عاصم بخاری کی اردو ہائیکو نگاری
تجزیہ راحت امیر نیازی
اردو ہائیکو کے آغاز و ارتقا کے حوالے سے دیکھا جائے تو بیسویں صدی کے وسط میں جاپانی شعری صنف ہائیکو سے اثر قبول کرنے کے نتیجے میں ہوا۔ یہ نظمی صنف تجرباتی طور پر اپنی مقبولیت کے سبب در آئی ۔ہائیکو جاپان کی ایک مختصر مگر بامعنی صنفِ سخن ہے، اگر اس کی ہئیت کی بات کی جائے تو یہ عموماً تین مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے اور فطرت، موسم، انسانی احساسات اور لمحاتی تجربات کو نہایت اختصار سے پیش کرتی ہے۔
اردو ہائیکو کا آغاز:
اردو میں ہائیکو کے ابتدائی تعارف کا سہرا جاپانی ادب کے تراجم اور ادبی رسائل کو جاتا ہے۔
1960ء کی دہائی میں اردو شعرا نے اس صنف میں سنجیدہ طبع آزمائی شروع کی۔
ابتدائی دور میں شہریار، وزیر آغا، محمد امین، ظفر اقبال اور دیگر شعرا نے ہائیکو کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیر آغا کو اردو ہائیکو کی ترویج اور تنقیدی بنیادیں فراہم کرنے والے اہم ادیبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ابتدا میں اردو ہائیکو جاپانی ہیئت کے قریب رہی، لیکن بعد میں اس میں اردو زبان کے مزاج، مقامی ثقافت اور علامتی انداز کو بھی شامل کر لیا گیا۔ برِ صغیر کی ثقافت و روایت کے اثرات اس پر واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔یعنی یہ صنف برصغیر اور بالخصوص پاکستانی رنگ میں غیر محسوس انداز میں رنگی گئی۔کُل جدیدُُ لَذِیذُُ کے مصداق ادیبوں کے اس جدید صنف ِ شعر میں بہت سے تجربات نظمی مجموعوں کی صورت سامنے آئے۔ تحقیقی مضامین لکھے گئے اور ادبی رسائل نے اس صنف کو فروغ دیا۔رسائل نے اس موضوع پر خاص نمبر شائع کر کے اپنے حصے کا کام کر دیا۔
یہی وجہ ہے کہ آج اردو ہائیکو ایک مستند اور مقبول شعری صنف ہے، جس میں فطرت کے ساتھ ساتھ سماجی، تہذیبی اور عصری موضوعات بھی پیش کیے جاتے ہیں۔
اب یہ پودا تناور درخت کی شکل دھار چکا ہے اور اردو ہائیکو تہذیبی مزاج کے مطابق اپنی الگ شناخت قائم کر لی ہے۔ اختصار، معنویت، منظر نگاری اور گہرے تاثر کی وجہ سے یہ صنف آج اردو ادب کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔
آج کےجدید ہائیکو نگاروں میں ایک نام عاصم بخاری کا بھی ہے جو نِت نئےنظمی اور جدت کے حامل صنفی تجربات کرتے رہتے ہیں۔ اختصار پسندی مختصر نویسی جسے ایفر ازم بھی کہتے ہیں بخاری کا میدان ِ خاص ہے۔مختصر نظم کہنا ہر شاعر کا کام نہیں لیکن اگر عاصم بخاری کی نظمیہ اور جدید و مختصر اصناف کی شاعری کا جائزہ لیا جائے تو فردیات ،ثلاثی ، اردو ماہیا اور قطعہ نگاری کےساتھ ساتھ ان کے ہاں اردو ہائیکو نگاری کا بھی کامیاب تجربہ ملتا ہے۔بخاری کی ہائیکو کا ایک اپنا مزاج اور لہجہ ہے۔ بخاری کے موضوعات ہائیکو میں بھی منفرد اچھوتے جدید اور عصر ِ حاضر کے مطابق ہیں۔
ایک ہائیکو ملاحظہ ہو
۔۔۔۔۔۔۔
وَن وَن ٹُو ٹُو کا
زندہ قوموں کا شیوہ
چھوڑو تم رست
۔۔۔۔۔
عاصم بخاری کے پاؤں مٹی میں ہیں وہ سماج اور اس کے مسائل لکھتے ہیں۔
ہائیکو
عاصم نے لکھا
اک غربت اک بیما ری
گھر گھر کا قصہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دور ِ حاضر میں تیسری دنیا بل کہ غربت کی لکیر سے بھی نیچےزندگی کرنے والوں کی عکاسی ایک ہائیکو میں یوں کرتے ہیں۔
ایسی مہنگائی
مت پوچھیں کچھ اس بارے
رہنے دیں بھائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چوں یہ صنف ِ لطیف ہے لہذا اس میں عشق پیار محبت اور ہجر و وصال کا ٹچ بھی دیتے دکھائی دیتے ہیں۔
ہجروں کے مارے
کب سوتے ہیں عاصم جی
گنتے ہیں تارے
۔۔۔۔۔۔۔۔
اس ہائیکو میں بخاری نے جینےکافناور ہنربتا دیا ہے کہ مردانگی کا تقاضا ہے کہ مشکلات میں بھی ہنس کےگزارا کیا جائے یہی زندگی ہے۔
ہر غم سہتے ہو
خوبی ہے یہ اک عاصم
ہنستے رہتے ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خاموش رہنا اگرچہ اچھی بات ہے مگر اتنیگٹا ٹوپ خاموشی بھی تشویش ناک ہے۔بخاری سانس لینے کی طرح بولنے اور اظہار کو بھی زندہ اور زندگی سمجھتے ہیں لہذا اوروں کو بھی یہی ترغیب دیتے ہیں۔
لب یہ کھولو نا
چپ چپ اتنے کیوں عاصم
کچھ تو بولو نا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بخاری صاحب کےہاں جہاں زندگی کی تلخیاں ہیں وہاں رومانویت اور توصیف ِ جمال کےتازہ جھونکے بھی ہیں۔دیکھیں محبوب کاتذکرہ کیا کمال محاکاتی انداز میں کرتے ہیں۔
لوٹیں میرا دل
نیلی تیری آنکھیں اور
گورے مُکھ کا تل
۔۔۔۔۔۔۔
بخاری کو زمانے کی چالوں دھوکے اور فریب سے نفرت ہے ۔چوں کہ وہ خود سیدھا سادا ہے لہذا وہ چاہتا ہے معاشرہ بھی ایسا ہو۔یہ اسی کی خواہش اور ارمانکااظہار ہائیکو میں یوں کرتے ہیں۔
دھوکے بازی چھوڑ
اک ہی میرا کہنا مان
سچا رشتہ جوڑ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبوب کےہر انداز کی تعریف کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ تیری ہر ادا دل میں اترنے والی ہے۔
جب جب ہنستے ہو
مجھ کو اچھے لگتے ہو
دل میں بستے ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بخاری کے ہاں محبت اورعشق لکھنوی خارجیت کے رنگ بھی کہیں کہیں جھلکتے ہیں۔محبوب کےحسن و جمال کی مقناطیسی کشش کا ذکر یوں کرتے ہیں۔
یہ ہرجائی پن
کیسے تجھ کو سمجھاؤں
لُوٹے تن من دھن
۔۔۔۔۔۔۔۔
بہاروں کے موسم پھولوں اور خوشبوں کا تعلق محبوب کے جمال سے زیادہ ہے۔ اسہ لیے لکھتے ہیں۔
پھولوں کا موسم
گُم صُم تیری یادوں میں
ڈھونڈے دل بالم
۔۔۔
اس ہائیکو میں عاصم بخاری شعر برائے مقصد کے نظریے کو مد نظر رکھتے ہوئے فکر دی ہے جھنجھوڑا ہے۔
دینی باتیں کر
شہرت دولت دھکا ہے
رب سے عاصم ڈر
۔۔۔۔
بخاری کے پسندیدہ موسموں میں ایک موسم سرما بھی ہے۔جس کے وہ خواہاں ہیں۔
سردی کا موسم
خواہش ہے بس اتنی سی
جیون میں ہم تم
۔۔۔۔۔
بارش جاری ہے
تیری یادوں کا جادو
دل پر طاری ہے
۔۔۔۔
اس ہائیکو میں بھی عاصم بخاری فطری و قدرتی مناظر کا تذکرہ ایک خاص انداز میں کرتے ہیں۔
بادل برسے ہے
اپنا یہ دیوانہ دل
تجھ کو ترسے ہے
۔۔۔
ہائیکو کے مزاج شناس عاصم بخاری نے موسموں کو اپنا موضوع بناتے ہوئے خوب لفظی تصویر کشی کی ہے۔ہائیکو دیکھیں۔
یارب تو نے دی
گرمی اپنے زوروں پر
بارش رحمت کی
الغرض عاصم بخاری نے ہائیکو کے بیش تر تہذیبی ، فطری،موضوعات کو بڑی نفاست ، ندرت اور مہارت سے کمال برتا ہے اور ہائیکو کے مخصوص وزن پانچ سات پانچ کو عروضی اور فنی لحاظ سے پوری شعری قدرت کے ساتھ نبھایا ہے۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |