کالا چٹا پہاڑ

کالا چٹا پہاڑ کے متعلق دلچسپ معلومات آج کا یہ مضمون عمومی طور پر تمام قارئین کے لئے اور خصوصی طور پر انکے لئے پیش کر رہی ہوں جو شدت سے اس کے منتظر ہیں۔ اس کے ساتھ ہی معزرت خواہ ہوں کہ آپکے بے حد اصرار کے باوجود تحریر کرنے میں تاخیر ہوئی۔ البتہ ایک بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ مضمون آپکی دلچسپی میں خاطر خواہ اضافہ کرے گا۔ مندرجہ ذیل مضمون میں کالا چٹا پہاڑ کے متعلق انتہائی دلچسپ معلومات پیش کی جارہی ہیں۔ شمالی میدان کے جنوب میں کالا چٹا کا سلسلہ ہے جو شرقا” غربا” پھیلا ہوا ہے۔ اس پہاڑی سلسلہ کی چٹانیں اور پتھر دو رنگوں پر مشتمل ہے، سیاہی مائل / بھورے اور سفید، اسی وجہ سے اسکا نام کالا چٹا ہے۔ یہ سلسلہِ کوہ گھنے اور پستہ قد درختوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ لیکن کہیں کہیں سے سبزے سے بالکل محروم نظر آتا ہے۔ اس پہاڑی سلسلہ میں مختلف درخت پائے جاتے ہیں جن میں سے قابل ذکر "گنگھیر” یا "گنگھور” کا درخت ہے جس کے ساتھ کالے رنگ کا فالسے کے برابر پھل لگتا ہے، جو بے حد لذیذ لگتا ہے۔ یہ درخت پاکستان میں اور کہیں نہیں ہوتا۔ یہاں ایک اور درخت "کاہو” بھی پایا جاتا ہے۔ مقامی لوگ اس کے پتوں کی چائے اور قہوہ بنا کر بھی استعمال کرتے ہیں۔ (کچھ لوگ اس درخت کا تعلق زیتون کے درخت کے خاندان سے بتاتے ہیں)۔ اس سلسلہِ کوہ میں مختلف قسم کے جانور پائے جاتے ہیں۔ جن میں ہرن، ساہنبر، اڑیال وغیرہ بکثرت پائے جاتے ہیں۔ پرندوں میں یہاں تیتر چکور اور باز ملتے ہیں۔ کالا چٹا پہاڑ کا نصف شمالی حصہ سوائے چند گاوں کے جو تحصیل فتح جنگ میں شامل ہیں اور ہزارہ کی پہاڑیوں کا تمام علاقہ اس تحصیل میں شامل ہے۔ سب سے اہم پہاڑی سلسلہ کالا چٹا پہاڑ ہے۔ پہاڑوں کی دیوار ضلع کے شمال کے ساتھ ساتھ چلتی ہے اور تحصیل اٹک کو دوسری تحصیلوں سے جدا کرتی ہے۔ جنوب مغربی حصہ کالا پہاڑ کہلاتا ہے جو کہ عام طور پر کالے ریتلے پتھروں سے بنا ہوا ہے۔ بعض جگہ پر سخت گرم موسم کی وجہ سے اسکا رنگ نارنجی اور کہیں کالا ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ کچھ خاکی رنگ کا ریتلا پتھر اور لال مٹی بھی پائی جاتی ہے۔ یہ حصہ دریائے سندھ سے جنوب کی طرف سے شروع ہوتا ہے اور تحصیل پنڈی گھیپ کی حدود سے گزرتا ہوا گگن گاؤں تک ختم ہو جاتا ہے۔ اس کی لمبائی 35 میل اور چوڑائی 4 میل ہے۔ سفید یا چٹا پہاڑ جو کہ اس سلسلہ کا زیادہ حصہ ہے، پورے سلسلے میں شمال کی طرف لمبائی میں پھیلا ہوا ہے۔ دریائے سندھ کے ساتھ اس کی چوڑائی تقریبا” 8 میل ہے۔ یہ پہاڑ سفیدی مائل چونے کے پتھروں سے بنا ہوا ہے۔ اس لئے اسے چٹا پہاڑ کہتے ہیں۔ لیکن اسکے درمیانے حصہ میں کالے پتھروں کے کچھ حصے بھی ملتے ہیں۔ اس پہاڑی سلسلے کا یہ ایک اہم حصہ ہے۔ چونے کے پتھر سے چونا بنانے کی بھٹیاں موجود ہیں اور جنگلی پیداوار کے لحاظ سے کالے پہاڑ سے بدرجہا بہتر ہے۔ کالے پہاڑ میں یہ دونوں چیزیں نہیں ہیں۔ ریتلے پہاڑوں پر پھلاہی کے درختوں کے علاوہ کوئی چیز نظر نہیں آتی ہے، سوائے چند ایک غیر مفید جھاڑیوں کے۔ جبکہ گھاس بھی کہیں کہیں کم نظر آتی ہے۔ چونے کے پتھر کے پہاڑ یعنی چٹا پہاڑ کی شمالی ڈھلانوں پر بہت زیادہ مقدار میں پھلاہی کے درخت ہیں۔ علاوہ ازیں کاہو (جنگلی زیتون)، سنتھا اور دوسری جھاڑیاں بھی بہت زیادہ مقدار میں موجود ہیں۔ یہ سلسلہ چھوٹی پہاڑی ڈھلانوں سے بنا ہوا ہے جن کے درمیان بہت سی وادیاں ہیں۔ کچھ وادیاں کافی پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں کافی مزروعہ زمین بھی ہے۔ مشرقی طرف کی پہاڑیاں بہت کم اونچی ہیں۔ عام سطح بہت ہی کٹی پھٹی اور بنجر ہے۔ ان پہاڑوں کے درمیان ندیاں بھی ہیں جو ان ہی سے نکلتی ہیں لیکن کسی خاص اہمیت کی حامل نہیں۔ نندنہ، گڑھی حسو کی پہاڑیوں کو کاٹتا ہوا بہت گہرائی میں اور تیزی سے شمال کو بہتا ہے۔ کھیری مورت سے شروع ہوتا اور دریائے ہرو میں جا گرتا ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی عمارتی لکڑی نہیں ملتی لیکن یہ جنگلات ارد گرد کے علاقوں کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ کیمبل پور کا ریلوے اسٹیشن جو کہ شمال مغربی ریلوے لائن پر واقعہ ہے ان جنگلات سے حاصل شدہ لکڑی کو دوسرے علاقوں تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ اٹک خورد ریلوے سٹیشن سے شروع ہونے والا یہ سفر کیمبل پور ریلوےاسٹیشن پر تمام ہوتا ہے۔ اس کے بعد ریلوے لائن کئی پہاڑی سلسلوں سے ہو کر گزرتی ہے جن میں 7 سرنگیں ریلوے انجنیرنگ کا عمدہ شاہکار ہے۔ ہمارا اگلا مضمون انہی پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہوگا۔

در بارہ ثمانہ زھراء

یہ بھی دیکھیں

اٹک کے جنگل

جنگل اور جنگلی حیات

اس مضمون میں ضلع اٹک کے جنگلات میں پائے جانے والے درخت اور جڑی بوٹیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات (جانور اور پرندے) پر بھی گہری تحقیق پیش کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے