آپریشن کے بعد سب سے پہلے اپنی بیٹی کو دیکھنا چاہتی ہوں۔
افسانچہ
تو بس میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ میرا اپنی ماں کی قبر سے رشتہ توانا رہے
اب ایک سال ہو گیا وہ چڑیا واپس نہیں آئی۔ نہ میرے گھر نہ میرےخواب میں۔
’تو پھر آپ نے راشد کے نام خط… کاشی کے ہاتھ کیوں بھجوایا؟
سب جمع پونجی خرچ ہو گئی مگر پھر بھی بچ نہیں پایا ۔
دانہ کھانے سے ختم ہو جاتا ہے، مگر بونے سے بڑھ جاتا ہے۔
اب سہارا بننے کی میری باری ہے۔
چند ہفتوں بعد برسوں کی محنت بکھر چکی تھی۔
وہ شخص کسی اور کو نہیں، اپنے ہی عکس کو لالچی کہہ رہا تھا۔
ہاں، مگر دل پر
کئی خراشیں پڑ چکی تھیں۔
امی ، ماسی نے بڑی دعائیں دی ہیں ۔ کہتی ہے آپ لوگ بڑے دیالو ہیں
‘یہ دیکھیں، امّی ابو کی پسند!’”