اظہر سجاد کا دل دہلا دینے والا افسانچہ "سائیں سائیں"، جو تنہائی، بے حسی اور انسانی...
افسانچہ
دیکھو! قالین گندہ نہ کرنا۔ کسی نے آگے بڑھ کر بچے کے گریبان کا بٹن بند...
خاموشی میرے دروازے پر روز آتی ہے۔ اب شاید اندر آگئی ہے
آپریشن کے بعد سب سے پہلے اپنی بیٹی کو دیکھنا چاہتی ہوں۔
تو بس میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ میرا اپنی ماں کی قبر سے رشتہ توانا رہے
اب ایک سال ہو گیا وہ چڑیا واپس نہیں آئی۔ نہ میرے گھر نہ میرےخواب میں۔
’تو پھر آپ نے راشد کے نام خط… کاشی کے ہاتھ کیوں بھجوایا؟
سب جمع پونجی خرچ ہو گئی مگر پھر بھی بچ نہیں پایا ۔
دانہ کھانے سے ختم ہو جاتا ہے، مگر بونے سے بڑھ جاتا ہے۔
اب سہارا بننے کی میری باری ہے۔
چند ہفتوں بعد برسوں کی محنت بکھر چکی تھی۔
وہ شخص کسی اور کو نہیں، اپنے ہی عکس کو لالچی کہہ رہا تھا۔