زندگی سو میٹر کی دوڑ نہیں ہوتی۔ یہ لمبی دوڑ ہوتی ہے ، میراتھن ریس ۔
افسانہ
اب مجھے تمہارا انتظار بھی نہیں، لیکن تمھارے حصے کی چائے بنانا آج بھی نہیں بھولا۔
وہ شرط بھی ہار گیا تھا اور زندگی کی بازی بھی
فضا میں اڑتے گِدھوں میں یک دم ہلچل سی مچ گئی۔ ان کے دائرے سکڑنے لگے۔
شک بعض اوقات اندھیرے میں جلنے والا پہلا چراغ ہوتا ہے۔
شادی محبت سے نہیں چلتی، برداشت سے چلتی ہے۔ محبت درخت کا پھول ہے، برداشت اس کی...
ساری عمر کی عبادت اور ایک لمحے کی نیت
جب انسان بانٹنا سیکھ لیتا ہے… تو صرف چیزیں نہیں بٹتیں، اس کا اپنا بوجھ بھی ہلکا...
ہوا میں عجب سی ٹھہراؤ تھا… گلیاں نیم سنسان… اور درختوں کے سائے لمبے ہو کر زمین...
اُس خوبصورتی کے نیچے کہیں کوئی تھکن تھی۔
کوئی خاموش سمجھوتہ۔