جس شخص پہ نہیں تھا وہم و گمان بھی
وہ دل کے ساتھ ساتھ لے گیا ہے جان بھی
میں اس پہ ہوں حیران کہ شاطر تھا کس قدر
کی واردات یوں کہ نہ چھوڑا نشان بھی
جب تک یمن کھلا تھا ہر سو بہار تھی
آئی خزاں تو چھوڑ گیا باغبان بھی
کیسا ہوں میں کس حال میں ہوں جانتا بھی تھا
افسوس کے منہ پھیر گیا ہے زمان بھی
صاحبہ پہ کھل گئی جب مرزے کی حقیقت
سب توڑ دیے طیش میں تیر و کمان بھی
کرتے بھی کیا کہ سینے میں جب دل نہیں رہا
پھر یوں ہوا کہ کاٹ کے رکھ کی زبان بھی
کس منہ سے اب تو غیر کی کرتا ہے شکایت
Title Photo by Samiul Alam Siyam

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |