سجدہ
مریم بی بی کی آنکھ حاجی صاحب کے رونے کی آواز سن کر کھلی تھی ۔ یقیناَ تہجد کا وقت تھا اور وہ حسب عادت سجدے میں سر رکھے ہچکیوں میں رو رہے تھے ۔ یہ ان کا روز کا معمول تھا ۔ تہجد کی نماز کے بعد وہ سجدے میں گر کر خوب روتے اور ایک ہی دعا مانگتے
” یا اللہ مجھے عین حالات سجدہ میں موت دینا "
اس کے لیے یہ کوئی غیر معمولی بات نہ تھی مگر آج وہ جانے کیا سوچ کر رک سی گئی تھی ۔ اسے یہ بھی یاد نہ رہا تھا کہ انھوں نے فجر کی نماز کے لیے وضو بھی کرنا ہے ۔ جانتی فجر کی نماز ابھی وقت تھا سو وہ اطمینان سے وہاں کھڑی یک ٹک ان کو دیکھ اور سن رہی تھیں ۔ خدا خدا کرے ان کا وہ طویل سجدہ ختم ہوا ۔ وہ اٹھے تو ان کی سفید داڑھی آنسوؤں سے تر تھی ۔ قمیص تک گیلا ہو چکا تھا ۔ اب وہ مصلے پر دو زانو بیٹھے دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپائے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ رونے کی ہلکی ہلکی آواز اب تک آ رہی تھی اور ان کا وجود ہل بھی رہا تھا ۔ انھیں نارمل ہونے میں کچھ دیر لگ گئی ۔
” حاجی صاحب ایک بات تو بتائیں ۔۔۔”
وہ ایک دم سے چونک اٹھے ۔ استغراق کا یہ عالم تھا انھیں پتہ ہی نہ چلا ، کوئی کب سے انھیں دیکھ رہا ہے ۔ ویسے بھی سجدے میں دکھائی کب پڑتا ہے ؟ اوپر سے آپ رو بھی رہے ہوں ۔ ایسے میں قدموں کی چاپ کب سنائی دیتی ہے ۔
” خشوع و خضوع ہو تو ایسا "
وہ اپنے شوہر کے تقوے کی دل سے قائل تھی ۔ اس نے ان جیسا نیک دل انسان آج تک نہیں دیکھا تھا ۔ اس نے ولیوں کا صرف ذکر سنا تھا یا کتابوں میں پڑھا تھا ۔ دیکھا بس انہی کے روپ میں تھا ۔
” پوچھو بھئی پوچھو ، تمھیں اجازت کی ضرورت کب سے پڑ گئی ؟
وہ نرمی سے بولے ۔ ہر ایک سے ان کا لہجہ ایسا شفیق ہوتا کہ پل بھر میں غیروں کو بھی اپنا کر لیتے ۔
” آپ ماشاءاللہ بہت نیک انسان ہیں ، حاجی ہیں ، کئی عمرے کر چکے ہیں ۔ صوم و صلوٰۃ کے پابند ہیں ۔ اللہ کی راہ میں دل کھول کر خرچ کرنے والے بھی ہیں ۔ کیا آپ کی بخشش کے لیے یہ سب کافی نہیں ہے ، جو آپ سجدے میں جا کر سجدے میں مرنے کی دعا مانگتے ہیں "
وہ ان کے چہرے پر نظریں گاڑتے ہوئی بولی ۔ حاجی صاحب کے چہرے پر موجود مسکراہٹ اور گہری ہو گئی ۔ وہ مسکراہٹ ان کے چہرے کا لازمی حصہ تھی ۔ مریم بی بی نے آج تک انھیں پریشان یا مایوس نہیں دیکھا تھا ۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ اپنا من مار چکے ہیں
اکثر کہا کرتے تھے
” تیری مرضی میرے مولا تو جس حال میں رکھے "
” بھئی میں اپنی طرف سے تو کوشش کرتا ہوں کہ نیک کام کروں اور برائی سے بہر طور بچا رہوں ہر وہ کام کرتا ہوں جو اسے خوش کرے تاکہ وہ مجھے راضی رہے مگر ۔۔۔۔ مجھے کیا معلوم کہ میرے اعمال اس بے نیاز نے قبول بھی کیے ہیں یا ۔۔ "
” تو پھر تو آپ کو حالت ایمان پر موت اور اعمال کی قبولیت کی دعا مانگنی چاہیے ، اور آپ ہیں کہ سجدے میں مرنے کی دعا کرتے رہتے ہیں "
مریم بی بی نے حیران ہو کر کہا
” حیرت ہے ، کیا تم نے نہیں سنا کہ انسان جس حالت میں مرے گا اسی حالت میں اٹھے گا ۔ اب اگر میں حالت سجدہ میں دنیا کو چھوڑتا ہوں تو اٹھوں گا بھی تو اسی حالت میں ، تو تم ہی بتاؤ یہ کتنی بڑی سعادت ہو گی ۔ میں تو کہوں گا تم بھی میرے لیے یہی دعا کیا کرو ۔۔۔۔
” حاجی صاحب کہیں آپ کے لاشعور میں یہ بات تو نہیں ہے کہ لوگوں کی زبانوں پر آپ کے ذکر جاری رہے گا ۔ بڑی واہ واہ ہو گی ۔ خوب چرچا ہو گا کہ حاجی صاحب بڑے نیک انسان تھے ۔ کتنی پیاری موت آئی ہے انھیں ۔ عین سجدے کی حالت میں رب نے انھیں اپنے پاس بلوا لیا ۔ زندگی تو ایسی موت ہو تو ایسی ۔۔۔ "
بالآخر اس نے آج وہ سب کہہ ڈالا جو کب سے اسے پریشان کر رہا تھا ۔ وہ شوہر کی ناراضی کے خیال سے زبان پر لانے سے ڈرتی تھی ۔ عزت بھی تو بہت کرتی تھی ۔ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی کسی بات سے ان کا دل دکھے ۔
حاجی صاحب کے اعصاب پر گویا بم سے آن گرا ۔ وہ بت کی مانند ساکت سے ہو گئے ۔ پھٹی پھٹی نظروں سے بیوی کو یوں دیکھنے لگے جیسے پہلی بار دیکھ رہے ہوں یا بہت عرصے بعد ۔۔ جانے کتنی دیر یونہی گزر گئی ۔ پھر اچانک وہ منظر متحرک ہوا اور وہ چیخ مار کر سجدے میں جا گرے ۔
” یا اللہ مجھے معاف کر دے ۔۔ میرے رب مجھے بخش دے ۔ میری التجا سن لے ۔ مجھے حالت سجدہ میں کبھی موت نہ دینا ، کبھی نہ دینا ۔۔
ان کی آواز اتنی بلند تھی کہ پورے گھر میں گونجنے لگی تھی ۔ سب گھر والے اکٹھے ہو گئے مگر وہ ان سب سے بے نیاز ایک ہی دعا مانگ رہے تھے کہ ان کی موت سجدے کی حالت میں نہ ہو ۔
وہ مسلسل رو بھی رہے تھے ، دعا بھی مانگ رہے تھے کہ اچانک ان کی آواز تھم گئی اور وہ ایک دم سے دائیں طرف کو لڑھک گئے ۔ ان کی بیوی ان کے ساتھ ہی کھڑی تھی ، گھبرا کر آگے بڑھی اور انھیں اٹھانا چاہا مگر ۔۔۔۔ ان کی چیخ نکل گئی اور منہ سے بمشکل نکلا
” انا للہ و انا الیہ راجعون ”
۔۔۔
آخر میں جب حاجی صاحب گر پڑے تو مریم بی بی ساکت کھڑی رہ گئیں۔
ان کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ زبان خشک تھی۔
رات کی خاموشی میں ان کی سانسیں ہولے ہولے لرز رہی تھیں۔
وہ حاجی صاحب کے چہرے کو دیکھ رہی تھیں۔
وہ چہرہ جو ساری عمر خدا کی محبت کا آئینہ تھا۔
اور اب اس پر ایک عجیب قسم کا سکون تھا۔
جیسے کسی دیرینہ سوال کا جواب مل گیا ہو۔
مریم بی بی کے دل میں ایک تیر سا لگا۔
تو نیت کا فرق اتنا گہرا تھا؟
ساری عمر کی عبادت اور ایک لمحے کی نیت…
کس پل کس طرف جھکا دیتی ہے… انسان کو خود بھی خبر نہیں ہوتی۔
وہ آہستہ سے بیٹھ گئیں۔
حاجی صاحب کی انگلیاں تھامی رہیں۔
اور بہت دھیرے سے کہا:
"اے میرے اللہ… نیت کو سیدھا رکھ دینا…
ورنہ سجدے بھی کبھی کبھی… بت بن جاتے ہیں۔”
گھر کے کونے میں اذان کی پہلی ہلکی صدا ابھری تھی۔
فجر شروع ہو رہی تھی۔
اور ایک سجدہ… ہمیشہ کے لیے مکمل ہو چکا تھا
۔۔۔۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |