وہ خوابوں کے ساتھ ساتھ ۶۷
آب دینے کی ضرورت نہ رہی قاتل کو
تیغِ ابرو کے لیے میرا لہو کافی ہے ۶۸
پروفیسر اعجاز ؔنعمانی(۱۲،مارچ ۱۹۶۹ء) کا اصل نام اعجاز احمد ہے۔ شبلی نعمانی کی نسبت سے نعمانی کا لاحقہ لگا گر اعجاز نعمانی کہلائے۔ اعجاز ؔنعمانی آزاد کشمیرکے شعری منظر نامے میں نمایاں نام ہے۔ غزل سے عشق کی حد تک لگائوہے۔ اعجازؔ نعمانی نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گائوں چکار سے حاصل کی۔ اپنے خالہ زاد پروفیسر ڈاکٹر افتخارؔ مغل سے اکتساب فیض حاصل کیا اور ابتدائی عمر سے ہی شعر موزوں کہنے لگے۔ اعجازؔ نعمانی نے ایم اے اردو آزاد جموںوکشمیر یونی ورسٹی سے کرنے کے بعد محکمہ تعلیم میں ملازمت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اس وقت گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد میں تدریسی فرائض ادا کر رہے ہیں۔ اعجازؔ نعمانی علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سے ایم فل کی ڈگری کے لیے مقالہ بھی لکھ رہے ہیں۔
آزاد کشمیر کے ادبی ماحول کو اعجازؔ نعمانی نے خوب جلا بخشی ہے۔ آزاد کشمیر کی اہم ادبی تنظیم کشمیر لٹریری سوسائٹی جس کا موجود نام کشمیر لڑیری سرکل ہے کے بانی سیکرٹری ہیں اور تا حال اس عہدے پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔کشمیر لٹریری سرکل آزاد کشمیر کی ایک فعال تنظیم ہے جو ادب کی ترقی و ترویج کے لیے ۱۹۹۳ء سے خدمات فراہم کر رہی ہے۔ اکادمی ادیبات آف پاکستان کے آزادکشمیر میں فوکل پرسن کے طور پر بھی اعجاز ؔنعمانی کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ ادبی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ۱۹۹۵ء سے ملکی سطح کے تمام بڑے رسائل و جرائد میں ان کا کلام باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔ اعجازؔ نعمانی گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد کے مجلے ’’دومیل‘‘ کے چیف ایڈیٹر کے طور پر بھی خدمات بہم پہنچا رہے ہیں۔ جب کہ ان کے ادبی کالم ملکی سطح کے اکثر اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ پروفیسر اعجاز ؔنعمانی جہاں ادب کے لیے اپنی خدمات سے بھی بھی گریزاں نظر نہیں آتے وہیں اپنے مجموعے کی اشاعت میں خاصے محتاط واقع ہوئے ہیں۔آپ کا اولین شعری مجموعہ ’’کہے بغیر‘‘ کے نام سے اشاعت کے آخر مراحل میں ہے تا ہم آپ کا شعری انتخاب ’’اس گلی میں ہے بیل پھولو ں کی‘‘ کے نام سے ۲۰۰۴ء میں اشاعت پذیر ہو چکا ہے۔ اعجازؔ نعمانی کے کلام سے ان کی شاعری کے چند نمونے ملاحظہ ہوں:
چاہے چھلنی ہو یہ مشکیزہ کہ پانی جائے
جبر والوں سے مگر ہار نہ مانی جائے ۶۹
حسن اور اتنی فراوانی کے ساتھ
دیکھتا رہتا ہوں حیرانی کے ساتھ ۶۰
میں کیسے زندہ و مردہ میں امتیاز کروں
بنے ہیں قبروں پہ اعجازؔ گھر زیادہ تر ۷۱
اعجازؔ نعمانی کی شاعری موجود ہ عہد میں ہوا کے ایک تازہ جھونکے کی مانند ہے جو قاری کو فرحت اور تسکین کی سر شاری عطا کرتی ہے۔ایم یامینؔ کے مطابق:
’’ان کی غزل میں گائوں کی اداسی، شام کے اسرار اور صبح کے نور کے بھیگے ہوئے پھولوں کی شبنمی تازگی باہم آمیخت ہو گئے ہیں۔‘‘۷۲
شوزیب کاشرؔ(۱۱ نومبر، ۱۹۸۶ء) کا اصل نام شوزیب صادق ہے۔آپ کا تعلق وادی پر ل راولاکوٹ کے گائوں بھیکھ سے ہے۔ شوزیب کاشرؔجب دسویں جماعت میں تھے تواس وقت انھوں نے پہلا شعر کہا۔
شوزیب کاشر کا پہلا مجموعہ ۲۰۰۲ء میں ’’ میں نے پیار بیچ دیا‘‘ کے نام سے منظر عام پر آیا۔ اس وقت شوزیب کاشر ؔ صرف ۱۵پندرہ برس کے تھے۔ ۲۰۰۴ء میں نیشنل چلڈرن ڈے پر اسلام آباد کی نیشنل لائبریری میں مذکور ہ مجموعے کے لیے کم سِن صاحب ِکتاب ہونے پر شوزیب کاشر ؔطلائی تغمے اور سند ِاعزاز کے حق دار ٹھہرے۔ حکومت پاکستان کے جانب سے یہ اعزاز پا کر ان کے حوصلے مزید بڑھ گئے جس کا ثبوت ۲۰۰۶ء میں ’’نوائے خضر‘‘ کی اشاعت ہے۔ اس کے علاوہ شوزیب کاشر کے زیر طبع مجموعوں میں ’’مسیحائی‘‘ اور ’’مجھے راستے میں نہ چھوڑنا‘‘جلد اشاعت پذیر ہوجائیں گے۔
شوزیب کاشرؔ غزل کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں نعت نگاری کے حوالے سے ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ اللہ پاک نے ان کو کلام کے ساتھ ساتھ آواز کی دولت سے بھی مالا مال کیا ہے جب ترنم سے پڑھتے ہیں تو محفل میں سکوت طاری ہو جاتا ہے اور محفل زعفران زر ہو جاتی ہے۔شوزیب کاشرؔ غزل کے داخلی پہلوئوں کے ساتھ ساتھ اس کے خارج پر بھی دھیان دیتے ہیں۔ عربی اور فارسی سے آشنائی نے ان کی شاعری میں مزید نکھار پیدا کر دیا ہے۔شوزیب کا شرؔ آزاد کشمیر کے شعری ادب میں ایک معتبر حوالہ بن چکے ہیں۔ ان کا کلام محافل کی زینت بن چکا ہے اور ان کے بنا کوئی ادبی محفل ادھوری تصور کی جاتی ہے۔ شوزیب کاشرؔ کے کلام میں سے چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
کن کہوں اور کم ہو جائیں
آدمی ہو کوئی خدا ہو ں کیا ۷۳
مرے نبی ﷺ نے دی سدا دشمن جان کو بھی اماں
بدلے کی آگ پالنا میری سرشت میں نہیں ۷۴
زندگی بھوک کے ماروں کی نہ پوچھو کاشرؔ
غم کی سولی پہ یہ ہر روز لٹک جاتی ہے ۷۵
فاروق حسین صابرؔ(۱۰ جون ، ۱۹۶۵ء) کا تعلق بھی آزاد کشمیر کے ضلع راولاکوٹ سے ہے۔ ایم۔ اے عربی اور ایم اے اسلامیا ت تک کی تعلیم حاصل کی۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ فاروق صابرؔؔؔ چوں کہ ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے بن جونسہ کی جامع مسجد میں خطیب کی ذمہ داری بھی آپ نبھار ہے ہیں۔ آپ کے کلام میں معاشرے کے حساس پہلوئوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ فاروق صابرؔؔ کسی محفل میں ہوں تو ان کا ترنم محفل میں ایک سحر کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ فاروق صابرؔؔ کا مجموعہ تا حال شائع نہیں ہو سکا تاہم وہ کئی رسائل اور شعری انتخابات میں شائع ہو چکے ہیں ۔ فاروق صابرؔؔ کے کلام کے نمونے دیکھیں:
دیواریں ملی ہیں ہر گھی کی پھر بھی ہیں جدا دل آپس میں
اس شہر میں ہر اک تنہا ہے یوں لوگ ہزاروں رہتے ہیں ۷۶
امیر شہر نے قبضہ کیا سب کے وسائل پر
خبطیب اپنی خطابت میں اس کا حق بتاتے ہیں ۷۷
غلامی سے نکلتے ہیں زمانے ہیں وہی صابرؔؔؔ
شعور و آگہی کے جو دیے پہم جلاتے ہیں ۷۸
حوالہ جات
۱۔ وارث سرہندی(مرتبہ)،علمی اردو لغت،علمی کتب خانہ،لاہور،س،ن،ص۷۴۸۔
۲۔ عبدالحفیظ بلیاوی،ابوالفضل،مولانا،مصباح اللغات،ادارۃالعلم،نوشہرہ،جون۲۰۱۴ء، ص ۵۹۸۔
۳۔ حامد حسن قادری،تاریخ و تنقید،لکشمی نارائن اگر وال پبلشرز،آگرہ،طبع دوم ۱۹۴۷ء، ص۱۰۱۔
۴۔ رفیع الدین ہاشمی،ڈاکٹر ،اصنافِ ادب،سنگِ میل پبلی کیشنز،لاہور،۲۰۱۱ء، ص۳۱۔
۵۔ محمود شیرانی ،حافظ،مقالاتِ محمود شیرانی،مظہر محمود شیرانی(مرتبہ)،مجلس ترقیٔ ادب،لاہور،۱۹۶۹ء،ص۴۸۔
۶۔ پریم ناتھ بزاز،پنڈت،تاریخِ جدو جہد آزادیٔ کشمیر،عبدالحمید نظامی(مترجم)،ویری ناگ پبلشرز،میرپور،۱۹۹۲ء، ص۲۲۹۔
۷۔ حبیب کیفوی،کشمیر میں اردو،اردو سائنس بورڈ ،لاہور،۱۹۷۹ء،ص۱۷۔
۸۔ محمد صغیر آسی،پروفیسر،شعرائے کشمیر،الفضل کتاب گھر،میرپور،اپریل ۱۹۹۳ء، ص۱۰۴۔
۹۔ ایضاً، ص۱۰۵۔
۱۰۔ ایضاً، ص۱۰۶۔
۱۱۔ ایضاً،ص ۳۷۲۔
۱۲۔ ایضاً،ص ۳۷۴۔
۱۳۔ ایضاً۔
۱۴۔ ایضاً۔
۱۵۔ ایضاً۔
۱۶۔ ایضاً،ص ۱۸۱۔
۱۷۔ مقالہ نگار کا رانا غلام سرور سے انٹر ویو ،بہ ذریعہ ٹیلی فون ، ۲۱،نومبر،۲۰۱۶ء،
۱۸۔ افتخار مغل(دیباچہ) قرضِ سخن، نذیر انجم، ارشد بک سیلرز، میرپور،س،ن، ص۱۵۔
۱۹۔ قدرت اللہ شہاب(فلیپ) ،قرضِ سخن، نذیر انجم، ارشد بک سیلرز، میرپور،۔
۲۰۔ شہباز گردیزی، اجلی مٹی(انتخاب)،نکس پبلشرز،میرپور،مارچ ۲۰۱۵ء، ص۱۶۔
۲۱۔ ایضاً۔
۲۲۔ ایضاً،ص۱۷۔
۲۳۔ ایضاً،ص۱۸۔
۲۴۔ ایضاً،ص ۱۹۔
۲۵۔ ایضاً،ص ۲۶۔
۲۶۔ جمیل جالبی،ڈاکٹر(دیباچہ)، صلیبوں کا شہر، مخلص وجدانی، ادبیات،مظفر آباد، س۔ن، ص ۴۔
۲۷۔ جگن ناتھ آزاد(دیباچہ) ،صلیبوں کا شہر، مخلص وجدانی، ادبیات، مظفر آباد،س،ن، ص ۵۔
۲۸۔ فرمان فتح پوری،ڈاکٹر(پیش لفظ)، صلیبوں کا شہر ، مخلص وجدانی، ادبیات، مظفر آباد، ص ۷۔
۲۹۔ لیاقت شعلان کا مقالہ نگار کے نام خط، بہ تاریخ ۲۵،نومبر، ۲۰۱۶ء۔
۳۰۔ ایضاً۔
۳۱۔ ایضاً۔
۳۲۔ ایضاً۔
۳۳۔ جواد جعفری(پیش لفظ) ،احتجاج، ادارہ تحقیقاتِ اسلامی،مظفر آباد، جون ۱۹۹۴ء، ص۵۔
۳۴۔ سحر انصاری، ایک کہنہ مشق شاعر(دیباچہ)، ہم سخن، ناز مظفر آبادی، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۱۵ء، ص۱۷۔
۳۵۔ محمد اظہار الحق، شاعرِ خوش امکان(دیباچہ)، خاموشی کی کھڑکی سے،زکریا شاز،زریون مطبوعات،فیصل آباد، نومبر ۲۰۱۳ء، ص۱۷۔
۳۶۔ وزیر آغا، ڈاکٹر (فلیپ) خاموشی کی کھڑکی سے،زکریا شاز،زریون مطبوعات،فیصل آباد، نومبر ۲۰۱۳ء۔
۳۷۔ افتخار مغل ، ڈاکٹر ، پروفیسر (فلیپ) ، خواب کون دیکھے گا ، سید شہباز گردیزی ، طلوع پبلی کیشنز ، باغ ، دسمبر ۲۰۰۸ء ۔
۳۸۔ ظفر اقبال ، شہسوار سخن(دیباچہ) ، ہمیشہ ،احمد عطاء اللہ ،ص ۱۷۔
۳۹۔ شہباز گردیزی ، سید (دیباچہ)، جھیل کا چاند، الطاف عاطف ، مہلب پبلی کیشنز ہائوس ، پسنی، ۲۰۱۲ء ۔ص۱۵۔
۴۰۔ زاہد کلیم (دیباچہ) ،لمحات نشتر ، نیلم پبلی کیشنز ، مظفرآباد ، نومبر ۲۰۰۲ء ، ص ۱۶۔
۴۱۔ مقالہ نگار کا زاہد کلیم سے انٹرویو ، ۱۲،نومبر ۲۰۱۶ء ، بہ مقام ریڈیو سٹیشن مظفرآباد۔
۴۲۔ مقصود جعفری ، ڈاکٹر ،ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خوا ب سے (دیباچہ) ،نئے اُجالے ہیں خواب میرے ، اکرم سہیل ، جمہوری پبلی کیشنز ، لاہور ،۲۰۱۶ء ، ص ۱۱۔
۴۳۔ عبدالعلیم صدیقی، پروفیسر (دیباچہ) میں حرف حرف سمیٹوں ، شفیق راجا، طلو ع پبلی کیشنز ،باغ ،ستمبر ۲۰۰۳ء ، ص ۹۔
۴۴۔ ظہیر احمد مغل، احسن کا پہلا قدم (دیباچہ) ،مجھے تم سوچ کر دیکھو، احسن سلیمان ، حویلی پبلیشنگ ہائوس ، کہوٹہ، ستمبر ۲۰۱۶ء، ص ۱۵۔
۴۵۔ توفیق صدیقی ،رانا ، احسن کا احسن قدم ، مشمولہ روزنامہ جناح ، اسلام آباد ، ۱۹،جنوری ۲۰۱۷ء،
۴۶۔ شہباز گردیزی ،سید ، اُجلی مٹی (انتخاب ) ، نکس پبلیشرز ، میرپور، مارچ ۲۰۱۵ء، ص ۱۳۷۔
۴۷۔ ایضاً ، ص ۱۳۸۔
۴۸۔ ایضاً ، ص ۱۳۹۔
۴۹۔ مقالہ نگار کا شوکت اقبال سے انٹر ویو،بہ تاریخ،۱۶ دسمبر۲۰۱۶ء،بہ مقا م چھتر دومیل۔
۵۰۔ ظفر اقبال،دال دلیہ،مشمولہ روزنامہ دنیا،لاہور،۲۱ ستمبر ۲۰۱۶ء۔
۵۱۔ ڈاکٹر ماجد محمود ماجد کا خط بہ نام مقالہ نگار،۱۳ جنوری ۲۰۱۷ء۔
۵۲۔ ایضاً۔
۵۳۔ ایضاً۔
۵۴۔ ظہور منہاس کا خط بہ نام مقالہ نگار،۲۱ جنوری ۲۰۱۷ء۔
۵۵۔ ایضاً۔
۵۶۔ ایضاً۔
۵۷۔ ایضاً۔
۵۸۔ ظفر اقبال،دال دلیہ،مشمولہ روزنامہ دنیا،لاہور،۱۱جنوری ۲۰۱۷ء۔
۵۹۔ شہباز گردیزی ،سید ، اُجلی مٹی (انتخاب ) ، نکس پبلیشرز ، میرپور، مارچ ۲۰۱۵ء، ص ۵۵۔
۶۰۔ ایضاً،ص۵۶۔
۶۱۔ ایضاً،ص۵۷۔
۶۲۔ ایضاً،ص۷۷۔
۶۳۔ جاوید سحرکا خط بہ نام مقالہ نگار،۰۳جولائی۲۰۱۷ء۔
۶۴۔ ایضاً۔
۶۵۔ فرزانہ ناز،پروفیسر، آزاد کشمیر میں طنز و مزاح ،علی پرنٹرز،میرپور،۲۰۱۴ء،ص۲۷۳۔
۶۶۔ احمد وقار(مرتبہ)،کہکشاں، نکس پبلی کیشنز،میرپور،۲۰۱۴،ص۳۴۔
۶۷۔ ایضاً،ص۳۵۔
۶۸۔ ایضاً،ص۳۷۔
۶۹۔ اعجاز نعمانی(مرتبہ)،اس گلی میںہے بیل پھولوں کی،الرزاق پبلی کیشنز،لاہور،۲۰۰۵ء،ص۱۰۵۔
۷۰۔ ایضاً،ص۱۰۷۔
۷۱۔ ایضاً،ص۱۱۴۔
۷۲۔ ایضاً،ص۱۱۷۔
۷۳۔ شوزیب کاشرکا خط بہ نام مقالہ نگار،۲۳اکتوبر۲۰۱۶ء۔
۷۴۔ ایضاً۔
۷۵۔ ایضاً۔
۷۶۔ شہباز گردیزی ،سید ، اُجلی مٹی (انتخاب ) ، نکس پبلیشرز ، میرپور، مارچ ۲۰۱۵ء، ص ۱۵۶۔
۷۷۔ ایضاً،ص۱۵۸۔
۷۸۔ ایضاً،ص ۱۵۹

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |