عدل و انصاف قُرآن کی رُو سے

قُرآن مجید فُرقانِ حمید نے عدل کے لیے دو الفاظ استعمال کیے ہیں۔ عدل اور قسط  ۔ اور فارسی زبان میں اسی کو ہی انصاف کہا گیا ہے۔ اور انصاف ہی اردو زبان میں بھی عدل کے لیے مستعمل ہے۔

علمائے لغت کی اکثریت نے لفظِ عدل کے معانی کو مساوات یعنی برابری کی بنیاد پر تقسیم کرنا قرار دیا ہے۔ اور چونکہ عدل کے متضاد لفظِ جَور/ ظلم مستعمل ہے اور جَور کے معنی کسی شے کو اُس کے حقیقی مقام سے گرا دینے کے ہیں لہٰذا مولا علی علیہ السلام نے اس کی جامع تعریف یوں بیان فرمائی ہے کہ

کسی بھی شے کو اس کے حقیقی مقام پر رکھنا عینِ عدل ہے اور اس کو اپنے حقیقی مقام سے گِرا دینا یا بڑھا دینا ظلم ہے

تحقیقی اعتبار سے افراط و تفریط کا وسط یعنی جس میں نہ کوئی کمی اور نہ زیادتی ہو عدل کہلاتا ہے ۔ اور اسی کو قُرآن نے میزان قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ قُرآن مجید میں عدل بمعنی فدیہ یا عوض یا بدلہ بھی استعمال ہوا ہے جیسا کہ سورۃ الانعام کی آیت ۷۰ میں فرمایا کہ

َ اِنَ اِن تَعدِل کُلَّ عَدلٍ لَّا یُؤخَذ مِنہَا ؕ تَعدِل کُلَّ عَدلٍ لَّا یُؤخَذ مِنہَا ؕ

اور اگر وہ فدیہ (معاوضہ یا بدلہ دینا چاہیں) تو بھی اُن سے نہ لیا جائے۔

سورۃ المائدہ کی آیت ۹۵ میں ارشاد ہوا کہ

اَو کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِینَ اَو عَدلُ ذٰلِکَ صِیَامًا ﴿۹۵﴾

یا اُس کے کفارہ یعنی جرمانہ/قیمت سے محتاجوں کو کھانا کھلائے یا اُس کے مساوی روزے رکھے۔

اس سے واضح ہو گیا کہ عدل برابری اور مساوات کے معنی میں استعمال ہوتا ہے

قُرآن مجید میں انفرادی عدل کے لیے بہت سی آیات میں ذکر فرمایا گیا ہے جن کے بارے میں آگے مقدور بھر بیان کی کوشش کی جائے گی۔ اسلامی تعلیمات میں توحید کے بعد سب سے زیادہ زور عدل پر دیا گیا ہے اور قُرآن نے توحید اور عدل کو اللہ تعالیٰ کی بنیادی صفاتِ ثبوتیہ میں سے قرار دیا ہے۔ بلکہ توحید بالذاتہٖ بھی عدل کا بنیادی ترین تقاضا ہی تو ہے۔ دیکھیے سورۃ آل عمران کی ۱۸ ویں آیت کا مضمون۔

شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ  وَ المَلٰٓئِکَۃُ وَ اُولُوا العِلمِ قَآئِمًا بِالقِسطِ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ العَزِیزُ الحَکِیمُ ﴿ؕ۱۸﴾

اللہ نے خود اس بات کی گواہی دی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور تمام فرشتوں نے اور تمام صاحبان علم نے جو عدل پر قائم ہیں کہ اُس زبردست حکمت والے اور غالب و دانا کے بغیر کوئی معبود نہیں۔

اللہ تعالیٰ سورۃ الانفطار کی چھٹی اور ساتویں آیت میں انسان کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے انسان تو اپنے مہربان رب کی لازوال نعمتوں، رحمتوں، اور مہربانیوں کے باوجود آخر کس دھوکے میں اس قدر نا فرمان ہو گیا ہے۔ جیسے تو نے لوٹ کر اس اللہ کے پاس جانا ہی نہیں ہے۔ ساتویں آیت میں ارشاد فرمایا تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ تیرا رب وہ ہے جس نے تجھے تخلیق کیا۔ اور پھر تمہارے تمام اعضاء و جوارح کو ایک حیرت انگیز طریقے سے بالکل درست بنایا اور پھر اُن اعضاء و جوارح کو پورے عدل و اعتدال کے ساتھ اپنے اپنے مقام پر رکھا۔ اور یوں گویا ہوا

الَّذِی خَلَقَکَ فَسَوّٰىکَ فَعَدَلَکَ ۙ﴿۷﴾

جس نے تجھے پیدا کیا۔ پھر تجھے راست بنایا۔ پھر تجھے معتدل بنایا۔

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ اس کائنات کا پورا نظام عدل کی وجہ سے ہی قائم ہے۔ نظام شمسی، ستارے، سیارے، دن رات  موسموں کا تغیر و تبدل غرضیکہ سب کچھ نظام عدل کی وجہ سے قائم ہے۔ اور جونہی یہ سارا نظام عدل کے دائرے سے باہر آئے گا تو تمام نظام ہستی درہم برہم ہو جائے گا اور اسی کا نام قیامت ہے۔

آپ دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ معاشرتی نظام میں عدل کی کس قدر اہميت ہے کہ اُس نے تمام انبیاء علیہم السلام کی بعثت کو ہی نظام عدل کے قیام کا بنیادی مقصد قرار دے دیا ہے چنانچہ سورۃ الحدید کی آیت ۲۵ میں کھلے الفاظ میں بیان فرمایا کہ

لَقَد اَرسَلنَا رُسُلَنَا بِالبَیِّنٰتِ وَ اَنزَلنَا مَعَہُمُ الکِتٰبَ وَ المِیزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالقِسطِ ۚ وَ اَنزَلنَا الحَدِیدَ فِیہِ بَاسٌ شَدِیدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعلَمَ اللّٰہُ مَن یَّنصُرُہٗ وَ رُسُلَہٗ بِالغَیبِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیزٌ﴿٪۲۵﴾

تحقیق ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا ہے۔ اور ہم نے اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کیا ہے۔ تا کہ لوگ عدل قائم کریں۔ اور ہم نے لوہا اُتارا کہ جس میں شدید طاقت ہے اور لوگوں کے لیے فائدے ہیں۔ تا کہ اللہ معلوم کر سکے کہ کون بِن دیکھے اللہ اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ اللہ یقیناً بڑی طاقت والا؛ غالب آنے والا ہے۔

معزز قاری! غور فرمائیے اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء و رسل کی بعثت کا اصل مقصد، بنیادی غرض و غایت عدل و انصاف کے قیام ہی کو قرار دے رہا ہے۔ انبیاء کرام علیھم السلام کو دی جانے والی شریعت، آیات بینات؛ کتابیں اور میزان اس لیے تھیں کہ لوگوں کوایک دوسرے کے ساتھ عدل و انصاف کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔ اور پھر اگر اس آیت کے اگلے حصے پر غور کریں تو واضح ہو جائے گا کہ جب انصاف قائم کیا جائے گا تو مزاحمت یقینی ہے ۔ وہ گروہ جو ناجائز طریقے سے۔ طاقت اور دھونس کے ذریعے اپنا ظلم و جبر اور ناجائز تسلط جاری رکھنے کے لیے ظلم و نا انصافی کرتے ہوئے عدل وانصاف کے راستے کی رکاوٹ بنتا ہے تو اللہ کا ارشاد ہے کہ اُس کو بذریعہ طاقت روکا جائے اور اس مقصد کے لیے ہم نے لوہا پیدا کیا۔ زیادہ تفصیل میں جائے بغیر بس اتنا کہوں گا کہ ارشادِ قدرت ہے کہ یہ لوہا تمہیں بھرپور طاقت مہیا کرے گا۔ اور یہ قیامت تک کے انسانوں کا امتحان بھی ہو گا کہ کیا وہ بِن دیکھے اللہ کی خاطر اور قیام عدل و انصاف کے لیے کھڑے ہونے والوں کا ساتھ دیتے ہیں یا نہیں۔ اور پھر پورے وثوق سے فرمایا کہ اس بات پر یقین کر لو کہ اللہ اپنی طاقت سے غالب آ کر رہے گا۔ میرے ذاتی خیال میں تو یہ ہم سب کا امتحان ہی ہے اور تاریخ کے حوالے سے جتنا میرا مطالعہ اور تجربہ ہے اس کے مطابق تو مسلمانوں کی اکثریت عدالت کے امتحان میں ناکام ہی رہی ہے

آئیے عدل کی اہمیت کو مزید قُرآن میں دیکھتے ہیں۔ آپ مقامِ عدل کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ اللہ تعالیٰ سورۃ اعراف کی آیت ۲۹ میں خود اپنے حبیب سے فرما رہا ہے اے میرے رسول ﷺ ان کو بتائیے

قُل اَمَرَ رَبِّی بِالقِسطِ ۟

کہہ دیجیے! میرے رب نے مجھے انصاف کا حکم دیا ہے۔ اور سورۃ یونس آیت ۴۷ میں بھی تمام رسولوں کو بھیجنے کا مقصد قیام عدل بیان ہوا چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہو رہا ہے کہ

وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُولٌ  فَاِذَا جَآءَ رَسُولُہُم قُضِیَ بَینَہُم بِالقِسطِ وَ ہُم لَا یُظلَمُونَ﴿۴۷﴾

اور ہر اُمت کے لیے ایک رسول بھیجا گیا ہے۔ پھر جب اُن کا رسول آتا ہے تو اُن کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اور اُن پر کوئی ظلم روا نہیں رکھا جاتا

ایسی اور بھی بہت سی آیات میں اسی بات کا اعادہ کیا گیا ہے مقصد فقط یہی ہے کہ اُمتِ مصطفوی  ﷺ کو عدل و انصاف کی فضیلت سے آگاہ کیا جائے ۔ اور معاشرے میں عدل و انصاف کی حکمرانی پر آمادہ و تیار کیا جائے۔ کیونکہ کامیاب معاشرتی زندگی کا راز، انسانی ترقی عدل ہی سے ممکن ہے۔ اسی لیئے مولا علی علیہ السلام نے فرمایا کہ حکومت صرف عدل کی وجہ سے قائم رہ سکتی ہے۔

اب اس موضوع کو تھوڑا آگے بڑھاتے ہیں اور عدل کو ایک دوسرے پہلو سے دیکھتے ہیں سورۃ الانعام کی پہلی آیت میں بیان کیا گیا ہے

اَلحَمدُ لِلّٰہِ الَّذِی خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الاَرضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّورَ ؕ ثُمَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بِرَبِّہِم یَعدِلُونَ ﴿۱﴾

ثنائے کامل ہے اللہ رب العزت کے لیے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ اور تاریکیوں اور روشنی کو بنایا۔ پھر بھی یہ کفار(دوسرے دیوتاؤں کو) اپنے رب کے برابر لاتے ہیں ۔

اس آیت کے بعد حضرت علی علیہ السلام  کی طرف سے کی گئی تعریف بالکل درست ثابت ہوتی ہے۔ یعنی کہاں اللہ کا مقام اور کہاں خیالی و فانی دیوتا۔ اس آیت میں یہ کہا جا رہا ہے کہ دو متضاد چیزوں کو برابر قرار دینا عدل کے منافی یعنی ظلم ہے

اور اسی سورۃ کی ۱۵۰ ویں آیت عدل کی اس تعریف کی مزید وضاحت  کرتی ہے

قُل ہَلُمَّ شُہَدَآءَکُمُ الَّذِینَ یَشہَدُونَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ ہٰذَا  فَاِن شَہِدُوا فَلَا تَشہَد مَعَہُم ۚ وَ لَا تَتَّبِع اَہوَآءَ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِینَ لَا یُؤمِنُونَ بِالاٰخِرَۃِ وَ ہُۡ بِرَبِّہِ یَعدِلُونَ﴿۱۵۰﴾

کہہ دیجیے! اپنے گواہوں کو لے آؤ۔ جو اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ نے اس چیز کو حرام قرار دیا ہے۔ پھر اگر وہ (خود ساختہ) گواہی لے بھی آئیں تو آپ  ﷺ اُن کے ساتھ گواہی نہ دیں۔ اور آپ  ﷺ ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور دوسروں کو اپنے رب کے برابر سمجھتے ہیں۔

اسی طرح معاشرتی نظام عدل پر پورا معاشرہ قائم ہوتا ہے چنانچہ سورۃ النسآء کی آیت ۱۳۵ میں ارشاد ربانی ہو رہا ہے کہ

یٰۤاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا کُونُوا قَوّٰمِنَ بِالقِسطِ شُہَدَآءَ لِلّٰہِ وَ لَو عَلٰۤی اَنفُسِکُم اَوِ الوَالِدَینِ وَ الاَقرَبِینَ ۚ اِن یَّکُن غَنِیًّا اَو فَقِیرًا فَاللّٰہُ اَولٰی بِہِمَا  فَلَا تَتَّبِعُوا الہَوٰۤی اَن تَعدِلُوا ۚ وَ اِن تَلوٗۤا اَو تُعرِضُوا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعمَلُنَ خَبِیرًا﴿۱۳۵﴾

اے ایمان والو! انصاف کے سچے داعی بن جاؤ اور اللہ کے لیے گواہ بنو۔ اگرچہ تمہاری ذات یا تمہارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اگر کوئی امیر یا فقیر ہے تو اللہ اُن کا بہتر خیر خواہ ہے۔ پس تم خواہش ِ نفس کے تابع ہو کر عدل نہ چھوڑو۔ اگر تم نے کَج بیانی سے کام لیا تو یا (گواہی سے) پہلو تہی کی تو جان لو کہ اللہ تمہارے اعمال سے بخوبی آگاہ ہے ۔

جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ اس آیت میں اجتماعی و معاشرتی عدل کا صاف اور سادہ انداز میں حکم دیا گیا ہے کہ اے وہ لوگو! جو اہلِ ایمان ہونے کے دعویدار ہو انصاف کے داعی بن جاؤ یعنی اپنے دعوے کی دلیل کے طور پر تمہیں عدل کرنا پڑے گا۔ اور یہ بھی وضاحت کر دی گئی کہ نہ صرف خود عدل کرنا ہے بلکہ اہلِ ایمان کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ انصاف کے قیام کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں۔ اور اگر کبھی منصف کی کرسی پر بیٹھے ہو تو مقابل اگر تمہارے ماں باپ؛ اولاد اور اقرباء بھی ہوں تو فیصلہ عدل و انصاف سے کرنا۔ جو لوگ قُرآن مجید کا گہرائی میں مطالعہ کرتے ہیں وہ جانتے ہیں اللہ تعالیٰ نے والدین اور اعزاء و اقارب کے کتنے حقوق بیان فرمائے ہیں اپنی بندگی و اتباع کے حکم کے فوراً بعد والدین کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا ہے۔ لہذا اس سے عدل کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کہ والدین، اقرباء، دوست احباب بھی عدل کرنے میں رکاوٹ کا سبب نہ بنیں۔ یا خواہشات نفسانی یعنی اولاد کے مستقبل کی خاطردنیاوی مال و دولت کی ہوس تمہیں خیرہ نہ کر دے۔ اور پھر فرمایا کہ عدل کرنے میں امیر و غریب یا طاقت ور اور کمزور کا فرق نہیں کرنا بلکہ حقدار کو انصاف دینا ہے۔ عدل کرنے میں اپنی ذاتی و نفسانی خواہش کی اتباع نہیں کرنی بلکہ صرف انصاف کو ملحوظِ خاطر رکھنا ہے اور آخر میں تنبیہ فرمائی کہ یاد رکھنا اللہ جس پر ایمان کا دعویٰ رکھتے ہو وہ تمہارے ہر عمل کی خبر رکھتا ہے۔

عدل ایک جامع نظام ہے۔ معاشرے میں امن و سلامتی دراصل عدل و انصاف کے استحکام سے مشروط ہے چنانچہ سورۃ المآئدہ کی آیت نمبر ۸ میں خالقِ عدل ارشاد فرمایا رہا ہے کہ

یٰۤاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا کُونُوا قَوّٰمِینَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالقِسطِ  وَ لَا یَجرِمَنَّکُم شَنَاٰنُ قَومٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعدِلُوا ؕ اِعدِلُوا  ہُوَ اَقرَبُ لِلتَّقوٰی  وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیرٌۢ بِمَا تَعمَلُونَ﴿۸

اے ایمان والو! اللہ کے لیے بھرپور قیام کرنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ۔ اور کسی قوم سے دشمنی تمہاری بے انصافی کا سبب نہ بننے پائے (ہر حال میں) عدل کرو! یہی تقویٰ کے قریب ترین ہے۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ تمہارے اعمال سے بخوبی آگاہ ہے

اس آیت کا موضوع و مطالب گذشتہ آیت والے ہی ہیں۔ البتہ یہاں ایک حکم مختلف ہے اور نہایت اہم بھی اس لیے ہے کہ گذشتہ قوموں میں اور اسلام سے پہلے دورِ جاہلیت میں دشمن کے ساتھ انصاف نہیں کیا جاتا تھا یہ اسلام و قُرآن کا خاصہ ہے کہ حکم دیا گیا کہ دیکھو دشمنی تمہیں انصاف میں مانع نہ ہو۔ اس آیت میں اعلانیہ بتایا جا رہا ہے کہ اسلام میں عدل و انصاف ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اس میں مذہب یا رنگ و نسل یا غربت و امارت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ منصف کے لیے جہاں وہ دشمن ہے وہاں وہ انسان بھی ہے۔ اگر وہ آپ کا دینی بھائی نہیں ہے آپ جیسی مخلوق تو ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے درمیان عدل چاہتا ہے چاہے کوئی اُسے رب تسلیم کرے یا انکار کر دے۔

ایک حاکم کے لیے عدل و انصاف کا حکم سورۃ شوریٰ کی آیت نمبر ۱۵ میں یوں بیان ہو رہا ہے۔

فَلِذٰلِکَ فَادعُ ۚ وَ استَقِم کَمَاۤ اُمِرتَ ۚ وَ لَا تَتَّبِع اَہوَآءَہُم ۚ وَ قُل اٰمَنتُ بِمَاۤ اَنزَلَ اللّٰہُ مِن کِتٰبٍ ۚ وَ اُمِرتُ لِاَعدِلَ بَینَکُم ؕ اَللّٰہُ رَبُّنَا وَ رَبُّکُم ؕ لَنَاۤ اَعمَالُنَا وَ لَکُم اَعمَالُکُ ؕ لَا حُجَّۃَ بَنَنَا وَ بَینَکُم ؕ اَللّٰہُ یَجمَعُ بَینَنَا ۚ وَ اِلَیہِ المَصِیرُ ﴿ؕ﴾

لہذا آپ ﷺ اس کے لیے دعوت دیں۔ اور جیسے آپ کو حکم ملا ہے ثابت قدم رہیں۔ اور اُن کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ اور کہہ دیجیے کہ اللہ نے جو کتاب نازل کی ہے میں اُس پر ایمان لایا۔ اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل کروں۔ اللہ ہمارا رب ہے۔ اور تمہارا بھی رب ہے۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہیں۔ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی بحث نہیں۔ اللہ ہی ہمیں جمع کرے گا۔ اور ہم نے اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

اسلامی قیادت کے حوالے سے مندرجہ بالا آیت بہت اہم پیغام دے رہی ہے۔ خطاب اللہ کے رسول ﷺ سے ہے مگر پیغام قیامت تک کے لیے سربراہ مملکت کے لیے ہے۔ اسلامی قیادت کے لیے پہلا لازمہ استقامت ہے  ۔  دوسری خوبی ذاتی خواہشات کی پیروی ترک کر کے عوامی حقوق کا تحفظ۔  ۔ یہاں سے یہ بات تو بالکل واضح ہو گئی کہ عدل و انصاف میں یہ دونوں  باتیں چھپی ہیں یعنی عادل حکمران ذاتی خواہشات کا تابع نہیں ہوتا اور رعایا کے حقوق کا محافظ ہوتا ہے چاہے وہ کسی بھی دین و مذہب کے پیروکار ہوں۔ اس آیت میں کہا گیا وَ قُل اٰمَنتُ  : یعنی ہمیں (مسلمانوں) کو تمام آسمانی شریعتوں پر ایمان رکھنے کا یکساں حکم ہے۔ اس شریعت کے ڈھانچے کا اہم ترین اور بنیادی ستون عدل و انصاف ہے

ایک یا ایک سے زیادہ منصفین کے لیے سورۃ الحجرات کی آیت ۹ میں ارشاد ہو رہا ہے کہ اگر مومنین کے دو گروہ کسی بھی وجہ سے آپس میں لڑ پڑتے ہیں تو ان کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کرو۔ اگر صلح کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں تو پھر جو گروہ زیادتی پر ہے اسے طاقت کے ذریعے روکو یہاں تک کہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے

فَاَصلِحُوا بَینَہُمَا بِالعَدلِ وَ اَقسِطُوا ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ المُقسِطِینَ﴿۹﴾

پس ان کے درمیان عدل سے صلح کروا دو۔ اور انصاف کرو۔ بےشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

قاضی/جج کے لیے واضح حکم ہے کہ دونوں فریقین کی بات کو سنے۔ اس میں کوئی توہین نہیں کہ تمام ریاستی اداروں کی رائے سے صلح کی کوشش کرے۔ اور پھر عدل کے تقاضوں کے مطابق جو فریق زیادتی پر ہے اس کو سزا دے اور ان فریقین کے درمیان صلح کی کوشش کرے۔

انفرادی عدل کے حوالے سے اللہ تعالیٰ گواہی بھی عادل شخص کی قبول کرتا ہے جس نے ہلکا سا بھی ظلم کیا ہو ۔ یا کسی الزام میں ملوث ہو یا کسی جرم میں سزا یافتہ ہو اس کی گواہی شرعی طور پر قابلِ قبول نہیں سورۃ الطلاق کی دوسری آیت میں ارشاد ہوا۔

 وَّ اَشہِدُوا ذَوَی عَدلٍ مِّنکُم وَ اَقِیمُوا الشَّہَادَۃَ لِلّٰہِ ؕ

اور تم میں سے دو عادل شخص گواہ بنیں۔ اور اللہ کے لیے درست گواہی دی جائے

کسی کے گواہ بننے میں بھی بنیادی شرط عدل ہی کی ہے ۔ اور سچی گواہی اللہ کی خاطر دی جائے یعنی اس کا اجر بھی اللہ تعالیٰ خود عطا فرمائے گا

مدینہ منورہ کے مضافات میں دو یہودی قبائل آباد تھے ایک بنو نضیر جو کہ طاقتور قبیلہ تھا اور دوسرا کمزور قبیلہ بنو قریظہ ان دونوں کے درمیان قتل پر قصاص پر جھگڑا تھا بنو نضیر اپنی طاقت کے بل پر معمولی دیت دے کر معاملہ ختم کرنا چاہتے تھے۔ دوسرا اہم واقعہ زناء کی سزا پر تھا بنو نضیر والے اپنے قبیلے کے فرد کو سنگساری کی سزا کی بجائے کوڑوں کی سزا دینا چاہتے تھے۔ بات اتنی بڑھی کہ جنگ کی فضا بن گئی۔ دونوں قبیلے جنگ پر آمادہ تھے کہ کچھ بڑوں نے جنابِ رسول خُدا ﷺ کو حَکم/ جج بنانے کا فیصلہ کیا اس کا ذکر سورۃ المآئدہ کی آیات ۴۱ اور ۴۲ میں موجود ہے آیت ۴۲ میں ارشاد ہوتا ہے کہ

سَمّٰعُونَ لِلکَذِبِ اَکّٰلُونَ لِلسُّحتِ ؕ فَاِن جَآءُوکَ فَاحکُم بَینَہُم اَو اَعرِض عَنہُم ۚ وَ اِن تُعرِض عَنہُم فَلَن یَّضُرُّوکَ شَیئًا ؕ وَ اِن حَکَمتَ فَاحکُم بَینَہُم بِالقِسطِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ المُقسِطِینَ﴿۴۲﴾

یہ لوگ (جھوٹ کی نسبت آپ کی طرف دینے )کے لیے جاسوسی کرنے والے۔ حرام مال خوب کھانے والے ہیں۔ اگر یہ لوگ آپ کے پاس (کوئی مقدمہ لے کر آئیں) تو یہ آپ کی مرضی کہ فیصلہ دیں یا  ٹال دیں۔ اور اگر آپ فیصلہ نہ دیں تو یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ پائیں گے۔ اور اگر آپ فیصلہ کرنا چاہیں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیں۔ بےشک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

 اسلامی حکومت میں یہودی اقلیت اپنے مقدمات کے فیصلے کے لیے آزاد تھی۔ وہ چاہتے تو اپنی عدالت سے رجوع کرتے یا پھر کبھی اسلامی عدالت سے رجوع کرتے اور چونکہ اللہ علیم و خبیر ہے لہٰذا اس نے اپنے نبی ﷺ کو فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کی آزادی دے دی لیکن ساتھ ہی یہ حکم بھی دے دیا کہ فیصلہ عدل و انصاف پر مبنی ہونا چاہیے۔ اس سے کیا سبق ملا کہ مقابل غیر مسلم بھی ہو تو فیصلہ حق پر دو

اکثر یہودی اپنے قانون سے راہ فرار حاصل کرنے کے لیے اسلامی عدالت سے رجوع کرتے تھے۔ مگر یہاں پھنس گئے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے تورات سے دونوں فیصلے دیئے شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے کا حکم دیا اور قاتل کو قصاص اور پھر ثالث بن کر دیت پر راضی کر کے دونوں قبائل کے درمیان صلح کروا دی۔ یہ ہے حقیقی عدل و انصاف اور حقیقی عدل و انصاف کرنے والوں سے ہی اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔ اور اس سے اگلی آیت ۴۳ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب ان کے پاس تورات موجود ہے اور اس میں اللہ کا حکم موجود ہے تو پھر یہ آپ  ﷺ کے پاس فیصلہ کروانے کیوں آتے ہیں۔ پھر (جو فیصلہ حق میں نہیں ہوتا) اس سے پھر بھی جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایمان والے نہیں ہیں۔

اب یہاں میں سورۃ النساء کی آیت ۵۸ آپ کے سامنے رکھوں گا کہ جس کا کچھ حصہ پاکستان سپریم کورٹ کے ماتھے پر لکھا ہوا ہے۔۔ آیت کا متن اور ترجمہ ملاحظہ فرمائیں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

اِنَّ اللّٰہَ یَامُرُکُم اَن تُؤَدُّوا الاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہلِہَا ۙ وَ اِذَا حَکَمتُم بَینَ النَّاسِ اَن تَحکُمُوا بِالعَدلِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُم بِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیعًا بَصِیرًا﴿۵۸﴾

بےشک اللہ تم لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو اُن کے اہل کے سپرد کر دو۔ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے لگو تو عدل و انصاف کے ساتھ کرو۔ یہ اللہ کی طرف سے تمہارے لیے مناسب ترین نصیحت ہے۔ یقیناً اللہ تو ہر بات کو خُوب سننے اور دیکھنے والا ہے۔

امانت کی ادائیگی بھی دراصل عدل کا بنیادی ترین تقاضا ہے بلکہ عدل بھی منصف کے پاس حقدار کی امانت ہی ہے۔ قُرآن کے عطا کردہ اسلامی دستور میں ادائے امانت اور فیصلوں میں عدل و انصاف اولین انسانی حقوق میں سے ہے یہ اُمتِ مسلمہ کی ہادیانہ ذمہ داری ہے اور حکمرانوں کی قائدانہ مسئولیت ہے کہ چاہے رعایا مسلم ہو یا غیر مسلم اس کی امانت میں خیانت نہ ہونے پائے۔ اسی طرح ہر فرد کے پاس ووٹ بھی ایک قومی امانت ہے اور جب یہ ووٹ کسی نمائندے کو دی جائے گی تو یہ اُس نمائندے کے پاس ووٹرز کی امانت ہے۔ آیت کا متن واضح بیان کر رہا ہے کہ جب ووٹ کی یا کسی بھی طرح کی خیانت کے لیے عوام عدالت میں جائیں تو اُنہیں فوری انصاف مہیا کیا جائے اور خائن کو سزا دی جائے۔ یاد رکھیئے بعض فیصلوں میں جلد بازی اور بعض میں تاخیر بھی ظلم ہی کے مترادف ہے۔ اسی طرح بینک؛ قومی خزانہ اور ملکی وسائل و ذخائر پوری قوم کی امانت ہیں اور حکمرانوں کی طرف سے اُن میں خیانت نہ کی جائے اور اسی طرح مسلم ریاست میں انصاف بہم پہچایا جائے۔ بلا تخصیص دوست دشمن یا مسلم غیر مسلم کے۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف سے  مناسب اور احسن ترین نصیحت قرار دیتے ہوئے اپنے سمیع و بصیر ہونے کی یاد دہانی کروا رہا ہے

مضمون کافی طولانی ہے مگراسے سمیٹنے کی کوشش کرتے ہوئے انفرادی عدل کی طرف آتا ہوں اللہ تعالیٰ نے قُرآن مجید میں متعدد بار ناپ تول، لین دین میں عدل و انصاف اور میزان کا حکم دیا ہے جیسا کہ سورۃ الانعام کی آیت ۱۵۲ میں ارشاد ہوا کہ

وَ اَوفُوا الکَیلَ وَ المِیزَانَ بِالقِسطِ ۚ

اور انصاف کے ساتھ ناپ اور تول پوری کیا کرو

اور سورۃ ھود کی آیت ۸۵  میں اسی حکم کو یوں بیان فرمایا

 وَ یٰقَومِ اَوفُوا المِکیَالَ وَ المِیزَانَ بِالقِسطِ وَ لَا تَبخَسُوا النَّاسَ اَشیَآءَہُم وَ لَا تَعثَوا فِی الاَرضِ مُفسِدِینَ﴿۸۵﴾

اے میری قوم! پیمانہ اور ترازو انصاف کے ساتھ پورے پورے رکھا کرو۔ اور لوگوں کو اُن کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور روئے زمین پر فساد نہ پھیلاتے پھرو۔

یعنی نا انصافی کی وجہ سے زمین پر فساد کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے

پھر اللہ تعالیٰ سورۃ الرحمٰن کی ۹ ویں آیت میں اس طرح ارشاد فرما رہا ہے

وَ اَقِیمُوا الوَزنَ بِالقِسطِ وَ لَا تُخسِرُوا المِیزَانَ﴿۹﴾

اور انصاف کے ترازو کو قائم کرو۔ اور تولنے میں کمی نہ کرو۔

اور اس کے علاوہ بھی قُرآن مجید میں متعدد مقامات پر مختلف انداز میں اس عمل یعنی تول میں کمی نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ناپ تول میں کمی کر کے جو مال حاصل ہوتا ہے وہ مالِ حرام ہے۔ اور مالِ حرام جب شکم میں جاتا ہے تو پھر نہ عدل وانصاف قائم رہتا ہے نہ حق بات اس پر اثر کرتی ہے سورۃ الرحمٰن کی آیت میں تو انصاف کے ترازو کو قائم رکھنے یعنی عدل کے ساتھ تولنے کو بھی مشروط کر دیا گیا ہے

اسی طرح گھر میں عدل کے ساتھ توازن کو بھی اسلام نے بہت اہمیت دی ہے یتیموں کے ساتھ عدل ، اولاد میں وراثت کی تقسیم حتیٰ کہ لارڈ پیار میں بھی عدل کا حکم دیا گیا ہے اور ایک سے زائد بیویوں کے درمیان عدل اور اگر یہ انصاف نہیں کر سکتے ہو تو حکم ہوا کہ بس ایک پر ہی گزارہ کرو چنانچہ سورۃ النسآء کی تیسری آیت میں ارشاد ہوا کہ

فَاِن خِفتُم اَلَّا تَعدِلُوا فَوَاحِدَۃً

اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم ان (متعدد بیویوں) کے درمیان عدل نہ کر سکو گے پس ایک پر ہی اکتفا کرو۔ 

سورۃ النحل آیت ۷۶

وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلَینِ اَحَدُہُمَاۤ اَبکَمُ لَا یَقدِرُ عَلٰی شَیءٍ وَّ ہُوَ کَلٌّ عَلٰی مَولٰىہُ ۙ اَینَمَا یُوَجِّہہُّ لَایَاتِ بِخَیرٍ ؕ ہَل یَستَوِی ہُوَ ۙ وَ مَن یَّامُرُ بِالعَدلِ ۙ وَ ہُوَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّستَقِیمٍ﴿۷۶﴾

اور اللہ ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک ان میں سے غلام اور پھر گونگا اور وہ اپنے مالک کے بغیر کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا مالک اسے جدھر بھیجتا ہے کبھی بھلائی نہیں لاتا۔ کیا ایسا شخص اُس شخص کے جیسا ہو سکتا ہے جو لوگوں میں عدل کا حکم کرتا ہے۔ اور وہ خود بھی سیدھی راہ پر قائم ہے

یہاں پر تمثیلی انداز میں یہ بات کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ جو ذہنی طور پر شخصی خوف کاغلام ہے۔ جو حاکم کے سامنے بولنے کی جُرآت نہیں رکھتا۔ جو جان کی امان کی خاطر عوام کو انصاف نہیں دے سکتا ایسا شخص اور جوہر طرح کے خوف اور غلامی سے آزاد ہو کر سیدھی راہ پر قائم ہے اور ڈٹ کر عدل و انصاف کرتا ہے وہ شخص کیا برابر ہو سکتے ہیں یقیناً ہرگز نہیں ہو سکتے۔

اور قُرآن مجید نے متعدد مقام پر یومِ قیامت کو عدل کا دن قرار دیا ہے۔ اور بار بار فرمایا کہ یومِ الدین یعنی فیصلے کے دن کسی سے ذرہ برابر ظلم و زیادتی نہیں ہو گی اور تمہارے اعمال کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا چنانچہ سورۃ یونس کی آیت ۵۴ ارشادِ باری تعالیٰ ہو رہا ہے کہ

وَ لَو اَنَّ لِکُلِّ نَفسٍ ظَلَمَت مَا فِی الاَرضِ لَافتَدَت بِہٖ ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُا العَذَابَ ۚ وَ قُضِیَ بَینَہُم بِالقِسطِ وَ ہُم لَا یُظلَمُونَ﴿۵۴﴾

اور جس کسی نے بھی کسی پر ظلم کیا تو اگر اُسے زمین کے تمام خزانے بھی مل جائیں اور وہ عذاب دیکھ کر اپنے گناہ کے بدلے فدیہ کرنے کو تیار ہو۔ تو بھی اس دن ان کے درمیان انصاف کیا جائے گا اور ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا جائے گا۔

یہ اور اس طرح کی دیگر آیات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ ہے کہ جو بھی کرنا ہے دنیا میں کرو۔ معافی یا فدیہ یا قصاص جو بھی کرنا ہے دنیا میں کر لو۔ دنیاوی مال کی خاطر جو بھی گناہ کیئے وہ مال و دولت بروزِ حشر تمہارے کسی کام نہ آئے گا۔ وہاں پر تو فقط عدل کے ساتھ فیصلے ہوں گے۔

اسی طرح سورۃ الانبیاء کی آیت ۴۷ میں ارشاد فرمایا کہ

وَ نَضَعُ المَوَازِینَ القِسطَ لِیَومِ القِیٰمَۃِ فَلَا تُظلَمُ نَفسٌ شَیئًا ؕ وَ اِن کَانَ مِثقَالَ حَبَّۃٍ مِّن خَردَلٍ اَتَینَا بِہَا ؕ وَ کَفٰی بِنَا حٰسِبِینَ﴿۴۷﴾

اور قیامت کے دن تو ہم انصاف کے ترازو کھڑے کر دیں گے۔ پس کسی پر ذرا بھر ظلم نہ ہو گا۔ اور اگر کسی کا رائی برابر بھی عمل ہو گا تو حاضر کر دیں گے۔ اور ہم ہی حساب کے لیے کافی ہیں۔

روزِ حشر یومِ عدل ہو گا۔ اور اس دن مثقال برابر نیکی کا بدلہ دیا جائے گا اور رائی برابر گناہ کا بدلہ۔ مظلوموں کی تسلی کے لیے ارشاد ہو رہا ہے کہ اگر دنیا میں تمہیں انصاف نہیں ملتا تو پھر اللہ ہی حساب کے لیے کافی ہے۔ پس ہمیں اللہ کے حساب سے ڈرتے ہوئے دنیا میں کوئی ایسا عمل نہیں کرنا چاہیے کہ ہمارے لیے روزِ محشر جواب دینا مشکل ہو جائے۔

یہ ایک طویل موضوع ہے۔ اس پر جتنی بحث ہو گی وہ کم ہو گی۔ میں نے آپ کے سامنے صرف ایک خلاصہ پیش کیا ہے۔ تا کہ آپ کے سامنے ایک خاکہ رکھ سکوں جس سے استفادہ کرتے ہوئے مزید سمجھنے کی طرف مائل کر سکوں۔ عدل و قسط کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگا لیجئے کہ قُرآن حکیم میں یہ دونوں الفاظ پچیس پچیس مرتبہ استعمال ہوئے اور اپنے مشتقات کے ساتھ بھی کئی مرتبہ۔

اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری اجتماعی خطبہ میں کہ جسے خطبہءِ حجۃ الوداع کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور اس خطبہ کو تا بہ قیامت عالمی انسانی حقوق کا ایک مثالی اور اولین دائمی منشور تسلیم کیا جاتا ہے۔ اُس خطبہ میں آنحضورﷺ نے کامیاب انسانی زندگی کے تمام بنیادی نکات بیان فرما دیئے۔ اگر آپ ان تمام نکات کا بغور جائزہ لیں تو آپ کو مرکز و محور عدل و انصاف ہی دکھائی دے گا۔ * معاشرتی حقوق کی ادائیگی۔ * نسلی تفاخر کا خاتمہ۔ * ایک دوسرے کی جان، مال اور عزت کی حرمت۔ * معاشی استحصال سے تحفظ  ۔ * لا قانونیت کا خاتمہ۔ * وراثت کے حقوق۔ * ملکیت کے حقوق۔ * قرض کے لین دین کے اصول۔ * خواتین کے حقوق۔ * میاں بیوی کے حقوق۔ * ریاست کے حقوق۔ اصولِ حکمرانی  ۔ * قانون کی حکمرانی۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حقوق ۔

غرضیکہ یہ تمام خطبہ ہی دراصل مسلمانوں کے لیے بالخصوص اور عالم انسانیت کے لیے بالعموم ابدی آئین زندگی ہے۔ اور پھر اس خطبے کے آخر میں آپ  ﷺ نے لگ بھگ سوا لاکھ کے مجمع کو عرفات کے میدان سے یہ حکم دیا کہ یہاں موجود ہر فرد پر لازم ہے کہ میری یہ باتیں اُن لوگوں تک پہنچائیں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ یعنی قیامت تک کے لیے یہ منشور پڑھنے اور سننے والے پر لازم ہے کہ وہ اسے دوسروں تک پہنچائے۔

میری طرف سے نچوڑ یہ ہے کہ کائنات کی ہر مصیبت کا مقابلہ ممکن ہے۔ مگر عدل کی موجودگی میں۔ اور کائنات ہر طرح کی دولت و آسائش سے بھر دی جائے اور عدل نہ ہو تو زندگی دشوار تر ہے

مونس رضا

ریٹائرڈ او رینٹل ٹیچر گورنمنٹ پائیلیٹ ہائر سیکنڈری اسکول اٹک شہر

Next Post

ہیٹ سٹروک سے بچاؤ کیلئے اقدامات

جمعہ مئی 13 , 2022
ہیٹ سٹروک سے بچاؤ کیلئے اقدامات حکومت پنجاب کی ہدایات کی روشنی میں ضلع بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں کاوئنٹر قائم کر دئیے گئے
ہیٹ سٹروک سے بچاؤ کیلئے اقدامات