سیّدزادہ شاندار علی شاہ بخاری نے جنرل سیکریتری کا منصب سنبھال لیا
مسقط سلطنت عمان (نمائندہ خصوصی)پاکستان رائیٹرز یونین نے جناب محمد علی فضل کو سلطنت آف عُمان چیپٹر کا صدر اور جناب سیّدزادہ شاندار علی شاہ بخاری کو بطور جنرل سیکریٹری مقرر کر دیا ہے.
محمد علی فضل
شاندار بخاری
پاکستان رائیٹرز یونین نے سلطنت آف عُمان چیپٹر کیلئے پنجابی زبان کے ممتاز شاعر اور ” مٹی ہیٹھ تماشا ” کے خالق محمد علی فضل کو عبوری صدر مقرر کر دیا گیا ہے ۔ محمد علی فضل 26 ستمبر سے اپنی ذمہ داری سنبھال چکے ہیں اور نثر نگار سیّدزادہ شاندار علی شاہ بخاری کو عبوری جنرل سیکریٹری کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ سیّد شاندار بخاری 2 اکتوبر سے اپنی ذمہ داری سنبھال چکے ہیں۔ اس موقع پر محمد علی فضل اور شاندار بخاری نے پاکستان رائیٹرز یونین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور خلوص نیت سے اس منصب پر پورا اترنے کا عزم بھی کیا۔
( صحرائے عرب میں صبح کس انداز سے نمودار ہوتی ہے ۔ نسیم صبح کے ناقابل یقین ، معطر اور مسحور کن جھونکوں کی کہانی )
تحریر :
سیّدزادہ سخاوت بخاری
اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والے خواتین و حضرات نے صبح اودھ اور شام بنارس کا محاورہ کئی مرتبہ پڑھا ہوگا ۔ اودھ ( Awadd ) بھارت کی موجودہ ریاست اتر پردیش (UP) کے اندر ایک مسلمان ریاست تھی جس کا اولین دارالحکومت فیض آباد اور پھر لکھنوء بنا ، جو ابتک اترپردیش کا دارالحکومت ہے ۔
اسی طرح ہندووں کا قبلہ و کعبہ بنارس کا مشہور شہر بھی ، صوبہ یوپی کے اندر دریائے گنگا کے کنارے واقع ہے ۔ بنارس کا نام بی جے پی ( BJP ) حکومت نے بدل کر وارانسی رکھ دیا ہے لیکن لکھنوء جو ابتک اپنے پرانے نام سے ہی پکارا جاتا ہے ، کبھی سابقہ ریاست اودھ کا دارالحکومت تھا لھذا محاورے میں اودھ سے مراد لکھنوء کا شہر لیا جاتا ہے ۔ ان دو تاریخی شہروں میں سے ، بنارس کی صبح اور لکھنوء ( اودھ ) کی شام نے ، اسقدر شہرت پائی کہ محاورے کی حیثیت اختیار کرکے اردو ادب میں شامل ہوگئیں ۔
بنارس ، موجودہ وارانسی ، ہمارے مکہ اور مدینہ کی طرح ہندو مذہب کا پوتر (پاک اور مقدس ) شہر ہے ۔ یہاں سینکڑوں چھوٹے بڑے مندر ہیں ۔ یہ تاریخی اور مذہبی شہر اس دریائے گنگا کے کنارے آباد ہے جس میں ہندو عقیدے کے مطابق اشنان کرنے ( نہانے سے ) تمام سابقہ گناہ جھڑ جاتے ہیں ، جیسا کہ ہم مسلمان حج کرنے کے بعد اپنے آپ کو سابقہ گناہوں سے صاف شفاف اور پاک سمجھ لیتے ہیں حالانکہ ایسا ہے نہیں ۔ اگر گنگا میں اشنان اور حج کرنے سے سابقہ گناہ دھل جانا درست قرار دیا جائے تو پھر تمام چور ڈاکو اور مجرم ، لوٹی ہوئی دولت سے ہر سال حج کرکے یوم حساب سے پہلے پہلے پاک صاف ہوکر ڈائریکٹ جنت میں داخل ہوجائینگے ۔ وضاحتا عرض کردوں کہ ادائے حج سے حقوق اللہ میں کی گئی کمی بیشی میں رعائت ضرور ملتی ہے لیکن حقوق العباد کا حساب جوں کا توں رہیگا ۔
معافی چاہتا ہوں بات کہاں سے کہاں نکل گئی ، بتا یہ رہا تھا کہ بنارس ہندووں کا مقدس شہر ہے جہاں کی صبح بہت سہانی ہوتی ہے ۔ مسلمانوں کی صبح کی آذان کے ساتھ ہی سینکڑوں مندروں سے پوجا پارٹ کے لئے گائے جانیوالے بھجنوں اور گھنٹیوں کی سریلی آوازیں فضاء میں موسیقی بھر دیتی ہیں ۔ جیسے ہی ٹنا ٹن کی موسیقی گونجتی ہے ، شہر بھر کے ہندو نیند چھوڑ کر ہاتھوں میں گیندے کے پھول اور گڑویاں اٹھائے ، گنگا ماتا کے اشنان کے لئے نکل پڑتے ہیں ۔ کہتے ہیں جب سورج دیوتا ، گنگا میں ڈبکی لگاکر اپنی پہلی کرن بنارس پر پھینکتا ہے تو سورج بنسی ( سورج دیوتا کے پجاری ) گڑویوں میں گنگا جل ( گنگا کا پانی ) بھر کر اس کی آرتی اتارتے ہیں ۔ جیسے ہی پوجا مکمل ہوئی پجاری اپنے اپنے گھروں کو لوٹ چلے ۔
بنارس جہاں صبح کی گھنٹیوں اور پوجا پارٹ کے لئے مشہور ہے وہیں اس شہر کے مسلمان بافندوں ( کپڑا بنانے والوں ) کی کھڈی سے بنائی ہوئی ، ریشمی ساڑھیاں ، دنیاء بھر میں پسند کی جاتی ہیں ۔ اسی طرح بنارسی ٹھگوں کے علاوہ ، بنارس کا پان اسقدر چٹخارے دار ہوتا ہے ، کہ اس پر نغمہ نگار انجان نے فلم ڈان کے لئے گیت لکھ ڈالا ۔ کشور کمار کی آواز میں گائے اس نغمے کے بول ہیں ،
او کھائی کے پان بنارس والا
کھل جائے بند عقل کا تالا
کھائی کے پان بنارس والا
قصہ مختصر ، جہاں ہمیں ، صبح بنارس ، گھنٹیوں کی ٹنا ٹن موسیقی اور پوجا پارٹ کے جلوس میں ، گیندے کے پھولوں سے لدی نارنجی ساڑھی پہنے ، گنگا کنارے نمودار ہوتی نظر آتی ہے ، وہیں شام اودھ ( لکھنوء کی شام ) ، بال بکھرائے ، گھنگھرووں کی چھنا چھن اور طبلے کی تھاپ پر طوائفوں کے کوٹھوں سے اترتی دکھائی دیتی ہے ۔ ریاست اودھ کے آخری تاجدار کنگ واجد علی شاہ کے دور تک لکھنوء جہاں علم و ادب اور تہذیب کا گہوارہ تھا وہیں اس کی طوائفیں ( بائیاں ) رقص سرود کے ساتھ ساتھ شرفاء اور نوابین کے بچوں کو تہذیب سکھانے کے اداروں کے طور پر جانی جاتی تھیں ۔ بڑے بڑے امراء اپنے بچوں کو آداب محفل سکھانے ان کے پاس بھیج دیتے ۔
شام ہوتی ہی بازار ، موتیے ، چنبیلی اور گلاب کے گجروں سے سج جاتے ۔ تازہ پھولوں کی خوشبو سے معطر ہر گلی کے چوباروں اور جھروکوں سے کسی امراؤ جان کی صداء بلند ہوتی ،
اک تم ہی نہیں تنہاء الفت میں میری رسوا
اس شھر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں
اگرچہ لکھنوء کی شام کا یہ ایک تہذیبی پہلو ہے لیکن شاید اسی عیاشی اور فحاشی نے ہندوستان کی مسلمان ریاستوں کو نیست و نابود کرکے رکھ دیا ۔
امراؤ جان
بنارس اور لکھنوء کی یہ دلچسپ و دل آویز کہانی اس لئے سنانا پڑی ، کہ میراجب بھی صحرائے عرب سے گزر ہوا ، وہاں کی صبح و شام کے سہانے پن نے اسقدر متاثر کیا کہ اردو ادب کا طالبعلم ہونے کے ناطے
” صبح بنارس – شام اودھ ” کا محاورہ یاد آگیا ۔
گزشتہ تقریبا نصف صدی سے سرزمین عرب کے ملک سلطنت عمان میں مقیم ہوں ۔ متعدد مرتبہ پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کے لئے شہروں سے نکل کر صحراء میں گشت کیا ۔ یاد رہے عمان کے کل رقبے کا 82% ریگستان ، 15% پہاڑ اور صرف 3% ساحلی میدانوں پر مشتمل ہے ۔ ریگستان یا صحرائی رقبہ اگرچہ بہت زیادہ ہے لیکن اللہ نے اسی صحراء کے نیچے تیل و گیس کی جھیلیں چھپا رکھی ہیں اور ان ہی قدرتی خزانوں نے ، اس سلطنت کو ، دھن دولت سے مالا مال کررکھا ہے ۔ عمان کا مستطیل نماء ( Rectangular ) صحراء کم و بیش 1000 کلو میٹر طویل اور مختلف مقامات پر تقریبا 400 سے 500 کلومیٹرز تک چوڑا ہے ۔
جن لوگوں نے کبھی صحراء نہیں دیکھا ان کے علم کے لئے بتاتا چلوں کہ صحراء زیادہ تر ہموار میدان کی طرح ہوتا ہے ۔ تا حد نگاہ ، ریت کا میدان لیکن کوئی سبزہ یا درخت نظر نہیں آتا ، البتہ کہیں کہیں صحرائی جڑی بوٹیاں اور صحراء کے پھول ، نہ جانے کن نگاھوں کے انتظار میں ، کسی دیہاتی حسینہ کی طرح ، شرماتے ، لجاتے اور لہلہاتے دکھائی دیتے ہیں ۔
یہاں مجھے علامہ اقبال کی ایک غزل کے دو اشعار یاد آگئے ، فرماتے ہیں ،
” پھول ہیں صحراء میں یا پریاں قطار اندر قطار
اودے اودے نیلے نیلے پیلے پیلے پیرہن
( مطلب :
صحراء کے پھولوں پر نظر پڑنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے ، کہ جیسے ، خوبصورت پریاں ، پرپل ، نیلے اور پیلے لباس زیب تن کئے قطاریں بناکر کسی کے استقبال کے لئےکھڑی ہیں )
اسی غزل کے ایک اور شعر میں کہتے ہیں ،
” حسن بے پرواہ کو اپنی بے حجابی کے لئے
ہوں اگر شہروں سے بن پیارے تو شہر اچھے کہ بن
( مطلب :
قدرتی حسن کے نظاروں کو اس لئے ” حسن بے پرواہ ” کہا جاتا ہے کہ وہ کسی سے داد طلب نہیں کرتے ، نہیں پوچھتے ہم کیسے لگ رہے ہیں ۔ اپنی ذات میں گم رہتے ہیں ۔
کہا ، اگر حسن بے پرواہ کو اپنی نمائش کے لئے شہروں اور آبادیوں کی بجائے ، بن ، یعنی جنگل اور ویرانے پسند ہوں تو بتائیے شہر اچھے یا جنگل اور ویرانے )
صحراء میں آبادی نہ ہونے کے برابر ہے ، لیکن بعض مقامات پر خانہ بدوش بدو ، اپنے اونٹ اور دیگر جانور لئے عارضی جھونپڑوں میں مقیم نظر آتے ہیں ۔ سمندر سے قریب علاقوں میں چند مستقل آبادیاں ، گاؤں اور ٹاون بھی ہیں ۔ جہاں کے لوگ اونٹ اور بھیڑ بکریاں پالنے کے ساتھ ساتھ ، سمندر سے مچھلیاں پکڑ کر کاروبار زندگی چلاتے ہیں ۔
کہانی طویل ہوتی جارہی ہے لیکن میرے معزز قارئیں اکثر و بیشتر شکوہ کناں رہتے ہیں کہ شاہ جی ، جب ہمیں تحریر اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے تو آپ اسے ختم کردیتے ہیں لھذا صحراء سے متعلق ، چند اور مشاہدات و تجربات بھی تحریر کئے دیتا ہوں ۔
عمان کے منطقہء شرقیہ ( Eastern Region ) میں ایک دور دراز شہر ، دقم ( Duqam ) کی سمت دوران سفر مجھے سڑک کنارے پانی کی ایک ننھی سی جھیل اور اس کے آس پاس کھجور کے چند درخت ، آنے جانے والوں سے بے خبر و بے نیاز اپنی ذات میں گم ، کسی مست ملنگ کی طرح ، ہواء کے جھونکوں پہ جھولتے اور جھومتے نظر آئے ۔ میرے لئے یہ نظارہ پرکشش اور حیران کن تھا ۔ بے آب و گیاہ صحراء کے بیچوں بیچ پانی کی جھیل اور سرسبز درخت کہاں سے آگئے ۔
اپنے سکھ ڈرائیور سے کہا ،
گاڑی روکو ، مجھے اس نظارے سے لطف اندوز ہونا ہے ۔ سرجیت سنگھ نے گاڑی تو روک دی لیکن مجھے گاڑی سے اتر کر جھیل کے پاس جانے سے منع کردیا ۔ وجہ پوچھی ۔
کہنے لگا ،
شاہ جی !
میں اس علاقے میں پہلے بھی کام کرچکا ہوں ۔ اس پانی کو علاقے کے لوگ
” جنات کی جھیل "
کہتے ہیں ۔ یہاں جنات کا ڈیرہ ہے ۔ جو پانی کے قریب جائے واپس زندہ نہیں لوٹتا ۔ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہنے لگا ،
جب اس علاقے میں ترقیاتی کام شروع ہوئے تو ایک پاکستانی نے ، اپنے واٹر ٹینکر کے ذریعے یہاں سے پانی بھر کر ادھر ادھر بیچنا شروع کردیا جس پر جنات نے اسے کئی مرتبہ سامنے آکر کہا کہ دوبارہ اس طرف مت آنا لیکن وہ نہ مانا اور باالآخر ایک دن اسی جھیل کنارے ، ٹینکر کے پاس ، اس کی لاش پڑی ملی ۔ وہ دن اور آج کا دن کوئی مقامی یا خارجی شخص اس پانی کے قریب نہیں جاتا ۔ بلکہ تمام ڈرائیورز تیزی سے گاڑی بھگا کر یہاں سے گزر جاتے ہیں ۔
اس روائت میں کتنا سچ ہے میں نہیں جانتا لیکن اکثر لوگوں سے یہی کہانی سنی ۔ ویسے یہ پانی کسی عجوبے سے کم نہیں ۔ لق و دق صحراء کے بیچوں بیچ ، کھڑے پانی کا یہ ذخیرہ دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔
بات چل نکلی ہے تو یہ بھی جان لیجئے کہ سمندر کی طرح صحراء میں بھی ہواء کے زور سے ریت کے طوفان اٹھتے ہیں ۔ ہم دو دوست ، ایک صحرائی سڑک پر سفر کررہے تھے کہ دور افق پر ہمیں کالی آندھی ہماری سمت آتی دکھائی دی ۔ سمجھ گئے ریت کا طوفان آرہا ہے ۔ گاڑی ایک طرف کھڑی کرکے شیشے بند کرلئے ۔ چند ہی لمحوں میں طوفان نے ہمیں آن لیا ۔ ریت ، گاڑی کی ونڈ اسکرین اور شیشوں سے چھو کر ایسے گزر رہی تھی جیسا کہ تیز بارش کا پانی بہتا چلا جاتا ہے ۔ کم و بیش 20 منٹ میں جب یہ طوفان گزر گیا تو جان میں جان آئی اور ہم نے سفر دوبارہ شروع کیا ۔
صحراء میں طوفانی ہواوں کے علاوہ ایسی فنکار ہوائیں بھی پائی جاتی ہیں جو ریت کو اڑا کر ٹیلے کی شکل دے دیتی ہیں ۔ آپ ایک ہی سڑک سے بارہا گزریں ، سڑک کے ارد گرد کے مناظر بدلے ہوئے ملینگے ۔ کبھی چھوٹے چھوٹے ٹیلوں کی قطاریں تو کبھی ایک بڑا ٹیلا ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی ماہر انجنیئر نے بڑی مہارت سے ٹیلے بنائے ہوں ۔ یہی نہیں بلکہ فرصت کے اوقات میں ، ہواء ، ان ٹیلوں پر گل کاری بھی کرتی ہے ۔ ایسے ایسے نقش و نگار بنے نظر آتے ہیں کہ انسان دیکھتا رہ جائے ۔ صحراء کی ایسی ہی ایک تصویر جب میں نے اردو کے معروف شاعر مرحوم شبنم رومانی کو مسقط میں دکھائی تو بے ساختہ بول پڑے ،
بخاری صاحب یہ ہواء کی شاعری ہے۔
اسی صحراء میں مجھے مٹیالے بلکہ ہو بہو ریت کی رنگت کا سانپ دیکھنے کو ملا ۔ تقریبا ڈیڑھ فٹ لمبا ، یہ انتہائی زہریلا سانپ ، شکار کو پھانسنے کے لئے اپنا پورا بدن ریت میں چھپا لیتا ہے ۔ صرف سر کا تھوڑا سا حصہ اور آنکھیں باہر رکھتا ہے ۔ آپ اسے نہیں دیکھ سکتے مگر یہ سب کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔ جیسے ہی کسی انسان یا جانور نے اس کے قریب پاوں رکھا ، ڈس لیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آئل کمپنیوں کے اہلکار اور وہ لوگ جو صحراء میں کسی بھی کام سے جائیں ان کے لئے لانگ سیفٹی بوٹ پہننا لازمی ہوتا ہے تاکہ ان سانپوں سے محفوظ رہ سکیں ۔
صحراء کا سب سے بڑا اور عام پایا جانیوالا جانور اونٹ ہے جو آپ کو جا بجاء چلتا پھرتا دکھائی دے گا ۔ کبھی کبھی یہ حضرت پکی سڑک پر آکر بیٹھ جاتے ہیں اور رات کے وقت کئی مرتبہ ، کسی اندھے موڑ پر گاڑیوں سے ٹکرا کر بڑے حادثات کا باعث بنتے ہیں ۔
جیسا کہ پہلے بیان کیا ، اسی صحراء کے نیچے اللہ نے تیل اور قدرتی گیس کے خزانے چھپا رکھے ہیں لھذا صحراء کے طول و عرض میں حکومتی کمپنی ، پیٹرولیم ڈیویلپمنٹ عمان ( PDO ) کے زیر اہتمام آئل اینڈ گیس فیلڈز ( Oil & Gas Fields ) کے کیمپس قائم ہیں ۔
مجھے اپنے فرائض منصبی کے سلسلے میں اکثر مختلف فیلڈز اورکیمپس میں جانے اور وہیں قیام کرنے کا موقع ملا جو صحراء کے اندر ، سمندر کے جزیروں کی طرح بیابان میں الگ تھلگ بنائے گئے ہیں ۔
پہلی مرتبہ جانا ہوا تو ڈرائیور نے کہا ،
شاہ جی ! صبح سویرے اٹھیئے گا آپ کو ایک نظارہ دکھاونگا ۔ چنانچہ فجر کی آذان سے پہلے ہی جاگ کر تیار ہوگیا ۔ ڈرائیور نے دروازے پہ دستک دی ۔ باہر آیا تو ہواء کے خوشگوار جھونکوں نے استقبال کیا۔
قارئین کرام
مجھے اپنی زندگی میں ایسی خوشگوار ہوا کا تجربہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا جو اس صحراء کے اندر خراماں خراماں رواں دواں تھی ۔ ہم کیمپس کی کھلی راہداریوں میں چکر کاٹ کر اس ریشمی ہوا سے لطف اندوز ہوتے رہے ۔ اس کے بعد سے تو ہر مرتبہ صبح کاذب کی سیر میرا معمول بن گئی ۔
ریشم کا ذکر آتے ہی ہمارے ذہن میں نرماہٹ اور ملائمت کا تصور پیدا ہوتا ہے ۔ یقین جانئیے اس ہوا کو اس سے بھی زیادہ ملائم ، خوشگوار اور اسقدر معطر پایا کہ روح تازہ ہوگئی
مجھے اکثر ایسے لگا کہ شاید یہ جنت کی ہواء ہے یا ماں کے دوپٹے کی ہواء ہے ۔۔
آپ کے علم کے لئے بتاتا چلوں کہ اسی ہوا کو عربوں نے ” نسیم ” کا نام دیا ۔ ہمارے ہاں نسیم نام عام ہے ۔ یہ دراصل صحراء میں جنت سے آنیوالی ہوا کا عربی نام ہے ۔
اسی نسیم کو لیکر مسلمان شعراء نے اردو ، پنجابی ، عربی اور فارسی زبان میں سینکڑوں اشعار کہے ،
مثال کے طور پر ، معروف فارسی شاعر ، عاشق رسول ، حضرت مولانا
عبدالرحمن جامی رحمة اللہ کی نعت کا یہ شعر کس نے نہیں سنا ،
وہ نسیم صبح سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں ،
” نسیما ! جانب بطحاء گزر کن
ز احوالم محمدؐ را خبر کن "
مطلب :
اے نسیم ! تو بطحاء یعنی مدینہ شریف کی طرف چل اور میرے آقا و مولا حضرت محمد ﷺ کو میرا حال بتا کہ میں ان کے ہجر میں کسقدر بےچین اور ملنے کے لئے بیتاب ہوں ۔
انوکھی اداء رکھنے والی باد نسیم ، صبح کاذب یا فجر کی آذان سے پہلے ، کسی ریشم پوش شہزادی کی طرح دبے پاوں چلنا شروع کردیتی ہے لیکن شاید اس کی سورج دیوتا کی بیٹی کرن سے نہیں بنتی لھذا پہلی کرن کے صحراء پر قدم رکھتے ہی ، حیران کن طور پر ، ایسے غائب ہوجاتی ہے کہ جیسے کسی نے بٹن دباکر پنکھا بند کردیا ہو ۔ ادھر پہلی کرن نمودار ہوئی ادھر میڈم نسیم ایسے روپوش جیسے بالاخانے کی کھڑکی سے جھانکتی حسینہ ، کسی اجنبی کو دیکھ کر فورا دریچہ بند کرلیتی ہے ۔
یوپی والوں نے صبح بنارس اور شام اودھ تو بیشک ڈھونڈھ لی ، لیکن نسیم صبح کے تجربے سے محروم رہے ورنہ بنارس کے مندروں میں فجر کے وقت بجنے والی گھنٹیوں کی موسیقی ، گنگا ماتا کی روانی اور لکھنوء کی گجروں سے سجی شامیں اور امراو جان کے مدھر تانوں پر کئے جانیوالے کتھک ڈانس کو بھول جاتے ۔
معروف کاروباری شخصیت اور مسلم لیگ نون عمان کے پریزیڈنٹ جناب محمد علی فضل صاحب کے اعزاز میں سلطنت عمان کے صوبے ظفار کے شہر صلالہ میں مقیم کمیونٹی کی طرف خوبصورت تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
اس تقریب میں چوہدری مقصود بٹ، فضل حسین صاحب، میاں فیاض شریف صاحب، ملک پرویز اختر صاحب اور جاوید اقبال بٹ صاحب، ملک اکرم صاحب نے شرکت کی۔
سلطنت عُمان اور پاکستان کے آپسی تعلقات برادرانہ اور آپسی تعاون پر مبنی ہیں۔ عمان کا اسلام آباد میں سفارت خانہ اور کراچی میں قونصلیٹ جنرل ہے، جب کہ مسقط میں پاکستان کا سفارت خانہ ہے۔
عرب ممالک میں عُمان پاکستان کا سب سے قریب تر ہمسایہ ہے اور یہاں سے کراچی تک کا سفر صرف 1 گھنٹہ اور 15 منٹ کا ہے، اور دونوں ممالک کی ایک دوسرے کے ساتھ سمندری حدود مشترک ہیں۔ اس وقت کم و بیش 3 لاکھ پاکستانی سلطنت عمان میں مقیم ہیں۔ بلوچستان کی اہم بندرگاہ گوادر ایک مدت تک عُمان کا حصہ تھا۔ سنہ 2001 میں مرحوم بادشاہ سلطان قابوس کے پاکستان کے دورے کے بعد ان کی تجارتی تعلقات کو مزید تقویت ملی اللہ سلطان الخالد سلطان قابوس کے درجات بلند کرئے آمین اور موجودہ بادشاہ سلطان ھیثم بن طارق بن تیمور کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین جنہوں نے ہم پردیسیوں کیلئیے روزگار کے مواقع فراہم کئیے ، ویزے کے نرخوں میں کمی اور دیگر سہولیات فراہم کیں۔
سلطان عمان ہز میجیسٹی هيثم بن طارق بن تيمور آل سعيد Image by yasser ali from Pixabay
کچھ دن قبل کا واقع ہے کہ عُمان کے صوبے شرقیہ کے ایک گاوں الاشخرہ جو کہ ساحل سمندر سے ملحقہ آبادی ہے اور وہاں زیادہ تر لوگ ماہی گیری سے وابستہ ہیں کے 2 مقامی ماہی گیر علی الجعفری اور سالم الجعفری اپنی کشتی پر سوار سمندر میں محو سفر تھے کے ان کی کشتی (مخصوص طرز کی فشنگ بَوٹ) کا انجن فیل ہوگیا اور واپس لوٹ نہیں سکے نا ہی ان کے پاس کمیونیکیشن کی کوئی سہولت تھی کہ اپنے عزیز و اقارب سے رابطہ کر کے مدد طلب کرتے، اگلے ہی دن سارے شہر اور اس کے بعد ملک میں ان کی گمشدگی کی خبر آگ کی طرح پھیل گئی اور ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہاتھ دعا کیلئیے اٹھ رہے تھے کے یہ دونوں صحیح سلامت واپس آ جائیں لیکن کوئی خبر نہیں آئے دن گزرتے گہے اور ہفتہ گزر گیا لیکن نا تو ان کے اہل خانہ نے امید کا دامن چھوڑا نا ہی عوام الناس نے سوشل میڈیا پر رہ طرف انہی کی خبریں تھیں اور سمندر کے طول و عرض میں ان کی تلاش جاری تھی کہ اسی اثناء میں نویں / 9 دن ایک خوش آئند خبر ایک انجانے نمبر سے کال کی صورت میں موصول ہوئی کہ دونوں ماہی گیر مل گئے ہیں اور اس وقت پاکستان کی بحری حدود میں ہیں اس خبر کا آنا تھا اور پورے ملک میں سجدہ شکر ادا کئیے گئے اور یر طرف پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند ہونے لگے سوشل میڈیا پر تو ایک طوفان سا آگیا اور ہر شخص اس طرح خوش تھا جیسے عید کا سماں ہو۔
١٩ جون کی صبح دفتر جاتے ہوئے ایک کال موصول ہوئی دوسری جانب سے پیغام موصول ہوا کہ ہمارے سینئیر صحافی کو فورا پا کستان کیلئیے روانہ ہونا ہے تاکہ سالم اور علی کے پہنچتے ہی ان کا انٹرویو ریکارڈ کریں اور شئیر کریں تاکہ سارا ملک جو پریشان تھا ان کیلئیے انہیں تسلی ملے۔ میں نے فورا محترم ویزا کونسلر امجد ملک صاحب جو کہ نہایت ہی شفیق اور نفیس طبیعت کے مالک ہیں ان کو کال ملائی اور انہوں نے ریسیو کی حال احوال پوچھا اس کے بعد میں نے عرض کی تو انہوں نے بھر پور تعاون کی یقین دھانی کروائی اور ملنے کا وقت طہ پا گیا اس دوران میں نے سینئیر صحافی محمد العلوی کو پک کیا اور اپنے ہمراہ سفارت خانہ پاکستان لے گیا وہاں ویزا پراسس خوش اسلوبی سے طےپا گیا اور شام کی فلایٹ کراچی کیلئیے براستہ قطر بُک کر لی گئی.
سینئیر صحافی محمد العلوی ، کراچی میں علی اور سالم کا انٹرویو کرتے ہوئے
عمان سے مقامی صحافی پاکستان کیلئیے روانہ ہوئے اور وہاں علی اور سالم کا پہنچنے پر پاکستان نیوی ، عمان قونصل خانہ کے ممبران ، پاک میری ٹائم کے عملے نے پُرتپاک استقبال کیا اس کیساتھ ہی پاکستانی ماہی گیروں کے ایک ٹولے سے بھی متعارف کروایا گیا جو کہ تلاش روزگار میں محو تھے اور دوران سفر انہوں نے اس کشتی کو سمندر کی بے رحم موجوں کی بیچ ہچکولے کھاتے دیکھا جس میں 9 دن سے تپتی دھوپ میں بے یار و مددگار علی اور سالم موجود تھے اور انہیں فورا ریسکیو کیا ان کی اپنے سیٹلائیٹ فون کے ذریعے گھر بات کروائی اور پاکستان نیوی کو مطلع کیا جنہوں نے فورا ان کو وہاں پنچ کر طبی امداد دی اور عزت و وقار کیساتھ کراچی شہر میں مہمان بنایا ، واقعی اس دن یہ پاکستانی ماہی گیر فرشتہ ثابت ہوئے اللہ کیطرف سے مدد ملی اور یہ گیارہویں دن بذریعہ پی آئی اے اپنے وطن عُمان واپس آئے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
اس وقت تمام ملک میں جشن کا سماں ہے ہر مرد و زن جو اردو زبان سے ناواقف ہیں لیکن ” پاکستان زندہ باد ” کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔ سالم الجعفری کے والد اور علی الجعفری کے بھائی اور ان کے رشتے داروں کیطرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ ان کی کشتی جو کہ تقریبا 10،000 ڈالر مالیت کی ہے جمع کیش رقم 10،000 ڈالر اجمالی طور پر 20،000 دالر ان ماہی گیروں کو تحفے میں دئیے جائیں گےجنہوں نے ان کو سمندر میں تلاش کیا اور بحفاظت کراچی تک لے گئے۔
ہم زندہ قوم ہیں عمان پاکستان دوستی زندہ باد، محبتوں کے سفیر پاک وطن کے ماہی گیر پائندہ باد
صبح اٹھا تو حسب عادت فون کو ڈھونڈنا شروع کیا ایسے جیسے کمزور نظروں والے چشمہ ڈھونڈتے ہیں خیر یہ تو روز کی عادت بن چکی ہے کیونکر دن کا آغاز ہی موبائل سے ہوتا ہے ۔ویسے لوگ کتنے بھلے ہیں جو فون کو اب تک بھی سمارٹ فون سمجھتے ہیں اصل میں تو یہ بہت ساری چیزوں کو نگل چکا ہے خدا خدا کر کے فون ہاتھ آیا تو دیکھا کہ آج سوشل میڈیا پر 2 عمان سے تعلق رکھنے والوں شہریوں کی ویڈیو کچھ پاکستانی ماہی گیروں کے ساتھ خوب دھوم مچا رہی رہے کچھ تجسّس بڑھا تو مزید جاننے کی کوشش کی ۔ تو یاد آیا کہ ایک ہفتہ پہلے عمان کے سمندر سے لاپتہ ہونے والے یہ وہی عمانی شہری ہیں جن کی سلامتی کے لئے عمان میں اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خصوصی دعائیں مانگی جا رہیں تھی ان کا تعلق عُمان کے صوبے شرقیہ کے ایک گاوں الاشخرہ سے ہے جو کی ساحل سمندر کے قریب واقع ہے یہ دو مقامی ماہی گیر علی الجعفری اور سالم الجعفری اپنی کشتی پر سوار سمندر روزمرہ کے کام سرانجام دے رہے تھے اور وہیں ان کی کشتی کا انجن فیل ہوگیا اور یہ کشتی سمندر کی بے رحم لہروں کے سہارے پر تھی کیونکہ یہ دو لوگ ہی کشتی پر سوار تھے اور ان کے پاس کمیونیکیشن کی کوئی سہولت موجود نہیں تھی اور جو موبائل تھے ان پر سگنل نہیں موصول ہو رہے تھے اس لیے ان کا کسی سے رابطہ نہ ہو سکا ، اگلے ہی دن سارے شہر اور اس کے بعد ملک بھر میں ان کی گمشدگی کی خبر آگ کی طرح پھیل گئی اور ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہاتھ دعا کیلئیے اٹھ رہے تھے کے یہ دونوں صحیح سلامت واپس آ جائیں لیکن کوئی خبر نہیں آئی کئی دن گزرتے گئے یہاں تک کہ پورا ہفتہ گزر گیا لیکن ان کے اہل خانہ نے امید کا دامن نہیں چھوڑا اور نا ہی عمان کے اداروں نے ہمت ہاری بلکہ سمندرکے طول و عرض میں تلاش جاری رکھی
اسی اثناء میں نویں دن ایک خوشخبری ایک فون کال کی صورت میں موصول ہوئی کہ دونوں ماہی گیر مل گئے ہیں اور اس وقت پاکستان کی بحری حدود میں ہیں انہیں پاکستانی ماہی گیروں کی ایک کشتی نے دیکھا اور ان کو اس بے سروسامانی کی حالت میں دیکھ کر ان کی مدد کو آ پہنچے اور جس طرح پاکستانی ماہی گیروں نے ان کی جان بچائی اور اور ان کو پاکستان میری ٹائم سکیورٹی کے حوالے کیا اور میری ٹائم سکیورٹی نے جس طرح اپنی پیشہ ورانہ مہارتیں بروئے کار لاتے ہوئے انھیں طبی امداد دی اور باحفاظت کراچی پہنچایا اور نئی زندگی دی اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس خبر کا آنا تھا اور پورے عمان ملک میں سجدہ شکر ادا کئے گئے اور ہر طرف پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند ہونے لگے سوشل میڈیا پر تو ایک طوفان سا برپا ہو گیا اور ہر شخص اس طرح خوش تھا جیسے عید کا سماں ہو۔یا ان کا اپنا باپ بیٹے یا بھائی کی خبر ہو۔
سلطنتِ عمان، پاکستان کا اسلامی دوست اور سمندری لحاظ سے ہمسایہ ملک ھے۔ سلطنت عمان کے زیادہ تر لوگ خوش مزاج اور طبیعتا ھمدرد ھیں سلطنت عُمان اور پاکستان کے درمیان برادرانہ تعلقات موجود ہیں ۔ اور دونوں ممالک کی ایک دوسرے کے ساتھ سمندری حدود مشترک ہیں۔ اس وقت کم و بیش 2 لاکھ پاکستانی سلطنت عمان میں مقیم ہیں۔ سنہ 2001 میں مرحوم بادشاہ صاحب جلالہ سلطان قابوس کے پاکستان کے دورے کے بعد دونوں ممالک میں تجارتی تعلقات کو مزید تقویت ملی جو آج تک قائم و دائم ہے سلطنت عُمان سے کچھ مقامی صحافی پاکستان کیلئے روانہ ہوئے اور انہوں نے علی الجعفری اور سالم الجعفری سے خصوصی ملاقات کی اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی کے ان مقامی ماہی گیروں سے بھی ملاقات کی جنہوں نے ان کی جان بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور علی اور سالم نے اپنی کشتی جس کی مالیت 10000 ہزار ڈالر کے لگ بھگ ہے تحفے کےطور پر پاکستان ماہی گیروں کو دے دی اور اس طرح حادثاتی ملاقات کو دوستی میں بدل دیا ۔ اور پھر گیارہویں دن بذریعہ پی آئی اے اپنے وطن عُمان واپس پہنچے جہاں ان کا استقبال دیدنی تھا عمان کے لوگ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے اور یوں لگ رہا تھا جیسے پورا عمان ہی ائیرپورٹ امڈ آیا ہو۔ اور میں آخر میں یہ کہنا چاہوں گا اے میرے وطن کے ماہی گیروں آپ نے عمان کے لوگوں جو عمدہ سلوک کیا ہے اس سے ہم تارکین وطن کا سر بھی فخر سے بلند ہو ا ہے آج آپ کے حسن سلوک کی بدولت ہم جیسے کی توقیرمیں مزید اضافہ ہوا ہے ۔اسے میرے وطن ماہی گیروں ہم بھی آپ کے تہہ دل سے مشکور ہیں
پاکستان عمان دوستی زندہ باد۔ میرے ماہی گیر پائندہ باد
تحریر و تحقیق: مقبول احمد شیخ، مسقط، سلطنت عمان سلطنتِ عمان، پاکستان کا دوست ملک ھے اور ھماری دو لاکھ سے زیادہ افرادی قوت سلطنت عمان کے مختلف شھروں میں روزگار کے سلسلے میں قیام پذیر ھے۔ سلطنت عمان کے زیادہ تر لوگ بھت نرم طبیعت، شیریں زبان اور ھمدرد ھیں یہاں سمندر کے قریب علاقوں میں بسنے والوں کا ذریعہ معاش زیادہ تر ماھی گیری ھے۔ گذشتہ ھفتے عمان کے ایک علاقے أشخره جو کہ عمان کے صوبہ الشرقیہ میں واقع ھے کے دو ماھی گیر علی بن سالم الجعفری اور سالم بن سعید الجعفری حسب معمول اپنی انجن والی کشتی میں ماھی گیری کی غرض سے سمندر میں روانہ ھوئے جب ان کی کشتی بیچ سمندر میں پہنچی تو کشتی کا انجن خراب ہوگیا اور ان کی کشتی لہروں کے ساتھ بہنے لگی وہ ساحل سے اس قدر دور نکل گئے تھے کہ موبائل فون کا نیٹ ورک بھی دستیاب نہیں تھا اب رات ھو چکی تھی اور کشتی کسی نامعلوم سمت میں بہتی جا رھی تھی ساری رات گذر گئی صبح دوپہر میں بدلی پھر شام پھر رات ہوگئی اس اثناء میں کوئی دوسرا جہاز یا کشتی ان کو سمندر میں ان کے قریب نظر نہیں آئی اسی طرح دن گزرتے گئے کھانے پینے کی اشیاء ختم ہو نے کو آگئیں مایوسیوں نے ڈیرے ڈال دیئے ایک ھفتہ گذر گیا ادھر ان کے گھر والوں نے پولیس کو مطلع کیا پولیس کی کشتیوں نے عمان کی سمندری حدود چھان مارا لیکن گم شدہ کشتی کا کوئی سراغ نہ مل سکا علی اور سالم کے گھر والے ان کی واپسی کی امید چھوڑ بیٹھے ان کو علی اور سالم کی موت کا یقین ھونے لوگ ان کے گھر والوں سے افسوس کرنے لگے 9 دن گذر گئے عجیب بات یہ ھے کہ مسقط سے کراچی کی سمندری حدود تقریباً 469 ناٹیکل میل ھے اور 9 دن اور راتوں میں کسی جہاز کی اس کشتی پر نظر نہیں پڑی دسویں دن کراچی میں واقع عمان کے سفارت خانے سے حکومت عمان کو اطلاع دی گئی کہ علی اور سالم بہ قید حیات اور سلامتی سے مل گئے ھیں تفصیل یوں ھے کہ کراچی کے سمندر میں پاکستانی ماھی گیر مچھلی کا شکار کر رھے تھے کہ انہیں ایک لاوارث کشتی نظر آئی جس میں سے دو اشخاص ھاتھ ہلا کر مدد کے لیے پکار تھے۔
پاکستانی ماھی گیر مدد کو لپکے اور انہیں باحفاظت اپنے ساتھ کنارے تک لے آئے اور مقامی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی سے رابطہ کیا جنہوں نے اپنے افسران کے ذریعے علی اور سالم کو کراچی میں واقع عمان کے سفارت خانے کے حوالے کر دیا جیسے ھی یہ اطلاع حکومت عمان کو پہنچی وھاں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور جشن شروع ہوگیا۔ علی اور سالم کے گھر والوں کی حالت دیدنی تھی اللہ کا شکر ادا کیا اور پاکستانیوں کا ڈنکا بجنے لگا پاکستان ژندہ باد کے نعرے گونجنے لگے اور پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ھوگیا۔ پھر وہ گھڑی بھی آگئی جب علی اور سالم کراچی سے رخصت ہوئے اور مسقط ائیر پورٹ پہنچ گئے جہاں ایک جم غفیر ان کا منتظر تھا اور سارا مسقط ائیرپورٹ پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج رھا تھا۔ دوسرے دن علی اور سالم کے گھر والوں نے پاکستانی ماھی گیروں کے لئے جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا یہ اعلان کیا کہ وہ کشتی بمع انجن اور اس کے ساتھ 10 ھزار ڈالر کیش انعام کراچی کے ان ماھی گیروں کو دیا جائے گا جنہوں نے یہ بے مثال کارنامہ انجام دیا ھے۔ ٹوئیٹر ، فیس بک اور سوشل میڈیا پاکستانیوں کے ترانے گا رھے ھیں لیکن افسوس کی بات یہ ھے کی پاکستانی اخباروں، میڈیا یا سندہ حکومت نے اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کی اور مکمل خاموشی اختیار کی ھوئی ھے یہ عمل قابل افسوس ھے۔ اس طرح کے مواقع جہاں پاکستان کا نام دیگر اقوام میں بلند ھو رھا ھو بالکل ضائع نہیں کرنے چاہئیں۔
سلطنت عُمان میں حال ہی میں تعینات ہونے والے پاکستانی سفیر عزت مآب جناب عمران علی چوہدری صاحب سے میری پہلی ملاقات 15 فروری 2022 بروز منگل وینڈیم گارڈن ہوٹل میں ہوئی جہاں میرے بھائیوں جیسے پیارے دوست عزیزم قمر ریاض نے سفیر صاحب کے مہمان اور پاکستان سے آئی ادبی شخصیت پروفیسر توفیق بٹ صاحب کے اعزاز میں ایک ادبی محفل کا اہتمام کیا تھا جس میں مجھے بھی بطور دست راست مدعو کیا گیا تھا ۔
بائیں سے دائیں (راقم ، سفیرِ پاکستان عمران علی اور توفیق بٹ صاحب )
دعوت نامہ پر پروگرام کا وقت 7 بجے کا لکھا تھا اور میرا دفتر چونکہ شہر سے باہر تقریبا 45 منٹ کی مسافت پر ہے اور 6 بجے چھٹی ہوتی ہے تو واجبات سے فارغ ہو کر جلدی جلدی تقریب میں شرکت کیلئیے روانہ ہو گیا کہ کہیں پہنچنے میں تاخیر نا ہو جائے لیکن شو مئی قسمت کے راستے میں ایک مقام پر کافی بھیڑ کا سامنا کرنا پڑا ابھی اس محاذ سے نمٹا ہی تھا کہ گاڑی کی تیل کی بتی روشن ہو گئی خیر اب اس مرحلہ کو بھی عبور کر کے جب میں ہال میں پہنچا تو پتا چلا کہ مہمانوں کو وقت پر اکٹھا کرنے کیلئیے یہ 7 بجے کا جال بچھایا گیا تھا ۔
سیّدزادہ سخاوت بخاری- سرپرست ائی اٹک ای میگزین، سماجی و سیاسی شخصیت
عزیزم قمر ریاض جو کہ خود ایک مشہور ادبی اور سماجی شخصیت ہیں اور ان کو حال ہی مین گورنر پنجاب چوہدری سرور صاحب نے ‘ ایکسٹرا آرڈنری سیٹیزن ‘ کے ایوارد سے نوازا ہے انہوں نے پرتپاک استقبال کیا اور مجھے ایک نہیں بلکہ دو گلدستے پیش کئیے میں ابھی الفاظ تلاش کر ہی رہا تھا کہ اتنی محبت کیسے سمیٹوں قمر نے اپنائیت سے کہا یار جلدی آنا تھا یہ لو گلدستے اور جو مہمان آہیں انہیں پیش کرنا خیر یہ بھی محبت کا ایک انداز ہے ، وہاں موجود دوستوں سے ملاقات ہوئی اور مہمانوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہو گیا اور ایک ایک کر کے مہمانوں کی آمد کا تانتا بندھ گیا ، کرونا کی وجہ سے کافی عرصہ کے بعد ایسی محفل کا انعقاد کیا گیا تھا اور کئی لوگوں سے کافی عرصہ کے بعد ملاقات ہوئی جس کی بہت خوشی بھی ہو رہی تھی مجھے کبھی مہمانوں کو ان کی نشستوں پر بٹھانے ہال کے اندر جانا پڑتا کبھی مہمانوں کو خوش آمدید کہنے باہر آنا پڑتا اور میں دل ہی دل میں اسی شش و پنج میں تھا کہ کہیں سفیر صاحب کی آمد نا ہو جائے اور مجھے جو گلدستہ انہیں پیش کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی وہ نہ رہ جائے اسی اثناء میں باہر آتے ہی لفٹ کا دروازہ کھلا اور اس میں سے ایک تروتازہ گلاب جیسا مسکراتا ہوا شخص باہر نکلا جس نے مجھے ملتے ہی ایسے مخاطب کیا جیسے برسوں کی بے تکلف آشنائی ہو اور ہاتھ ملاتے ہوئے میری لال بَو ٹائی کی تعریف کی اور ساتھ ہی میں گلدستے کیلئیے لپکا ہی تھا کہ انہوں نے کہا آپ سب کی یہاں موجودگی ہی اصل گلدستہ ہے اور ہال میں داخل ہو گئے ۔
شاعر قمر ریاض
تقریب کی صدارت قمر ریاض نے کی اور باقاعدہ کاروائی غلام مرتضی قادری صاحب کی پرسوز آواز میں کلام ربانی اور مدح رسول ﷺ سے کیا گیا اس کے بعد شعر و شاعری کے دور کا آغاز ہوا جس میں راقم کے والد سیّد زادہ سخاوت علی شاہ کے علاوہ پنجابی کے مشہور شاعر محمد علی فضل اور اردو میں عمران اسعد نے اپنے شعر پیش کی اور بے پناہ داد وصول کی ۔ اس کے بعد ہم نے مہمان اعزاز جناب توفیق بٹ صاحب کو سنا اور ان کے مدھم انداز میں گفتگو اور زندگی کے تجربات سے سبق آموز واقعات سنے جس کا اپنا ہی مزا تھا ۔
پنجابی کے مشہور شاعر محمد علی فضل
آخر میں مہمان خصوصی اور شمع محفل سفیر پاکستان عزت ماب جناب عمران علی چوہدری صاحب کو خطاب کیلئیے بلایا گیا اور ان کے منفرد انداز گفتگو جس میں انہوں نے تمام حاضرین محفل اور شرکاء یہاں تک کہ ہر شاعر کو اس کے مقبول شعر سنا کر مخاطب کیا جس سے تمام سامعین اور حاضرین محفل پر ایک سحر سا طاری ہو گیا اور ان کی حس مزاح کا تو جواب نہیں بظاہر سادہ لباس میں ملبوس عمران علی چوہدری صاحب کی شخصیت کی جازبیت ایسی ہی کہ ان سے بات کر کے یوں لگتا ہے جیسے وقت رک گیا ہو اور اس وقت کی قید سے نکل کر ان کے ساتھ کہکشاوں میں بسنے والے کسی اور عالم کی سیر کو نکل گہے ہوں لیکن اس مسحور کن گفتگو کیساتھ ساتھ جو انہوں نے عمان آتے ہی کمیونٹی کی سہولت کیلئیے تمام اہم شعبوں کے واٹسآپ نمبر کا اجراء کیا ہے اس سے دور دراز علاقوں میں بسنے والے ہم وطنوں کو سفری پریشانیوں سے نجات ملے گی اور اپنے گھر اور اپنے علاقے سے مطلوبہ معلومات حاصل کر سکیں گے ۔ اب بظاہر تو یہ ایک چھوٹا سا کام ہے آج کل کے اس ٹیکنالوجی کے دور میں واٹسآپ کا نمبر جاری کرنا کون سا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے لیکن یہ چھوٹا کام یہ رابطہ کروانا یہ کنکٹ ایک اتنی بڑی سہولت ہے جس کا کوئ بدل نہیں یہاں مجھے اشفاق احمد مرحوم کے پروگرام زاویہ میں کہی ایک بات یاد آ گئی جس میں وہ بتاتے ہیں کہ میں اپنے پیر اپنے بابا کے پاس گیا اور ان سے کہا کے مجھے کوئی بات سکھائیں تو بابا جی نے فرمایا کہ سوئی میں دھاگہ ڈالنا سیکھو ۔ اب یہ بڑا مشکل کام ہے ۔ میں کبھی ایک آنکھ بند کرتا اور کبھی دوسری آنکھ کانی کرتا ، لیکن اس میں دھاگہ نہیں ڈلتا تھا ۔ خیر ! میں نےان سے کہا کہ اچھا جی دھاگہ ڈال لیا اس کا فائدہ ؟ کہنے لگے اس کا یہ فائدہ ہے کہ اب تم کسی کا پھٹا ہوا کپڑا کسی کی پھٹی ہوئی پگڑی سی سکتے ہو ۔ جب تک تمہیں لباس سینے کا فن نہیں آئے گا تم انسانوں کو کیسے سیئو گے ۔ تم تو ایسے ہی رہو گے ، جیسے لوگ تقریریں کرتے ہیں ۔ بندہ تو بندے کے ساتھ جڑے گا ہی نہیں ۔ یہ سوئی دھاگہ کا فن آنا چاہیے ۔ ہماری مائیں ، بہنیں ، بیبیاں جو لوگوں کو جوڑے رکھتی تھیں وہ یہ چھوٹے چھوٹے کاموں سے کرتیں تھیں تو بظاہر یہ چھوٹا سا کام بہت بڑا کام ہے اور کیوں نا ہو سفیر صاحب کا جیسا نام ویسے ان کے کام بھی ہیں کہتے ہیں نام کا شخصیت پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے اور ان کے نام کی مطابقت سے قرآن مجید میں سورہ آل عمران کی ایک آیت ( نمبر 4) میں ایک عبارت ( هُدًى لِّلنَّاسِ ) کا مفہوم میرے ذہن سے گزرا جس کے معنی ہیں ‘ لوگوں کے لیے راہ نما ہیں ‘ اور سفیر پاکستان واقعی اس ترجمہ پر پورا اترتے ہیں عوام الناس کی فلاح اور ان کیلئیے آسانیاں ڈھونڈنا اور تقسیم کرنے کا فن وہ بخوبی جانتے ہیں یہاں انہوں نے کمیونٹی کو آپسی رنجشوں سے بالا تر ہو کر آپس میں مل کر ایک ہو کر کام کرنے کرنے کی تلقین کی جو کہ ایک خوش آہیند اقدام ہے اور ایک ہونے اور جڑے رہنے میں ہی بقاء ہے
کے عنوان سے , جو مضمون تحریر کیا , اس میں حضرت ابراھیم علیہ السلام اور فرعون کا ذکر تھا ۔ مضمون کی اشاعت کے بعد بعض قارئین نے سوال کیا کہ فرعون تو موسی علیہ السلام کے زمانے میں ہوا ، آپ نے اسے حضرت ابراھیم علیہ السلام سے کیسے ملادیا ۔ یہ سن کر احساس ہوا کہ عام قاری (مسلمان ) فرعون یا فراعین مصر سے متعلق صحیح اور مکمل معلومات نہیں رکھتا لھذا آج بطور خاص اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے تاکہ عام آدمی فرعون بارے جان سکے )
تحقیق و تحریر :
سیدزادہ سخاوت بخاری
آج کا مسلمان ( اہل علم کو چھوڑ کر ) ، یہ تو جانتا ہے کہ جو شخص صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرے وہ کافر ، جو اہل بیت اطہار کو معیار حق نہ مانے وہ جہنمی ، جو داڑھی نہ رکھے فاجر ، جس کی مونچھ لمبی وہ یہودی ، جس نے ٹائی لگائی وہ کرسچین ، جس نے عربی چھوڑ کر انگریزی زبان سیکھی ، وہ گمراہ ، جس کی شلوار یا پائجامہ ٹخنوں سے نیچے وہ جہنم کا ایندھن ۔
اسی طرح ، اسے اس بات کا بھی علم ہے کہ اسلام آباد میں ہندو مندر تعمیر کرنا گناہ کبیرہ اور عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے ، لیکن یہ نہیں جانتا کہ بنی اسرائیل کون تھے ۔ فرعون ، شداد ، ھامان اور نمرود کسے کہا جاتا ہے ۔ دین اسلام کی ابتداء ، حضرت محمد الرسول اللہ ﷺسے ہوئی یا ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام نے اس کی بنیاد رکھی ۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کیا ہیں اور ہمیں زندگی کی اس دوڑ میں کامیابی کیسے حاصل کرنی ہے ۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم خود مطالعہ کرتے نہیں البتہ جمعے اور عیدین کی نماذ یا کسی اجتماع میں ” مولوی صاحب ” نے جو کچھ بتا دیا ، سنا دیا ، وہی ہمارا دینی علم اور اسی پر یقین رکھتے ہیں ۔ بدقسمتی سے عام آدمی یہ نہیں جانتا کہ یہ مولوی حضرات ، فقط اپنے اپنے مسلک کی تبلیغ کرتے ہیں ۔ انہیں اپنی جماعت کی مضبوطی سے غرض ہے ۔ اس سے ہٹ کر وہ کوئی بات نہیں بتاتے ۔ جہالت اور تنگ نظری پھیلتی ہے تو پھیلتی رہے ۔ انہیں کیا پڑی ہے کہ وہ فرعون کا شجرہ نسب اور تاریخی واقعات بیان کرتے پھریں ۔ حالانکہ یہ ، اور کئی دیگر موضوعات ، ہماری دینی تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں اور ہر مسلمان کو ان کا بنیادی علم ملنا چاھئے لیکن وہ تو فقط یہ چاھتے ہیں کہ ہمیں مسلکی مسائل کی گرفت سے باھر نہ نکلنے دیاجائے تاکہ چندے ملتے رہیں ۔
یہاں ایک بات کی وضاحت بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ ، جب میں لفظ ” مولوی ” استعمال کرتا ہوں تو اس سے مراد قطعا ” علماء دین ” نہیں ہوتے ۔ میں علماء کا قدردان اور انہیں منارہ نور سمجھتا ہوں ۔ مولوی تو وہ ٹٹ پونجیا ہے جو اپنی روٹی روزی کی خاطر مسلمانوں کو آپس میں لڑاتا ہے ۔ قرآن کی غلط تفسیر و تشریح بیان کرتا ہے تاکہ اپنے ذاتی اور من گھڑت موقف کو صحیح ثابت کرسکے ۔ وہ اپنے سامعین کو فرقہ وارانہ اور غیر ضروری مسائل میں الجھا کر علم و دانش سے دور رکھنا چاھتا ہے تاکہ وہ اس کے سحر میں گرفتار رہ کر چندے اور حلوے مانڈے دیتے رہیں جبکہ عالم بحیثیت منارہ نور ، علم کی روشنی پھیلاتے ہیں ۔ ان کی تقریریں ہوں یا تحریریں ، مسلمانوں کے اندر وسعت قلب و نظر ، قوت برداشت ، تحمل ، تدبر و تفکر اور محبت و اخوت پیدا کرتی ہیں ۔
کاش مولوی صاحب ہمیں شیعہ ، سنی اور وھابی کی بھول بھلیوں ، داڑھی مونچھ اور شلوار کی لمبائی چوڑائی کے دلدل میں دھکیلنے کی بجائے علم و آگہی کے زیور سے آراستہ کرتے تو ہم گزری ہوئی قوموں کی تاریخ ، اعمال اور انجام سے سبق حاصل کرکے ترقی کی منزلیں طے کرچکے ہوتے لیکن ہمیں تو تنگ نظری ( Narrowmindedness ) پر مشتمل اور دقیانوسی ( Outdated ) داستانیں سنا سنا کر ، شاہ دولہ کا چوہا بنا دیا گیا ہے ۔ اچھے بھلے پڑھے لکھے افراد ، اپنے اپنے پیشہ ورانہ امور پر ضرور دسترس رکھتے ہیں لیکن اس سے آگے پیچھے کچھ نہیں جانتے ۔ معافی چاھتا ہوں اگر الفاظ اور جملے قدرے ترش ہوگئے ہوں لیکن حقیقت یہی ہے ۔ آئیے آگے بڑھتے ہیں ۔
یہ کسقدر تعجب کی بات ہے کہ آج تک فرعون مصر کا ذکر صرف حضرت موسی علیہ السلام کی کہانی میں بیان کیا جارہا ہے اور عام آدمی کے ذہن میں یہ بات بٹھادی گئی کہ فرعون نام کا ایک بادشاہ تھا جس کے گھر موسی علیہ السلام نے پرورش پائی اور پھر اسے چیلینج کیا ۔ مولوی صاحبان اپنی سریلی تقریروں میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتاتے ۔ اسی کمی کو پیش نظر رکھتے ہوئے آج کا یہ مضمون لکھا جارہا ہے تاکہ فرعون کا تعارف اور اس بارے کچھ معلومات آپ تک پہنچائی جاسکیں ۔
اس سے قبل کہ بات کو آگے بڑھایا جائے ، یہ جان لیں کہ مصر اور فرعونوں کی تاریخ بہت پرانی ہے اس لئے مورخین کے درمیان بعض ناموں اور تاریخوں میں جا بہ جا اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اکثر تاریخی حوالے ان لوحوں ( مٹی کی تختیوں ) سے اکٹھے کئے گئے ہیں جو مصری آثار قدیمہ سے کھدائی کے دوران برآمد ہوئیں ۔ ان کے علاوہ کچھ واقعات بائبل اور قرآن سے اخذ کئے گئے ہیں جنھیں مستند ذرائع کہا جاسکتا ہے ۔ اب چلتے ہیں اصل کہانی کی طرف ۔
یاد رکھیں دنیاء میں بے شمار قومیں ہوگزریں اور اب بھی بہت ساری موجود ہیں ۔ ہر قوم کی اپنی بولی ، رہن سہن ، تہذیب اور سوچ کا انداز ہے لھذا اسی دائرے میں رہ کر انہوں نے اپنے اپنے حکمرانوں کو مخصوص نام دئے ،
مثلا ،
چین میں حکمران کو ” خاقان ” کہا گیا ۔ ( خاقان عباسی نہیں )
روس میں اسے ” زار ” کہتے تھے
حبشہ ( موجودہ ایتھییوپیا )
والوں نے ” نجاشی ” کہا
ایران میں ” کسری ” ( کسرا )
اھل روم اسے ” قیصر ” کہتے تھے
سلطنت عمان میں ” سلطان "
سعودی عرب میں ” ملک "
متحدہ عرب امارات میں ” امیر "
ھندوستان میں ” شہنشاہ "
برطانیہ میں ” کنگ ” اور اگر خاتون تخت نشین ہوتو ” کوین ” جیسا کہ اس وقت ملکہ برطانیہ ہیں اور کبھی ملکہ وکٹوریا تھیں ۔
پاکستان میں ہم اسے صدر یا وزیراعظم کے نام سے پکارتے ہیں ۔
بعینہہ اسی طرح اہل مصر اپنے حکمرانوں کو ” فرعون ” کہ کر پکارتے تھے ۔ اس کے لفظی یا اصطلاحی معنی ہیں ، سرکش ، ظالم ، بڑے محل والا اور متکبر ۔ ان ہی صفات کی بناء پر ہمارے ھاں اردو لٹریچر میں ” فرعونیت ” کی اصطلاح ( Term ) رواج پائی ۔ اگر کسی کے تکبر کو بیان کرنا ہو تو اسے فرعون کہ دیتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ لفظ فرعون آیا کہاں سے ۔ تو عرض ہے کہ قدیم مصر میں دیوی دیوتاوں کی پوجا کی جاتی تھی جن میں سب سے بڑا اور مقدس دیوتا ،
آمن راع ( سورج دیوتا ) تھا جسے عرف عام میں ” فارع ” کہا جاتا تھا ۔ یہی لفظ عبرانی زبان میں ” فاعن ” بنا اور پھر عربوں نے اسے فرعون بنادیا ۔
چونکہ مصری معاشرہ دیوی دیوتاوں کے زیراثر تھا اس لئے وھاں کے حکمرانوں ( فراعین ) نے اپنے آپ کو دیوتاوں کا اوتار قرار دے دیا یعنی دیوی دیوتا ان کے اندر رہتے ہیں لھذا اب وہ ہی خدا ہیں ۔
تاریخ بتاتی ہے کہ ان فرعونوں ( حکمرانوں ) کا تعلق مصر کے قبطی ( Coptic ) اور عملیقی قبائل سے رہا ہے جو وہاں کے قدیم ترین اور بڑے قبیلے ہیں ۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ طوفان نوح کے بعد مصر کا پہلا حکمران بیصر بن حام بن نوح حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد سے تھا ۔ اس کے بیٹے کا نام مصر بن بیصر تھا اور اسی کے نام کی مناسبت سے اس ملک کا نام مصر پڑا ۔
الولید بن دومغ پہلا فرعون تھا اور 3000 قبل مسیح ( حضرت عیسی ابن مریم علیہ کی پیدائیش سے پہلے ) سے لیکر اسکندر اعظم کے مصر پر حملے کے وقت تک تقریبا 31 فرعون تخت نشیں ہوئے ۔
حضرت ابراھیم علیہ السلام کے وقت طولیس نام کا فرعون مصر کا حاکم تھا جس کی بیٹی حاجر سے انہوں نے شادی کی ۔ یاد رہے حاجر اور حاجرہ دونوں ایک ہی نام ہیں ۔ اس واقعے کی تفصیل میرے گزشتہ مضمون " بنی اسرائیل کی کہانی ” میں موجود ہے ۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے وقت الریان بن ولید فرعون مصر تھا ۔ یہاں مختصرا بتاتا چلوں کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے سوتیلے بھائیوں نے کنوئیں میں پھینک دیا تھا تو ایک قافلے والوں نے وہاں سے نکالا اور مصر کے بازار میں لے جاکر فروخت کردیا ۔ آپ کو وہاں کے وزیر خزانہ اطفیر المعروف عزیز مصر نے بھاری رقم کے عوض خریدلیا ۔ اس کی بیوی کا نام زلیخہ تھا جو حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن کی دیوانی ہوگئی اور خراب نیت سے ان کی طرف لپکی مگر اللہ کے نبی نے اس کی بات نہ مانی ۔ کہانی طویل ہے مختصرا یہ کہ آپ کو زلیخہ کی شکائت پر جیل میں ڈال دیا گیا ۔ وھاں دو سرکاری ملازمین بھی قید ہوکر آئے جنھوں نے خواب دیکھا اور حضرت یوسف علیہ السلام کو سنایا ۔ ایک نے کہا میں نے دیکھا کہ انگور سے شراب نچوڑ رہا ہوں ۔ دوسرے نے کہا میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے کھارہے ہیں ۔ آپ اللہ کے نبی تھے اس لئے کہا کہ جو بتاونگا وہ ہوکر رہے گا ۔ آپ نے مصلحت کے تحت نام بتائے بغیر بتایا کہ ، ایک رہا ہوکر بادشاہ کو شراب پلانے پر مامور ہوگا اور دوسرے کو سزائے موت ہوگی اور اس کی لاش پرندے کھائینگے ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جو رہا ہو وہ بادشاہ کے پاس جاکر میرا ذکر ضرور کرے کیونکہ میں بے گناہ قید میں ہوں ۔ حکم الہی کے مطابق ایسا ہی ہوا اور بندار نامی شخص رہا ہوکر بادشاہ کا خدمتگار ( Bar Man ) بنا لیکن شیطان نے اسے حضرت یوسف کا پیغام بادشاہ تک پہنچانے سے منع کردیا ۔ قدرت خدا کی ، فرعون مصر نے خواب دیکھا کہ سات موٹی گائیں ہیں جنھیں سات دبلی پتلی گائیں آکر کھا جاتی ہیں اسی طرح گندم کے سات ہری بھری اور سات خشک بالیاں ہیں ۔ اس نے نجومیوں اور کاہنوں ( علماء ) کو بلاکر خواب سنایا مگر کوئی بھی تسلی بخش تعبیر نہ بتا سکا تب بندار کو یاد آیا کہ جیل میں یوسف علیہ السلام نام کا ایک نیک سیرت قیدی خوابوں کی تعبیر بتاتا ہے ۔ اس نے بادشاہ سے اس کا ذکر کیا ۔ بادشاہ نے
اس قیدی کو پیش کرنے کا حکم دیا چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام نے پہلے تو اپنی بے گناہی کا ذکر کیا اور کہا کہ مجھے بلاوجہ جیل میں ڈالا گیا ہے اور پھر فرعون مصر کے خواب کی تعبیر بتائی ۔ آپ نے کہا تعبیر یہ ہے کہ ، آپ کے ملک میں سات سال تک بہت زیادہ غلہ پیدا ہوگا اور پھر سات سال قحط پڑے گا لھذا پہلے سات سال کی پیداوار کو اسٹور کرلیا جائے تاکہ اگلے سات سال جب قحط سالی ہو تو یہ کام آئے ۔ فرعون نے کہا اس کی عملی شکل کیا ہوگی ۔ کس طرح یہ سب کام ہونگے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا خدا نے مجھے عقل ، فہم ، تدبر اور حکمت سے نوازا ہے اگر آپ یہ کام میرے ذمہ کردیں تو میں اسے بہ خوبی انجام دونگا ۔ اس پر بادشاہ بہت متاثر ہوا اور آپ کو ان سب کاموں کا ناظم مقرر کردیا ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بادشاہ بعد میں مسلمان ہوگیا تھا ۔ واللہ اعلم ۔
قارئین
یہ ہے تاریخ کا وہ موڑ جب بنی اسرائیل فلسطین سے مصر آئے ۔ وہ اسطرح کہ ، حضرت یوسف علیہ السلام نے وزارت کا عہدہ ملنے کے بعد اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام اور تمام بھائیوں کو مصر بلالیا اور یوں حضرت یعقوب علیہ السلام ( اسرائیل ) کی اولاد مصر میں پھلی پھولی ۔ اگرچہ اس وقت اس کنبے کے فقط 93 افراد فلسطین سے ہجرت کرکے مصر آئے تھے لیکن حضرت موسی علیہ السلام کے آتے آتے ان کی تعداد بڑھتے ہوئے لاکھوں تک جا پہنچی۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی وجہ سے انہیں شاہی خاندان کی حیثیت حاصل تھی ۔ زمین ، جائیداد ، بنگلے ، باغات ، مال مویشی اور دولت ان کے ھاتھ آئی تو بگڑ گئے ۔ اللہ کے نافرمان ہوگئے ۔ یوسف علیہ السلام کے بعد فرعون کا بیٹا ان پر مسلط ہوا اور وہ غلام بن کر ظلم و ستم کا شکار ہوگئے ۔ دراصل یہ اللہ کا عذاب تھا ۔ ان حالات میں خدا نے حضرت موسی علیہ السلام کو ان کی مدد ، راہنمائی اور قبطیوں کی غلامی سے رھائی دلانے کے لے بھیجا ۔
موسی علیہ السلام کا پالا دو فرعونوں سے پڑا ۔ پہلا رعمیس دوم ، جس کے گھر پرورش پائی اور پھر اس کا بیٹا "منفتاح ” جسے اسلام کی دعوت دی گئی اور جس نے آپ اور آپ کی قوم بنی اسرائیل پر ظلم ڈھائے ۔ قصہ کچھ اس طرح ہے کہ فرعون رعمیس دوم نے خواب دیکھا کہ
بیت المقدس کی طرف سے آگ آئی اور اس نے مصر کے تمام قبطیوں ( فرعون کا قبیلہ ) کو جلا ڈالا مگر بنی اسرائیل محفوظ رہے ۔ تمام علماء کو بلاکر خواب کی تعبیر پوچھی گئی ۔ کاہنوں نے بتایا کہ اے بادشاہ ! تیری سلطنت میں بنی اسرائیل کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو تیرے اقتدار اور جان کے لئے خطرہ بن جائیگا ۔
یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسے مار دیا جائے ۔ دائیوں ( Mid Wife ) کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ حاملہ عورتوں کو تلاش کیا جائے چنانچہ ایک اندازے کے مطابق 12 ہزار نومولود لڑکے مار دئے گئے اور ستر ہزار کے قریب حمل گرائے گئے ۔ یہ دیکھ کر قبطی قبیلے کے بڑے بوڑھے ، فرعون کے پاس گئے اور کہا تو بنی اسرائیل کی نسل کشی کررہا ہے اگر ایسا ہوتا رہا تو ہمیں ، خدمتگار ، نوکر ، چاکر اور مزدور کہاں سے ملینگے ۔ اس پر فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال بچے مارے جائیں اور ایک سال نہ مارے جائیں ۔ لہذا جس سال نہ مارنے کا حکم تھا ، حضرت ہارون علیہ السلام اور جس سال بچے مارے جارہے تھے حضرت موسی علیہ السلام پیدا ہوئے ۔
جب آپ کی پیدائش ہوئی تو ماں سخت پریشان تھی کہ فرعون کے کارندے اسے مار دینگے اس لئے انہوں نے نومولود موسی علیہ السلام کو ایک صندوق میں بند کرکے دریائے نیل میں اللہ کے سپرد کردیا ۔ دریا سے ایک نہر نکل کر فرعون کے محل کے نیچے سے گزرتی تھی ۔ اتفاق سے فرعون اور اس کی بیگم آسیہ بالکونی میں بیٹھے نہر کا نظارہ کررہے تھے ۔ انہیں صندوق بہتا ہوا نظر آیا ۔ آسیہ کی فرمائیش پر کارندے صندوق پانی سے نکال کر لائے جب کھولا گیا تو ایک خوبصورت ننھا منا بچہ انگوٹھا منہ میں لئے لیٹا ہے ۔ فرعون نے کہا اسے ماردیتے ہیں لیکن قرآن کے مطابق آسیہ نے کہا ، نہیں ، میں اسے بڑا کرونگی ہوسکتا ہے یہ ہمارے حق میں بہتر ہو ۔ علماء نے آسیہ کو مومنہ کا خطاب دیا ہے کیونکہ اس نے نہ فقط موسی علیہ السلام کی جان بچائی بلکہ پال پوس کر بڑا کیا ۔
جب حضرت موسی علیہ السلام بڑے ہوئے تو نبوت عطاء ہوئی ۔ اس وقت فرعون کا بیٹا تخت نشین تھا یعنی وہ دوسرا فرعون جس سے آپ کا سامنا ہوا اور اللہ کے حکم سے اسے اسلام کی دعوت دی مگر وہ نہ مانا اور موسی علیہ السلام سے مقابلے پر اتر آیا ۔ اس ہی شخص نے حضرت موسی علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل کو تنگ کیا اور انہیں سزائیں دیں جس پر حضرت موسی علیہ السلام اپنی قوم کو لیکر واپس اپنے وطن فلسطین روانہ ہوگئے ۔
اور جب حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو لیکر مصر سے نکلے تو پیچھا کرتے ہوئے بحیرہ قلزم ( Red Sea ) میں غرق ہوگیا ۔ حکم خداوندی سے سمندر نے اس کی لاش باھر پھینک دی اور اس طرح اس کی حنوت شدہ لاش ( Mummy ) اب قاہرہ کے عجائب گھر میں تاقیامت نشان عبرت ہے ۔
فراعین مصر کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ ، یہ اپنے آپ کو خدا کا نمائندہ ، منتخب کردہ اور بعض بذات خود خدا ( GOD ) کہلاتے تھے ۔ ان کا کہا خدا کا فرمان تصور کیا جاتا تھا اور اہل مصر ان کی ہر بات کو مذھب کا حکم سمجھتے تھے ۔ اسی کفر اور شرک کو ختم کرنے کے لئے اللہ نے حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے بھائی ہارون کو ان کی طرف نبی بناکر بھیجا لیکن وہ ان سے الجھ پڑے اور نافرمانی کے مرتکب ہوئے ۔ بالآخر اللہ نے ان کا نام و نشان مٹادیا اور آج مصر ایک مسلمان افریقی عرب ملک ہے
( عمان کے تاریخی اور مذھبی مقامات ، تاریخ اور محل وقوع پر ایک طائرانہ نظر )
تحریر : سیدزادہ سخاوت بخاری
سلطنت عمان جسے پاکستان میں اس کے دارالحکومت ، مسقط ، کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے اور جہاں میں گزشتہ 45 برس سے مقیم ہوں ، جزیرہ نماء عرب ، خلیج فارس یا عریبین گلف کے ، بحیرہ عرب کی سمت ، آخری سرے پر واقع ایک مستطیل نماء ملک ہے ۔ اگر آپ خلیجی ملکوں کے نقشے پر نظر ڈالیں تو ایسا محسوس ہوگا کہ جیسے بحیرہ احمر ( Red Sea) اور بحیرہ عرب ( Arabian Sea ) کے درمیان زمین کی ایک چادر بچھائی گئی ہے جس کے نچلے سرے پر عمان اور یمن ایک جھالر کے طور پر دکھائی دیتے ہیں ۔ اس ملک کی زمینی سرحدیں ، یمن ، سعودی عرب اور عرب امارات ( دوبئی ابوظھبی ) سے اور بحری ، عرب امارات ، یمن ، ایران اور پاکستان سے ملتی ہیں ۔ رقبے کے لحاظ سے اس خطے میں ، سعودی عرب کے بعد یہ دوسرا بڑا ، عرب اسلامی ملک ہے ۔ اس کی تاریخ قبل مسیح تک پھیلی ہوئی ہے ۔ بس اتنا جان لیں کہ اس علاقے کی عرب ریاستوں میں یمن اور عمان ہی ایسے ملک ہیں کہ جو ھزارھا سال سے اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہیں ۔ ان کے علاوہ خلیجی ریاستوں کے جتنے نام آپ سنتے آرہے ہیں وہ چھوٹے چھوٹے راجواڑے تو تھے مگر ان دو ملکوں کی طرح اپنی تاریخی شناخت نہیں رکھتے ۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ عمان اگرچہ ایک طرف سے بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع ہے لیکن اس کی پاکستان کی طرف واقع سمندری حدود کو خلیج عمان ( Gulf of Oman ) کہتے ہیں جو بحیرہ عرب میں پاکستان کی سمندری حدود ختم ہونے کے بعد شروع ہوتی ہے ۔ سلطنت عمان ، پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی شھر گوادر کے عین سامنے فقط 600 ناٹیکل میل کی دوری پر واقع ، ہمارا قریب ترین پڑوسی ہے ۔
سلطنت عمان کی جغرافیائی حیثیت و اہمیت کا اگر زکر کیاجائے تو بے جاء نہ ہوگا ، کیونکہ ، یہ ملک ایک طرف ، عرب دنیاء کا حصہ ہے تو دوسری طرف سے عجمی دنیاء یعنی ایران اور پاکستان سے بھی مشترک سمندر رکھتا ہے ۔ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz ) (جہاں سے عرب شیخوں اور ایران کے تیل بردار جہاذ گزر کر یورپ ، جاپان ، چین اور دیگر ممالک کو جاتے ہیں ، اس اہم شاھراہ پر ایران اور عمان کا کنٹرول ہے ۔ ایرانی شھر بندر عباس اور عمان کے صوبہ مسندم کے درمیان یہ پانی فقط 21 میل چوڑا ہے جہاں سے دنیاء کی ضرورت کا تقریبا 20% خام تیل گزار کر لیجایا جاتا ہے ۔ اس لحاظ سے یہ سمندری راستہ دنیاء بھر میں اہم حیثیت ، حساسیت اور پہچان کا مالک ہے ۔
عمان کی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو آپ کو علم ہوگا کہ چھوٹی سی یہ عرب قوم شروع سے محنت ، جفاکشی اور بہادری کا استعارہ رہی ہے ۔ پیٹرول اور دیگر معدنیات کی دولت تو بہت بعد میں ان کے ھاتھ آئی جبکہ بے آب و گیاہ ، خشک و بنجر تپتے صحراوں اور سنگلاخ پہاڑوں سے نکل کر انتہائی بے سروسامانی کے دور میں ان سورماوں نے ایسٹ افریقہ کے کئی علاقوں پر اپنا قبضہ جمایا اور صدیوں تک وہاں حکمران رہے ۔ یہی نہیں بلکہ پاکستان کے ساحل مکران پر واقع وادی گوادر کا علاقہ 1958 تک ان کی سلطنت کا حصہ تھا ۔
اگرچہ سن پچاس کی دھائی میں یہاں پیٹرول دریافت ہوچکا تھا لیکن 1970 تک اس دولت سے کوئی قابل ذکر فائدہ نہ اٹھایا جاسکا تا آنکہ جدید عمان کے بانی سلطان قابوس بن سعید رحمة اللہ نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی اور اپنے 50 سالہ سنہری دور میں صحراوں کو لہلہاتے کھیتوں میں تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ ، عمانی معاشرے کو زیور تعلیم و ھنر سے آراستہ کرکے دنیاء کی عظیم قوم بنادیا ۔ جہاں اسکول تھے نہ ھسپتال ، پکی سڑکیں تھیں نہ زندگی کی دیگر آسائیشیں ، آج اس کا شمار دنیاء کی جدید ترین ریاستوں میں ہوتا ہے ۔ اپنی مٹی اور قوم سے عشق رکھنے والے اس سلطان نے ، نہ صرف تعمیرات اور جدید آسائیشوں کی فراھمی سے اس ملک کی ھیئت بدل دی بلکہ ایک ایسا مثالی معاشرہ بھی قائم کردیا جہاں قانون کی حکمرانی ہے ۔ ہم پاکستانی ہمیشہ سے قانون کی حکمرانی ، قانون سب کے لئے ، دو نہیں ایک پاکستان کے نعرے سنتے آرہے ہیں لیکن اگر اس کی عملی تعبیر دیکھنا ہو تو ایک مرتبہ سلطنت عمان کی زیارت ضرور کریں ۔ ہم نے تاریخ میں عادل اور رعایا پرور بادشاھوں کے قصے بہت پڑھے لیکن میں یہ بات دعوے سے کہ سکتا ہوں کہ مرحوم سلطان قابوس رحمة اللہ کا ثانی ملنا محال ہے ۔ یہاں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے دیکھے گئے ہیں ۔ جرائم انسانی فطرت کا خاصہ ہے لیکن اگر دنیاء کے دیگر معاشروں سے موازنہ کیا جائے تو یہاں جرائم کی شرح آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ انصاف صرف ہوتا نہیں بلکہ چلتا پھرتا دکھائی دیتا ہے ۔
جنوری 2020 میں اس عظیم سلطان کی وفات کے بعد ان کی وصیت کے مطابق ان ہی کے چچا زاد بھائی ، آکسفورڈ کے گریجویٹ جلالة السلطان ھیثم بن طارق آل سعید تخت نشین ہوئے اور اعلان کیا کہ مرحوم سلطان کی پالیسیوں کا تسلسل قائم رکھا جائیگا ۔ یاد رہے سلطان قابوس مرحوم کی دانشمندانہ اور میانہ رو پالیسیوں کی بدولت اس سلطنت کو اقوام عالم میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ عالم عرب کے اندرونی تناذعات ہوں یا علاقائی جھگڑے ، عمان نے ہمیشہ ثالث کا کردار ادا کیا ۔
خشک صحراوں ، پہاڑوں ، میدانوں ، قدرتی چشموں ، کھجور کے باغات ، حسین و جمیل اور صاف و شفاف ساحلوں پر مشتمل ، اس ملک کے کونے کونے اور ذرے ذرے میں تاریخ کے خزانے دفن ہیں ۔ یمن کی سرحد کے قریب عمان کا دوسرا بڑا شھر صلالہ ، جسے انبیاء کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے ، مقدس زیارات اور تاریخی مقامات کا خزینہ ہے ۔ بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع اس شھر کی آب و ہواء باقی ملک سے مختلف ہونے کی بناء پر یہاں عرب کے معروف درخت کھجور کی بجائے ناریل کے باغات ہیں ۔ لبان ، پپیتا اور کیلا وافر مقدار میں پیدا ہوتا ہے ۔ ایک مرتبہ باغات کی سیر کرتے ہوئے مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہاں پان کا پتہ بھی اگایا جارہا ہے ۔ ناریل ، پپیتے ، کیلے اور پان کے پتے اگانے والے اسی شھر کے وسط میں حضرت عیسی علیہ السلام کے نانا اور سیدہ مریم سلام اللہ کے والد جناب عمران علیہ کا مزار واقع ہے ۔ یہ قبر غیر معمولی طور پر 30 میٹر طویل ہے جہاں زائرین اور معتقدین کا میلہ لگا رھتا ہے ۔ شھر کے گرد پہاڑ کی چوٹی پر اللہ کے نبی حضرت ایوب علیہ السلام محو استراحت ہیں اور قریب ہی نشیب میں وہ چشمہ ہے جہاں آپ بیماری کی حالت میں غسل کیا کرتے تھے ۔
اسی شھر کے ایک محلے میں وہ غار ہے جہاں حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹی کو ذبح کیا گیا تھا ۔ وھاں موجود ایک بڑی چٹان پر معجزاتی طور پر اونٹنی کے قدموں کے نشان اور خون کے دھبے اب بھی موجود ہیں ۔ صلالہ شھر ہی میں تاریخ کے معروف جادوگر سامری کے محل کے کھنڈرات بھی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔ شھر سے دور پہاڑوں کے اندرحضرت ھود علیہ السلام کا مزار واقع ہے ۔ اسی شھر کے نواع میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے قصے اور تخت بلقیس سے منسوب ، یمن کی رانی ، ملکہ بلقیس کے محل کے کھنڈرات ہیں ۔ میں نے وھاں ایک حمام ( Bathroom ) اور اس میں نصب پتھر سے تراشیدہ وہ خوبصورت ٹب بھی دیکھا، جسے ، روائت کے مطابق ملکہ بلقیس اپنے غسل کے لئے استعمال کرتی تھی ۔
ملکہ بلقیس کے محل کی طرف جاتے ہوئے راستے میں پہاڑ کے ساتھ ایک ایسا میدان ہے جہاں مقناطیسی قوت پائی جاتی ہے اسے ( Gravity Point) بھی کہتے ہیں ۔ اس میدان کا کمال یہ ہے کہ آپ اپنی گاڑی ( Motor Car ) کا انجن بند کرکے گاڑی کو نیوٹرل کردیں تو گاڑی خود بخود چلنے لگتی ہے اور اس کی رفتار بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ کچھ لوگ اسے پہاڑ کے اندر مقناطیسی قوت کے اظھار سے تعبیر کرتے ہیں جبکہ بعض مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہاں جنات کا ڈیرہ ہے اور وہ گاڑی کو دھکا لگاکر چلا دیتے ہیں ۔
صلالہ کی داستان طویل ہوگئی ، آئیے واپس مسقط چلتے ہیں ۔ مسقط شھر کے نواع میں بوشر گاوں سے متصل پہاڑ کے اوپر ایک روائت کے مطابق فاتح خیبر مولا علی علیہ کی قدم گاہ ہے ۔ بہت اونچا پہاڑ ہے اور راستہ بھی دشوار مگر عقیدت مند چوٹی تک جاکر سلام کرنا اپنے لئے باعث سعادت سمجھتے ہیں ۔ کئی برس پیشتر مجھے بھی اس قدم گاہ تک جانے کا شرف حاصل ہوا ۔ پہاڑ کے دامن میں چھوٹے چھوٹے سوراخوں سے ابلتا ہوا پانی نکلتا ہے ۔ مرد و خواتین کے لئے بلدیہ نے الگ الگ غسل خانے تعمیر کرادئیے ہیں اور معجزاتی طور پر جلدی امراض (Skin Dieses) میں مبتلاء افراد اس پانی سے غسل کرکے شفاء یاب ہوتے ہیں ۔
قارئین کرام
کبھی کبھی بات سے بات نکلتی چلی جاتی ہے ۔ لکھنا تو صحابی رسول ص کے مزار کے بارے میں چاھتا تھا لیکن کہانی طول پکڑ گئی ۔ چلیں اس بہانے آپ نے سلطنت عمان کی سیر کرلی ۔ اب آتے ہیں موضوع کی طرف ۔ عرض ہے کہ عمان ان خوش نصیب ملکوں میں شامل ہے کہ جہاں کے لوگوں نے حضور نبی کریم ص کی زندگی میں اور براہ راست ان کی ذات سے اسلام کی روشنی حاصل کی ۔ ہوا کچھ یوں کہ مسقط شھر سے تقریبا ایک گھنٹے کی ڈرائیو پہ نزوی (Nizwa ) روڈ پر واقع گاوں سمائیل ( Smail )کے ایک بت پرست شخص نے جب سنا کہ مکہ میں ایک سچا نبی آیا ہے ، اپنی اونٹنی پر سوار ہوکر مکہ چل دیا ۔ تاریخ میں اس واقعے سے کئی باتیں منسوب ہیں مثلا ، ان کی والدہ بیمار تھی اور وہ جس بت کی پوجا کرتے تھے اس سے استدعاء کی کہ میری والدہ کو شفاء دیدے لیکن ان کی والدہ فوت گئی اور نہوں نے اس بت کو توڑ دیا ۔ یہ کہ اسی بت نے انہیں بتایا کہ مکہ میں ایک سچا نبی آیا ہے وھاں جاکر اس کی بیعت کرو وغیرہ وغیرہ ۔ قصہ مختصر ، یہ شخص مکہ پہنچا اور حضور ص سے ملاقات کی ۔ ان کے ھاتھ پر بیعت کرکے مسلمان ہوگیا ۔ یہی نہیں بلکہ
اس بندہ خدا نے حضور علیہ السلام سے درخواست کی کہ میرے ملک عمان کے لئے خصوصی دعاء فرمائیں تاکہ وھاں امن اور خوشحالی ہو چنانچہ اللہ کے نبی نے اس نو مسلم کی خواھش پر ، سلطنت عمان کے لئے خصوصی دعاء فرمائی اور مجھے یقین ہے کہ اسی دعاء کے نتیجے میں آج عمان ایک خوشحال اور پرامن ملک بن کر دنیاء کے سامنے موجود ہے ۔
مازن بن غضوبہ نام کا یہ بت پرست شخص جب حضور ص کے ھاتھ پر براہ راست بیعت کرکے مکہ سے لوٹا تو صحابی رسول کہلایا ۔ مسلمان تو ہم سب ہیں ۔ ہم سے پہلے والے بھی مسلمان ہی تھے لیکن کیا کہنے اس شخصیت کے ، جسے محمد عربی ص کے ھاتھ پر ھاتھ رکھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی ۔
آج سے کم و بیش 25 برس قبل مجھے میرا ایک دوست ان صحابی کی آرام گاہ پر لے کر گیا اور جب سے ابتک مجھے بیسیوں مرتبہ وھاں جانے کا شرف حاصل ہوچکا ہے ۔
سمائیل جو کبھی کھجور کے باغات میں روپوش ایک چھوٹا سا گاوں تھا اب ایک جدید شھر بن چکا ہے اور ہر طرف خوشحالی ہی خوشحالی نظر آتی ہے ۔ اس کی پرانی اور تاریخی آبادی میں پہاڑ کے ساتھ کھجور کے باغ میں صحابی رسول ص بابا ماذن محو خواب ہیں ۔ شروع میں جب ہم گئے تو قبر کچی تھی مگر اب پاکستانی عقیدت مندوں نے اسے پختہ کرکے ارد گرد چار دیواری کھڑی کردی ہے ۔
جس باغ میں مزار واقع ہے یہ ان ہی کی ملکیت تھا اور ابتک ان ہی کے نام ہے ۔ مزار کے سامنے والی آبادی میں ان کی تعمیر کردہ عمان کی پہلی مسجد یے جہاں باقائدہ جمعہ کی نماذ ادا کی جاتی ہے ۔ مسجد کے قریب ہی بابا جی کے آبائی گھر کی باقیات ہیں جنھیں محفوظ بنا دیا گیا ہے ۔ یاد رہے یہ جگہ دو پہاڑوں کے درمیان ایک تنگ وادی ہے اور پہاڑوں سے نکل کر آنیوالا چشموں کا پانی پورے گاوں کے باغات کو سیراب کرتا ہے ۔ مذھبی حوالے سے ھٹ کر بھی یہ چھوٹی سی وادی ، کھجور کے باغات اور بہتا ہوا پانی ایک بہترین پکنک پوائینٹ ہے ۔ عمان میں مقیم افراد اپنے اھل خانہ اور دوستوں کے ہمراہ ویک انڈ پر وھاں کی سیر کے لئے جاتے ہیں ۔ جمعرات اور جمعہ کے دن مزار پر زائرین اور عقیدت مندوں کی بھیڑ دیکھنے کو ملتی ہے ۔ عمان میں رھنے والوں کے لئے بہترین موقع ہے کہ وہ سمائل جاکر صحابی رسول ص کے مزار پر حاضری کے ساتھ ساتھ قدرتی مناظر سے بھی لطف اندوز ہوں ۔
گزشتہ روز ایک دوست کی والدہ اس جہاں فانی سے رحلت فر ما گئیں اللہ ان کے درجات بلند کرے اور گھر والوں کو صبر عطاء کرئے ، آمین ۔۔ اطلاع ملنے پر میں دفتر سے اجازت لیکر اسپتال پہنچ گیا اور اس وقت تک کوئی اور نہیں پہنچا تھا خیر میں نے ان کو تلاش کیا اور حسب توقع مرحومہ کے گھر والوں کو حواس باختہ پایا ڈاکٹر سے معاملات دریافت کئیے اور چند لوگوں کو کال کی ان سے کاغذی کاروائ کا طریقہ کار پوچھا الحمدلله انہوں نے بھر پور ساتھ دیا اور کچھ ہی گھنٹوں کی بھاگ دوڑ کے بعد ایمبیسی ، وزارت صحت ، پولیس سب سے اجازت نامے مل گئے اب اگلا مرحلہ تدفین کا تھا اور وہ بھی فورا ہی حل ہوگیا لیکن گورکن کے ایک سوال نے مجھے شدید حیرت میں ڈال دیا وہ یہ کہ بھائی جان قبر تیار ہو جائے گی غسل کا انتظام بھی ہے لیکن ” کیا آپ کے پاس اپنا کفن ہے ؟ ” یا ہم مہیا کریں۔ ۔ ۔ اس لمحے مجھے یہ خیال آیا کہ کچھ دن پہلے میں نے اپنی ایک دیرینہ خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئیے ورجن اٹلانٹک سے کلاسیکی انداز میں بنا گراموفون لیا تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ اب اس کے بعد میری خواہشات کی لسٹ میں لینے کو اور کیا بچا ہے مگر کچھ یاد نہیں آیا لیکن یہ تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ میں نے کبھی مانگ کر کپڑے نہیں پہنے مگر وقت رحلت اگر کفن مانگنا پڑے گا تو کون دے گا ۔۔ تو دوستوں بات مختصر ہے کہ دنیاوی معاملات کیساتھ ساتھ آخرت کے سفر کا بھی انتظام ہونا چاہیے ۔ ۔