Tag: عمان

  • رویل یاٹنگ مڈل ایسٹ کی غیرمعمولی کامیابی کا راز

    رویل یاٹنگ مڈل ایسٹ کی غیرمعمولی کامیابی کا راز

    رویل یاٹنگ مڈل ایسٹ کی غیرمعمولی کامیابی کا راز

    Dubai Naama

    سنہ 2008ء میں ایک برٹش پاکستانی کو میں نے دبئی میں "یاٹس ٹریڈنگ” کی ایک کمپنی بنانے میں مدد کی تھی۔ ان سے میرا تعارف ایک مشترکہ دوست کے ذریعے ہوا تھا۔ ہم شروع دن سے ہی اچھے دوست بن گئے۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ روپے پیسے کو بڑی احتیاط سے خرچ کرتے تھے۔ وہ ہر ماہ کا بجٹ بناتے تھے، جس سے وہ ذرا برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔

    وہ انگلینڈ بلیک برن کے ہیں جو مانچسٹر سے 34 کلومیٹر دور لنکاشائر کاؤنٹی میں ایک انڈسٹریل ٹاؤن ہے۔ انہوں نے برطانیہ سے لاء کی ڈگری لی مگر کوئی جاب کرنے یا وکیل بننے کی بجائے انہوں نے بلیک برن میں ریسٹورنٹ کھول لیا۔ یہ ٹاؤن کا 50 سیٹوں والا سب سے بڑا ریسٹورنٹ تھا اور بہت اچھا بزنس کر رہا تھا۔ ان کا نام سجاد احمد حسین ہے، جو برطانیہ میں پیدا ہوئے تھے، یعنی وہ "برٹش بارن” ہیں۔ انہیں "لگژری بوٹس” کا بہت شوق تھا، اور پھر انہیں دبئی بھی بہت پسند تھا۔ 

    ایک رات کیا ہوا کہ انہوں نے برطانوی ٹیلی ویژن پر فوجیوں کو ملک کے دور دراز علاقوں میں مشکل ایکسرسائز کرتے ہوئے دیکھا۔ ان کے دل میں خیال آیا کہ یہ گھر سے دور ہیں اور اتنا مشکل کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوچا: "کیوں نہ میں بھی کوئی مشکل کام کروں”۔ اگلے چند ہفتوں میں انہوں نے ریسٹورنٹ ٹھیکے پر دیا اور فرانس میں ان سمندری کشتیوں کی ایک کمپنی کے پاس یاٹس کا کورس کرنے چلے گئے، جس کے بعد انہوں نے دبئی میں آ کر "رویل یاٹنگ مڈل ایسٹ” (Royal Yachting Middle East) ” کے نام سے اپنی کمپنی کھول لی۔

    میں آج کل "بزنس کنسلٹینسی” کا کام کرتا ہوں۔ اس پیشے کی وجہ سے میں جانتا ہوں کہ اگر منافع میں جائے بغیر نیا بزنس مین پیسے کا حساب کتاب نہ رکھے تو اسکی ناکامی کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ وہ پیسے کو کس طرح سنبھال سنبھال کر خرچ کرتے تھے۔ آغاز میں وہ بلیک برن ہی کے ایک جاب پیشہ دوست کے فلیٹ پر رہے اور ستر درہم کرائے پر کار لے کر استعمال کرتے رہے۔ ماشاءاللہ، آج وہ ارب پتی ہیں، اور روزانہ وہ جتنا پیسہ خرچ کرتے ہیں ہم اتنا ایک ماہ میں بھی نہیں کما سکتے۔

    رویل یاٹنگ مڈل ایسٹ کی غیرمعمولی کامیابی کا راز

    کاروباری سلطنت کھڑی کرنے میں "پیسے کا بہاو” ہی کامیابی کی جڑ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سجاد صاحب کی غیرمعمولی کامیابیوں کا سارا کریڈٹ ان کے "پیسہ استعمال کرنے کی ذہانت” کو جاتا ہے۔ آغاز میں انہوں نے مجھے ایک بار کہا تھا: "پیسہ کمانا ایک شیر کا کام ہے اور اسے سنبھالنا دو شیروں کا کام ہے”۔ مجھے یاد ہے کہ پہلے چھ ماہ تک ان کی کوئی ڈیل نہیں ہوئی تھی۔ اس دوران انہیں "بجٹ” کی کمی محسوس ہوتی تو جہاں ان کے اندر اعتماد کی کمی آنی تھی، وہاں وہ "دلبرداشتہ” بھی ہو سکتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے یہ ساری ترقی پیسے کے "حسن استعمال” کے بل بوتے پر کی ہے۔

    روپیہ پیسہ ریاضی کا نہیں بلکہ "کاروباری رویئے” کا کھیل ہے، اور ہم میں سے اکثر لوگ کاروبار میں ناکام اس لیئے ہوتے ہیں کیونکہ ہم پیسوں کو جذبات سے جوڑ دیتے ہیں یا "کاروبار کے لیئے وقف” پیسے کو غیرکاروباری ہیڈز میں لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم عموما کاروبار میں امیر اس لیئے نہیں بنتے کہ ہم میں پیسے کے استعمال کیلیئے "ذہانت” کی کمی ہوتی ہے۔ اس کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ہم "فوری امیر بننے” کے لالچ میں پڑ کر اپنے اصل اثاثے یعنی ‘پیسے’، ‘وقت’ اور ‘صبر’ کو بھی گنوا دیتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر سجاد احمد صاحب کی طرح کسی ڈیل کے "چھ ماہ” بعد ہونے کا انتظار نہیں کرتے۔ 

    اس سے واضح ہوتا ہے کہ دولت کا مطلب مہنگی رہائش، گاڑی یا دکھاوا نہیں، بلکہ دولت کا اصل مطلب وہ "آزادی” ہے جو آپ کو اپنے وقت پر اختیار کرنی چایئے۔ دولت جمع کرنے کا سب سے پوشیدہ اور کامیاب طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی کاروباری زندگی میں "کافی” کا تصور سمجھ لیں، جو شخص اپنے کاروبار کی ضرورتوں کو قابو میں رکھ کر ایک سادہ لیکن نظم و ضبط والا منصوبہ بنا سکتا ہے، وہ دراصل دنیا کے کسی بھی بزنس مین یا سرمایہ کار سے زیادہ طاقتور ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی جیب میں کتنا پیسہ ہے یہ اہم نہیں، بلکہ یہ اہم ہے کہ آپ اپنے پیسوں کو کس سلیقہ سے استعمال کر رہے ہیں۔

    اس وقت "رویل یاٹنگ مڈل ایسٹ” کے کلائنٹس میں شارجہ، ابوظہبی، قطر اور عمان کے حکمرانوں سمیت پاک آرمی، انڈیا کا انمبانی خاندان، دنیا کے نامور فٹ بالرز، رشین بزنس ٹائیکونز، پاکستان کے سیاست دان اور کراچی کے بزنس مین وغیرہ شامل ہیں۔ سجاد احمد حسین صاحب کی کمپنی کے پاس آسٹن ڈوا اور گیلیئن ریچ کے علاوہ دوسری کچھ کمپنیوں کی ڈیلرشپ بھی ہے، جن کی کشتیاں صرف ان کی کمپنی ہی کو بیچنے کی اجازت ہے۔ کاروبار میں "معاشی برتاو” اور "لین دین” انتہائی اہم ہے۔ 

    چشم بد دور، سجاد احمد حسین صاحب نے کاروباری ایمپائر کھڑی کر لی۔ اب جا کر مجھے ان کے "دو شیروں والی بات” کی سمجھ آئی ہے۔ جس دن آپ نے بھی یہ سمجھ لیا کہ پیسے کو کاروبار میں کس "سلیقے” اور "ہنرمندی” سے استعمال کرنا ہے، اسی دن سے آپ کی "بڑی کاروباری کامیابی” کا حقیقی سفر شروع ہو جائے گا۔ کامیاب بزنس مین بننا ہے تو پیسے کا "حسن استعمال” سیکھیں، کیونکہ پیسے کو مینیج اور کنٹرول کرنا ہی کاروبار میں کامیابی کی ضمانت ہے۔

  • قطر پر اسرائیلی حملہ اور پاک فوج کی دفاعی صلاحیت

    قطر پر اسرائیلی حملہ اور پاک فوج کی دفاعی صلاحیت

    قطر پر اسرائیلی حملہ اور پاک فوج کی دفاعی صلاحیت

    Dubai Naama

    اقوام متحدہ میں متعین اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے حماس کے رہنماؤں کو دوبارہ نشانہ بنانے کا عندیہ دیا ہے کیونکہ اس حملے میں اسرائیل حماس کے سرکردہ رہنماؤں کو نشانہ بنانے میں ناکام رہا جس میں حماس کے مذاکراتی وفد کے سربراہ خلیل الحیّہ سرفہرست ہیں۔ اسرائیل نے دوحہ میں ایک ایسے حساس وقت پر حملہ کیا جب قطر غزہ میں جنگ بندی کے لئے ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا تھا اور امریکہ کی جنگ بندی تجاویز پر مذاکرات کے لئے حماس کا وفد دوحہ آیا ہوا تھا۔

    قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیل کے اس حملے میں حماس کے 6 افراد ہلاک ہوئے۔ اگرچہ قطر نے اسرائیلی حملے کو ریاستی دہشت گردی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ قطر جوابی کارروائی کا پورا حق رکھتا ہے لیکن قطر کے اسرائیل پر حملے کا امکان بہت کم ہے جس کا اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ قطر @کے وزیراعظم نے اسرائیلی حملے کے بعد یہ اعلان بھی کیا کہ فلسطین میں امن قائم کرنے کے لیئے مذاکرات جاری رکھے جائیں گے۔

    سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے قبل قطر نے اقوام متحدہ کو خط لکھا جس میں دوحہ پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی گئی اور اسے تمام عالمی قوانین اور اقدار کے منافی قرار دیا گیا۔
    قطر کے خبر رساں ادارے "یو این اے” کے مطابق یہ خط اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سنگجنکم کے نام بھیجا گیا ہے۔ اس خط میں قطر نے اسرائیلی حملے کو قطری شہریوں اور یہاں رہنے والوں کے لیے "سنگین خطرہ” قرار دیا۔ شاید یہی وہ ردعمل ہے جو قطر اسرائیل کے اپنے دارالحکومت دوحہ پر کیئے گئے اس جارحانہ حملے کے خلاف دے سکتا ہے۔ قطر کے علاوہ
    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دنیا کے زیادہ تر ممالک نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ، "میں اس حملے سے خوش نہیں ہوں۔”
    برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے قطر پر اسرائیل کے حملے کی شدید مذمت کی۔برطانوی وزیر اعظم نے ہاؤس آف کامنز میں خطاب کے دوران کہا کہ "اسرائیل قطر کی خود مختاری کی خلاف ورزی کرتا یے اسرائیل امن کو محفوظ بنانے کے لئے کچھ نہیں کرتا۔ جبکہ برطانیہ اور دیگر اتحادی خطے میں امن قائم کرنے کے پابند ہیں۔” انھوں نے ارکان پارلیمنٹ کو بتایا کہ حملے کے فوراً بعد برطانیہ کی حمایت اور یکجہتی کا اظہار کرنے کے لئے قطری امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے بات کی ہے۔ برطانوی وزیراعظم پرعزم تھے کہ حملوں کے باوجود وہ جنگ بندی کے لئے سفارتی حل پر کام جاری رکھیں گے۔” سعودی عرب نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے قطر کے خلاف اسرائیلی حملوں کو عرب ریاستوں کی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا۔

    قطر پر اسرائیلی حملہ اور پاک فوج کی دفاعی صلاحیت

    قطر گزشتہ 13 سالوں کے زیادہ عرصے سے فلسطینی جہادی تنظیم حماس اور اسرائیل کے درمیان ایک "ثالث” کے طور پر کام کر رہا ہے۔ سنہ 2007 میں جب حماس نے غزہ پر کنٹرول حاصل کیا اور عالمی برادری کے بیشتر ممالک نے اسے نظرانداز کیا تو قطر نے اس وقت حماس کے لئے مالی اور سیاسی مدد فراہم کرنے کا قدم بڑھایا۔ قطر نے غزہ میں اپنا خصوصی ایلچی سفیر محمد العمادی کو تعینات کر رکھا ہے جنہیں فلسطینی اکثریت اپنا "گورنر” قرار دیتی ہے کیونکہ وہ امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں کی براہِ راست نگرانی کرتے ہیں۔ جب اسرائیل نے تہران میں حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کو ہلاک کیا تھا تو حماس کی تنظیم نے خاموشی سے ایران میں اپنے کچھ عہدیداروں کو قطر منتقل کر دیا تھا اور اسے خطے میں اپنے لئے سب سے محفوظ ٹھکانہ سمجھا تھا۔
    اسماعیل ہنیہ کے مشیروں میں سے ایک کے مطابق حماس کے تقریباً 1000 ارکان اور ان کے اہل خانہ دوحہ میں مقیم ہیں جو حکومت کی طرف سے فراہم کی جانے والی رہائش گاہوں میں رہتے ہیں۔ وہاں سینئر رہنماؤں کے لئے الگ الگ بنگلے، تحریک کے لئے ایک بڑے ہیڈ کوارٹر کی عمارت اور رہائی پانے والے قیدیوں اور سکیورٹی عملے کے لئے اپارٹمنٹ بلاکس شامل ہیں۔ تاہم منگل کے روز دوحہ میں حماس کے دفاتر پر حالیہ اسرائیلی حملے نے اس تصور میں دراڑ ڈال دی ہے کہ قطر حماس رہنماؤں کے لئے ایک محفوظ ترین پناہ گاہ ہے۔

    عالمی مبصرین کے مطابق اس واقعہ کے بعد خطے کے کسی بھی ملک کے لئے حماس کی میزبانی جاری رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے جس سے سفارتی سطح پر بھی پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران حماس کے رہنما دوحہ، قاہرہ اور استنبول میں نسبتاً آزادی سے سفر کرتے رہے ہیں اور مصر و ترکی کے دارالحکومتوں میں غیر رسمی دفاتر بھی چلاتے رہے ہیں۔ تاہم تازہ اسرائیلی کارروائی کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ غزہ کے علاوہ حماس اپنی سرگرمیاں کہاں اور کس شکل میں جاری رکھ سکے گا؟

    قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد پاک فوج کی بہت تعریف ہو رہی ہے۔ پاکستان کی فوجی صلاحیت اس توصیف اور ستائش کی حق دار بھی ہے کہ پاکستان نے اپنے ازلی دشمن بھارت کو آخری معرکے میں محدود وسائل کے باوجود ناکوں چنے چبوائے ہیں۔ قطر کے مقابلے میں پاکستان محدود مالی وسائل رکھتا ہے۔ اس وقت بھی قطر دنیا کا امیر ترین ملک ہے اور اس کے پاس دنیا کے جدید ترین طیارے بھی موجود تھے مگر وہ اسرائیل کے سامنے اپنا دفاع کرنے میں ناکام رہا۔

    پاکستان کے مقابلے میں قطر بہت چھوٹا ملک ہے۔ اس کا کل رقبہ11571 مربع کلومیٹر ہے جبکہ پاکستان 881913 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ایک بڑا ملک ہے۔ اس کے باوجود قطر کا دفاعی بجٹ بہت زیادہ ہے جو کہ 14 ارب ڈالر ہے جبکہ پاکستان کا دفاعی بجٹ صرف 9 ارب ڈالر ہے یعنی پاکستان قطر سے 6 ارب ڈالر کم بجٹ میں 56 قطر جتنے ملکوں کی حفاظت کرتا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے ملک انڈیا کا جینا حرام کیئے ہوئے ہے جس کا سارا کریڈٹ پاک فوج کی اعلی جنگی مہارت کو جاتا ہے۔ زرا سوچیں کہ انڈیا کا دفاعی بجٹ 77.4 ارب ڈالرز ہے جو کہ پاکستان کے دفاعی بجٹ سے 8 گنا زیادہ ہے۔ انڈیا آبادی میں پاکستان سے چھ گنا، اسلحے میں دس گنا اور رقبے میں ساڑھے تین گنا بڑا ملک ہے۔ اگر پھر بھی پاکستان نے گزشتہ جنگ میں بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا تو اس کے لیئے پاکستانی قوم کو اپنی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا شکرگزار رہنا چایئے۔

    یہ بھی اطلاعات ہیں کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں اسرائیل  نے لبنان، شام اور تیونس پر بھی فضاٸی حملے کئے۔ ہو سکتا ہے اسراٸیل نے اپنے کچھ اگلے اہداف بھی فکس کیئے ہوں، جس میں قاہرہ، بغداد اور عمان بھی شامل ہوں۔اسرائیل  سب کو باری باری آزما سکتا ہے۔ بےشک پاکستان معاشی طور پر ایک کمزور ملک سہی، لیکن اسرائیل  کی جرات نہیں کہ وہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھ سکے۔ دنیا نے انگلیاں دانتوں میں داب کر یہ منظر دیکھا کہ پاکستان نے محض 4 گھنٹوں میں ہی اپنے سے 6 گنا بڑے دشمن ملک بھارت کو الٹا کر کے لما پا لیا تھا۔ یہاں اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا اور پاک فوج زندہ باد کہنا ہر محب وطن پاکستانی پر واجب ہے۔

  • وزیر تجارت جام کمال خان کا دورہ عمان

    وزیر تجارت جام کمال خان کا دورہ عمان

    وزیر تجارت جام کمال خان کا دورہ عمان

    پاکستان عمان اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم

    تحریر: محمد عثمان ہاشمی
    شائع کردہ: شاندار بخاری

    تاریخ: 14-03-2025

    پاکستان اور عمان کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے وفاقی وزیر برائے تجارت، حِکومت پاکستان، جناب جام کمال خان نے عمان کا اہم دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں اضافہ اور اقتصادی تعلقات کی مزید مضبوطی تھا۔ وفاقی وزیر تجارت کو مسقط انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچتے ہی پاکستانی سفارتخانے کے اعلیٰ حکام جن میں سفیر پاکستان محترم سید نوید صفدر بخاری، نائب سفیر جناب بلال حسن اور کمرشل قونصلر جناب عشرت حسین بھٹی اور اس کے علاوہ عمانی حکام بشمول منسٹر کونسلر راشد الراشدی اور ریلیشنشپ اسپیشلسٹ عبداللہ الجابری نے استقبال کیا۔

    وزیر تجارت جام کمال خان کا دورہ عمان

    دورے کے دوران وفاقی وزیر برائے تجارت نے عمان کے اہم حکومتی رہنماؤں، صنعتی رہنماؤں اور دیگر اہم شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کیں جنہوں نے دونوں ممالک کے مابین تجارتی، سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

    وفاقی وزیر جناب جام کمال خان کی ملاقات عمان کے وزیر براے تجارت، صنعت و سرمایہ کاری،

     عزت مآب قیس الیوسف سے ہوئی۔ اس ملاقات میں دو طرفہ تجارت کو بڑھانے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور پاکستان کی صنعتی مہارت کو عمان کے وژن 2040 اقتصادی حکمت عملی میں شامل کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان عمان کے لیے ایک اہم تجارتی راستہ بن سکتا ہے، جو وسطی ایشیائی ریاستوں تک تجارت کی سہولت فراہم کرے گا۔

    پاکستانی وفد نے گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کو خطے کی اہم تجارتی گزرگاہوں کے طور پر اجاگر کیا، جو عمان کو وسیع مارکیٹ تک رسائی فراہم کرتی ہیں۔ ٹیکسٹائل، ایس ایم ایز، زراعت اور مینوفیکچرنگ جیسے اہم شعبوں میں مشترکہ منصوبوں اور پائیدار تجارتی شراکت داریوں کی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وفاقی وزیر نے عمان کے سرمایہ کاری کے حوالے سے دوستانہ ماحول کو دیکھنے کے لیے "انویسٹ عمان لاؤنج” کا دورہ کیا، جام کمال خان نے انویسٹ عمان کی تعریف کی اور پاکستان کے ون ونڈو انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن ماڈل سے اس کی مماثلت کو نوٹ کیا۔ انہوں نے انویسٹ عمان، عمان انویسٹمنٹ اتھارٹی اور پاکستان کی خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے درمیان گہرے تعاون کی وکالت کی۔

     وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور عزت مآب محمد بن سلیمان الکندی،  گورنر،نارتھ الباطنة، کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کو بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔ انہیں ملاقاتوں کے تسلسل میں، وفاقی وزیر جام کمال خان نے صحار پورٹ اور فری زون کا صنعتی دورہ کیا، جہاں انہوں نے صحار فری زون کے سی- ای- او جناب محمد الشزاوی اور دیگر سینئر حکام سے بات چیت میں ایشیائی اور وسطی ایشیائی مارکیٹس کے ساتھ زیادہ رابطے کی سہولت فراہم کرتے ہوئے پاکستان کے راستے تجارتی راستوں کو مضبوط بنانے کے لیے صحار کی جدید لاجسٹک صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا گیا۔

    عمان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OCCI) میں وفاقی وزیر براے تجارت نے چیئرمین شیخ فیصل عبداللہ الرواس سے ملاقات کی اور تجارتی تعلقات کو مظبوط کرنے کے مواقع پر بات چیت کی۔ ایک B2B نیٹ ورکنگ سیشن بھی منعقد کیا گیا جس میں پاکستانی کاروباری وفد کو عمانی سرمایہ کاروں سے متعارف کرایا گیا۔ OCCI کے حکام نے پاکستان کی عمان کو برآمدات بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ کاروباری کونسل کو فعال کرنے پر زور دیا۔

    وفاقی وزیر جناب جام کمال  کی عمان کے وزیر برائے زراعت، ماہی گیری، اور آبی وسائل،  سعود بن حمود الحبسی المحترم  سے ملاقات بھی اہم رہی۔ اس ملاقات میں فوڈ سکیورٹی کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا گیا، جہاں پاکستان کی زراعتی صلاحیت کو اجاگر کیا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان زرعی تجارت اور سپلائی چین کی پائیداری پر بات کی گئی۔ عمان نے پاکستانی فوڈ پروسیسنگ کمپنیوں کو عمان میں اپنے آپریشنز کو بڑھانے کی دعوت دی، جس سے اس شعبے میں تجارتی مواقع کے بڑھنے کی امید ہے۔

    پاکستانی سفارتخانے، عمان نے وفاقی وزیر براے تجارت کے اعزاز میں ایک افطار تقریب بھی منعقد کی، جس میں پاکستانی کمیونٹی کے رہنماؤں، تاجروں اور پیشہ ور افراد نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر جام کمال خان نے پاکستان اور عمان کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور ثقافتی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔

    وفاقی وزیر کا یہ دورہ پاکستان کے عمان میں اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی علامت ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ منصوبوں، تجارتی روابط اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تعاون کی بدولت دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط اور متحرک شراکت داری کے امکانات روشن ہیں۔

    پاکستان اور عمان کے تعلقات میں مزید تعاون اور اقتصادی ترقی کی راہ ہموار ہو رہی ہے، اور اس کی بدولت دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ہو رہا ہے۔ ہم  عمان میں پاکستان کے سفیر، عزت مآب سید نوید صفدر بخاری، کمرشل قونصلر جناب عشترت حسین بھٹی اور عمان میں پاکستانی سفارتخانے کی پوری ٹیم کو ان کی شاندار محنت اور تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں پر بھرپور سراہتے ہیں۔

  • سلطنت عُمان کے سفیر سے پاکستانی وفد کی ملاقات

    سلطنت عُمان کے سفیر سے پاکستانی وفد کی ملاقات

    سلطنت عُمان کے سفیر سے پاکستانی وفد کی ملاقات

    مسقط (نمائندہ خصوصی) عزت مآب سفیر عُمان فہد بن سلیمان بن خلف الخروسی، نے اپنے دفتر میں سلطنت عُمان میں پاکستان کے سابق سفیر، ڈاکٹر عمران علي چوہدری، سماجی کارکن، جناب سيّد شاندار علی شاہ بخاری، اورکاروباری شخصیت جناب عمران صدیقی کے ساتھ ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں دوست ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا. سفير عُمان نے کہا کہ عزت مآب ڈاکٹر عمران علي چوہدری کے دور میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، سماجی اور تعلیمی تعلقات میں انتہائی سرعت سے مثبت پیش رفت ہوئی اور حالیہ منعقد کی جانے کامیاب ایکسپو پر سفیر عُمان نے سابق پاکستانی سفیر کو مبارکباد پیش کی۔

    ڈاکٹر عمران علی چوہدری نے ملاقات کے دوران کہا کہ عُمان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لئے مزید مشترکہ کاوشیں کی جارہی ہیں۔  

    سلطنت عُمان کے سفیر سے پاکستانی وفد کی ملاقات

    سماجی کارکن شاندار علی شاہ بخاری نے بھی اس موقع پر کہا کہ عٌمان اور پاکستان کے درمیان ثقافتی تعلقات  اور سیاحت کو فروغ دینے کے لئے مشترکہ منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی تبادلے سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان محبت اور اخوت کے جذبات کو فروغ ملے گا۔ شاندار بخاری نے اس ضمن میں سابق سفیر عزت مآب ڈاکٹر عمران علی چوہدری کی بے لوث خدمات کو بے حد سراہا اور کیا کہ انہوں نے ایک سچے پاکستانی کی حیثیت سے پاکستانی کمیونٹی کے لئے ہر ممکن فلاحی اقدامات کیے۔

  • “خدمت خلق کا سفیر”

    “خدمت خلق کا سفیر”

    “خدمت خلق کا سفیر”


    تحریر:سجاد احمد
    شائع کرد: شاندار بخاری


    تاریخ /19/12/2024

    میری اٹھاراں سالہ زندگی جو عمان میں ہو گئی ہے بہت سے ایمبیسڈرز آئے اور گئے، بہت سوں کی فیئر ویل مجھے یاد پڑتی ہے اور سارے خیالات نقوش کی طرح میرے ذہن میں ابھر آتے ہیں جیسے جیسے میں ان کے آخری دنوں کو یاد کرتا ہوں۔ پاکستانی کمیونٹی جو کہ عمان میں مقیم ہے انہوں نے ہمیشہ دل کھول کے آنے والی شخصیات ہوں یا جانے والی سب کے لیے بے پناہ محبت بانٹی ہے۔ اور ہر فرد نے اپنے تئیں چاہے فیملی پروگرام ہو یا عام پروگرام ہو کے لیے دل کھولا ہے۔

    “خدمت خلق کا سفیر”


    عمران علی چوہدری صاحب سے پہلے جناب احسن وگن صاحب تھے اور ان سے پہلے جناب علی جاوید صاحب تھے۔ سب نے اس کمیونٹی کے لیے بہت کچھ کیا کچھ ہمیں یاد ہے اور کچھ بھلا دیا یہ ہماری اپنی غلطی ہے اور علی جاوید صاحب ہوں یا احسن وگن صاحب ہماری کمیونٹی کے بڑوں نے بہت دل کھول کر انکا ساتھ دیا اور انہوں نے بھی اسی طرح اس کمیونٹی کا ساتھ نبھایا۔ ان کے کارنامے اس لیے بیان نہیں کرسکتا کیونکہ میں خود اس وقت اتنا متحرک نہیں تھا لیکن کمیونٹی سے ان کے اچھے کاموں کا ذکر سنا ہے اور ان کی سلامتی کی دعائیں بھی۔ اب بات آتی ہے عمران علی چوہدری صاحب کی تو ان کے لیے میں پورے و ثوق سے بات کر سکتا ہوں۔ ان کے تین سال ایسے گزرے جیسے چند لمہات ہوں۔ اُن کے کارناموں کی ایک طویل لسٹ ہے۔ جن میں کمیونٹی اسکول 62000 ہزار عمانی ریال کے خسارے سے نکال کے 524000 پانچ لاکھ چوبیس ہزار عمانی ریالز کے پرافٹ میں بدلنا (یہ ڈیٹا اسکول کے آڈٹ رپورٹ سے لیا گیا ہے) نئے اسکول کے لیے معبیلہ میں آٹھ ایکڑ زمین لینا، ایمبیسی کا ٹائم بڑھانا، ٹوکن سسٹم کو زیادہ موئثر اور فعال بنانا، کھلی کچہریوں کا انتظام ، کمیونٹی کی مدد سے ماربل فلورینگ، ایمبیسی میں مسجد کا اہتمام، ہیومن ٹریفکنگ مافیا سے کمیونٹی کے بچوں اور بچیوں کی بازیابی، ڈیتھ کیسز میں مافیاز کے کنٹرول کا خاتما، صلالہ ، بریمی اور صحار کے بعد نزوی اور صور میں کلیکشن سنٹرز کا قیام، مشکل وقت میں پاکستانیوں کے لیے ہیلپ کرنا، پاکستان ھاوس اور ایمبیسی کی رسائی، وادی کبیر سانحے میں کمیونٹی کے ساتھ کھڑا ہونا، پاکستان عمان کے مابین بزنس کانفرنس کا انعقاد کروانا جو کہ ڈراؤنا خواب تھا وہ بھی پورا کر دیا۔ (ڈراؤنا خواب اس لیے کہ اس کے لیے فنڈز کہاں سے آئیں گے) اس کے علاوہ اَن گنت ایسے کام ہیں جو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں۔ پوری کمیونٹی کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ بات کہاں سے نکلی اور کہاں چلی گئی۔ خیر آپ کی رخصتی پہ بہت سی فیئر ویل تقریبات ہوئیں۔ صلالہ کمیونٹی ہو یا صحار کمیونٹی سب نے بڑھ چڑھ کے حصہ لیا۔ سوشل کلب عمان کے قائم مقام عہدیدران کے ساتھ اور بہت سے لوگوں نے آپ کے لیے تقریبات سجائیں، سید فیاض شاہ صاحب ہوں یا میاں ریاض صاحب یا چوہدری اسلم صاحب سب نے محبتیں بکھیریں۔
    سب تقریبات ہی یاد گار رہیں لیکن جو تقریب زاہد شکور چوہدری نے پاکستان اسکول کے بڑے ہال میں عمران علی چوہدری کے لیے رکھی وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی۔ اس تقریب میں زاہد چوہدری کے ساتھ ساتھ کمیونٹی کے بہت سے لوگوں نے دن رات کام کیا۔ ان کے نام لوں گا تو فہرست ختم نہیں ہو گی۔ ہر آنکھ نمدیدہ اور افسردہ تھی۔ ہال فیملز سے کچھا کچھ بھرا ہوا تھا لوگ ہال کے علاوہ بہت بڑی تعداد میں باہر بھی موجود تھے۔ تقریب تقریبا چار گھنٹے جاری لوگوں کے خیالات اور ان کے جذبات ایسے تھے کہ ختم ہونے کو نا آتے۔ وقت بھاگ رہا تھا انسان کی یادیں رہ جاتیں ہیں۔ پورا ہال افسردہ تھا۔ دعائیں دلوں سے نکل رہیں تھیں۔ پتہ نہیں ایسے انسان جو انسانیت کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیں کیوں اتنی جلدی انکا سروس ٹائم ختم ہو جاتا ہے۔ علی عمران چوہدری کو بہت سی محبتوں ، دعاوں اور نمدیدہ آنکھوں سے رخصت کیا گیا۔ اللہ سے دعا ہے علی عمران چوہدری ہمیشہ خوش و آباد رہیں۔

    سجاد احمد

    سجاد احمد

  • پیپلز پارٹی عمان کے نائب صدر کی گورنر پنجاب  سے ملاقات

    پیپلز پارٹی عمان کے نائب صدر کی گورنر پنجاب  سے ملاقات

    پیپلز پارٹی عمان کے نائب صدر کی گورنر پنجاب  سے ملاقات 

    پیپلز پارٹی عمان کے نائب صدر چوہدری کاشف اقبال گجر کی گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے گورنر ہاؤس میں، مسقط سے تشریف لائے وفد کے ہمراہ خصوصی ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں گورنر صاحب کی خوش دامن کے انتقال پر اظہار افسوس و فاتحہ پڑھی، عمان وزٹ کے متعلق اپڈیٹ پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

    پیپلز پارٹی عمان کے نائب صدر کی گورنر پنجاب  سے ملاقات

    اس ملاقات  کا اہتمام مسقط کی معروف سماجی و فلاحی شخصیت شاندار بخاری صاحب نے کیا، ملاقات میں سما ٹی وی سے ڈاکٹر عرفان اور سلطان سڈڈ فارم کے روحِ رواں چوہدری عاقب جاوید گجر بھی شامل تھے۔

    رپورٹر: عاقب جاوید گجر

  • طوفان ٹل جانے کے بعد

    طوفان ٹل جانے کے بعد

    طوفان ٹل جانے کے بعد

    تحریر
    شاندار بخاری – مقیم مسقط

    طوفان جسے زبان عام میں تیز بارشوں، ہواؤں کا سلسلہ کہتے ہیں لغت میں اس کے درج ذیل معانی بھی ہیں؛ (شور و غوغا، باد و باراں کی زیادتی، آندھی، سیلاب، بہتان، تہمت، طغیانی، آفت، قہر، گھپ اندھیرا، مرگ عام وبا، ناگہانی موت، قتل، ظلم) غرض کے باد و باراں کے علاؤہ طوفان کو ان مصطلحات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر فلاں صاحب نے تو طوفان برپا کر دیا، اس طرح یہ امر ربانی سے معرض وجود میں آیا قدرتی آفات کا مرکب انسانی حوالوں میں بھی ضرب الامثال کے طور استعمال ہوتا ہے۔طوفان یوں سمجھیے کہ ایک بے وطن ، سٹیٹ لیس ، بنجارہ بادشاہ ہے جو کہ ازل سے ابد تک سفر میں ہے اس کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں خواہ وہ ہزاروں سال قبل طوفان نوح کےوقت کا واقع ہو، فرعون کے دریا میں غرق ہونے سے لیکر موجودہ ادوار کے گونُو، کترینہ وغیرہ بھی اسی کی نسل سے چلے آ رہے ہیں اور جب یہ صدیوں کا آوارہ مزاج اپنے قافلے سمیت آسمانوں کی سیر کرتے ہوئے زمین پر اترتا ہے تو اپنے محور میں جہاں وہ تخت نشیں ہوتا ہے ایسے ساتھیوں کو اتارتا ہے جو ہر سمت خوف و ہراس برپا کردیتے ہیں، یہ ساتھی وہ گمنام سپاہی ہیں جو توڑ پھوڑ، قتل و غارت اور لوٹ مار کا بازار سجاتے ہیں ان سپاہیوں کیوجہ سے جتنا خوف پھیلتا ہے طوفان بادشاہ اس کی خوشی میں پھولتا پھلتا ہے اور تقویت پاتا ہے۔کچھ دن زمیں کی سیر کر کے نظام قدرت میں مخل ہو کر افراتفری اور نقصان پہنچا کر اپنے مقصد میں کامیاب ہو کر طوفان بادشاہ اپنے قافلے اور قبیل کے ہمراہ کسی اور منزل کیطرف اڑان بھرتا ہے اور رخت سفر باندھ لیتا ہے۔ جسے عرف عام میں ہم یوں کہتے ہیں کہ طوفان تھم گیا ہے یا ٹل گیا ہے۔

    طوفان تھم جانے کے بعد جب اگلے دن سورج کی پَو پھوٹنا شروع ہوتی ہے، گرد بیٹھنے لگتی یے، دھندلائے سے منظر نظر میں بیٹھنے لگتے ہیں، کھلے اور دور تک دکھتے صاف آسمان پر قوس قزح کے پار پرندے اڑتے دکھائی دیتے ہیں تو آسمان کے اس حَسِین منظر کے بر عکس زمیں پر دو طرح کے سینیریو پیش ہوتے ہیں؛

    نمبر 1۔ امیر شہر یا صاحب ثروت کو اپنے دریچوں سے لہلہاتے درخت نکھرے ہوئے دالان اس میں رنگ برنگ پھول، چڑیوں کی چہچہاہٹ سنائی دیتی اور یہ دلفریب مناظر دکھائی دیتے ہیں۔

    نمبر2۔ فقیر شہر کو اپنی جھوپڑی کی اُڑی ہوئی چھت، مویشیوں کی لاشیں، گدلے پانی کے بہتے نالے اور مال و اسبابِ زندگی لُٹ جانے، بہہ جانے پر بین کرتے نالے سنائی دیتے ہیں۔ جو متائے حیات تھی لُٹ جانے کا صدمہ انہیں بھی لقمہ اجل بنا دیتا ہے لوگ یہ صدمہ برداشت نہیں کر پاتے اور زہنی دباؤ برین سٹروک، فالج یا جان سے بھی گزر جاتے ہیں۔

    چند روز قبل یہاں رونما ہونے والے مسجد میں دہشتگردی کے ناخوشگوار واقعے کو بھی سینیریو نمبر دو سے مماثلت کے بناء پر طوفان سے تشبیہ دے رہا ہوں اور یہ کیسا طوفان تھا جو جا کر بھی نہیں گیا اور اب آنے والے کئی دنوں، مہینوں اور سالوں تک اس کا اثر ہماری زندگیوں میں شامل رہے گا۔ جو ہمارے محبی اس اندوہناک واقعے میں شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے وہ کبھی زندگی سے بھرپور ہوا کرتے تھے، ان کے بھی سپنے تھے، وعدے تھے جو پورا کرنے تھے، خواہشیں تھیں جو کے دل میں لئیے وہ محنت کرتے تھے ان کے پیاروں کے دلاسے تھے جو انہیں تقویت بخشتے تھے، ان کے والدین، بیوی بچے، بہن بھائی اور دوستوں کی راہ تکتی اکھیاں اب پتھرا جائیں گی لیکن وہ اب کبھی نہیں مل پائیں گے، وہ اپنے پیاروں کو عید پر گلے نہیں لگا پائیں گے، ان کا ہاتھ تھام نہیں سکیں گے، گھر والے ان سے فون پر آخری بات کو یاد کریں گے وہ گلے شکوے انہیں یاد آئیں گے لیکن جانے والے واپس نہیں آئیں گے۔ سب سے بڑھ کو جو دُکھ ہے وہ یہ کہ یہ سب شہید محنت کش افراد تھے اپنے گھر کے واحد کفیل تھے لیکن اب وہ سلسلہ روزگار بھی ان کیساتھ راہیِ مُلکِ عَدَم ہوا۔جو زخمی ہوئے کچھ ان میں سے اب بھی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور جو گھر آگئے ہیں ڈسچارج ہو کر وہ کم سے کم تین ماہ کیلئے بستر پر ہیں یعنی ان کو معاون کی ضرورت ہے دیکھ بھال کیلئے پٹیوں کی تبدیلی، بروقت دوا دینا، ان کی صفائی ستھرائی نیز کے واشروم تک خود نہیں جاسکتے تو ایک بیمار کیساتھ ایک معاون پابند ہے اگر تیس زخمی ہیں تو معاون ملا کر ساٹھ لوگ اس صورتحال سے متاثر ہیں اور سب سے بڑھ کر اب جبکہ یہ مریض تین سے چار ماہ کیلئے بستر پر ہیں تو کام پر بھی نہیں جا سکتے سلسلہ روزگار بھی ان کا منقطع ہے تو اداروں سے اپیل ہے کہ علاج کیساتھ کچھ بیسک سٹائیپنڈ / سیلری / ماہانہ خرچ انہیں دیا جائے جس سے ان کے پیچھے گھروں میں بیٹھے والدین یا بیوی بچے اپنا گزر بسر کر سکیں کیونکہ یہ سب محنت کش طبقے سے ہیں تو روزانہ کی بنیادوں پر ان کی زندگیوں کا سٹرکچر کچھ ایسی گاڑی جیسا ہے کہ جس میں پیچھے والے پہیے روزگار کے زور پر گھومتے ہیں تو جب ان کے کام کا پہیہ گھومتا ہے تو آگے والے جو زندگی کا پہیے ہیں وہ تب ہی گھومتے ہیں اور اس گاڑی کو آگے بڑھاتے ہیں۔

    طوفان بادشاہ تو کب کا جا چکا لیکن اس طوفان کی نسل سے چھوٹے چھوٹے طوفان اب بھی باقی ہیں جو کہ وفات پانے والے اور بچ جانے والے لیکن زخمیوں اور ان کے عون و مددگاروں کی زندگیوں میں مسلسل ہلچل مچائے ہوئے ہیں جس سے ہم سب کو ملکر انہیں نکالنا ہے ان چھوٹے عفریتوں کا مقابلہ کرنا ہے ہمت کیساتھ، یک جہتی کیساتھ، رب العالمین اور اس کے محبوب صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم سے دعا کا استغاثہ کے ذریعے سے۔ یہاں دیار غیر میں مقیم ہم سب مختلف بیک گراؤنڈ کے باوجود ایک خاندان ہیں ہمارے دکھ اور سکھ سانجھے ہیں اپنا بازو ٹوٹتا ہے تو اپنے ہی گلے میں آتا ہے آج ان کی آنکھیں ہماری راہ تکتی ہیں تو کل ہمیں بھی کسی کا انتظار ہوگا۔ صلح رحمی کے احکامات کو مد نظر رکھتے ہوئے اور سب سے بڑھ کر انسانیت کیلئے آہیں ہم سب ملکر کر ایک ہو کر جانے والوں اور بچ جانے والوں کے حامی و ناصر بنیں۔ اس زمن میں ہمارے سفارت خانے اور بالخصوص سفیر پاکستان عزت مآب سفیر پاکستان اور یہاں سلطنت عمان کے مقامی قانون نافذ کرنے والوں اداروں نے ہر ممکنہ سہولت فراہم کی جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں لیکن وہ شکریہ کے جواب میں کہتے ہیں یہ ہم پر واجب ہے یہ کہنا کتنا خوبصورت احساس ہے اور عزت افزا ہے۔

    تحریر کے آخر میں شہداء اور اس روز وہاں موجود افراد ، غائبانہ طور پر موجود (جو فون پر رابطے میں رہے) اور بالخصوص مسجد کی انتظامیہ و والنٹیئرز کی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، زخمی جو کہ اب غازی ہیں ان کے نام بوجوہ درج نہیں کر رہا کیونکہ ہم دیار غیر میں رہتے ہیں اور فی الحال بیشتر کے گھر والوں کو اس سانحہ میں ان کے زخمی ہو نے کا علم نہیں ورنہ وہ غم سے نڈھال اور پریشان ہوں گے اس لئیے آپ سب سے بھی گزارش ہے کے زخمیوں کی حوصلہ افزائی کیلئے آگے آہیں اور یہ بات اپنے تئیں رکھیں تصویر بنائیں تو شئیر نا کریں کیونکہ تصویریں آگے پہنچ جاتی ہیں اور پریشانی کا باعث بنتی ہیں۔

    راہِ حق کے شہدائے 15 جولائی کے نام مندرجہ ذیل ہیں
    رائل عُمان پولیس ڈپارٹمنٹ کے رقیب – یوسف الندابي (سلطنت عُمان)
    باشا جان علي حُسین (ہندوستان)
    حسن عباس (پاکستان)
    غلام عباس (پاکستان)
    سیّد قیصر عباس (پاکستان)
    سلمان نواز (پاکستان)

    طوفان ٹل جانے کے بعد

    Title Image by Myriams-Fotos from Pixabay

  • ریڈ کراس کا شاندار بخاری کو خراج تحسین

    ریڈ کراس کا شاندار بخاری کو خراج تحسین

    ریڈ کراس کا شاندار بخاری کو خراج تحسین

    مسقط ( نمائندہ خصوصی) امریکی فلاحی ادارے ریڈ کراس نے مسقط، سلطنت عُمان میں مقیم پاکستانی شہری سیّد شاندار بخاری کے جرأت مندانہ اور انسان دوست اقدام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں” غیر معمولی ذاتی اقدام” کے اعزاز سے نوازا ہے۔

    ریڈ کراس کا شاندار بخاری کو خراج تحسین

    تفصیلات کے مطابق شاندار بخاری جو ایک سماجی کارکن ہیں، معمول کے مطابق وٹس ایپ پر اپنے دوستوں کے اسٹیٹس دیکھ رہے تھے۔ کہ اچانک ایک اسٹیٹس کو دیکھ کر وہ چونک گئے اور چوکنے ہوگئے۔ اور فوری طور پر اس صورت حال سے نپٹنے کی منصوبہ بندی کرنے لگے۔ یہاں ان کی مارشل آرٹس کی تربیت اور صلاحیتیں نکھر کر سامنے آئیں۔ کہ کس طرح ایسی صورت حال میں خود کو پرسکون رکھ کر ایسے اقدامات کئے جائیں جو کسی بھی حادثے کو ہونے سے پہلے ہی روک لیں۔ اور وہ اس میں کامیاب رہے۔ شاندار بخاری کے بقول ” میں مسلسل اُس سے گفتگو کرتا رہا ، اس وقت اسے قائل کرنا کافی دشور تھا مگر بالآخر میں اس جگہ پہنچنے میں کامیاب ہوگیا جہاں متاثرہ شخص موجود تھا اور یوں میں نے اس کو خودکشی کرنے سے روک کر اس کی جان بچا لی”۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر میں تاخیر کر دیتا تو شاید وہ پنکھے سے لٹک کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتا۔ اُس وقت کو یاد کرتے ہوئے شاندار بخاری کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی خوفناک تجربہ تھا، اور میری دعا ہے کہ کوئی بھی اس وحشتناک صورت حال سے نہ گزرے۔

    شاندار بخاری اپنے والد محترم سیّدزادہ سخاوت بخاری رحمتہ اللہ علیہ کیساتھ
    شاندار بخاری اپنے والد محترم سیّدزادہ سخاوت بخاری رحمتہ اللہ علیہ کیساتھ ان کی وفات سے تقریبا ایک ماہ قبل مسقط کے ایک شاہی محل اور بادشاہ سلطان قابوس رحمۃ اللہ علیہ کی رہائش گاہ کے اعزازی دورے کے دوران لی گئی تصویر

    شاندار بخاری جو معروف سماجی کارکن، ادیب، شاعر اور کالم نگار سیّدزادہ سخاوت علی شاہ بخاری ؒ کے صاحبزادے ہیں ، اپنے والد گرامی کے انسان دوست اور سماجی خدمات کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے مہربان اوردانشور والد کی اچانک وفات سے انتہائی صدمے میں تھا۔ مجھے ذہنی اور نفسیاتی طور پر بہت سے مسائل تھے۔ لیکن میں نے اس صورت حال میں اپنے صدمے کو ہمت میں بدل کر ایک شخص کی جان بچا کر اپنے والد گرامی کی اعلی تربیت کو خراج تحسین پیش کیا۔ بلا شبہ یہ ان کی تربیت کا ہی اثر تھا کہ میں اپنے سارے غم بھلا کر اس شخص کی مدد کو پہنچا۔ انسانیت کی خدمت میرے والد کا مشن تھا جس میں وہ تاحیات مصروف رہے تو آج مجھے جو ایوارڈ ملا ہے یا میں نے اگر کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہے تو اس کا سہرا میرے والد سیّدزادہ سخاوت علی شاہ بخاریؒ کے ہی سر ہے۔

    امریکی ادارے ریڈ کراس نے اس واقعے کی خبر نشر ہونے کے چند ماہ بعد شاندار بخاری کو رمضان المبارک 1445 سے پہلے ان کی اس کارنامے کے اعتراف میں ” غیر معمولی ذاتی اقدام” کے سرٹیفیکیٹ اور تمغے سے نوازا۔

    Red cross Medal

    یاد رہے کہ وہ سلطنت عُمان میں مقیم و خلیجی ممالک اور پاکستان کے پہلے شہری ہیں جنہوں نے ریڈ کراس کی جانب سے یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔ شاندار بخاری نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ذہنی مسائل سے دوچار افراد کے لیے ہاٹ لائن قائم کریں۔

    آخر میں اس ایوارڈ بارے اپنے تاثرات بیان کرتے انہوں نے کہا ” تعریف و ستائش آپ کےجذبوں کو مزید مہمیز کرتی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میری وجہ سے ایک انسانی جان بچ گئی۔ ایسی کوششیں انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھنے والوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہونگی۔

  • سفارتخانہ پاکستان عمان کے اعزاز میں افطار ڈنر

    سفارتخانہ پاکستان عمان کے اعزاز میں افطار ڈنر

    سفارتخانہ پاکستان عمان کے اعزاز میں افطار ڈنر کا انعقاد

    مسقط (سیّد زیب حسن) مسقط کی معروف کاروباری شخصیت احمد گھمن صاحب نے گزشتہ روز مسقط کے سب سے بہترین پاکستانی ریستوران میرٹھ ہوٹل الوطیہ میں سفارتخانہ عمان اور مسقط کی پاکستانی کمیونٹی کے اعزاز میں افطار پارٹی کا انعقاد کیا ، اس بہترین تقریب میں سفارتخانہ پاکستان سے قونصلر ویزہ سیکشن جناب سلمان بن طارق اور کمرشل اتاشی جناب عشرت حسین بھٹی صاحب نے خصوصی شرکت فرمائی۔

    سفارتخانہ پاکستان عمان کے اعزاز میں افطار ڈنر

    پاکستان کمیونٹی سے چیئرمین پاکستان سکولز عمان محترم امیر حمزہ صاحب ، چیئرمین عمان ٹیپ بال کلب جناب زاہد شکور صاحب ، معروف بزنس مین احمد رضا قادری ، محمد آصف ، سیکرٹری عمان ٹیپ بال کلب محسن شیخ ، معروف سماجی شخصیت سید شاندار علی شاہ بخاری ، مظہر شیخ ، ولید بنوری ، انجیئر امیر حمزہ ، انجینئر سید عقیل عباس ، محمد زیشان ، میزان احمد گھمن صاحب کے صاحبزادوں سمیت راقم الحروف نے شرکت کی ۔

  • مسقط میں محنت کشوں کے لئے افطار

    مسقط میں محنت کشوں کے لئے افطار

    مسقط میں محنت کشوں کے لئے افطار

    مسقط میں محنت کشوں کے لئے افطار

    مسقط ، سلطنت عمان ( نمائندہ خصوصی) سلطنت عمان کے دارالحکومت مسقط کے صنعتی علاقے معبیلہ میں پاکستان زندہ باد فورم کے تحت پانچ سو سے زیادہ محنت کش بھائیوں کے افطار کا اہتمام کیا گیا۔ پاکستانی سفارت خانے سے عزت مآب سفیر محترم ڈاکٹر عمران علی چوہدری صاحب کی خصوصی ہدایات پر نائب سفیر بلال حسن صاحب ، کمیونٹی ویلفئیر اتاشی عتیق الرحمٰن خان صاحب اور ٹریڈ کونسلر عشرت حسین بھٹی صاحب نے شرکت کی۔ یاد رہے کہ کمیونٹی افطار کا یہ سلسلہ سیاسی، سماجی راہنما اور علمی و ادبی شخصیت سیّدزادہ سخاوت علی شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے چند ساتھیوں کیساتھ مل کر شروع کیا تھا.

    مسقط میں محنت کشوں کے لئے افطار

    ان کے انتقال کے بعد ان کے جانشین سیّدزادہ شاندار علی شاہ بخاری نے احباب کے ساتھ مل کر اس سلسلے کو جاری رکھا ہوا ہے۔شاندار بخاری کا کہنا ہے کہ ہم سب مل کر یا کمیونٹی میں سے کوئی بھی اس کا اہتمام اپنے اپنے طریقے سے کرتے رہتے ہیں۔ رواں سال اور سال گزشتہ چوہدری منور حسین سیال ، چوہدری ارشد علی سیال اور چوہدری تصور حسین سیال کے تعاون سے اس کا اہتمام کیا گیا۔انتظامی امور میں عمران صدیقی صاحب اور حافظ محمد ابراہیم صاحب نے خصوصی تعاون کیا۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اس سلسلے کو قائم رکھے اور تمام منتظمین اور احباب جنہوں نے تعاون کیا ان کو سلامت با کرامت رکھے ، آمین ۔

    گلوبل منی ایکسچینج سے ان کے مارکیٹنگ مینجر محمد عثمان صاحب کا بھی شکریہ جنہوں نے والنٹیئرلی تمام روزے داروں اور مہمانوں کیلئے تحفوں کا انتظام کیا ۔