لوگ اپنے گھروں اور گاڑیوں کے دروازے کھلے چھوڑ کر سوتے ہیں۔
جہڑا در رحمت ہر کہیں کیتے
دانہ کھانے سے ختم ہو جاتا ہے، مگر بونے سے بڑھ جاتا ہے۔
اسے سیاسی رنگ دینے کے بجائے ہمیں اس کے پیچھے چھپے "پیٹرن" کو سمجھنا چاہیے۔
آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے والدین کے اعتماد کی لاج رکھیں گے
انسان سے زمینی زندگی کی بازپرس بھی اسی تصدیقی یاداشت کی واپسی سے ہو گی۔
اب سہارا بننے کی میری باری ہے۔
بھولنا بیماری یا بڑھاپا نہیں، یہ زیادہ ذہین ہونے کی بھی علامت ہو سکتی ہے۔
امامت کُوں کرو پورا ایہا مقبول دی آس اے
علی والی ولائت ہن ایں عالم کُوں ڈِکھا...
چند ہفتوں بعد برسوں کی محنت بکھر چکی تھی۔