وقت کا تقاضا ہے کہ فیصلہ ساز طبقہ عارضی ریلیف کے بجائے دیرپا معاشی پالیسیاں بنائے۔
جوسف علی
میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت" میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف" میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ"، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
اگر ٹیلنٹ سپین اور ارجنٹائن کی گلیوں میں ہے تو پاکستان کی گلیاں بھی ٹیلنٹ...
جنگ سے نہ کوئی فاتح بنتا ہے نہ کوئی مفتوح۔ جنگ سے صرف نسلیں برباد ہوتی ہیں۔
فٹ بال اب نئے چہروں، نئی شناختوں اور نئے بیانیے کے ساتھ آگے بڑھے گا، اور...
ایران کی بقا اسی میں ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کی طرف جائے، سفارتکاری...
پاکستان 40 سال کی دہشتگردی اور مہنگائی کے بعد مزید جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا
زندگی میں کچھ بھی کرنے کا ارادہ ہے تو کامیابی تبھی ملے گی جب آکسیجن سلنڈر...
س کے پیچھے ایک لامحدود علم، لامحدود قدرت اور لامحدود حکمت ہے
لوگ اپنے گھروں اور گاڑیوں کے دروازے کھلے چھوڑ کر سوتے ہیں۔
اسے سیاسی رنگ دینے کے بجائے ہمیں اس کے پیچھے چھپے "پیٹرن" کو سمجھنا چاہیے۔