پگاں اتے بھار بڑے نیں
تحریر: مظہر علی کھٹڑ
جب سے استاد صاحب سید حبدار قائم کی دل میں اتر جانے والی آواز میں یہ قطعہ سنا ہے، تب سے اس کے الفاظ مسلسل ذہن میں گونج رہے ہیں۔
"پگاں اتے بھار بڑے نیں
پتراں تے اعتبار بڑے نیں
جیکر گھر چوں کڈن پتر
خیر اے یار گھار بڑے نیں”
یہ محض چار مصرعے نہیں بلکہ صدیوں پر محیط خاندانی روایات، والدین کی قربانیوں، اولاد پر اعتماد اور باپ کے بے لوث کردار کا ایسا نوحہ ہیں جو ہر حساس دل کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ بڑے شاعر کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ چند لفظوں میں پوری زندگی کا فلسفہ بیان کر دے، اور استاد سید حبدار قائم نے اپنی پُرسوز آواز سے ان الفاظ کو ایسی تاثیر عطا کر دی ہے کہ سننے والا دیر تک ان کے سحر سے باہر نہیں نکل پاتا۔
پگ صرف سر پر رکھا جانے والا کپڑا نہیں بلکہ عزت، وقار، غیرت، ذمہ داری اور خاندان کی شناخت کی علامت ہے۔ ایک باپ جب پگ باندھتا ہے تو اس کے ساتھ خاندان کی عزت، بزرگوں کی روایات، اپنی اولاد کا مستقبل اور معاشرے کی توقعات بھی اس کے کندھوں پر آ جاتی ہیں۔ اسی لیے شاعر کہتا ہے کہ "پگاں اتے بھار بڑے نیں”۔ یہ بوجھ جسم سے نہیں بلکہ کردار سے اٹھایا جاتا ہے۔
اس کے بعد شاعر ایک ایسا جملہ کہتا ہے جس میں ہر والدین کی پوری زندگی سمٹ آتی ہے۔
"پتراں تے اعتبار بڑے نیں۔”
والدین اپنی جوانی اولاد پر نچھاور کر دیتے ہیں۔ اپنی خواہشیں قربان کرتے ہیں، اپنی آسائشیں چھوڑ دیتے ہیں، راتوں کی نیندیں اور دن کا سکون بچوں کی خوشیوں پر قربان کر دیتے ہیں۔ وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ بڑھاپے میں یہی اولاد ان کا سہارا بنے گی، ان کی عزت کی محافظ ہوگی اور ان کے نام کو روشن کرے گی۔ والدین کا سب سے بڑا سرمایہ دولت نہیں بلکہ اولاد پر کیا جانے والا اعتماد ہوتا ہے۔
مگر اس قطعہ کا سب سے دردناک اور روح کو جھنجھوڑ دینے والا مصرعہ آخری ہے۔
"جیکر گھر چوں کڈن پتر، خیر اے یار گھار بڑے نیں۔”
اس کا اصل مفہوم یہ نہیں کہ بیٹا خود گھر چھوڑ کر چلا جائے، بلکہ اس کا درد اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ شاعر اس کیفیت کو بیان کرتا ہے جب بیٹا اپنے ہی باپ کو گھر سے نکال دیتا ہے۔ وہ باپ جس نے اپنی پوری زندگی اسی گھر کی بنیادیں مضبوط کرنے میں لگا دی، جس نے اپنی اولاد کے لیے ہر تکلیف برداشت کی، بڑھاپے میں اسی گھر سے بے دخل کر دیا جاتا ہے۔
لیکن دیکھیے باپ کی عظمت کہ وہ جاتے ہوئے بھی بددعا نہیں دیتا۔ اس کی زبان پر شکوہ نہیں آتا، نفرت نہیں آتی، انتقام نہیں آتا۔ وہ صرف اتنا کہتا ہے:
"خیر اے یارا، گھار بڑے نیں۔”
یعنی بیٹا خوش رہے، گھر آباد رہے، میری ذات چلی گئی تو کوئی بات نہیں، مگر میرے بچوں کا آشیانہ سلامت رہے۔ یہ وہ دعا ہے جو صرف ایک باپ کے دل سے نکل سکتی ہے۔ یہی وہ عظمت ہے جسے نہ الفاظ مکمل بیان کر سکتے ہیں اور نہ آنسو مکمل سمجھا سکتے ہیں۔
آج کے دور میں جب مادہ پرستی، خود غرضی اور نفسا نفسی نے خاندانی رشتوں کو کمزور کر دیا ہے، یہ قطعہ ہمیں آئینہ دکھاتا ہے۔ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کہیں ترقی کی دوڑ میں ہم اپنے انہی والدین کو تو تنہا نہیں چھوڑ رہے جنہوں نے ہماری ہر خواہش پوری کرنے کے لیے اپنی خواہشات قربان کر دی تھیں۔
اگر کسی گھر میں باپ موجود ہے تو وہ گھر صرف اینٹوں اور پتھروں کا ڈھانچہ نہیں بلکہ رحمت، سایہ اور برکت کا مرکز ہے۔ اور اگر کسی گھر سے باپ کی عزت رخصت ہو جائے تو چاہے وہ محل ہی کیوں نہ ہو، کی کی رونق ختم ہو جاتی ہے۔
استاد سید حبدار قائم کا یہ قطعہ دراصل ہر اس دل کی آواز ہے جو والدین کی عظمت کو سمجھتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی سب سے قیمتی دولت والدین کی دعا ہے، اور سب سے بڑا نقصان ان کے دل کو دکھانا ہے۔
آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے والدین کے اعتماد کی لاج رکھیں گے، ان کے بڑھاپے کا سہارا بنیں گے، ان کی عزت کو اپنی عزت سمجھیں گے اور کبھی ایسا وقت نہیں آنے دیں گے کہ کوئی باپ اپنے ہی گھر سے نکلتے ہوئے صرف اتنا کہنے پر مجبور ہو جائے:
"خیر اے یارا، گھار بڑے نیں۔”
یہی اس قطعہ کا پیغام ہے، یہی اس کا درد ہے، اور یہی وہ سبق ہے جسے اگر ہم اپنی زندگی میں اپنا لیں تو ہمارے گھر محبت، احترام اور دعاؤں سے بھر جائیں۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |