فرعون کی کہانی ( Pharaoh )

( چند روز قبل

بنی اسرائیل کی کہانی

کے عنوان سے , جو مضمون تحریر کیا , اس میں حضرت ابراھیم علیہ السلام اور فرعون کا ذکر تھا ۔ مضمون کی اشاعت کے بعد بعض قارئین نے سوال کیا کہ فرعون تو موسی علیہ  السلام کے زمانے میں ہوا ، آپ نے اسے حضرت ابراھیم  علیہ  السلام  سے کیسے ملادیا ۔ یہ سن کر احساس ہوا کہ عام قاری (مسلمان ) فرعون یا فراعین مصر سے متعلق صحیح اور مکمل معلومات نہیں رکھتا لھذا آج بطور خاص اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے تاکہ عام آدمی فرعون بارے جان سکے )

تحقیق و تحریر :

سیدزادہ سخاوت بخاری

 آج کا مسلمان ( اہل علم کو چھوڑ کر ) ، یہ تو جانتا ہے کہ جو شخص صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرے وہ کافر ، جو اہل بیت اطہار کو معیار حق نہ مانے وہ جہنمی ، جو داڑھی نہ رکھے فاجر ، جس کی مونچھ لمبی وہ یہودی ، جس نے ٹائی لگائی وہ کرسچین ، جس نے عربی چھوڑ کر انگریزی زبان سیکھی ، وہ گمراہ ، جس کی شلوار یا پائجامہ ٹخنوں سے نیچے وہ جہنم کا ایندھن ۔

arab men in white traditional wear praying on embankment
Photo by Thais Cordeiro on Pexels.com

 اسی طرح ،  اسے اس بات کا بھی علم ہے کہ اسلام آباد میں ہندو مندر تعمیر کرنا گناہ کبیرہ اور عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے ،  لیکن یہ نہیں جانتا کہ بنی اسرائیل کون تھے ۔ فرعون ، شداد ، ھامان اور نمرود کسے کہا جاتا ہے ۔  دین اسلام کی ابتداء ، حضرت محمد الرسول اللہ  ﷺسے ہوئی یا ابو البشر حضرت آدم علیہ  السلام نے اس کی بنیاد رکھی ۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کیا ہیں اور ہمیں زندگی کی اس دوڑ میں کامیابی کیسے حاصل کرنی ہے ۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم خود مطالعہ کرتے نہیں البتہ جمعے اور عیدین کی نماذ یا کسی اجتماع میں ” مولوی صاحب ”  نے جو کچھ بتا دیا ، سنا دیا ، وہی ہمارا دینی علم اور اسی پر یقین رکھتے ہیں ۔ بدقسمتی سے عام آدمی یہ نہیں جانتا کہ یہ مولوی حضرات ، فقط اپنے اپنے مسلک کی تبلیغ کرتے ہیں ۔ انہیں اپنی جماعت کی مضبوطی سے غرض ہے ۔ اس سے ہٹ کر وہ کوئی بات نہیں بتاتے ۔   جہالت اور تنگ نظری پھیلتی ہے تو پھیلتی رہے ۔ انہیں کیا پڑی ہے کہ وہ فرعون کا شجرہ نسب اور تاریخی واقعات بیان کرتے پھریں ۔ حالانکہ یہ ، اور کئی دیگر  موضوعات ، ہماری دینی تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں  اور ہر مسلمان کو ان کا بنیادی علم ملنا چاھئے  لیکن وہ تو فقط یہ چاھتے ہیں کہ ہمیں مسلکی مسائل کی گرفت سے باھر نہ نکلنے دیاجائے تاکہ چندے ملتے رہیں ۔

یہاں ایک بات کی وضاحت بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ ، جب میں لفظ ” مولوی ” استعمال کرتا ہوں تو اس سے مراد قطعا ” علماء دین ” نہیں ہوتے ۔ میں علماء کا قدردان اور انہیں منارہ نور سمجھتا ہوں ۔ مولوی تو وہ ٹٹ پونجیا ہے جو اپنی روٹی روزی کی خاطر مسلمانوں کو آپس میں لڑاتا ہے ۔ قرآن کی غلط تفسیر و تشریح بیان کرتا ہے تاکہ اپنے ذاتی اور من گھڑت موقف کو صحیح ثابت کرسکے ۔ وہ اپنے سامعین کو فرقہ وارانہ اور غیر ضروری مسائل میں الجھا کر علم و دانش سے دور رکھنا چاھتا ہے تاکہ وہ اس کے سحر میں گرفتار رہ کر چندے اور حلوے مانڈے دیتے رہیں جبکہ عالم بحیثیت منارہ نور ، علم کی روشنی پھیلاتے ہیں ۔ ان کی تقریریں ہوں یا تحریریں ، مسلمانوں کے اندر وسعت قلب و نظر ،  قوت برداشت ، تحمل ، تدبر و تفکر اور محبت و اخوت  پیدا کرتی ہیں ۔

کاش مولوی صاحب ہمیں شیعہ ، سنی اور وھابی کی بھول بھلیوں ،  داڑھی مونچھ اور شلوار کی لمبائی چوڑائی کے دلدل میں دھکیلنے کی بجائے علم و آگہی کے زیور سے آراستہ کرتے تو ہم گزری ہوئی قوموں کی تاریخ ، اعمال اور انجام سے سبق حاصل کرکے ترقی کی منزلیں طے کرچکے ہوتے لیکن ہمیں تو تنگ نظری  ( Narrowmindedness ) پر مشتمل اور دقیانوسی ( Outdated ) داستانیں سنا سنا کر ، شاہ دولہ  کا چوہا بنا دیا گیا ہے ۔ اچھے بھلے پڑھے لکھے افراد ، اپنے اپنے پیشہ ورانہ امور پر ضرور دسترس رکھتے ہیں لیکن اس سے آگے پیچھے کچھ نہیں جانتے ۔ معافی چاھتا ہوں اگر الفاظ اور جملے قدرے ترش ہوگئے ہوں لیکن حقیقت یہی ہے ۔ آئیے آگے بڑھتے ہیں ۔

photo of a pyrmaid
Photo by Rain Ican on Pexels.com

یہ کسقدر تعجب کی بات ہے کہ آج تک فرعون مصر کا ذکر صرف حضرت موسی علیہ  السلام کی کہانی میں بیان کیا جارہا ہے  اور عام آدمی کے ذہن میں یہ بات بٹھادی گئی کہ فرعون نام کا ایک بادشاہ تھا جس کے گھر موسی علیہ  السلام نے پرورش پائی اور پھر اسے چیلینج کیا ۔ مولوی صاحبان اپنی سریلی تقریروں میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتاتے ۔ اسی کمی کو پیش نظر رکھتے ہوئے آج کا یہ مضمون لکھا جارہا ہے تاکہ فرعون کا تعارف اور اس بارے کچھ معلومات آپ تک پہنچائی جاسکیں ۔

اس سے قبل کہ بات کو آگے بڑھایا جائے ، یہ جان لیں کہ مصر اور فرعونوں کی  تاریخ بہت پرانی ہے اس لئے مورخین کے درمیان بعض ناموں اور تاریخوں میں جا بہ جا اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اکثر تاریخی حوالے ان لوحوں ( مٹی کی تختیوں ) سے اکٹھے کئے گئے ہیں جو مصری آثار قدیمہ سے کھدائی کے دوران برآمد ہوئیں ۔ ان کے علاوہ کچھ واقعات بائبل اور قرآن سے اخذ کئے گئے ہیں جنھیں مستند ذرائع کہا جاسکتا ہے ۔ اب چلتے ہیں اصل کہانی کی طرف ۔

فرعون کی کہانی ( Pharaoh )
Photo by Pixabay on Pexels.com

یاد رکھیں دنیاء میں بے شمار قومیں ہوگزریں اور اب بھی بہت ساری موجود ہیں ۔ ہر قوم کی اپنی بولی ، رہن سہن ، تہذیب اور سوچ کا انداز ہے لھذا اسی دائرے میں رہ کر انہوں نے اپنے اپنے حکمرانوں کو مخصوص نام دئے ،

مثلا ،

چین میں حکمران کو ” خاقان ” کہا گیا ۔ ( خاقان عباسی نہیں )

روس میں اسے ” زار ” کہتے تھے

حبشہ ( موجودہ ایتھییوپیا )

والوں نے ” نجاشی ” کہا

ایران میں ” کسری ” ( کسرا )

اھل روم اسے ” قیصر ” کہتے تھے

سلطنت عمان میں ” سلطان “

سعودی عرب میں ” ملک “

متحدہ عرب امارات میں ” امیر “

ھندوستان میں ” شہنشاہ “

برطانیہ میں ” کنگ ” اور اگر خاتون تخت نشین ہوتو ” کوین ” جیسا کہ اس وقت ملکہ برطانیہ ہیں اور کبھی ملکہ وکٹوریا تھیں ۔

 پاکستان میں ہم اسے صدر یا وزیراعظم کے نام سے پکارتے ہیں ۔

بعینہہ اسی طرح اہل مصر اپنے حکمرانوں کو ” فرعون ” کہ کر پکارتے تھے ۔ اس کے لفظی یا اصطلاحی معنی ہیں ، سرکش ، ظالم ، بڑے محل والا اور متکبر ۔ ان ہی صفات کی بناء پر ہمارے ھاں اردو لٹریچر میں ” فرعونیت ” کی اصطلاح ( Term ) رواج پائی ۔ اگر کسی کے تکبر کو بیان کرنا ہو تو اسے فرعون کہ دیتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ لفظ فرعون آیا کہاں سے ۔ تو عرض ہے کہ قدیم مصر میں دیوی دیوتاوں کی پوجا کی جاتی تھی جن میں سب سے بڑا اور مقدس دیوتا ،

آمن راع ( سورج دیوتا ) تھا جسے عرف عام میں ” فارع ” کہا جاتا تھا ۔ یہی لفظ عبرانی زبان میں ” فاعن ” بنا اور پھر عربوں نے اسے فرعون بنادیا ۔

great sphynx of giza egypt
Photo by Arralyn on Pexels.com

چونکہ مصری معاشرہ دیوی دیوتاوں کے زیراثر تھا اس لئے وھاں کے حکمرانوں ( فراعین ) نے اپنے آپ کو دیوتاوں کا اوتار قرار دے دیا یعنی دیوی دیوتا ان کے اندر رہتے ہیں لھذا اب وہ ہی خدا ہیں ۔

تاریخ بتاتی ہے کہ ان فرعونوں ( حکمرانوں ) کا تعلق مصر کے قبطی ( Coptic ) اور عملیقی قبائل سے رہا ہے جو وہاں کے قدیم ترین اور بڑے قبیلے ہیں ۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ طوفان نوح کے بعد  مصر کا پہلا حکمران بیصر بن حام بن نوح حضرت نوح علیہ  السلام کی اولاد سے تھا ۔ اس کے بیٹے کا نام مصر بن بیصر تھا اور اسی کے نام کی مناسبت سے اس ملک کا نام  مصر پڑا ۔

 الولید بن دومغ پہلا فرعون تھا اور 3000 قبل مسیح ( حضرت عیسی ابن مریم علیہ کی پیدائیش سے پہلے ) سے لیکر اسکندر اعظم کے مصر پر حملے کے وقت تک تقریبا 31 فرعون تخت نشیں ہوئے ۔

حضرت ابراھیم علیہ  السلام کے وقت طولیس نام کا فرعون مصر کا حاکم تھا جس کی بیٹی حاجر سے انہوں نے شادی کی ۔ یاد رہے حاجر اور حاجرہ دونوں ایک ہی نام ہیں ۔ اس واقعے کی تفصیل میرے گزشتہ مضمون “ بنی اسرائیل کی کہانی ” میں موجود ہے ۔

حضرت یوسف علیہ  السلام کے وقت الریان بن ولید فرعون مصر تھا ۔ یہاں مختصرا بتاتا چلوں کہ جب حضرت یوسف علیہ  السلام کو ان کے سوتیلے بھائیوں نے کنوئیں میں پھینک دیا تھا تو ایک قافلے والوں نے وہاں سے نکالا اور مصر کے بازار میں لے جاکر فروخت کردیا ۔  آپ کو وہاں کے وزیر خزانہ اطفیر المعروف عزیز مصر نے بھاری رقم کے عوض خریدلیا ۔ اس کی بیوی کا نام زلیخہ تھا جو حضرت یوسف علیہ  السلام کے حسن کی دیوانی ہوگئی اور خراب نیت سے ان کی طرف لپکی مگر اللہ کے نبی نے اس کی بات نہ مانی ۔ کہانی طویل ہے مختصرا یہ کہ آپ کو زلیخہ کی شکائت پر جیل میں ڈال دیا گیا ۔  وھاں دو سرکاری ملازمین بھی قید ہوکر آئے جنھوں نے خواب دیکھا اور حضرت یوسف  علیہ  السلام کو سنایا ۔ ایک نے کہا میں نے دیکھا کہ انگور سے شراب نچوڑ رہا ہوں ۔ دوسرے نے کہا میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے کھارہے ہیں ۔ آپ اللہ کے نبی تھے اس لئے کہا کہ جو بتاونگا وہ ہوکر رہے گا ۔ آپ نے مصلحت کے تحت نام بتائے بغیر بتایا کہ  ، ایک رہا ہوکر بادشاہ کو شراب پلانے پر مامور ہوگا اور دوسرے کو سزائے موت ہوگی اور اس کی لاش پرندے کھائینگے ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جو رہا ہو وہ بادشاہ کے پاس جاکر میرا ذکر ضرور کرے کیونکہ میں بے گناہ قید میں ہوں ۔ حکم الہی کے مطابق ایسا ہی ہوا اور بندار نامی شخص رہا ہوکر بادشاہ کا خدمتگار ( Bar Man ) بنا لیکن شیطان نے اسے حضرت یوسف کا پیغام بادشاہ تک پہنچانے سے منع کردیا ۔ قدرت خدا کی ، فرعون مصر نے خواب دیکھا کہ سات موٹی گائیں ہیں جنھیں سات دبلی پتلی گائیں آکر کھا جاتی ہیں اسی طرح گندم کے سات ہری بھری اور سات خشک بالیاں ہیں ۔ اس نے نجومیوں اور کاہنوں ( علماء )  کو بلاکر خواب سنایا مگر کوئی بھی تسلی بخش تعبیر نہ بتا سکا تب بندار کو یاد آیا کہ جیل میں یوسف علیہ  السلام نام کا ایک نیک سیرت قیدی خوابوں کی تعبیر بتاتا ہے ۔ اس نے بادشاہ سے اس کا ذکر کیا ۔ بادشاہ نے

اس قیدی کو پیش کرنے کا حکم دیا چنانچہ حضرت یوسف علیہ  السلام نے پہلے تو اپنی بے گناہی کا ذکر کیا اور کہا کہ مجھے بلاوجہ جیل میں ڈالا گیا ہے اور پھر فرعون مصر کے خواب کی تعبیر بتائی ۔ آپ نے کہا تعبیر یہ ہے کہ ، آپ کے ملک میں سات سال تک بہت زیادہ غلہ پیدا ہوگا اور پھر سات سال قحط پڑے گا لھذا پہلے سات سال کی پیداوار کو اسٹور کرلیا جائے تاکہ اگلے سات سال جب قحط سالی ہو تو یہ کام آئے ۔ فرعون نے کہا اس کی عملی شکل کیا ہوگی ۔ کس طرح یہ سب کام ہونگے ۔ حضرت یوسف علیہ  السلام  نے کہا خدا نے مجھے عقل ، فہم ، تدبر اور حکمت سے نوازا ہے اگر آپ یہ کام میرے ذمہ کردیں تو میں اسے بہ خوبی انجام دونگا ۔ اس پر بادشاہ بہت متاثر ہوا اور آپ کو ان سب کاموں کا ناظم مقرر کردیا ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بادشاہ بعد میں مسلمان ہوگیا تھا ۔ واللہ اعلم ۔

قارئین

یہ ہے تاریخ کا وہ موڑ جب بنی اسرائیل فلسطین سے مصر آئے ۔ وہ اسطرح کہ ، حضرت یوسف علیہ  السلام  نے وزارت کا عہدہ            ملنے کے بعد اپنے والد حضرت یعقوب علیہ  السلام  اور تمام بھائیوں کو مصر بلالیا اور  یوں  حضرت یعقوب علیہ  السلام  ( اسرائیل ) کی اولاد مصر میں پھلی پھولی ۔ اگرچہ اس وقت اس کنبے کے فقط 93 افراد فلسطین سے ہجرت کرکے مصر آئے تھے لیکن حضرت موسی علیہ  السلام کے آتے آتے ان کی تعداد بڑھتے ہوئے لاکھوں تک جا پہنچی۔ حضرت یوسف علیہ  السلام  کی وجہ سے انہیں شاہی خاندان کی حیثیت حاصل تھی ۔ زمین ، جائیداد ، بنگلے ، باغات ، مال مویشی اور دولت ان کے ھاتھ آئی تو بگڑ گئے ۔ اللہ کے نافرمان ہوگئے ۔ یوسف علیہ  السلام کے بعد فرعون کا بیٹا ان پر مسلط ہوا اور وہ غلام بن کر ظلم و ستم کا شکار ہوگئے ۔ دراصل یہ اللہ کا عذاب تھا ۔ ان حالات میں خدا نے حضرت موسی علیہ  السلام کو ان کی مدد ،  راہنمائی اور قبطیوں کی غلامی سے رھائی دلانے کے لے بھیجا ۔

  موسی علیہ  السلام  کا پالا دو فرعونوں سے پڑا ۔ پہلا  رعمیس دوم ، جس کے گھر پرورش پائی  اور پھر اس کا بیٹا “منفتاح ” جسے اسلام کی دعوت دی گئی  اور جس نے آپ اور آپ کی قوم بنی اسرائیل پر ظلم ڈھائے ۔ قصہ کچھ اس طرح ہے کہ فرعون رعمیس دوم نے خواب دیکھا کہ

بیت المقدس کی طرف سے آگ آئی اور اس نے مصر کے تمام قبطیوں ( فرعون کا قبیلہ ) کو جلا ڈالا مگر بنی اسرائیل محفوظ رہے ۔ تمام علماء کو بلاکر خواب کی تعبیر پوچھی گئی ۔ کاہنوں نے بتایا کہ اے بادشاہ ! تیری سلطنت میں بنی اسرائیل کے ہاں  ایک بچہ پیدا ہوگا جو تیرے اقتدار اور جان کے لئے خطرہ بن جائیگا ۔

یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسے مار دیا جائے ۔ دائیوں ( Mid Wife ) کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ حاملہ عورتوں کو تلاش کیا جائے چنانچہ ایک اندازے کے مطابق 12 ہزار نومولود لڑکے مار دئے گئے اور ستر ہزار کے قریب حمل گرائے گئے ۔ یہ دیکھ کر قبطی قبیلے کے بڑے بوڑھے ،  فرعون کے پاس گئے اور کہا تو بنی اسرائیل کی نسل کشی کررہا ہے اگر ایسا ہوتا رہا تو ہمیں ، خدمتگار ، نوکر ، چاکر اور مزدور کہاں سے ملینگے ۔ اس پر فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال بچے مارے جائیں اور ایک سال نہ مارے جائیں ۔ لہذا جس سال نہ مارنے کا حکم تھا ، حضرت ہارون  علیہ  السلام اور جس سال بچے مارے جارہے تھے حضرت موسی علیہ  السلام پیدا ہوئے ۔

جب آپ کی پیدائش ہوئی تو ماں سخت پریشان تھی کہ فرعون کے کارندے اسے مار دینگے اس لئے انہوں نے نومولود موسی  علیہ  السلام کو ایک صندوق میں بند کرکے دریائے نیل میں اللہ کے سپرد کردیا ۔ دریا سے ایک نہر نکل کر فرعون کے محل کے نیچے سے گزرتی تھی ۔ اتفاق سے فرعون اور اس کی بیگم آسیہ بالکونی میں بیٹھے نہر کا نظارہ کررہے تھے ۔ انہیں صندوق بہتا ہوا نظر آیا ۔ آسیہ کی فرمائیش پر کارندے صندوق پانی سے نکال کر لائے جب کھولا گیا تو ایک خوبصورت ننھا منا بچہ انگوٹھا منہ میں لئے لیٹا ہے ۔ فرعون نے کہا اسے ماردیتے ہیں لیکن قرآن کے مطابق آسیہ نے کہا ، نہیں ، میں اسے بڑا کرونگی ہوسکتا ہے یہ ہمارے حق میں بہتر ہو ۔ علماء نے آسیہ کو مومنہ کا خطاب دیا ہے کیونکہ اس نے نہ فقط موسی علیہ  السلام کی جان بچائی بلکہ پال پوس کر بڑا کیا ۔

جب حضرت موسی علیہ  السلام بڑے ہوئے تو نبوت عطاء ہوئی ۔ اس وقت فرعون کا بیٹا تخت نشین تھا یعنی وہ دوسرا فرعون جس سے آپ کا سامنا ہوا اور اللہ کے حکم سے اسے اسلام کی دعوت دی مگر وہ نہ مانا اور موسی  علیہ  السلام سے مقابلے پر اتر آیا ۔ اس ہی شخص نے حضرت موسی علیہ  السلام کی قوم بنی اسرائیل کو تنگ کیا اور انہیں سزائیں دیں جس پر حضرت موسی  علیہ  السلام اپنی قوم کو لیکر واپس اپنے وطن فلسطین روانہ ہوگئے ۔

اور جب حضرت موسی  علیہ  السلام بنی اسرائیل کو لیکر مصر سے نکلے تو پیچھا کرتے ہوئے بحیرہ قلزم ( Red Sea ) میں غرق ہوگیا ۔ حکم خداوندی سے سمندر نے اس کی لاش باھر پھینک دی اور اس طرح اس کی حنوت شدہ لاش  ( Mummy ) اب قاہرہ کے عجائب گھر میں تاقیامت نشان عبرت ہے ۔

فراعین مصر کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ ، یہ اپنے آپ کو خدا کا نمائندہ ، منتخب کردہ اور بعض بذات خود خدا ( GOD ) کہلاتے تھے ۔ ان کا کہا خدا کا فرمان تصور کیا جاتا تھا اور اہل مصر ان کی ہر بات کو مذھب کا حکم سمجھتے تھے ۔ اسی کفر اور شرک کو ختم کرنے کے لئے اللہ نے حضرت موسی  علیہ  السلام اور ان کے بھائی ہارون کو ان کی طرف نبی بناکر بھیجا لیکن وہ ان سے الجھ پڑے اور نافرمانی کے مرتکب ہوئے ۔ بالآخر اللہ نے ان کا نام و نشان مٹادیا اور آج مصر ایک مسلمان افریقی عرب ملک ہے

سیّدزادہ سخاوت بخاری
سیّدزادہ سخاوت بخاری سرپرست اعلی، اٹک ویب میگزین

سیّد زادہ سخاوت بخاری

شاعر،ادیب،مقرر شعلہ بیاں،سماجی کارکن اور دوستوں کا دوست

Next Post

سند باد

بدھ مارچ 3 , 2021
یوں تو سندباد کو لے کر کئی کہانیاں موجود ہیں جن میں سرفہرست ألف ليلة وليلة ہے
سندباد