سب نے اپنی استطاعت کا لتاڑا ہے مجھے
شاعری
مجھے یہ خوش گمانی، بے غرض حسرتؔ کیے ہوں گے
ہے نُور چمکا علی ؑ دے گھر وچ شعاع وی ارض و سما تے گئی ہے
مقبول ذکی ۔ سخن کا امین،
ادب کی زمیں کا پیارا نگین
یہ ٹی ہاؤس فقط عمارت نہیں رہا
یہ شہر بھکر کی روح، اور خواب ہمارا رہا
الفاظ کے پیکر میں خوابوں کو سجاتا ہے
مقبول ذکی مقبول دلوں کو جگاتا ہے
جب وہ قائم جھٹکتا ہے زلفیں
کتنے چہروں سے رنگ اڑاتا ہے
اُس کی قسمت میں کوئی پیچ نہیں رہ سکتا
جس کا جیون ہو تری زلف کا خَم، وہ...
ترے غم میں جو سیلِ اشک جاری ہو
رہے جاری، رہے جاری، رہے جاری
اپنی خوش بختی پہ پیار آنے لگا ہے یاور!
نعت کا شعر مدینے سے ملا ہے مجھ...