او ڈیکھ کے بس صبر تہڈا فرات دریا سلام ڈیندائے
شاعری
خون جب ابنِ علیؑ کا ریت میں شامل ہوا
بن گئی وہ تو معلٰی ہو سلامِ کربلا...
کربل تیرا پاک گھرانہ
سب کا منصب اعلیٰ سچ مچ
نال حسینؑ دے جہڑے رَلے
پاگئے سارے عمر او لمبی
سب نے اپنی استطاعت کا لتاڑا ہے مجھے
مجھے یہ خوش گمانی، بے غرض حسرتؔ کیے ہوں گے
ہے نُور چمکا علی ؑ دے گھر وچ شعاع وی ارض و سما تے گئی ہے
مقبول ذکی ۔ سخن کا امین،
ادب کی زمیں کا پیارا نگین
یہ ٹی ہاؤس فقط عمارت نہیں رہا
یہ شہر بھکر کی روح، اور خواب ہمارا رہا
الفاظ کے پیکر میں خوابوں کو سجاتا ہے
مقبول ذکی مقبول دلوں کو جگاتا ہے