موسی علیہ السّلام کی کہانی

( Story of  Prophit Moses )

( مذہبی تاریخ سے جڑے میرے  مضامین ،

حضرت سلیمان اور ملکہ بلقیس ،

بنی اسرائیل کی کہانی ،

فرعون کی کہانی اور

ہاروت ماروت

کے بعد پیش ہے حضرت موسیؑ کی کہانی )

تحقیق و تحریر :

سیّدزادہ سخاوت بخاری

انبیاءکرام کے قصے اور کہانیاں پڑھتے وقت اور انہیں سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کے ذھن میں ایک خدا ، اللہ اور مالک و خالق کے موجود ہونے کا تصور جاگزیں ہو ۔ یہ اس لئے ناگزیر ہے کہ اگر آپ کسی خالق اور نگہبان پر ہی یقین نہیں رکھتے تو بنی نوع انسان کی راہنمائی اور فلاح و بہبود کی خاطر اس کے بھیجے نمائندوں ، انبیاء و رسل اور  پیغام بروں ( Messengers ) کی ضرورت ، حیثیت اور اہمیت کو کیسے جان پائینگے ۔ اس بنیادی خیال کو ذہن نشین کرلینے کے بعد یہ سمجھ لیں کہ اللہ نے تخلیق کائنات کے بعد اسے لاوارث نہیں چھوڑ دیا بلکہ نگہبان اعلی کی حیثیت سے انسانوں کی شکل میں ، ہر دور اور ہر قوم کی طرف ہادی اور راہنماء ( Spirtual Guide and Mentor ) بھیجے تاکہ نظام کائنات اس کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق رواں دواں رہے اور بنی آدم ایک قائدے کے تحت اسے اپنا خالق ، مالک اور معبود ( Supreme Deity ) مان کر پاکیزہ اور پرامن زندگی بسر کرسکیں ۔

اس سلسلہء ہدائیت و راہنمائی پہ اگر غور کیا جائے تو بڑی دلچسپ صورت حال سامنے آتی ہے اور وہ اس طرح کہ معروف انبیاء (  Well    known Messengers of Allah) کی اکثریت ، بنی اسرائیل یا مشرق وسطی ( Middle East ) کی طرف بھیجی گئی ۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئیے کہ مشرق وسطی بالخصوص فلسطین (سابقہ کنعان )میں مبعوث ہونے والے انبیاء کا منبع ( Fountain ) عراق تھا کیونکہ بنی اسرائیل کے تمام انبیاء آل ابراھیمؑ  میں سے ہیں  یعنی( Descendants of Prophit Abraham ) اور حضرت ابراھیم ؑکا آبائی وطن وادی بابل ( babylon )تھا جہاں کے ظالم بادشاہ نمرود کے مظالم سے تنگ آکر آپ فلسطین ہجرت کرگئے ۔ آج اسی خاندان کے ایک جلیل القدر نبی حضرت موسیؑؑ کی کہانی بیان کی جارہی ہے ۔

حضرت موسیؑؑ بن عمران بن یصعر بن قابث بن لاوی بن یعقوبؑ بن اسحاق ؑبن ابراھیمؑ کا جنم حضرت عیسی ؑکی پیدائیش سے تقریبا 1500 سال قبل مصر میں ہوا ۔ آپ بنی اسرائیل میں سے اور ان ہی کی طرف بھیجے گئے نبی تھے ۔ حالانکہ ان کا اصل وطن فلسطین تھا لیکن حضرت یوسف ؑکے مصر چلے جانے کے بعد چونکہ جناب یعقوب ؑکی اولاد مصر میں پھلی پھولی لھذا موسی علیہ السّلام بھی ان ہی مہاجرین بنی اسرائیل کے ایک گھرانے میں وہیں 1520 ق م  کو پیدا ہوئے ۔ والد عمران ، ماں کا نام یوکابد ، بڑا بھائی ہارون ؑاور ایک بہن مریم تھی ۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ عیسی ؑکی والدہ کا نام بھی مریم ؑاور نانا کا نام عمران ہی تھا جن کا مزار سلطنت عمان کے شہر  صلالہ میں ہے ۔

راقم کو نبی عمرانؑ کے دربار میں حاضری کے متعدد مواقع ملے ۔ الحمدللہ ۔

کہانی کو آگے بڑھاتے ہوئے عرض کرونگا کہ میری تحریر کردہ ،  بنی اسرائیل اور فرعون کی کہانیوں میں حضرت موسیؑ کا ذکر ضمنا آچکا ہے لیکن آج یہ واقعات قدرے تفصیل سے بیان ہونگے ۔ ہوا کچھ یوں کہ جب بنی اسرائیل حضرت یوسفؑ کی وجہ سے مصر میں جاکر آباد ہوگئے تو اللہ نے انہیں عزت ، وقار اور مال و دولت سے نواز دیا  لیکن یہ کم بخت  عیش و عشرت کی زندگی پاکر  خدا کی یاد سے غافل ہوگئے  ۔

اللہ کے احکامات کی  نافرمانی کرنے لگے ۔ ان کے غلط اعمال کی پاداش میں ، اللہ نے  جناب یوسفؑ کی وفات کے بعد  ان پر فرعون رعمیس دوم کی شکل میں ایک جابر حکمران مسلط کردیا جس کا تعلق قبطی قبیلے سے تھا اور وہ ان مہاجرین بنی اسرائیل کو پسند نہیں کرتا تھا ۔

رعمیس دوم
By , CC BY-SA 3.0, Link

ایک رات فرعون رعمیس نے خواب میں دیکھا کہ بیت المقدس ( فلسطین ) کی طرف سے آگ کے شعلے آئے جس سے قبطی قبائل جل کر خاکستر ہوگئے مگر اسرائیلیوں کو کوئی گزند یا نقصان نہیں پہنچا ۔ اس نے اپنے درباریوں ، جوتشیوں ، نجومیوں ، علماء اور کاہنوں ( مذہبی راہنماوں ) کو بلاکر خواب کی تعبیر پوچھی تو بتایا گیا کہ

اے بادشاہ تیری سلطنت میں بنی اسرائیل کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو تیری خدائی کو چیلینج کردے گا ۔ یاد رہے فرعون اپنے آپ کو خدا کا اوتار بلکہ خدائے مطلق کہلواتا تھا ۔ خواب کی تعبیر سن کر فرعون کو پریشانی لاحق ہوگئی ۔ اس نے  حکم جاری کیا  کہ آج سے بنی اسرائیل کے کسی بھی خاندان میں جو بچہ پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے ۔ چنانچہ ہزاروں حاملہ عورتوں کے حمل ضائع کرادئے گئے اور ان گنت نومولود اسرائیلی بچوں کو قتل کرادیا گیا ۔

اس قتل عام کی خبر جب قبطی قبیلے ( فرعون کا قبیلہ ) کے بزرگوں کو ملی تو وہ ایک وفد کی شکل میں فرعون کے پاس گئے اور کہا

اے بادشاہ اگر آپ اسی طرح اسرائیلیوں کو قتل کرتے رہے تو ہمیں مصر میں نوکر ، چاکر ، غلام ، مزدور اور کھیتوں میں کام کرنے والے کہاں سے ملینگے ۔ یہاں یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ حضرت یوسفؑ کے زمانے تک ،   بنی اسرائیل مصر میں ، زمینوں کے مالک ، تاجر اور سرکاری اہلکار تھے لیکن حضرت موسیؑؑ کی پیدائیش تک آتے آتے ، اپنے بد اعمال کے نتیجے میں ، بھکاری اور غلام بن گئے ۔ قصہ مختصر ، فرعون نے  قبیلے کے بڑوں کی بات سن کر اپنے حکم میں ترمیم کرتے ہوئے نیا حکم جاری کیا کہ ایک سال اسرائیلی بچوں کو مارا جائے اور ایک سال نہ مارا جائے تاکہ یہ قتل بھی ہوتے رہیں لیکن ان کی تعداد کم نہ ہو جیسا کہ بزرگ قبطیوں نے مطالبہ کیا تھا ۔ چنانچہ نہ مارنے والے سال میں حضرت موسیؑ کے بڑے بھائی حضرت ہارون ؑپیدا ہوئے جبکہ مارنے کے حکم والے سال میں جناب موسیؑ ؑنے جنم لیا ۔

کہانی بڑی دلچسپ ہے لیکن ساتھ ساتھ اس قصے میں پوشیدہ بعض اہم نکات ، فلسفے اور حکمتیں بیان کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں تاکہ قارئین  اسے محض کہانی سمجھ کر نہ پڑھیں بلکہ اس میں چھپے خدائی راز بھی جان سکیں ۔

جیسا کہ ابتداء میں عرض کیا ، انبیاء کے حالات زندگی اور واقعات کو سمجھنے کے لئے اس کائنات کے خالق و مالک کو ماننا اولین شرط ہے ورنہ ہر چیز افسانہ نظر آئیگی ۔ لھذا روز اول سے ، تا قیامت رو نماء ہونیوالے واقعات ، حادثات اور معاملات کا لکھاری (  Script Writer ) اور منصوبہ ساز ( Planner ) وہ مالک خود ہے کہ جس نے اس کی بنیاد رکھی ۔ چونکہ حضرت موسیؑ کو ایک مشن دیکر بھیجنا مقصود  تھا لھذا اس مشن کی کامیابی کے لئے سازگار ماحول مہیاء کرنا بھی ضروری ٹھہرا ۔

کتنی حیران کن بات ہے کہ فرعون اسرائیلی بچوں کو مروا رہا ہے لیکن جس بچے نے آگے چل کر اس کی جھوٹی خدائی کو چیلینج کرنا تھا وہ اسی کے گھر میں پل کر جوان ہوتا ہے ۔ یہ اس کی پلاننگ کا نتیجہ ہے کہ حضرت موسیؑ کی ماں حاملہ تو ہوئیں لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ ان پر حمل کے آثار نمایاں نہ ہوئے ورنہ فرعون کی مقرر کردہ دائیاں ( Midwives ) گھر گھر جاکر خواتین کا جسمانی معائنہ کرتی پھر رہی تھیں ۔

جب پیغمبر خدا حضرت موسیؑ اس دنیاء میں تشریف لائے تو ماں کو فکر لاحق ہوگئی کہ کہیں فرعون کے گماشتے میرے بچے کو قتل نہ کر ڈالیں ۔ اسی سوچ و فکر میں مبتلا تھیں کہ اللہ کے فرشتے نے آکر ڈھارس بندھائی ،

قرآن حکیم میں ارشاد ہے :

اور ہم نے موسیؑ کی ماں کی طرف وحی بھیجی کہ اس کو دودھ پلاو ۔ جب تم کو اس کے بارے میں کچھ خوف پیدا ہو تو اسے دریاء میں ڈال دینا ۔ اور تو خوف اور رنج نہ کرنا ہم اس کو تمہارے پاس لوٹا دینگے اور پھر اسے پیغمبر بنادینگے ۔

  سورة القصص ۔ آیت 7

قارئین کرام

ایک روایت کے مطابق جناب موسیؑ کی والدہ ،  یوکابد نے ، اپنے بچے کو تین دن اور دوسری روآیت کے مطابق 3 ماہ دودھ پلایا لیکن فرعون کے اہلکاروں کی گھر گھر تلاشیوں کے خوف سے ،  باالآخر ننھے موسیؑ کو ایک ٹوکرے یا صندوق میں رکھ کر اللہ کی بتلائی ہوئی تدبیر کے عین مطابق دریائے نیل کے سپرد کردیا ۔ ٹوکرا دریاء میں بہانے کے ساتھ ہی اپنی بیٹی مریم ( موسیؑ کی بڑی بہن ) سے کہا کہ وہ اس ٹوکرے پر نظر رکھے ،  وہ کس سمت اور کہاں جاتا ہے ۔ چنانچہ مریم دریاء کے کنارے کنارے صندوق کے ساتھ  چلتی رہی تا آنکہ وہ فرعون کے محل کے پاس پہنچ گیا ۔ اتفاق کی بات اس وقت فرعون اور اس کی چہیتی ملکہ آسیہؑ ( سلام اللہ ) محل کی بالکونی میں بیٹھ کر دریاء کا نظارہ کررہے تھے ۔

ملکہ نے صندوق کو دیکھ کر تجسس ( Suspense )  کا اظہار کرتے ہوئے اسے باہر نکالنے کا حکم دیا ۔ جب صندوق اس کے سامنے لاکر کھولا گیا تو اسے ،  یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ( Delightful Confusion ) ہوئی کہ ایک نہآیت خوبصورت ، ننھا منا بچہ منہ میں انگوٹھا لئے لیٹا ہوا ہے ۔

Moses found
Image by Gordon Johnson from Pixabay

فرعون نے جب بچے کو دیکھا تو اسے نجومیوں کی بات یاد آگئی اور ارادہ کیا کہ اسے ماردیا جائے لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا لھذا

قرآن کے مطابق :

اور فرعون کی بیوی ( آسیہؑ ) نے کہا ، یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرنا ۔ شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔ اور وہ انجام سے بے خبر تھے ۔

سورِة القصص آیت نمبر 9

جب حضرت موسیؑ کو صندوق سے نکالا گیا تو وہ بھوک کی شدت سے بلبلاء رہے تھے ۔ آسیہؑ کے محل میں موجود خواتین نے بچے کو اپنا دودھ پلانے کی کوشش کی مگر پیغمبر خدا نے کسی بھی عورت کا دودھ پینے سے انکار کردیا اور مسلسل روتے رہے ۔

القرآن :

اور ہم نے پہلے ہی اس پر سب دائیوں کا دودھ حرام کردیا تھا ۔

سورة القصص

ادھر ان کی بہن مریم صندوق کا پیچھا کرتے کرتے محل کے دروازے تک پہنچ گئی ۔ جب اس نے یہ ماجرا دیکھا تو گویا ہوئی ،

” کیا میں تمہیں ایسے گھرانے کا پتہ نہ بتاوں کہ جس کی عورت کے دودھ کو یہ بچہ پسند کرے ۔ آسیہؑؑ سے  ننھے موسیؑ کا رونا دھونا دیکھا نہیں جارہا تھا ۔ اس نے مریم کی آفر فورا قبول کرلی اور اس عورت کو  بلانے کا کہا ۔ مریم گھر جاکر ماں کو ساتھ لے آئی اور حضرت موسیؑ نے ماں سے لپٹ کر دودھ پینا شروع کر دیا ۔ یہ منظردیکھ کر فرعون کے وزیر ہامان نے موسیؑ کی والدہ سے کہا ، یہ بچہ تمہارا ہی تو نہیں جس پر انہوں نے جواب دیا ، نہیں یہ بچہ میرا نہیں بلکہ میرے دودھ میں ایسی خوشبوء اور ذائقہ ہے کہ ہر بچہ اسے خوشی سے پی لیتا ہے ۔ یہ جواب سن کر وہ مطمئن ہوگیا ۔

 اس موقع پر انبیاء کی عصمت و پاکیزگی کے مظاھرے کو مت بھولئیے ۔ آپ نے دیکھا کہ ننھے موسیؑ نے پالنے  ( Cradle ) میں بھی مشرکین سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کسی مشرکہ عورت کا دودھ پینے سے انکار کردیا ،  کیونکہ انہوں نے آگے چل کر شرک کے مقابلے میں توحید کا علم بلند کرنا تھا ۔  یہاں دو باتیں واضع ہوکر سامنے آتی ہیں اوّلاً یہ ، کہ نبی یا رسول ، کسی ڈپٹی کمشنر یا کمشنر کی طرح ،  ٹریننگ کے بعد مقرر ( Appoint ) نہیں ہوتے بلکہ انہیں پیدا ہی اسی غرض سے کیا جاتا ہے . پیغمبری ان کی ساخت میں رکھ دی جاتی ہے لیکن اس کا اعلان وہ اپنے رب کے حکم سے وقت مقررہ پر کرتے ہیں ۔ تاہم نبوت کی صفات کا اظہار ان کے  بچپن ہی سے شروع ہوجاتا ہے ۔  جیسا کہ حضرت موسیؑ نے مشرک عورتوں کا دودھ پینے سے انکار کرکے کیا ۔ دوئم یہ کہ ان کی تربیت مومنین و مومنات کے ہاتھوں ہوتی ہے جس طرح حضرت موسیؑ کو دودھ تو اپنی والدہ یوکابد نے پلایا لیکن پرورش سیّدہ  آسیہؑؑ ( فرعون کی زوجہ ) نے کی ۔

موسیؑ ع ابھی چھوٹے تھے کہ ایک دن سیّدہ  آسیہؑؑ نے انہیں فرعون کی گود میں بٹھادیا ۔ آپ نے کھیلتے کھیلتے فرعون کی داڑھی پکڑ لی اور بال نوچ ڈالے ۔ ایک اور روآیت میں ہے کہ اس کے منہ پر زوردار مکہ دے مارا ۔ اس پر فرعون نے غصے میں آکر آسیہؑ ؑسے کہا ، دیکھا ، میں نے نہیں کہا تھا کہ یہ بچہ خطرناک ہے ہمیں اس کو قتل کردینا چاہئیے ۔ آسیہؑ ؑنے فرعون کو تسلی دی اور کہا یہ بچہ ہے اسے اچھے برے کی کیا تمیز ۔ اگر تم امتحان لینا چاہو تو میں اپنی بات سچ ثابت کرسکتی ہوں چنانچہ اس نے ایک طشت ( Tray ) میں  ایک سمت یاقوت ( Ruby )  اور دوسری طرف دہکتے انگارے ( burning charcoal )  رکھ کر لانے کا حکم دیا ۔ یاد رہے یاقوت ایسا نگینہ ہے جس کی رنگت دہکتے انگارے جیسی ہوتی ہے ۔ جب خادمہ طشت لیکر آئی تو اسے موسیؑ کے سامنے رکھا گیا ۔ جناب موسیؑ نے یاقوت کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر فرشتے نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انگارے کی طرف کردیا لھذا موسیؑ نے انگارہ اٹھا کر منہ میں ڈال لیا جس سے ان کی زبان جل گئی اور  زبان میں لکنت پیدا ہوگئی ۔    اس پر آسیہؑ نے فرعون سے کہا ، دیکھ لیا آپ نے ، بچہ ہے نادان ہے ورنہ انگارے کو منہ میں نہ ڈالتا ۔ اس بات پر فرعون کو یقین آگیا اور اس کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا ۔

یاد رکھئے  ،  آسیہؑؑ مومنہ تھی اور وہ جنت میں جائیگی کیونکہ نہ صرف اس نے حضرت موسیؑ کو قتل ہونے سے بچاکر خدائی مشن کو کامیاب بنایا بلکہ ایک نبی کی پرورش کرکے انہیں جوان کیا اور جب ان کے معجزات دیکھے تو ایمان لے آئی لیکن فرعون کے ڈر سے اسے مخفی رکھا ۔ وہ ہمیشہ حضرت موسیؑ کے مشن کی حمایتی اور مددگار رہی ۔ جب فرعون کو علم ہوا تو اس نے اسے منع کیا مگر وہ باز نہ آئی جس پر فرعون نے اسے ٹکٹکی پر باندھ کر ھاتھ پاؤں میں میخیں گاڑ دیں اور چلچلاتی دھوپ میں رکھ دیا ۔ اس کرب سے گزرتے ہوئے سیّدہ  آسیہؑؑ نے رب سے دعاء کی :

القرآن :

اے میرے رب میرے لئے اپنے حضور جنت میں ایک گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچالے اور مجھے ان ظالم لوگوں سے نجات بخش ۔

سورة التحریم : آیت نمبر 12

فرعون نے سیّدہ  آسیہؑ پر بے پناہ تشدد کیا تاکہ وہ موسیؑ کے دین کو چھوڑ دے مگر اس مومنہ نے سانس کی ڈوری تو چھوڑ دی لیکن فرعون کا کہا نہ مانا ۔ آپ کی قبر مصر میں ہے ۔

حضرت موسیؑ جوانی کو پہنچے تو بہت خوبصورت اور وجیہہ ( Pretty ) تھے ۔ مصر کے لوگ انہیں شہزادہ ( Prince ) اور فرعون کا  لے پالک بیٹا ( adopted son )خیال کرتے تھے لیکن آپ کو تائید الہی سے اس بات کا علم تھا کہ وہ قبطی یا فرعون کے خاندان سے نہیں بلکہ اسرائیلی اور آل ابراھیم ؑمیں سے ہیں ۔ آپ اکثر فرعون اور اس کے حواریوں ( Associates ) کی طرف سے مصر میں رہنے والے اسرائیلیوں پر ڈھائے جانیوالے مظالم ، تشدد اور ان کے ساتھ ہونیوالی سماجی نا انصافیوں ( Social Injustice ) کے خلاف آواز اٹھاتے ۔ایک دن جب لوگ سو رہے تھے آپ شہر کی گشت پر نکلے اور دیکھا کہ ایک قبطی اور اسرائیلی لڑ رہے ہیں ۔ اسرائیلی نے موسیؑ کو دیکھ کر مدد کے لئے پکارا ۔ موسیؑ پاس گئےاور  اپنے ہم قبیلہ اسرائیلی کو اس سے چھڑانے کی کوشش کی مگر قبطی مسلسل اسے مار رہا تھا ۔ موسیؑ نے غصے میں آکر اسے ایک ایسا مکہ ( Punch ) مارا کہ اس کی موت واقع ہوگئی ۔ آپ وہاں سے نکل لئے لیکن  دوسرے روز پھر دیکھا کہ وہی اسرائیلی ایک اور قبطی سے لڑ رہا ہے ۔ آپ نے کہا تم اچھے انسان نہیں ، ہر ایک سے لڑتے ہو ۔ جب آپ اس پر چلائے تو اسرائیلی سمجھا یہ مجھے مارنے کا ارادہ رکھتا ہے لھذا وہ بہ آواز بلند گویا ہوا ، موسیؑ تم نے کل ایک قبطی کو مار ڈالا تھا آج مجھے مارنا چاہتے ہو ۔ اس کی یہ بات قبطی نے فرعون تک پہنچا دی جو پہلے ہی اگلے روز ہونیوالے قتل کے مجرم کو تلاش کرنے کا حکم دے چکا تھا ۔ جب اسے علم ہوا کہ کل ہونیوالا قتل موسیؑ نے کیا تھا تو اس نے ان کی فوری گرفتاری اور قتل کا آرڈر جاری کردیا ۔ موسیؑ کو اس بات کا علم نہ تھا اور اس سے قبل کہ وہ گرفتار ہوجاتے فرعون کے ایک درباری حزقیل ( جسے بعد میں” مومن آل فرعون ” کہا گیا )  نے آکر حضرت موسیؑ کو خبر دی کہ آپ قتل کردئے جائینگے لھذا بہتر یہی ہے کہ بلا تاخیر شہر چھوڑ دیں ۔ چونکہ حزقیل فرعون کے مشیروں میں شامل تھا اس لئے اس کی بات کو صحیح مان کر حضرت موسیؑ شہر  سے نکل گئے لیکن ساتھ ہی اللہ سے معافی مانگی کہ میں نے قبطی کو قتل کی نیت سے مکہ نہیں مارا تھا اس لئے مجھے معاف کردیا جائے چنانچہ اللہ نے جو دلوں کے بھید جانتا ہے ، موسیؑ کو معاف کردیا ۔

Moses did great things
Image courtesy of outsetministry.org

8 دن تک پا برہنہ ( barefoot ) بغیر کسی زاد راہ ، خوراک نہ پانی ، گھوڑا نہ گاڑی ، عرب کے دشوار گزار راستوں پر چلتے ہوئے ایک جگہ پہنچے جہاں لوگوں کی بھیڑ جمع تھی ۔ آپ نے دیکھا کہ ایک کنویں کے گرد چرواہے اپنے مال مویشیوں کو پانی پلانے کے لئے جمع ہیں ۔ مرد حضرات کنویں سے لوٹے کے ذریعے پانی نکال کر اپنے چوپائیوں کو پلارہے ہیں لیکن دو نوجوان لڑکیاں ایک طرف کھڑی ہیں اور انہیں کوئی آگے نہیں بڑھنے دے رہا ۔ آپ نے ان کے قریب جاکر پوچھا ،

بی بی کیا بات ہے ؟

سب لوگ اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے ہیں لیکن آپ پیچھے ہٹ کر ایک طرف کھڑی ہیں ۔ اس پر ان لڑکیوں نے جواب دیا

اے اجنبی ! ہمارا باپ بوڑھا ہے اس لئے ہمیں ہی مال مویشی کی دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے اور یہاں جب انہیں پانی پلانے آتی ہیں تو کوئی ہمارا خیال نہیں کرتا ۔ جبتک یہ سب لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلاکر چلے نہ جائیں ، ہمیں انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ لوٹا اتنا بھاری ہے کہ ہم اسے کھینچ نہیں سکتیں لھذا چرواہوں سے بچا کھچا پانی اپنی بکریوں کو پلاکر چلی جاتی ہیں ۔ 

موسیؑ اس وقت بھرپور جوان تھے یہ بات سن کر طیش میں آگئے ۔ لوگوں کی صفیں چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور کہا سب ہٹ جاؤ ان لڑکیوں کے جانوروں کو میں پانی پلاونگا ۔ آپ لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ جوان لڑکیاں اتنی دیر سے کھڑی ہیں ۔ موسیؑ کی جوانی اور شیر جیسی دھاڑ سن کر لوگ ایک طرف تو ہوگئے لیکن ایک بھاری پتھر کنویں کے منہ پر رکھ کر آپس میں طے کرلیا کہ پانی کا لوٹا کھینچنے میں اس کی مدد نہیں کرنی ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس کنویں سے پانی نکالنے کے لئے چمڑے کا بنا ہوا لوٹا اتنا بڑا تھا کہ اسے رسی کی مدد سے 4 لوگ بہ مشکل اوپر کھینچ سکتے تھے اس لئے ان چرواہوں نے خیال کیا کہ یہ نوجوان اکیلے نہ تو اتنا بھاری پتھر اٹھا سکے گا اور نہی لوٹا کھینچ سکے گا ۔لھذا اسے سبق سکھانے کے لئے اکیلا چھوڑ دیا جائے لیکن وہ کم بخت یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کا پالا اللہ کے نبی سے پڑا ہے جسے آگے چل کر معجزات دکھانے ہیں ۔

قصہ مختصر حضرت موسیؑ نے اکیلے ہی وہ پتھر جسے 10 لوگ مل کر اٹھاتے تھے ، کنویں کے اوپر سے ہٹایا اور لوٹا کھینچ کر ان کی بکریوں کو پانی پلادیا ۔ لکھا ہے کہ معجزاتی طور پر  موسیؑ کے نکالے ہوئے ایک ہی لوٹے سے سب جانوروں نے سیر ہوکر پانی پی لیا ۔  لڑکیاں ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے جانور ہانک کر گھر چلی گئیں ۔ اس دن خلاف معمول جب وہ شام سے پہلے گھر پہنچیں تو بوڑھے باپ نے جلدی آنے کی وجہ پوچھی ۔ لڑکیوں نے کہا ، والد بزرگوار ، آج ایک اجنبی نوجوان نے جانوروں کو پانی پلانے میں ہماری مدد کی اس لئے ہمیں کنویں پر انتظار نہیں کرنا پڑا اور ہم جلد گھر پہنچ گئیں ۔

moses and jethro's daughters

موسیؑ مصر سے مدائین تک کے طویل سفر میں  پیدل چلتے چلتے تھک کر چور ہوچکے تھے ۔ راستے میں جڑی بوٹیاں اور درختوں کے پتے کھانے سے پیٹ کمر سے جا لگا تھا ۔ اس بے بسی اور بے کسی کی حالت میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اللہ سے دعاء کی کہ اے میرے پروردگار میری مدد فرماء ۔

تھوڑی ہی دیر میں دیکھا کہ ان دو لڑکیوں میں سے ایک ، لجاتی اور شرماتی ہوئی ان کے پاس آئی اور کہا

آپ نے ہماری مدد کی اس لئے ہمارے والد آپ کو اس کی اجرت دینا چاہتے ہیں ۔ آپ میرے ساتھ چلیں ۔ وہ آگے آگے چل دی اور موسیؑ اس کے پیچھے لیکن پیغمبر خدا کو یہ صورت اچھی نہ لگی اور لڑکی سے کہا میں آگے چلونگا اور تم پیچھے ۔ جس طرف مڑنا ہو اس طرف ایک کنکر پھینک دینا ۔ لڑکی کو اجنبی کی اس شرافت نے بہت متاثر کیا ۔ وہ گھر پہنچے تو لڑکی نے باپ سے موسیؑ کے بھاری پتھر اٹھانے اور اکیلے لوٹا نکالنے پر طاقت اور کردار میں شرافت کی تعریف کی ۔ والد نے بیٹیوں کو ان کی خاطر مدارت کا حکم دیا اور موسیؑ سے کہا کہ تمہاری ، جوانی ، حسن ، طاقت اور شرافت دیکھ کر میرا جی چاہتا ہے کہ اجرت کے بدلے  تمہیں اپنی بیٹی کا رشتہ دیدوں ۔ موسیؑ نے ان کی بات کو قبول کیا اور طے پایا کہ حق مہر اداء کرنے کے لئے انہیں ( موسیؑ کو ) 8 سال تک ان کی بکریوں کی دیکھ بھال کرنی ہوگی ۔

قارئین کرام

جن لڑکیوں سے موسیؑ کی ملاقات کنویں پر ہوئی ، ان کے بوڑھے والد دراصل ( موسیؑ کے پیشرو پیغمبر )  حضرت شعیب علیہ السّلام تھے اور ان کی جس بیٹی سے حضرت موسیؑ کی شادی ہوئی اس کا نام صفورہ تھا ۔ ہماری مسلم سوسائیٹی میں بچیوں کا نام صفورہ رکھا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک پیغممبر خدا حضرت شعیب علیہ  السّلام کی بیٹی اور موسیؑ کی بیوی کا بابرکت نام ہے ۔

حضرت موسیؑ اپنی بیوی سیّدہ  صفورہ سلام اللہ کا حق مہر ادا کرنے کے لئے کم وبیش 10 برس تک مدائن میں اپنے سسر حضرت شعیب ؑ کی بکریوں کی دیکھ بھال کرتے رہے ۔ یاد رہے یہ جگہ بحیرہ احمر ( Red Sea ) اور خلیج عقبہ کے کنارے پر ہے ۔

حضرت شعیب ؑسے کئے گئے وعدے کے مطابق مدت پوری ہونے پر اپنے اہل و عیال اور بھیڑ بکریوں کو لیکر واپس مصر روانہ ہوگئے ۔ دن بھر چلنے کے بعد جب اندھیرا چھایا تو وادی ایمن کے قریب راستہ بھول گئے ۔ اندھیری رات تھی ، ایک جگہ رک گئے ۔ ابھی اسی سوچ میں گم تھے کہ صحیح راستے کا اندازہ کیسے ہو ،  دور ایک جھاڑی میں شعلے لپکتے نظر آئے ۔ سوچا وہاں سے آگ لے آؤں تاکہ روشنی ہو اور راستے کا پتا چل سکے لھذا اپنی بیوی سے کہا ،

القرآن

” ٹھہر جاؤ میں نے آگ دیکھی ہے شاید میں تمہارے پاس اس میں سے ایک شعلہ لے آوں یا اسی آگ پر رستہ پاؤں “

سورة طہ آیت نمبر 10

وہ آگ طویٰ کی مقدس وادی میں جل رہی تھی ۔ حیرت کی بات یہ کہ آگ بڑھ رہی ہے اور درخت مزید ہرا بھرا ہوتا چلا جارھا ہے ۔ موسیؑ قریب گئے اور شعلے کو پکڑنا چاہا تو شعلے ان سے لپٹ گئے ۔ عجیب صورت حال تھی آگ لپٹ گئی لیکن جلایا نہیں ۔ دراصل یہ آگ نہیں تجلی تھی ۔ آپ  ابھی اسی تذبذب اور خوف میں مبتلاء تھے کہ ماجرا کیا ہے ، وہاں سے پیچھے ہٹنا چاہا کہ اچانک آواز آئی ،

میں تیرا رب ہوں سو تو اپنے جوتے اتار دے کیونکہ تو اس وقت طویٰ کی مقدس وادی میں کھڑا ہے اور میں نے تجھے نبوت کے لئے چن لیا ہے ۔ سو اسے سن جو وحی کی جاتی ہے

سورة طه 12
طور سیناء – وادی طوی
CC BY-SA 3.0، ربط

یہاں وادی ایمن میں آپ کو نبوت عطاء ہوئی ۔ اللہ نے اسلامی احکام کی تعلیم دی اور پوچھا موسیؑ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ۔ کہا ، لاٹھی ہے ، اس سے جانوروں کو ہانک لیتا ہوں ، درختوں سے پتے توڑ کر بھیڑ بکریوں کو کھلا تا ہوں ۔ تھک جاوں تو اس سے ٹیک لگا لیتا ہوں ۔ اللہ نے کہا اسے زمین پر پھینک ۔ زمین پر پھینکا تو وہ سانپ بن کر چلنے لگا ۔ موسیؑ خائف ہوئے ۔ آواز آئی خوف نہ کھاؤ ہم اسے دوبارہ لاٹھی بنا دینگے ۔ اسے پکڑ کر اٹھا لو ۔ جب اٹھایا تو وہ سانپ دوبارہ لاٹھی میں تبدیل ہوگیا ۔ یہ پہلا معحزہ تھا جو عطاء ہوا اور جو آگے چل کر فرعون کے دربار میں کام آنے والا تھا ۔ پھر آواز آئی ، اپنا ہاتھ بغل میں ڈالو ، جب موسیؑ نے ہاتھ بغل میں ڈال کر نکالا تو اس میں سورج اور چاند جیسی چمک تھی ۔ ویسے تو حضرت موسیؑ کو 9 معحزے عطاء ہوئے لیکن یہ دو ( 2 )  ، کوہ طور کے دامن میں واقع وادی ایمن میں دیے گئے  ۔ نبوت ملنے پر موسیؑ کو اپنی زبان میں لکنت یا توتلے پن کا خیال آیا جو فرعون کے محل میں انگارہ منہ میں ڈالنے سے پیدا ہوگئی تھی لھذا رب سے دعاء کی ،

القرآن

رب اشرح لی صدری ۔۔۔۔۔۔۔.  ترجمہ

اے میرے رب میرے لئے میرا سینہ کشادہ کردے ۔ اور میرے کار رسالت میرے لئے آسان فرماء ۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات آسانی سے سمجھ سکیں ۔ اور میرے لئے گھر والوں میں سے میرا ایک وزیر بنادے

سورة طہ آیت 25 – 29

آواز آئی ، موسیؑ تیری دعاء قبول ہوئی ۔ اب تو مصر واپس جا اور فرعون کی سرکوبی کر ، کیونکہ اس نے گمراہی پھیلا رکھی ہے خود کو خدا کہتا ہے ۔ چنانچہ حضرت موسیؑ مع اہل و عیال مصر پہنچے ۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کرلیں کہ چونکہ موسیؑ نے وادی ایمن میں جو دعاء مانگی تھی اس میں اپنے گھر والوں میں سے کسی کو اس کا وزیر یا مددگار بنانے کی استدعاء بھی شامل تھی لھذا آپ کے مصر پہنچنے سے قبل آپ کے بھائی حضرت ہارونؑ کو نبوت عطاء ہوچکی تھی ۔ جب آپ 10 سال کے عرصے کے بعد اپنے علاقے میں وارد ہوئے تو جناب ہارونؑ نے استقبال کیا اور گھر لیکر گئے ۔

ایک یا دو دن اہل خانہ اور عزیز و اقارب کے ساتھ گزارنے کے بعد دونوں بھائی فرعون کے دربار میں گئے اور اسے اسلام کی دعوت دی ۔ فرعون نے آپ کو پہچان کر کہا ، کیا تو وہی موسیؑ نہیں جو میرے گھر میں پل کر جوان ہوا ۔ جواب دیا ، ہاں میں وہی ہوں اور تمہیں توحید کی دعوت دینے آیا ہوں ۔ فرعون نے پوچھا ، تم کس خدا کی بات کرتے ہو ، کہا ، وہی جو تمہارا ، تمہارے باپ دادا کا رب تھا اور جو زمینوں ، آسمانوں اور اس میں جو کچھ ہے ، اس سب کا مالک و خالق ہے ۔ فرعون نے کہا ، موسیؑ تم وہی نہیں ہو جس نے ایک قبطی کو قتل کردیا تھا ۔ کہا ، ہاں میں وہی ہوں ۔ مجھ سے غلطی ہوگئی لیکن میں نے اسے قتل کرنے کی نیت سے نہیں مارا اور پھر اللہ سے معافی مانگی اور اس نے مجھے معاف کردیا ۔ میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا تھا مگر اسی عرصے میں اللہ نے مجھے حکمت و دانائی بخشی اور رسالت عطاء کی ۔ میں تمہیں اپنے سچے خدا کی طرف بلاتا ہوں اور تم سے مطالبہ کرتا ہوں کہ میری قوم بنی اسرائیل کو میرے ساتھ واپس فلسطین جانے دو ۔فرعون نے موسیؑ کی باتیں سن کر اپنے درباریوں سے کہا ، دیکھو یہ شخص تمہیں گمراہ کرنے آیا ہے ۔ یہ تم سے سب کچھ چھین لینا چاہتا ہے ۔

اپنے درباریوں اور حواریوں سے مشورے کے بعد ، فرعون نے موسیؑ سے کہا اگر تم سچے ہو تو اپنی سچائی کا ثبوت دو ۔ اس پر موسیؑ نے اپنا عصاء زمین پر پھینکا جو اژدھا بن گیا ۔ پھر اپنا ہاتھ بغل میں ڈال کر نکالا تو اس سے سورج اور چاند جیسی روشنی نکلنے لگی ۔ یہ سب دیکھ کر فرعون نے کہا ، یہ تو کوئی بہت بڑا جادوگر ہے ۔ یہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دینا چاہتا ہے ۔ درباریوں نے فرعون کی باتیں سن کر کہا ، ان کو مہلت دی جائے اور آپ بھی پورے مصر سے جادوگر جمع کریں تاکہ اس سے مقابلہ کیا جائے ۔ چنانچہ فرعون نے حضرت موسیؑ سے کہا ، ہم بھی تمہارے مقابل جادوگر لائینگے ۔ تم ایک دن مقرر کرلو ۔ دن مقرر ہوا اور ہزاروں لوگ علی الصبح فرعون کے دربار کے قریب میدان میں جمع ہوگئے ۔ ایک طرف فرعون کے حواری اور درباری خوش گپیوں میں مصروف تھے تو دوسری طرف حضرت موسیؑ اور ان کے بھائی ہارون ، اللہ سے دعاء گو کہ انہیں فتح و نصرت نصیب ہو ۔ جب فرعون تخت پر بیٹھ گیا تو اس نے جادو گروں کو حکم دیا کہ مقابلہ شروع کریں ۔ جادوگروں نے موسیؑ سے پوچھا کہ تم پہلے اپنا کمال دکھاوگے یا ہم دکھائیں ۔ موسیؑ نے کہا تم پہلے اپنا جادو دکھاو ۔ یہ جواب پاکر جادوگروں نے اپنے ہاتھوں میں پکڑی رسیاں جب زمین پر ڈالیں تو وہ سانپوں کی طرح دوڑتی نظر آنے لگیں ۔ یہ دیکھ کر موسیؑ پریشان ہوگئے لیکن وحی آئی ، اے موسیؑ پریشان نہ ہو ۔ اپنا عصاء زمین پر پھینکو فتح تمہاری ہوگی ۔ حضرت موسیؑ نے اللہ کے حکم سے جب عصاء زمین پر پھینکا تو اس نے ایک بہت بڑے اژدھے کی شکل اختیار کرکے  جادوگروں کے بنائے تمام سانپوں کو نگل لیا ۔ یہ دیکھ کر جادوگر سمجھ گئے کہ موسیؑ جادوگر نہیں بلکہ اللہ کا سچا نبی ہے لھذا وہ ان پر ایمان لے آئے ۔

فرعون کو یہ بات ناگوار گزری ۔ اس نے جادوگروں کو سولی پر لٹکانے کا حکم دیا کیونکہ وہ اس کی خدائی کا انکار کرکے موسیؑ کے خدا پہ ایمان لے آئے تھے ۔ اس نے جادوگروں کو سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ نہ مانے اور کہا کہ موسیؑ سچا ہے اور ہم اس کے سچے خدا کے لئے سولی پر چڑھنے کے لئے تیار ہیں لھذا انہیں مار دیا گیا ۔

اس واقعے کے بعد تقریبا 20 سال تک حضرت موسیؑ مصر میں مقیم رہ کر فرعون اور اس کی قوم کو دین اسلام کی تبلیغ کرتے رہے مگر وہ نہ مانے ۔ اللہ کی اس نافرمانی کی پاداش میں ان پر متعدد عذاب نازل ہوئے ۔ ہر عذاب پر وہ موسیؑ کے پاس آتے اور عذاب ٹالنے کے لئے اللہ سے دعاء کی اپیل کرتے مگر عذاب ٹل جانے کے بعد دوبارہ نافرمانی شروع کردیتے ۔ اس عرصے میں آل فرعون پر 5 قسم کے عذاب نازل ہوئے ۔

1. ٹڈی دل کا عذاب

Jahvè disse a Mosè

2. پانی کا عذاب / طوفان

water

3. خون کا عذاب

blood

4. مینڈکوں کا عذاب

frogs

5. کیڑے مکوڑے /جوؤں کا عذاب

ہر عذاب سات دن تک جاری رہتا اور پھر حالات اصلی صورت میں واپس آجاتے ۔

اس دوران فرعون کی سرکشی اور بنی اسرائیل پر اس کے ظلم و ستم جاری رہے ۔ بالآخر اللہ نے وحی کے ذریعے حضرت موسیؑ کو حکم دیا کہ اپنی قوم کو لیکر مصر سے نکل جاو ۔ چنانچہ آپ رات کے پہلے پہر بنی اسرائیل کے تقریبا ساڑھے چھ لاکھ مردوں ، عورتوں اور بچوں کو ساتھ لیکر بحیرہ قلزم ( Red Sea ) کی طرف نکل پڑے ۔ قوم بنی اسرائیل پریشان تھی کہ موسیؑ ہمیں کہاں لیکر جارہا ہے ۔ پیچھے فرعون اور آگے ٹھاٹھیں مارتا سمندر لیکن موسیؑ نے اپنی قوم کو تسلی دی کہ میرا رب میرے ساتھ ہے آپ پریشان نہ ہوں ۔ ادھر فرعون کو صبح کے وقت موسیؑ اور اس کی قوم کے نکل جانے کی خبر ملی تو وہ بھی ایک بھاری فوج لیکر ان کے تعاقب میں نکل کھڑا ہوا۔

map Moses cross red sea
موسیؑ کے مصر سے خروج اور سمندر میں رستہ بننے کا نقشہ

جب موسیؑ اور ان کی قوم بحیرہ احمر / قلزم پر پہنچے تو وحی ہوئی ، اے موسیؑ اپنا عصا پانی پر مار ۔ حضرت موسیؑ نے جب عصا پانی پر مارا تو اس میں خشکی کے 12 راستے پیدا ہوگئے لھذا بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے ایک ایک راستہ اختیار کرکے دوسرے کنارے پر پہنچ گئے ۔ اسی اثناء میں فرعون بھی اپنے لشکر کے ہمراہ وہاں آن پہنچا ۔ اس نے اپنی فوج کو موسیؑ اور بنی اسرائیل کا پیچھا جاری رکھنے کا حکم دیا  چنانچہ فرعون کے لشکر نے بھی وہی راستہ اختیار کیا جس پر چل کر حضرت موسیؑ بحیرہ قلزم سے پار ہوئے لیکن جب وہ عین وسط میں پہنچے تو پانی دوبارہ آپس میں مل گیا اور آل فرعون وہاں غرق ہوگئے ۔

موسیؑ علیہ السّلام کی کہانی
فرعون اور اس کے لشکر کی غرقابی

موسیؑ اور اور ان کی قوم بنی اسرائیل کے وہاں سے چلے جانے کے بعد سمندر نے فرعون کی لاش کو باہر پھینک دیا جو ابتک مصر کے عجائب گھر میں نظارہ عبرت ہے ۔

mummy
فرعون کی لاش

یہاں یہ بات بھی نوٹ کرلی جائے کہ بعض مورخین کے نزدیک جس فرعون کے گھر حضرت موسیؑ نے پرورش پائی اس کا نام رعمیس دوم تھا لیکن جس فرعون کو دعوت اسلام دینے گئے وہ رعمیس دوم کا بیٹا منفتاح تھا ۔ اللہ یعلم باالصواب۔

یہ بات اس لئے گڈ مڈ ہوجاتی ہے چونکہ اس وقت کے ہر مصری حکمران کو فرعون کہا جاتا تھا ۔ تفصیل کے لئے دیکھئے میرا مضمون

فرعون کی کہانی ” ۔

نوٹ : یہ موسیؑ کی کہانی کا پہلا حصہ ہے )

SAS Bukhari

سیّدزادہ سخاوت بخاری

سرپرست اعلی آئی اٹک ای میگزین

سیّد زادہ سخاوت بخاری

شاعر،ادیب،مقرر شعلہ بیاں،سماجی کارکن اور دوستوں کا دوست

Next Post

مولا علیؑ کی نظر میں دنیا ایک دھوکہ

جمعہ جون 3 , 2022
امیرالمومنینؑ کا معمول تھا کہ رات ہی مسجد میں جاتے اور اُسی وقت سے عبادت الٰہی میں مصروف ہوتے تھے یہاں تک کہ صبح کے آثار نمایاں ہوتے
مولا علیؑ کی نظر میں دنیا ایک دھوکہ