محبتوں کے سفیر پاک وطن کے ماہی گیر

تحریر :ناصر معروف

ہم زندہ قوم ہیں عمان پاکستان دوستی زندہ باد، محبتوں کے سفیر پاک وطن کے ماہی گیر پائندہ باد


صبح اٹھا تو حسب عادت فون کو ڈھونڈنا شروع کیا ایسے جیسے کمزور نظروں والے چشمہ ڈھونڈتے ہیں خیر یہ تو روز کی عادت بن چکی ہے کیونکر دن کا آغاز ہی موبائل سے ہوتا ہے ۔ویسے لوگ کتنے بھلے ہیں جو فون کو اب تک بھی سمارٹ فون سمجھتے ہیں اصل میں تو یہ بہت ساری چیزوں کو نگل چکا ہے
خدا خدا کر کے فون ہاتھ آیا تو دیکھا کہ آج سوشل میڈیا پر 2 عمان سے تعلق رکھنے والوں شہریوں کی ویڈیو کچھ پاکستانی ماہی گیروں کے ساتھ خوب دھوم مچا رہی رہے کچھ تجسّس بڑھا تو مزید جاننے کی کوشش کی ۔
تو یاد آیا کہ ایک ہفتہ پہلے عمان کے سمندر سے لاپتہ ہونے والے یہ وہی عمانی شہری ہیں جن کی سلامتی کے لئے عمان میں اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خصوصی دعائیں مانگی جا رہیں تھی
ان کا تعلق عُمان کے صوبے شرقیہ کے ایک گاوں الاشخرہ سے ہے جو کی ساحل سمندر کے قریب واقع ہے یہ دو مقامی ماہی گیر علی الجعفری اور سالم الجعفری اپنی کشتی پر سوار سمندر روزمرہ کے کام سرانجام دے رہے تھے اور وہیں ان کی کشتی کا انجن فیل ہوگیا اور یہ کشتی سمندر کی بے رحم لہروں کے سہارے پر تھی کیونکہ یہ دو لوگ ہی کشتی پر سوار تھے اور ان کے پاس کمیونیکیشن کی کوئی سہولت موجود نہیں تھی اور جو موبائل تھے ان پر سگنل نہیں موصول ہو رہے تھے اس لیے ان کا کسی سے رابطہ نہ ہو سکا ، اگلے ہی دن سارے شہر اور اس کے بعد ملک بھر میں ان کی گمشدگی کی خبر آگ کی طرح پھیل گئی اور ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہاتھ دعا کیلئیے اٹھ رہے تھے کے یہ دونوں صحیح سلامت واپس آ جائیں لیکن کوئی خبر نہیں آئی کئی دن گزرتے گئے یہاں تک کہ پورا ہفتہ گزر گیا لیکن ان کے اہل خانہ نے امید کا دامن نہیں چھوڑا اور نا ہی عمان کے اداروں نے ہمت ہاری بلکہ سمندرکے طول و عرض میں تلاش جاری رکھی

Omani Boy


اسی اثناء میں نویں دن ایک خوشخبری ایک فون کال کی صورت میں موصول ہوئی کہ دونوں ماہی گیر مل گئے ہیں اور اس وقت پاکستان کی بحری حدود میں ہیں انہیں پاکستانی ماہی گیروں کی ایک کشتی نے دیکھا اور ان کو اس بے سروسامانی کی حالت میں دیکھ کر ان کی مدد کو آ پہنچے اور جس طرح پاکستانی ماہی گیروں نے ان کی جان بچائی اور اور ان کو پاکستان میری ٹائم سکیورٹی کے حوالے کیا اور میری ٹائم سکیورٹی نے جس طرح اپنی پیشہ ورانہ مہارتیں بروئے کار لاتے ہوئے انھیں طبی امداد دی اور باحفاظت کراچی پہنچایا اور نئی زندگی دی اس کی مثال نہیں ملتی۔
اس خبر کا آنا تھا اور پورے عمان ملک میں سجدہ شکر ادا کئے گئے اور ہر طرف پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند ہونے لگے سوشل میڈیا پر تو ایک طوفان سا برپا ہو گیا اور ہر شخص اس طرح خوش تھا جیسے عید کا سماں ہو۔یا ان کا اپنا باپ بیٹے یا بھائی کی خبر ہو۔

Omani Fisherman

سلطنتِ عمان، پاکستان کا اسلامی دوست اور سمندری لحاظ سے ہمسایہ ملک ھے۔ سلطنت عمان کے زیادہ تر لوگ خوش مزاج اور طبیعتا ھمدرد ھیں
سلطنت عُمان اور پاکستان کے درمیان برادرانہ تعلقات موجود ہیں ۔
اور دونوں ممالک کی ایک دوسرے کے ساتھ سمندری حدود مشترک ہیں۔ اس وقت کم و بیش 2 لاکھ پاکستانی سلطنت عمان میں مقیم ہیں۔ سنہ 2001 میں مرحوم بادشاہ صاحب جلالہ سلطان قابوس کے پاکستان کے دورے کے بعد دونوں ممالک میں تجارتی تعلقات کو مزید تقویت ملی جو آج تک قائم و دائم ہے سلطنت عُمان سے کچھ مقامی صحافی پاکستان کیلئے روانہ ہوئے اور انہوں نے علی الجعفری اور سالم الجعفری سے خصوصی ملاقات کی اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی کے ان مقامی ماہی گیروں سے بھی ملاقات کی جنہوں نے ان کی جان بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور علی اور سالم نے اپنی کشتی جس کی مالیت 10000 ہزار ڈالر کے لگ بھگ ہے تحفے کےطور پر پاکستان ماہی گیروں کو دے دی اور اس طرح حادثاتی ملاقات کو دوستی میں بدل دیا ۔
اور پھر گیارہویں دن بذریعہ پی آئی اے اپنے وطن عُمان واپس پہنچے جہاں ان کا استقبال دیدنی تھا عمان کے لوگ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے اور یوں لگ رہا تھا جیسے پورا عمان ہی ائیرپورٹ امڈ آیا ہو۔
اور میں آخر میں یہ کہنا چاہوں گا اے میرے وطن کے ماہی گیروں آپ نے عمان کے لوگوں جو عمدہ سلوک کیا ہے اس سے ہم تارکین وطن کا سر بھی فخر سے بلند ہو ا ہے آج آپ کے حسن سلوک کی بدولت ہم جیسے کی توقیرمیں مزید اضافہ ہوا ہے ۔اسے میرے وطن ماہی گیروں ہم بھی آپ کے تہہ دل سے مشکور ہیں

پاکستان عمان دوستی زندہ باد۔
میرے ماہی گیر پائندہ باد

سونیا بخاری

Next Post

ذرا عمر رفته کو آواز دینا

جمعرات جون 23 , 2022
ہمارے اوّلین مدّرس محترم طالب حسین بھٹی صاحب تھے۔ وہ ہمارے مُرشد اوّل ہیں۔جنہو ں نے ہمیں قلم پکڑنا اور الف، ب اور پ لکھنا سکھایا۔
ذرا عمر رفته کو آواز دینا