گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
شاعری
مقبول ذکی جو لکھدا ہے ، او لفظ ہوندے اکثیر اے
نکھڑدیں نِکھڑدیں نِکھڑدا گیاں ہاں
پھر یوں ہوا کہ کاٹ کے رکھ کی زبان بھی
کس منہ سے اب تو غیر کی...
جہڑا در رحمت ہر کہیں کیتے
امامت کُوں کرو پورا ایہا مقبول دی آس اے
علی والی ولائت ہن ایں عالم کُوں ڈِکھا...
او ڈیکھ کے بس صبر تہڈا فرات دریا سلام ڈیندائے
خون جب ابنِ علیؑ کا ریت میں شامل ہوا
بن گئی وہ تو معلٰی ہو سلامِ کربلا...
کربل تیرا پاک گھرانہ
سب کا منصب اعلیٰ سچ مچ
نال حسینؑ دے جہڑے رَلے
پاگئے سارے عمر او لمبی