ساری عمر کی عبادت اور ایک لمحے کی نیت
افسانہ
جب انسان بانٹنا سیکھ لیتا ہے… تو صرف چیزیں نہیں بٹتیں، اس کا اپنا بوجھ بھی ہلکا...
ہوا میں عجب سی ٹھہراؤ تھا… گلیاں نیم سنسان… اور درختوں کے سائے لمبے ہو کر زمین...
اُس خوبصورتی کے نیچے کہیں کوئی تھکن تھی۔
کوئی خاموش سمجھوتہ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ شخص محلے کی مسجد میں اعتکاف میں بیٹھا ہوا تھا۔
“کیا تم مظفرآباد سے راولپنڈی تک گاڑی چلا سکتے ہو؟”
اس واقعے کے بعد میں نے ابا کے چہرے پر وہ بے فکری والی مسکراہٹ کبھی...
مگر شاید سونا دفن نہیں ہوتاوہ نسلوں کی رگوں میں چمکتا رہتا ہے۔
اللہ سفید گلاب کو سیاہ ہونے دیتا ہے
تاکہ بندہ اپنے اندر چھپی روشنی کو پہچان سکے۔
صاحب، عزت بھی موقع ہوتی ہے۔ اور وہ ایک ہی بار ملتی ہے۔