کہ ہو رنج کی بھلا کیا خبر، مجھے درد اتنا رہا نہیں
شاعری
آزما کر دوستوں کو باری باری دیکھنا
حدود میں وہ مری سلطنت کی آ پہنچا
میں کچھ بھی کر نہ سکا بس کمان تھامے رہا
جھڑے ہیں شاخِ تکلّم سے حرفِ بے نکہت
بہ اذنِ احمدِ مختارﷺ پائی ہے خوشبو
یہہ ماݨ ہے سرائیکی، وسیب دا فخر ہے
محبت دا ایہہ نقیبِ، مقبول حسین ذکی
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مقبول ذکی جو لکھدا ہے ، او لفظ ہوندے اکثیر اے
نکھڑدیں نِکھڑدیں نِکھڑدا گیاں ہاں
پھر یوں ہوا کہ کاٹ کے رکھ کی زبان بھی
کس منہ سے اب تو غیر کی...
جہڑا در رحمت ہر کہیں کیتے
امامت کُوں کرو پورا ایہا مقبول دی آس اے
علی والی ولائت ہن ایں عالم کُوں ڈِکھا...
او ڈیکھ کے بس صبر تہڈا فرات دریا سلام ڈیندائے