سب جمع پونجی خرچ ہو گئی مگر پھر بھی بچ نہیں پایا ۔
افسانچہ
دانہ کھانے سے ختم ہو جاتا ہے، مگر بونے سے بڑھ جاتا ہے۔
اب سہارا بننے کی میری باری ہے۔
چند ہفتوں بعد برسوں کی محنت بکھر چکی تھی۔
وہ شخص کسی اور کو نہیں، اپنے ہی عکس کو لالچی کہہ رہا تھا۔
ہاں، مگر دل پر
کئی خراشیں پڑ چکی تھیں۔
امی ، ماسی نے بڑی دعائیں دی ہیں ۔ کہتی ہے آپ لوگ بڑے دیالو ہیں
‘یہ دیکھیں، امّی ابو کی پسند!’”
کمرے میں ایک طویل خاموشی اتر آئی۔
پھر وہ دن بھی آیا جب اس ادارے نے سب کو پچھاڑ دیا ۔