ضلع اٹک کی وجہ تسمیہ

(1)اٹک قلعہ اور ضلع اٹک ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں ۔اکثرمحققین نے جب بھی ’’اٹک‘‘کی تاریخ اور وجہ تسمیہ جاننے کی کوشش کی ہے تو ان کی پہلی نظر قلعۂ اٹک پر ہی پڑی ۔جس وقت یہ علاقہ ضلع راولپنڈی کا حصہ تھا تو اس تحصیل کا نام’’اٹک ‘‘ہی تھا اور موجودہ ’’اٹک خرد‘‘تحصیل ہیڈ کوارٹر تھا اور ـ "ضلع کیمبل پور”بننےسے پہلے تک موجودہ "اٹک خرد”ہی ضلع اٹک تھا۔اس دعویٰ کے شواہد Gazetteer of Attock 1930میں بھی ملتے ہیں۔سی۔سی۔گاربیٹ (ڈپٹی کمشنر)لکھتے ہیں کہ:”ضلعی صدر مقام کواٹک سے تبدیل کر کے کیمبل پور میں لایا گیا ہے اور اس طرح اٹک قصبہ[حال:اٹک خرد] کی حیثیت کم ہو گئی ہے”۔کیپٹن عبداللہ،مترجم،Gazetteer of Attock1930، از سی ۔ سی ۔ گاربیٹ ، الفیصل ،اردو بازار ،لاہور،مارچ 2014،ص73ضلع کمیبل پور کی تاریخ  وجۂ تسمیہ تو بالکل واضح اور صاف شفاف ہے ۔سی۔سی ۔گاربیٹ  لکھتے ہیں کہ:ـ "ــــــاس ضلع اٹک کا پرانا نام کیمبل پور تھا؛اس وقت اس ضلع کی چار تحصیلیں(اٹک،فتح جنگ، تلہ گنگ، پنڈی گھیب)تھیں۔1904ء میں اسے ضلع کا درجہ دیا گیا۔شروع شروع میں [یعنی کیمبل پور سے بھی پہلے]اسے "ضلع اٹک "ہی کا نام دیا گیا۔ بہ قول سی۔سی گاربیٹ : "راولپنڈی اور جہلم کی چار غیر معروف تحصیلوں کو انتظامیہ[انتظامی ]اُمور کی بہتری کے لیے یک جا کر کے ایک الگ ضلع بنایا گیا اور اس کا نام” اٹک” رکھا گیا "۔کیپٹن عبداللہ،مترجم،Gazetteer of Attock1930، از سی ۔ سی ۔ گاربیٹ ، الفیصل ،اردو بازار ،لاہور،مارچ 2014،ص7لیکن المیہ یہ ہے کہ اس علاقے کو اٹک کیوں کہتے ہیں؛’’اٹک‘‘سے پہلے اس علاقےکا کیا نام تھا؛اس کے بارے میں کئی مفروضے ہیں۔ذیل میں ان تما م آرا،اندازوں اور مفروضوں کو درج کیا جاتا ہے جواٹک کی وجۂ تسمیہ کے حوالے سے بیان کی جاتی ہیں،آخر میں اس سے کوئی نتیجہ برآمد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔’’اٹک‘‘کی وجۂ تسمیہ جاننے کے لیے ہماری نظر سب سے پہلے 1930میں اِس علاقے کے ڈپٹی کمشنر سی۔سی۔گاربیٹ کی تصنیف Gazetteer of Attock 1930پر پڑتی ہے۔اس میں لکھا ہے کہ’’ضلع اٹک کانام شہنشاۂ اکبر کے زمانے میں دریائے سندھ کے کنارے بننے والے قلعے کی وجہ سے مشہور ہوا جو کہ دریا کے پتن پر شہنشاہ اکبر نے بنوایا تھا اور جس کا نام اُس نے ہندوستان کے انتہائی جنوب میں ’’کٹک بنارس‘‘سے متمیز کرنے کے لیے اٹک رکھا۔سی۔سی گاربیٹ:ڈپٹی کمشنر اٹک،Gazetteer of Attock 1930، مترجم : کیپٹن (ر) عبداللہ خان،الفیصل ،اردو بازار لاہور،مارچ 2014،ص15سکندر خان، عبدالحلیم افغانی کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں

کہ:” عبدالحلیم افغانی کی تحقیق کے مطابق ۔۔۔حضرت مہلب ؓ انصاری صحابیِ رسول تھے۔اُن کے والد ابو صفرہؓ اور دادا عبیدالعتک ؓ تھے۔اس صحابیؓ ابن صحابیؓ ابنِ صحابیؓ نے فتح وادیِ چھچھ کے بعد اس کے مغرب میں اپنے نام کا ایک قلعہ تعمیر کیا تھا جس کا نام العتک رکھا جو بعد میں اتک اور پھر اٹک پکارا جانے لگا۔اس اعتبار سے دریائے سندھ کے مشرق میں یہ وادی پہلا باب الاسلام ہے‘‘۔سکندر خان،دامنِ اباسین،طبع سوم،ملی کتب خانہ ،ویسا،ضلع اٹک،2004،ص58پروفیسر اشرف حسینی کے خیال میں:”اٹک دراوڑی زبان کا لفظ ہے اورانگریزی اردو اور کئی دیگر زبانوں میں اسی نام سے لکھا پڑھا جاتا ہے ۔۔۔اٹک کے مقام پر دریائے سندھ جسے لاطینی اور انگریزی میں انڈس(Indus)کہا جاتا ہے ،رُک رک کر چلتا ہے ،اس وجہ سے اس مقام کا نام اٹک پڑ گیا ہے۔۔۔جہاں تک اس علاقے کے تاریخی پس منظر کا تعلق ہے اور کالا چٹا پہاڑ سے حاصل کیے گئے فوسلزFossilsسے اندازہ کیا جاتا ہے کہ یہاں کی تہذیب 40لاکھ سال پرانی ہےاور۔۔۔یہ علاقہ لاکھوں سال قبل افریقہ کا ایک قلعہ تھا۔مرورِ ایام ،زلزلوں اور دیگر حادثاتِ فطرت سے اس علاقہ اور افریقہ کے ساحل کے درمیان سمندر حائل ہو گیا اور دونوں علاقے ایک دوسرے سے منقطع ہو گئے”۔پروفیسر اشرف حسینی،اٹک کی قدیم وجدید تاریخ،مجلہ اٹک فیسٹیول،ضلع کونسل اٹک، 1992،ص34شاکر القادری نے "اٹکـ”نام کی وجہ بتاتے ہوئے پر زور انداز میںلکھا ہے کہ ” میرے نزدیک اس قلعہ کا نام اٹک بنارس رکھنے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ مغلوں کی اصل زبان فارسی تھی اور ترکی میں ’’اتک‘‘(ETEK)کا لفظ دامنِ کوہ کے لیے استعمال ہوتا ہے اور قرینِ قیاس بھی یہی ہے کہ اکبرِ اعظم نے دامنِ کوہ میں واقع ہونے کی وجہ سےاس کا نام ’’اٹک‘‘ رکھا ہو۔۔۔ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اکبرِ اعظم سے پہلے اس علاقہ کا نام کیا تھا۔کیا یہ علاقہ اکبری عہد سے پہلے بھی اٹک کے نام سے مشہور تھا[؟]کم از کم میرے سامنے کوئی ایسا ثبوت نہیں آیاجس[کی بنا پر]یہ کہا جاسکےکہ اکبرِ اعظم سے پہلے بھی اس علاقہ کو اٹک کہا جاتا تھا۔ایسے کسی ثبوت کی عدم موجودگی میں یہی تصور کیا جائے گا کہ اٹک نام اکبرِ اعظم کا ہی رکھا ہوا ہے‘‘۔شاکر القادری،قلعۂ اٹک بنارس،مجلہ اٹک فیسٹول،ضلع کونسل اٹک،1992,،ص41 شاکر القادری اپنے  ایک اور مضمون میں اپنی اس رائے کو یوں دہراتے ہیں کہ:’’ضلع اٹک کا نام ’’اٹک‘‘کیوں پڑا؟اس بارے میں بہت سی روایات بیان کی جاتی ہیں۔ایک روایت کے مطابق یہ نام لفظ ’’خٹک‘‘کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔جنرل کننگھم کے خیال میں یہ نام ’’ٹکا‘‘نامی قبیلہ سے وابستہ[ہے]۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس مقام پر دریائے سندھ (جسے  لاطینی اور انگریزی میں انڈس(INDUS)

کہا جاتا ہے )،رُک رُک کر چلتا ہے ،اس وجہ سے اس مقام کا نام اٹک پڑ گیا ہے۔ایک روایت کے مطابق ’’اٹک‘‘کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ہندوئوں کے عقیدے کے مطابق نیلاب(دریائے سندھ)کو پار کرنا منع ہے ۔لفظ ’’اٹک‘‘کے معنی بھی یہی ہیں۔ایک روایت یوں بیان کی جاتی ہے کہ عہدِ شیر شاہ سوری میں کلکتہ سے پشاور تک طویل شاہراہ تعمیر ہو رہی تھی اور اٹک کے مقام پر پل کی تعمیر زیرِ غور تھی۔دریائے سندھ کی طوفانی موجیں ہر انسانی کوشش کو ناکام بنا رہی تھیں۔کسی نے شیر شاہ شوری کو خبر دی کہ ایک ولیِ کامل تمھاری مشکل حل کر سکتا ہے اس کا اشارہ حضرت سلطان مہدی کی طرف تھا،جب شیر شاہ کے کارندے مجذوب کے بتائے ہوئے پتا پر’’جھونگہ سلوئی‘‘پہنچے اور حضرت سلطان مہدی سے تمام ماجرا کہ سنایا۔آپ تشریف لے گئے اور جہاں پل بنانا مقصود تھا اس جگہ کھڑے ہو کر دریائے سندھ کی سرعت سے بہتی ہوئی موجوں کو بہ فضلِ تعالیٰ حکماََ کہااٹک!یعنی رُک جائو اور وہ رُک گئیں۔شیر شاہ سوری نے پل تعمیر کر لیا۔مگر حضرت سلطان مہدی کی کرامت کی یاد میں اس کا نام اٹک پڑ گیا[ آغا عبدالغفور جنوری 1998کے ماہ نامہ اٹک نامہ کے صفحہ نمبر 16پر اس روایت کا رد اس طرح کرتے ہیں کہ:’’اس حکایت میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ اٹک گھاٹ شیر شاہ سوری کے عہد میں بنا ہی نہیں تھا اور نہ ہی اس زمانہ میں اٹک شاہراہ پر واقع تھا۔شیر شاہ سوری کے عہد میں اٹک سڑک نیلاب سے سنار گائوں تک بنائی گئی تھی۔دریائے سندھ کے مغرب میں کسی مقام پر سوری کی عمل داری نہ تھی اور انگریزی عہد سے قبل دریائے سندھ پر کسی بھی جگہ پر پختہ پل موجود نہ تھا‘‘۔]۔اس سلسلہ میں ایک اور روایت بھی بڑے شدومد کے ساتھ بیان کی جاتی ہےکہ مشہور صحابی حضرت مہلب بن ابی صفرہ العتکی الازدی نے 50ہجری وادیِ چھچھ کو فتح کرنے کے بعد اپنے نام سے ایک قلعہ تعمیر کروایا تھاجو مرورِ زمانہ سے بدلتے بدلتے پہلے’’اتک‘‘ اور بعد میں’’اٹک‘‘بن گیا۔بعض محققین کے نزدیک’’اٹک‘‘دراوڑی زبان کا لفظ ہے اور انگریزی ،اردو اور کئی دیگر زبانوں میں اسی طرح لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔اس نام کی کئی اور توجیہات بھی پیش کی جا سکتی ہیں،تاریخی قدامت کے اعتبار سے اسے عربی کے لفظ ’’عتیق‘‘یعنی قدیم سے ماخوذ بھی قرار دیا جا سکتا ہے ،اور اس علاقے کا ہر دور میں بیرونی حملہ آوروں کی گزرگاہ اور زد میں ہونے کی بنا پر اسے انگریزی زبان کے لفظ’’اٹیک‘‘(Attack)یعنی حملہ کی تبدیل شدہ صورت بھی کہا جا سکتا ہے

۔یہ تو تھیں وہ تمام روایات اور توجیہات جو’’اٹک‘‘نام کی وجۂ تسمیہ کے بارے میں بیان کی جاتی ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ ’’اٹک‘‘کا نام پنجاب اور سرحد کے سنگھم پراکبری دور میں تعمیر کیے گئے قلعہ ’’اٹک‘‘بنارس کی تعمیر سے پہلے اس علاقہ کو ’’اٹک‘‘کے نام سے پکارے جانے کی کوئی شہادت نہیں ملتی۔مغل بادشاہ اکبرِ اعظم کے سوتیلے بھائی مرزا حکیم نے جو کابل کا گورنر تھا،جب علمِ بغاوت  بلند کیا تو اس فتنہ کو فرو کرنے کے لیے خود اکبرِ اعظم کو کابل جانا پڑا۔جب اکبرِ اعظم اٹک پہنچا تو دریا میں شدید طغیانی کے باعث ۔۔۔پچاس دن قیام کرنا پڑا۔یہاں اکبرِ اعظم کو احساس ہوا کہ لاہور اور کابل کے درمیان یہ دامنِ کوہ کس قدر اہمیت کا حامل مقام ہے۔۔۔یہی وجہ تھی کہ اکبرِ اعظم نے یہاں قلعہ بنانے کا حکم دیا۔۔۔قلعہ کا سنگِ بنیاد خوداپنے ہاتھوں سے رکھا اور اس کا نام اپنی سلطنت کے مشرقی کنارے پر واقع قلعہ’’کٹک بنارس‘‘کے نام پر رکھا’’کٹک بنارس‘‘بھارتی صوبہ اڑیسہ کا دارالحکومت ہے۔’’اٹک‘‘ترکی زبان کا لفظ ’’اتک‘‘(ETEK)کی صورت مبدل ہے۔ترکی زبان میں اس لفظ’’اتک‘‘کے معنی ہیں ’’دامنِ کوہ‘‘۔’’اتک‘‘روسی ترکمانستان کے ایک ضلع کا نام بھی ہےجو خراسان کے سرحدی کوہستان(کوپت داغ)کی شمالی اترائی پرجورز(GAURS)اور دشک (DUSHAK)کے درمیان آباد ہے۔ایرانی اس کو الف مفتوحہ کے ساتھ  ’’اتک‘‘پڑھتےہیں۔ہمارے خیال کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ مغلوں کی اصل زبان ترکی تھی اور جس مقام پر قلعہ تعمیر کرایا گیا وہ بھی دامنِ کوہ ہے۔اسی لیے اکبرِ اعظم نے اسے ’’اٹک بنارس‘‘کا نام دیا۔ترکی زبان کے اس لفظ ’’اتک‘‘،مقامی قوم ’’خٹک‘‘اور اکبر کی سلطنت کے مشرقی کنارے پر واقع قلعہ’’ کٹک‘‘ تینوں کا ہم وزن و ہم قافیہ ہونا اکبر کی مزید پسندیدگی کا باعث بنا ہو گا اور اس کے ساتھ بنارس کا لاحقہ لگا کر ’’اتک بنارس‘‘نام رکھ دیا گیاہوگا۔یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہےکہ اکبر نے یہ نام صرف’’کٹک بنارس‘‘کا ہم وزن ہونے کی وجہ سے نہیں رکھا بلکہ اس لفظ[کی]مقامی توجیہات اور کثیر الجہت معانی بھی اس کے پیشِ نظر تھے‘‘۔سیدشاکر القادری،ضلع اٹک:تاریخ کےا ٓئینے میں ،مجلہ سنگم،گورنمنٹ کالج حضرو، 2012،ص30ایک روایت یہ بھی ہے کہ:’’چونکہ یہ قلعہ مغربی حملوں کے واسطے ایک اٹکاؤ بنایا گیا تھا اس واسطے اس کا نام اٹک رکھا گیا۔ ‘‘ 

تاریخ مخزن پنجاب از مفتی غلام سرور قریشی لاہوری مترجمہ ڈاکٹرعبدالرحمن، 1996ء، دوست ایسوسی ایٹس، لاہور، صفحہ322محمد نواز اعوان نے محمد قاسم فرشتہ اور دیگرمحققین کی آرا کو یوں آمیخت کیا کہ شتر گربہ کی صورت اختیار کر گئی۔ ملاحظہ کیجیے:’’قدیمی کتاب تواریخ میں ’’اٹک‘‘نام نظر سے نہیں گزرا۔محمد قاسم اپنی تصنیفــ’’تاریخ فرشتہ‘‘میںرقم طراز ہیں کہ اکبرِ اعظم 14۔صفر989ھ میں جب کا بل سے واپس ہواتو دریائے سندھ کو عبور کرنے کے بعد اس علاقے کے انتظام کے لیےچونے اور پتھر کا ایک حصار تعمیر کروایا۔اس قلعہ کو ’’اٹک‘‘کو اٹک کے نام سے موسوم کیا۔وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ہندوئوں کے عقیدے کے مطابق نیلاب کو عبور کرنا منع ہے۔لفظ اٹک کے یہی معنی ہیں۔مقامی زبان میں اٹک سے مراد رُکنا،ٹھہرنا ہے۔یہ لفظ مذکر ہے۔معنی رکاوٹ، جھجک، اٹکائو ، مقا م کے ہیں۔اٹک کر رہ جانا یعنی رکاوٹ سے آگے نہ بڑھنا،ٹھہر جانا،ٹکنا کے معنی ٹانکا لگانا،سیا جا جب کہ ٹکنا کے معنی کاٹنا کے ہیں۔اسی مقام پر دریائے سندھ اور دریائے کابل کا اتصال بھی ہوتا ہے۔دونوں گلے مل کر آہ و زاری بھی کرتے ہیںاور گلہ شکوہ بھی۔گویا جب دونوں یک جان ہوتے ہیںتو قلعہ کے ساتھ مغربی جانب بڑے تحمل کے ساتھ،ٹھہر ٹھہر کر،رک رک کریہ دریا چلتا ہے۔ہو سکتا ہے اس وجہ سے اٹک نام دیا گیا ہو۔ایک دیگر روایت کے مطابق دریائے سندھ جس کو دریائے نیلاب بھی کہا جاتا ہے،کے کنارے قوم خٹک آباد تھی بلکہ فی الوقت بھی ہے اور ’’اٹک‘‘خٹک کا بگاڑ ہو۔ترکی زبان میں دامن کوہ کو اٹک کہا جاتا ہےجب کہ مغلوں کی بنیادی زبان ترکی ہی تھی ۔ہو سکتا ہے کہ یہ قلعہ دامنِ کوہ میں ہونے کی وجہ سے اسے اٹک کا نام دیا گیا ہو۔۔۔ڈاکٹر سیف الرحمٰن۔۔۔ لکھتے ہیں کہ درہ مارگلہ اور دریائے سندھ کے درمیانی علاقہ پر ــ’’ٹک‘‘نامی قبیلہ کا حکمران زمانۂ قدیم میں گزرا ہے۔ایک دیگر تاریخ نویس کا کہنا ہے کہ دریائے جہلم اور سندھ کے درمیان ’’ٹکا‘‘نامی قبیلہ کے افراد جگہ جگہ آباد ہیں۔۔۔ہو سکتا ہے کہ ’’ٹک‘‘کو وزن میں رکھنے کے لیے اکبرِ اعظم کے مشیروں نے الف کے اضافہ کا مشورہ دے کے ’’اٹک‘‘نام تجویز کیا ہو۔۔۔علم جفر کی رو سے ابجد کے کل اٹھائیس حروف ہیں۔علم ہندسہ کی رو سےہر حرف کی قیمت مقرر ہے۔حکم دینے والا’’ اکبر‘‘ ہے۔تعمیر ہونے والی شے’’ قلعہ ‘‘ہے اور رکھا نام ’’ اتک ‘‘ ہے۔حروف ابجد کے تحت چار حروف پر مشتمل ’’اکبر‘‘ہے۔ا،ک،ب،ر[:]ان حروف کی قیمت باالترتیب1 ، 220، 200، ہے۔بلحاظ مراتب جمع کرنے سے مجموعہ  200+2+20+1، =، 421ہے ۔ 7=1+4+2، مجموعہ جمع = 7 آ گیا ۔ ہندسہ ’’7‘ ‘ کا حرفِ ابجد ’’ز‘‘ہے  جو جدول عنصری کے لحاظ سے آبی ہے۔قلعہ کے حروف ق،ل،ع،ہ ہیںجن کی قیمت باالترتیب 100،30،+  70،+،5،  =،1+6آ گیا ہے۔ مجموعہ 7ہے۔ابجد کی رو سے حرف’’ز‘‘ہے اور عنصر ہے آبی ،اور نام ہے قلعہ کا ’’اتک‘‘ =حروف ہوئے ا،ت،ک ۔ قیمت ٹھہری:1،+،400،+،20،=،421ہے بلحاظِ مراتب جمع4+,2+,1،= 7 ہوا۔اور ابجد کی رو سےحرف ہوا’’ز‘‘،جب کہ عنصر ہےا ٓبی ۔ایک بات ثابت ہوئی کہ اکبر ،قلعہ،اتک،تینوں کا مجموعہ عدد7ہےاور عنصری لحاظ سے آبی ہے۔قلعہ کی دیواریں تو دریا میں سے اُٹھائی گئی تھیں اور قلعہ کا کچھ حصہ پانی میں ہے۔

میرے نقطہ نگاہ سےاکبر کو قلعہ کا نام کسی عالم یا منجم نے تجویز کر کے دیا ہو گا اور بعد’’ت‘‘کو ’’ٹ‘‘سے بدل دیا گیا۔مزید برآں اس خطہ میں چھوٹے پیمانے پر قمار بازی کی قسم کو’’ٹکا ماری‘‘بھی کہتے ہیں۔خیال کچھ یوں ہے کہ یہ عطیہ اس ’’ٹکا‘‘اس قبیلہ کا ہی دیا ہوا معلوم ہوتاہے جو زمانۂ قدیم میں گزرا‘‘۔محمدنواز اعوان،تاریخ سر زمینِ اٹک،انعام دار ہائوس،بولیانوال،س،ن،ص،78پروفیسرمحمد عثمان صدیقی اورپروفیسر شوکت محمود شوکت کی مشترکہ کتاب ’’ فانوس ‘‘ فروری 2018کو منظر عام پر آئی۔اس میں ’’اٹک ‘‘کی وجۂ تسمیہ یوں بیان کی گئی ہے:’’اٹک کی وجۂ تسمیہ کے بارے میں دو روایات قابلِ ذکر ہیں۔ایک روایت یہ ہے کہ حضرت مہلب انصاری صحابیِ رسول ﷺاٹک خورد[خرد]کے قریب ہجرت کر کے آئے تھے۔ان کے قبیلے کا نام العتک تھا۔قبیلے کی نسبت سے اس علاقے کو اولاََ العتک کہا گیا جو ہندی کے زیرِ اثر اٹک ہو گیا۔دوسری روایت یہ ہے کہ اکبر بادشاہ کے زمانے میں کابل کا علاقہ دریائے سندھ تک پھیلا ہوا تھا۔۔۔کابل کا صوبہ دار اکبر کا سوتیلا بھائی مرزا محمد حکیم تھا۔اکبر کی مذہبی رواداری جب حد سے بڑھی۔تو مرزا حکیم نے 1552 میں علمِ بغاوت بلند کیا،اکبر اس کی سرکوبی کے لیے بہ نفسِ نفیس لشکر کے ساتھ کابل تک گیا ،مگر وہ بھاگ نکلا۔۔۔واپسی پر ۔۔۔دریا کے کنارے قلعہ تعمیر کرنے کا حکم دیا تاکہ آئندہ مغرب کی طرف سے حملہ آوروں کو پنجاب میں داخل ہونے سے روکا جائے۔۔۔اس کا نام قلعہ اٹک بنارس رکھا گیا۔۔۔قلعے کی نام کی وجہ سے اس علاقے کو اٹک کہا جانے لگا‘‘۔محمد عثمان صدیقی وغیرہ،فانوس،جمالیات پبلی کیشنز ،اٹک،فروری 2018،ص19سید صابر حسین شاہ بخاری رقم طراز ہیں کہ’’:کچھ حضرات کا خیال ہے کہ اٹک دواڑی[دراوڑی]زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی دلدلی زمین کے ہیں۔چونکہ دریائے سندھ کی زمین دلدلی ہے اسی وجہ سے اس کا نام ’’اٹک‘‘رکھا گیا۔بعض کے نزدیک چونکہ دریا ئے سندھ رُک رک کر چلتا ہے اس لیے اس کا نام اٹک پڑ گیا۔ماہرِ آثاریات جنرل گنگھم[کننگھم ] کا خیال ہے کہ یہ نام ٹکا قبیلے کے نام پر رکھا گیا جو دریائے سندھ اور اس کے گردونواح میں آباد تھا۔بعض کے نزدیک مغلوں کی اصل زبان ترکی تھی اور ترکی زبان میں اتک کا لفظ دامنِ کوہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔کچھ کے نزدیک شمالی مغربی دروں کے راستوں سے آنے والے حملہ آوروں کو دریائے سندھ کے کنارے رُکنا یا اٹکنا پڑتا تھا ۔بعض دفعہ یہ اٹکنا کئی کئی مہینوں تک ہوتا تھا۔اس رکاوٹ کے باعث دریا کا نام اٹک مشہور ہوا اور جب اکبر بادشاہ نے یہاں قلعہ تعمیر کرایا تھا تو علاقہ کی مناسبت سے یہ قلعۂ اٹک کہلایا۔قاضی عبدالحلیم اثر افغانی کے مطابق اٹک کی وجہ تسمیہ مشہور صحابی حضرت مہلب بن ابی العتکی ازدی نے 680ھ میں وادی چھچھ کوفتح کرنے پر اپنے نام سے ایک قلعہ’’العتک‘‘تعمیر کیا جو بعد میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ العتک سے ’’اٹک‘‘ہو گیا۔سید صابر حسین شاہ بخاری قادری (تقدیم)،تذکرہ علمائے اہلسنت ،ضلع اٹک،مرتب:مولانا حافظ محمد اسلم رضوی ،اسلامک میڈیا سنٹر،لاہور،مارچ 2019،ص26سید قاسم محمودنے بھی انھیں مفروضوں اور اندازوں سے استفادہ کیا،

لکھتے ہیں:’’یہ شہر اتنا ہی قدیم ہے جتناکہ سندھ میں موئن جودڑو،پنجاب میں ہڑپہ ۔۔۔600   قبل مسیح میںاس جگہ پر یونانی قابض تھے۔موجودہ نام اٹک پہلی مرتبہ شہنشاہ اکبر کے زمانے میں سننے میں آیا۔1580میں اکبر کے بھائی مرزا حکیم ،گورنر کابل نے پنجاب پر حملہ کر دیا۔اکبر اپنے بھائی کو کابل کی سمت واپس دھکیل کر اسی راستے سے دہلی روانہ ہوا۔دریا کے کنارے ایک پرانی سی بستی اکبر کو دفاعی لحاظ سے بہت اچھی لگی۔اُس نےیہاں ایک پختہ قلعہ تعمیر کرایا جس کا نام قلعہ اٹک پڑ گیا‘‘سید قاسم محمود،انسائیکلو پیڈیا پاکستانیکا،الفیصل،اردو بازار،لاہور،س۔ن،ص160محمد نذیر رانجھا نے بھی ’’تذکرہ علمائے  چھچھ‘‘اگست 2007کے ایڈیشن میں صفحہ 33پرقاضی عبدالحلیم اثر افغانی کے حوالے سےصحابی حضرت مہلب انصاری کی روایت نقل کی ہے۔(2)آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا(جون 2019 تک)نے بھی تقریباََ انھیں روایات کو تھوڑا بہت اضافے کے ساتھ ساتھ دہرایا ہے،البتہ انھوں نے اٹک کی وجۂ تسمیہ کے حوالے سے معروف روایات کا حوالہ بھی درج کر دیا،جس کی وجہ سے کسی روایت کےماخذ تک پہنچنا آسان ہو گیا:آزاد دائرۃ المعارف ، ویکیپیڈیا  کے مطابق:’’اٹک کانام پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سنگم پر اکبری دور میں تعمیر کیے گئے قلعہ اٹک بنارس کی وجہ سے پڑا، جس کا ثبوت یہ ہے کہ قلعہ’’اٹک بنارس‘‘ کی تعمیر سے پہلے اس علاقہ کو ’’اٹک‘‘ کے نام سے پکارے جانے کی کوئی شہادت نہیں ملتی۔قلعہ ’’اٹک بنارس‘‘ جی ٹی روڈ پر دریائے سندھ کے کنارے موجودہ اٹک خورد[خرد] کے مقام پر واقع ہے۔ اس قلعے کو 1581ء میں مغل بادشاہ اکبر اعظم نے اپنے سوتیلے بھائی مرزا حکیم(گورنر کابل) کو شکست دینے کے بعدواپس ہندوستان آتے ہوئے بنوایا تھا۔مختلف روایات:’’اٹک‘‘ نام کے بارے میں بہت سی روایات بیان کی جاتی ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں :اٹک لفظ ’’خٹک‘‘ کی بگڑی ہوئی صورت ہے؟ایک روایت کے مطابق یہ نام لفظ ’’خٹک‘‘ کی بگڑی ہوئی صورت ہے، کیونکہ ان دنوں دریائے سندھ کے کنارے اس نام کا قبیلہ آباد تھا۔یہ نام ’’ٹکا‘‘ نامی قبیلہ سے وابستہ ہے۔جنرل کننگھم کے خیال میں یہ نام ’’ٹکا‘‘ نامی قبیلہ سے وابستہ ہے، جو زمانہ قدیم میں درہ مارگلہ اور دریائے سندھ کے درمیانی علاقوں میں آباد تھا۔دریائے سندھ کا اس مقام پر رک رک کر چلنا‘‘[اقتباسات از: اٹک خورد اورقلعہ اٹک سیاحوں کی نظر میں)آغا عبد الغفور، ماہنامہ اٹک نامہ اٹک، جلد3[L: 58]شمارہ10[L: 58])]یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس مقام پر دریائے سندھ (جسے لاطینی اور انگریزی میں انڈسINDUS) کہا جاتا ہے) رُک رُک کر چلتا ہے اس لیے اس کا نام ’’ اٹک ‘‘ پڑ گیا۔

محمد قاسم فرشتہ لکھتا ہے کہ’’اٹک کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق نیلاب (دریائے سندھ) کو پار کرنا منع ہے۔ لفظ ’’اٹک‘‘ کے یہی معنی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ نیلاب کے پار جانے پر اس لیے پابندی تھی کہ اٹک کے مغرب میں مسلمان آباد تھے، جن کو وہ ملیچھ(نجس) سمجھتے تھے، لیکن میرے خیال میں کٹڑ برہمن اس علاقہ کو زمانہ قدیم ہی سے ناپاک تصور کرتے تھے، کیونکہ یہ علاقہ 530ق م میں ایرانیوں کے زیر نگیں تھا۔ اس کے بعد سکندر اعظم اپنی یونانی فوج کے ساتھ اس خطہ پر حملہ آور ہوا۔ باختری یونانی بھی یہاں حکمران رہے۔ اس کے بعد ساکا قبائل حملہ آور ہوئے یہ لوگ ویدک آریاؤں کے برعکس لہسن اور پیاز استعمال کرتے تھے۔ بھیڑ، بکری،سور، گائے، اونٹ اور گدھے کا گوشت کھاتے تھے۔ برہمنوں کی قیادت زندگی کے کسی شعبہ میں تسلیم نہیں کرتے تھے۔ ساکا عورتیں بیک وقت کئی کئی مردوں سے شادی کرتی تھیں۔ مرد اور عورت یکجا ناؤ نوش کی محفلوں میں شریک ہوتے اور جنسی صحبتوں سے لطف اندوز ہوتے۔ ان میں ذات پات کی بھی قید نہ تھی۔ غالباً انہی وجوہات کی بنا پر برہمنوں نے سندھ پار جانے پر پابندی لگا دی تھی، حالانکہ بعد میں ان میں سے بہت سی خرابیوں کو ہندوستان کے باسیوں نے اپنا لیا تھا، چنانچہ تنتارک مذہب کی بنیاد ہی گوشت خوری، شراب نوشی اور مخلوط جنسی محفلوں پر مبنی ہے۔ بہرحال ہندوؤں کی مذہبی کتب میں تحریر ہے کہ اگر کوئی شخص مجبوراً اٹک پار جائے تو واپسی پر اپنا زنّار(جینو) تبدیل کر لے اور وہ تمام عمل دہرائے جو ازسرنو ہندو مت میں شامل ہونے کے لیے ضروری ہیں۔ اس حکم یا عقیدے کی تصدیق انیسویں صدی کے دو یورپین سیاح ہیوگل(Hu gel) اور برنس(Burnes) بھی کرتے ہیں لیکن ان پابندیوں کے باوجودہندو کابل و سمرقند و بخارا میں موجود تھے۔ ‘‘احمد غزالی نے وجہ تسمیہ کی کہانی بیان کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ:عہد شیر شاہ سوری میں کلکتہ سے پشاور تک طویل شاہراہ تعمیرہو رہی تھی اور اٹک کے مقام پر پل کی تعمیر زیرغور تھی۔ دریائے سندھ کی طوفانی موجیں ہر انسانی کوشش کو ناکام بنا رہی تھیں۔ کسی مجذوب نے شیرشاہ سوری کو خبر دی کہ ایک ولی کامل (درجہ جس کا سلطانی ہے) خدا کے فضل و کرم سے تمہاری مشکل حل کر سکتا ہے۔ اس کی پہچان کے متعلق چند نشانیاں بتائیں۔ مجذوب کا اشارہ حضرت سلطان مہدیؒ کی طرف تھا۔ جب شیرشاہ کے کارندے مجذوب کے بتائے ہوئے پتہ پر’’جھونگہ سلوئی‘‘ پہنچے تو حضرت سلطان مہدی اور ان کے آس پاس وہ تمام نشانیاں موجود پائیں جن کے متعلق انہیں بتایا گیا تھا۔ حضرت سلطان مہدی تشریف لے گئے اور جہاں پل بنانا مقصود تھا اس جگہ کھڑے ہوکر دریائے

سندھ کی سرعت سے بہتی ہوئی موجوں کو بفضل تعالیٰ حکماً کہا ’’اٹک‘‘ یعنی رک جاؤ اور وہ رک گئیں۔ شیرشاہ سوری نے پل تعمیر کر لیا، مگر حضرت سلطان مہدیؒ کی اس کرامت کی یاد میں اس جگہ کا مستقل نام ’’اٹک‘‘ پڑ گیا۔ ‘‘مہلب بن صفرہ العتکی کے قلعہ العتک کی روایت:اس سلسلہ میں ایک اور روایت بھی بڑے شدومد کے ساتھ بیان کی جاتی ہے کہ مشہور صحابی حضرت مہلب بن ابی صفرہ العتکی الازدیؓ نے 50 ہجری نے وادی چھچھ کو فتح کرنے کے بعد اپنے نام سے ایک قلعہ تعمیر کروایا تھا، جو مرورزمانہ سے بدلتے بدلتے پہلے ’’اتک‘‘ اور بعد میں ’’ اٹک بن گیا۔ [دامن اباسین، مولفہ سکندر خان،1993ء صفحہ:134]’’معاویہ ابن ابوسفیان کے دور (44ہجری،666 عیسوی) میں زیاد ابن ابیہ کو بصرہ سیستان اور خراسان کا والی مقرر کیا گیا۔ اسی سال عبد الرحمن ابن شمر نے ابن زیاد کے حکم سے کابل کو فتح کر کے وہاں کے لوگوں کو مطیع کیا۔ فتح کابل سے کچھ عرصہ بعد مہلّب ابن صفرہ جو عرب کے امرائے کبار میں سے تھا ’’مرو‘‘ کے راستے سے کابل آیا اور ہندوستان میں داخل ہو کرکفار سے جہاد کیا‘‘۔ ٹیکسلا کا تہذیبی سفر نامہ مولفہ : آغا عبد الغفور، صفحہ: 110’’مہلب بن ابی صفرہ نے معاویہ کے دور یعنی 44 ہجری میں ہندوستان کی سرحد پر جنگ کی اور بنا اور الاہواز تک پہنچ گیا۔ یہ دونوں مقامات ملتان اور کابل کے درمیان واقع ہیں۔ یہاں اس کا آمنا سامنا دشمن کی فوجوں سے ہوا، یہ وہی بنا ہے جس کے متعلق ازدی کہتا ہے کہ تم نے دیکھا نہیں کہ الازد کے قبیلہ نے اپنے آپ کو المہلب کی بہترین فوجیں ثابت کیا، اس رات جبکہ بنا میں ان پر شدید حملہ ہوا۔ ‘‘۔ بلاذری :فتوح البلدان باب فتوح السندھکرنل عبد الرشید کے بیان کے مطابق ’’بنا‘‘ سے بنوں اور ’’الاہواز‘‘ سے لاہور خودر ضلع صوابی مراد ہے، اگر اس بیان کو درست مان لیا جائے تو چونکہ مہلب بن ابی صفرہ الاہواز (موجودہ لاہور خورد ضلع صوابی) کا گورنر رہا ہے اس لیے یہ بات بعید از قیاس بھی نہیں کہ یہاں مہلب بن ابی صفرہ نے ’’العتک‘‘ نامی کوئی قلعہ تعمیر کیا ہو۔میر سید بخاری اپنی کتاب’’ لاہور تاریخ کے آئینے میں ‘‘ تحریر کرتے ہیں :’’اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے پیشتر کہ اکبر نے اٹک کے مقام پر اپنا موجودہ قلعہ تعمیر کیا ہو یہاں پہلے ہی ایک قلعہ موجود تھا۔ یہ قلعہ مہلب بن ابی صفرہ بن العتکی نے سندھ جاتے ہوئے بنوایاتھا‘‘۔ میر سید بخاری، لاہور تاریخ کے آئینے میں، صفحہ: 47 حقیقت حال:یہ تو تھیں وہ تمام روایات جو’’اٹک‘‘ نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بیان کی جاتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ’’ اٹک‘‘ کا نام کتب تاریخ میں اس قلعے کی تعمیر کے بعد ہی معروف ہوا، جسے 1581ء میں مغل بادشاہ اکبر اعظم نے اپنے سوتیلے بھائی مرزا حکیم (گورنر کابل) کو شکست دینے کے بعد واپس ہندوستان آتے ہوئے بنوایا تھا۔

اس سے پہلے اس علاقہ کو اٹک کے نام سے پکارے جانے کی کوئی واضح شہادت تاریخ کی کتابوں میں نہیں ملتی۔’’کابل سے واپس ہوتے وقت جب دریائے نیلاب پر لشکر پہنچا تو اکبر نے وہاں ایک قلعہ کی بنیاد رکھی اور اس کا نام ’’اٹک‘‘ رکھا۔ یہ قلعہ991ھ میں بن کر تیار ہوا۔ اس وقت اکبر بادشاہ کا قیام لاہور میں تھا۔ وہیں سے بادشاہ نے اٹک کا قلعدار راجہ بھگوان داس کو بنا کر بھیجا۔ ‘‘(منتخب اللباب از نظام الملک خافی خان، مترجم: محمود احمد فاروقی، نفیس اکیڈیمی کراچی، جلد اول صفحہ210)مغل بادشاہ اکبر اعظم کے سوتیلے بھائی مرزا حکیم (جو کابل کا گورنر تھا) نے جب علم بغاوت بلند کیا تو اس فتنہ کو فرو کرنے کے لیے خود اکبر اعظم کو کابل جانا پڑا۔ لاہور سے کابل جاتے ہوئے جب اکبر اعظم اٹک پہنچا تو دریا میں شدید طغیانی کے باعث یہاں کشتیوں کا پل تعمیر کرنا ناممکن تھا۔ موسم بھی انتہائی گرم تھا اور جون جولائی کے مہینے میں پوری گھاٹی بھٹی کی طرح تپ رہی تھی۔ مجبوراً اکبر اعظم کو شدید گرمی کے اس موسم میں یہاں پچاس دن قیام کرنا پڑا۔ یہاں اکبر اعظم کو احساس ہوا کہ لاہور و کابل کے در میان یہ دامن کوہ کس قدر اہمیت کا حامل مقام ہے اور اگر کسی وجہ سے بادشاہ کو اس مقام پر رکنا پڑے تو یہاں قیام و طعام کا خاطر خواہ بندوبست موجود ہو۔ نیز چہار اطراف میں دشمن قبائل کی سکونت کی وجہ سے دفاعی اعتبار سے بھی اس مقام کی ایک خاص اہمیت ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب اکبر اعظم اپنے سوتیلے بھائی حکیم مرزا کو شکست دینے کے بعد کابل سے واپس آ رہا تھا تو اس نے یہاں قلعہ بنانے کا حکم دیا جوخواجہ شمس الدین خوافی کی نگرانی میں دوسال (1581ء-1583ء) کے عرصہ میں تعمیر ہوا۔ اکبر اعظم نے اس قلعہ کا سنگ بنیاد خود اپنے ہاتھوں سے رکھا اور اس کا نام اپنی سلطنت کے مشرقی کنارے پر واقع قلعہ’’کٹک بنارس‘‘ کے نام پر رکھا۔بعض محققین کے نزدیک ’’اٹک‘‘ دراوڑی زبان کا لفظ ہے اور انگریزی، اردو اور کئی دیگر زبانوں میں اسی طرح لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ یوں تو اس نام کی کئی اور توجیہات بھی پیش کی جا سکتی ہیں، تاریخی قدامت کے اعتبار سے اسے عربی کے لفظ ’’عتیق‘‘ یعنی قدیم سے ماخوذ بھی قرار دیا جا سکتا ہے اور اس علاقے کا ہر دور میں بیرونی حملہ آوروں کی گزرگاہ اور زد میں ہونے کی بنا پر اسے انگریزی زبان کے لفظ ’’اٹیک‘‘(Attack) یعنی حملہ کی تبدیل شدہ صورت بھی کہا جا سکتا ہے۔’’اٹک‘‘ ترکی زبان کے لفظ ’’اتک‘‘ (ETEK) کی صورت مبدل ہے۔ ترکی زبان میں اس لفظ ’’اتک‘‘ کے معنی ’’دامن کوہ‘‘ کے ہیں۔ اتک روسی ترکمانستان کے ایک ضلع کا نام بھی ہے، جو خراسان کے سرحدی کوہستان(کوپت داغ) کی شمالی اترائی پرجورز (GAURS) اور دشک(DUSHAK) کے درمیان آباد ہے۔ ایرانی اس کو الف مفتوحہ کے ساتھ ’’اَتک‘‘ پڑھتے ہیں۔

دائرہ معارف اسلامیہاس خیال کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ مغلوں کی اصل زبان ترکی تھی اور جس مقام پر قلعہ تعمیر کرایا گیا وہ بھی دامن کوہ ہے۔ اسی لیے اکبر اعظم نے اسے ’’ اٹک بنارس‘‘ کا نام دیا۔ ترکی زبان کے اس لفظ ’’اتک‘‘ مقامی قوم’’ خٹک‘‘ اور اکبر کی سلطنت کے مشرقی کنارے پر واقع قلعہ’’ کٹک‘‘ تینوں کا ہم وزن و ہم قافیہ ہونا اکبر کی مزید پسندیدگی کا باعث بنا ہوگا اور اس کے ساتھ بنارس کا لاحقہ لگا کر ’’اتک بنارس‘‘ نام رکھ دیا گیا ہوگا۔ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اکبر نے یہ نام صرف ’’ کٹک بنارس ‘‘ کا ہم وزن ہونے کی وجہ سے نہیں رکھا بلکہ اس لفظ کے معنی بھی اس کے پیش نظر تھے)ٓزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا،جون 2019تک)(3)اگر ہم مندرجہ بالا محققین اور وکی پیڈیاکی تحقیق کا بہ غور جائزہ لیں تو ان میں میں مندرجہ ذیل نقائص پائے جاتے ہیں:۔(1)۔حضرت مہلب ؓ انصاری صحابیِ کا حوالہ اس لیے کم زور ہے کہ اصحابِ رسول کی نہ اس طرح تربیت کی گئی تھی اور نہ اصحابِ رسول اس طرح کے کام کرتے تھے ۔قلعہ کا ناک نقشہ اور استعمال ہونے والے مواد کی ساخت کو بھی اُس قدیم عہد سے کو ئی مماثلت نہیں بلکہ یہ قلعہ مغل حکم رانوں کےمخصوص طرزِ تعمیر کا عکاس ہے ۔اس کے علاوہ اگر اٹک دراوڑی زبان کا لفظ ہے یاترکی زبان کا لفظ ’’اتک‘‘(ETEK)کی صورت مبدل ہے تواس سے بھی حضرت مہلب انصاری والی روایت کم زور ہو جاتی ہے۔ (2)۔ احمد غزالی اورشاکر القادری روایت کرتے ہیں کہ دریائے سندھ کی طغیانی نے شیر شاہ سوری اور اکبر کا کئی دن راستہ روکے رکھا ؛دوسری طرف پروفیسر اشرف الحسینی لکھتے ہیں کہ پانی رُک رک کر چلتا ہے۔دونوں روایات میں بعد المشرقین ہے؛اس لیے دونوں روایات مشکوک ہوئیں۔اس کے علاوہ آغا عبدالغفور جنوری 1998کے ماہ نامہ اٹک نامہ کے صفحہ نمبر 16پر اس روایت کا رد اس طرح کرتے ہیں کہ:’’اس حکایت میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ اٹک گھاٹ شیر شاہ سوری کے عہد میں بنا ہی نہیں تھا اور نہ ہی اس زمانہ میں اٹک شاہراہ پر واقع تھا۔شیر شاہ سوری کے عہد میں اٹک سڑک نیلاب سے سنار گائوں تک بنائی گئی تھی۔دریائے سندھ کے مغرب میں کسی مقام پر سوری کی عمل داری نہ تھی اور انگریزی عہد سے قبل دریائے سندھ پر کسی بھی جگہ پر پختہ پل موجود نہ تھا‘‘۔آغا عبد الغفور کی دلیل اتنی توانا ہے کہ اس کا فوری استرداد ناممکن ہے۔شیر شاہ سوری اور خوارزم شاہ کی لڑائیوں کے تاریخی واقعات بھی اس بات کے شاہد ہیں کہ اس علاقے میںآمدروفت کے لیے نیلاب کا گھاٹ استعمال کیا جاتا تھا۔(3)شاکر القادری نےانگریزی لفظ Attackسے ’’اٹک ‘‘اخذ کیا؛یہ بھی بہت کمزور دلیل ہے ،خاص طور پر اُس وقت جب تحقیق کی سمت اکبر کے عہد تک درست ہے ۔ انگریزوں کی حکومت تو بہت بعد کی بات ہے۔ہمیں ’’اٹک‘‘ کی تلاش میں اکبر کے عہد سے آگے جانا ہو گا

۔(4)۔محمد نواز اعوان کی تحقیق کے مطابق’’ ہندوئوں کے عقیدے کے مطابق نیلاب کو عبور کرنا منع ہے۔لفظ اٹک کے یہی معنی ہیں۔مقامی زبان میں اٹک سے مراد  رُکنا،ٹھہرنا ہے۔یہ لفظ مذکر ہے۔معنی رکاوٹ، جھجک، اٹکائو ، مقا م کے ہیں۔اٹک کر رہ جانا یعنی رکاوٹ سے آگے نہ بڑھنا،ٹھہر جانا،ٹکنا کے معنی ٹانکا لگانا،سیا جانا جب کہ ٹکنا کے معنی کاٹنا کے ہیں‘‘۔محمد نواز اعوان کی تحقیق الجھی ہوئی ہے۔انھوں نے صرف اندازے لگائے ہیں اوراندازے بھی ایسے کہ وہ آپ فیصلہ نہیں کر پارہے کہ کس دعویٰ کو حتمی قرار دیں۔ان کے متضاد دلائل اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اپنی تحقیق سے وہ خود بھی مطمئن نہیں۔اس لیے اُن کی تحقیق پر ایمان لانا مشکل ہو جاتا ہے۔’’اٹک‘‘کی وجۂ تسمیہ کے بارے میںمندرجہ بالا بیان کردہ تمام روایات(بہ شمول آزاد دائرۃ المعارف وکیپیڈیا) میں سے سب سے زیادہ قابلِ اعتبار اور متاثر کن محمد قاسم فرشتہ کی روایت ہے۔روایت بیان کرنے سے پیشتر بتاتا چلوں کہ محمد قاسم فرشتہ کون ہے۔:فرشتہ کا پورا نام ملا محمد قاسم ہندو شاہ ہےاور تخلص فرشتہ۔۔۔اس کے باپ کا نام مولانا غلام علی ہندو شاہ تھا۔۔۔فرشتہ کا آبائی وطن استر آباد ہے جہاں وہ 1552   ٔ   میں پیدا ہوا۔بچپن ہی میں وہ احمد آباد آ گیا۔جہاں اس نے شاہی خاندان کے افراد کے ساتھ تعلیم حاصل کی۔۔۔ابراہیم عادل شاہ ثانی۔۔۔نے فرشتہ کو ہندوستان میں اسلامی عہد حکومت کی تاریخ لکھنے کا حکم دیا‘‘۔عبدالحی خواجہ ایم۔اے،دیباچہ:تاریخِ فرشتہ،جلد اول،شیخ غلام علی سنز، لاہور ، س ۔ ن ،ص36فرشتہ کا انتقال1623 میں ہوا۔محمد قاسم فرشتہ لکھتا ہے کہ:ــ’’اکبر نےمنزل سرخاب میں اس فتح[فتحِ کابل]کی خوش خبری سنی۔۔۔اسی مہینے کی 14۔تاریخ کو اکبر کابل سے واپس ہوا۔دریائے سندھ عبور کیا اور اس علاقے کے انتظام کے لیے چونے اور پتھر اور پتھر کا ایک حصار تعمیر کروایا۔اس قلعے کو اٹک کے نام سے موسوم کیا ۔اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ہندوئوں کے عقیدے کے مطابق نیلاب کو عبور کرنا منع ہے۔لفظ اٹک کے معنی یہی ہیں‘‘۔محمد قاسم فرشتہ،تاریخِ فرشتہ،جلد اول،مترجم :عبدالحی خواجہ ایم۔اےشیخ غلام علی سنز، لاہور ، س ۔ ن ،ص721راقم کا خیال یہ ہے کہ محمد قاسم فرشتہ کی روایت بھی اس حد تک درست ہے کہ قلعہ اٹک اکبر کے حکم سے تعمیر ہوا۔(4)’’اٹک‘‘کی وجۂ تسمیہ کے بارے مندرجہ بالا تما م دلائل اور آرامحض مفروضے ہیں ۔ بعض دلائل تو ایک دوسرے کے متضا دہیں ۔فرض کر لینا کوئی منفی عمل نہیں بلکہ اسی کی بنیاد پر ہی تحقیق آگے بڑھتی ہے لیکن مفروضہ قائم کرنے والےکے پاس دلائل ایسے زور دار ہوں جو قاری اور محقق کو ایک لمحے کے لیےسوچنے پر مجبور کر دیں۔میری معلومات کے مطابق اصل لفظ’’اٹکا ،یا ’’اتکا‘‘ہے ؛جو بعد میں ’’اٹک ‘‘کہلایا۔بلکہ مقامی لوگ تو اب بھی’’اٹکاں‘‘ہی کہتے ہیں۔اسی علاقے کا ایک قدیم شاعر” عمر اٹکاں والا”تھا؛ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد نے اپنی کتاب میں اس کے متعلق لکھا ہے:”اصلی ناں محمد عمر سی،پر عمر اٹکاں والا دے ناں نال مشہور سن”۔ارشد محمود ناشاد،ضلع اٹک دے پنجابی شاعر،پنجابی ادبی سنگت،اٹک،1995،ص

49 پروفیسر غلام ربانی جو مقامی بولی”کیمبل پوری بولی "کے شاعر ہیں، کی ایک نظم کے چند اشعار بھی دیکھ لیجیے،جس میں "اٹکاں”کا نام استعمال ہوا ہے:”اٹکاں  نا  راہ پُچھنا  راہیاسُن اٹکاں نی وڈی نشانیغلام ربانی فروغ،وسنا رہوے گراں،پنجابی ادبی سنگت،اٹک،دسمبر 2004،ص28’’اٹکا ،یا ’’اتکا‘‘کون تھا؟اس کے بارے میں محمد حسین آزاد لکھتے ہیں:’’امیر تیمور نے ہندوستان کو زورِ شمشیرسے فتح کیا ۔۔۔ بابراُس کا پوتا چوتھی پشت میں ہوتا تھا۔۔۔اس نے قصرِسلطنت کی بنیا کھودی اور کچھ اینٹیں بھی رکھیںمگر شیر شاہ کے اقبال نے اسے دم نہ لینے دیا۔۔۔دن ایسے نحوست کے تھے کہ ایک جگہ قرار نہ ملتا تھا ۔ابھی پنجاب میں ہے۔ابھی سندھ میں ہے۔ابھی بیکانیرجیسلمیر کے ریگستانوں میں سرگرداں چلا جاتاہے۔پانی ڈھونڈتا ہے تومنزلوں تک میسر نہیں۔۔۔یہ سب مصیبتیں ہیں۔۔۔اکبر ماں کے پیٹ میں باپ کے رنج و راحت کا شریک تھا۔۔۔اکبر ابھی حمل میں تھااور میر شمس الدین محمدکی بی بی بھی حاملہ تھیں۔بیگم[اکبر کی ماں]نے ان سےوعدہ کیا تھا کہ میرے ہاں بچہ ہو گا تو تمھارا دودھ اُسے دوں گی۔۔۔جب اُن کے ہاں بچہ ہوا تو انھوں نے دودھ پلایااور زیادہ تر انھیں کا دودھ پیا۔سبب ہے کہ اکبر انھیں جیجی کہا کرتا تھا۔۔۔ایک دفعہ اکبر نے کئی دن دودھ نہ پیا تھا۔لوگوں نے کہا جیجی نے جادو کر دیا ہے۔۔۔ایک دن اکیلی اکبر کو گود میں لیے بیٹھی تھی اور غم سے افسر تھی۔بچہ چپکا اس کا منہ دیکھ رہا تھا۔یکا یک بولا کہ جیجی غم نہ کھائو،دودھ تمھارا ہی پیوں گا اور خبردار اس بات کا ذکر کسی سے نہ کرنا‘‘۔محمد حسین آزاد،دربار اکبری(حصہ اول)قومی کونسل برائے فروغ اردو،1999 ،ص34اسی بی بی کا خاوند میر شمس الدین محمد اٹکا ہے جو ہمایوں کا وفادار اور جاں نثار ساتھی ہے۔اس نے اکبر کے باپ کا اس وقت ساتھ دیا جب اوروں کو تو چھوڑیے، بھائی بھی اس کی جان کے دشمن تھے ۔اسی شمس الدین اٹکا کو1561میںاکبر نے خان اعظم [وزیر اعظم]کا عہدہ عطا کیا۔’’ادھم خان اتکہ کو خان اعظم کے اس اقتدار پر بہت رشک [حسد]آیا۔اس نے۔۔۔خان اعظم کو بھی بادشاہ کی نگاہوں سے گرانے کی کوشش کی۔۔۔ لیکن اسے کامیابی حاصل نہ ہوئی۔آخر کار اس نے ایک روز اسے[خان اعظم کو]  قتل کر دیا‘‘۔محمد قاسم فرشتہ،تاریخِ فرشتہ،جلد اول،مترجم :عبدالحی خواجہ ایم۔اےشیخ غلام علی سنز، لاہور ،س ۔ ن ،ص698 ایس ۔ایم بُرکے نے اس واقعے کو یوں درج کیا:’’16۔مئی 1562کو آدم خان اور اس کے ساتھی سازشیوں نے محل کے اس ہال پر دھاوا بول دیا جس ہال میں اٹکا خان ،منیم خان،شہاب الدین اور دیگر عمائدین سلطنت کاروبار سلطنت چلانے میں مصروف تھے۔آدم خان کا اشارہ پاتے ہی اس کے دو ساتھیوں نے اپنے ہتھیاروں کے ساتھ اٹکا خان پر حملہ کر دیا۔اٹکا خان۔۔۔جاں بحق ہو گیا۔۔۔

اکبرجو حرم کے اندر محوِ آرام تھا۔۔۔جائے وقوعہ پر جا پہنچا۔۔۔غصے سے اس کی حالت غیر ہو گئی۔۔۔اس نے اس قوت کے ساتھ آدم خان کے منہ پر گھونسا رسید کیا کہ آدم بے ہوش ہو کر نیچے گر گیا۔اس کے بعد اس نے آدم کو چھت سے نیچے پھینکوا دیا‘‘۔ایس۔ایم بُرکے،اکبر نامہ،مترجم:مسعود مفتی،علم و عرفان پبلشرز،لاہور،2006،ص76’’ ادھم خان کو شاہی عنایات کا بڑا بھروسا تھا اس کا خیال تھا کہ بادشاہ اس سے کچھ بازپرس نہ کرے گا‘‘محمد قاسم فرشتہ،تاریخِ فرشتہ،جلد اول،مترجم :عبدالحی خواجہ ایم۔اےشیخ غلام علی سنز، لاہور ،س ۔ ن ،ص698 لیکن وہ اکبر جس نے بیرم خان کی کئی نافرمانیاں اور قتل نظر انداز کر دیے ، شمس الدین اٹکا کا قتل برداشت نہ کر سکا۔اس کے رد عمل کو فرشتہ نے اس طرح بیان کیا ہے۔’’خان اعظم کے قتل کی وجہ سے چاروں طرف شور وغل برپا ہو گیا۔۔۔اس شور کی وجہ سے بادشاہ کی آنکھ کھل گئی اور اس نے اس کا سبب دریافت کیا ۔بادشاہ کو تمام حالات سے آگاہ کیا گیا۔وہ اسی وقت لباس شب خوابی ہی میں کوٹھے پر آیا۔یہاں سے اسے شمس الدین کی لاش نظر آئی۔اس لاش کو دیکھ کر اکبر غصے کی وجہ سے تھر تھر کانپنے لگا۔۔۔اس نے غصے کے عالم میں ادھم خان کے گال پر ایک گھونسا مارا۔ادہم بے ہوش ہو کر فرش پر گر پڑا۔اس کے بعد اکبر نے حکم دیا کہ ادھم خان کو اسی دیوان خانے کےکوٹھے سے جو زمین سے بارہ گز بلند تھا،نیچے گرا دیا جائے۔۔۔اس بلندی سےگرنے کے باوجودادھم خان زندہ رہا،لہذااسے اُٹھا کر کوٹھے پر لائے اور دوبارہ زمین پر پھینکا۔اس مرتبہ ادھم خان مر گیا‘‘۔محمد قاسم فرشتہ،تاریخِ فرشتہ،جلد اول،مترجم :عبدالحی خواجہ ایم۔اےشیخ غلام علی سنز، لاہور ،س ۔ ن ،ص698اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اکبر کو شمس الدین اٹکا کتنا عزیز تھا۔بعید نہیں کہ’’ اٹک قلعہ‘‘ اسی اٹکا خان کی یادگار ہو۔(5)ہمارے موضوع کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ’’ اٹک قلعہ‘‘ سے پہلے اٹک کا کیا نام تھا اس حوالے سے راقم کا خیال یہ ہے یہ کہ’’ اٹک ‘‘سے پہلے یہ سارا علاقہ’’ نیلاب ‘‘کے نام سے مشہور تھا۔اس کے کئی دلائل ہیں:(1)۔ محمد فرشتہ نے اٹک قلعہ کے حوالے سے جو بیان دیا ہے کہ:’’اسی مہینے کی 14۔تاریخ کو اکبر کابل سے واپس ہوا۔دریائے سندھ عبور کیا اور اس علاقے کے انتظام کے لیے چونے اور پتھر اور پتھر کا ایک حصار تعمیر کروایا۔اس قلعے کو اٹک کے نام سے موسوم کیا ۔اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ہندوئوں کے عقیدے کے مطابق نیلاب کو عبور کرنا منع ہے۔لفظ اٹک کے معنی یہی ہیں‘‘(1)۔(2)۔تاریخ فرشتہ ہی میں ایک اور جگہ لکھا ہے کہ:’’مسلمانوں کی فوج نے اپنے بادشاہ[سبکتگین] کے حکم کے مطابق جنگ شروع کی ۔ہندوئوں کی فوج سامنے کی طرف بھاگ نکلی،مسلمانوں نے نیلاب تک اُن کا پیچھا کیا۔۔۔اور لمغان و پشاور کے ملک دریائے نیلاب کے کنارے تک مسلمانوں کے ہاتھ میں آ گئے‘‘(2)۔(3)۔’’چنگیز خان اپنی افواج کو نیم دائرے کی شکل دے کر تیزی سے پیش قدمی کرتا آ رہا تھا۔۔۔آخرکارایک رات چنگیزی افواج نے ایک ایسے مقام پر سلطان جلال الدین کی فوج کو جا لیاجہاں مسلمانوں کے ایک طرف دریائے سندھ موجیں مار رہا تھا اور دوسری سمت دشوار گزار چٹیل پہاڑ سر اُٹھائے کھڑے تھے۔یہ مقام دریائے سندھ کا ساحل ’’نیلاب‘‘ تھا‘‘(3)۔(4)۔ظہیر الدین بابر تزک بابری میں ان الفاظ میںنیلاب کا ذکرکرتا ہے:’’ہندوستان کی طرف کے چار راستے ہیں۔ایک راستہ لمغانات سے ہے۔۔۔دوسرا راستہ بنگش کا ہے۔تیسرا راستہ نغز کا ہے۔چوتھا راستہ فرمل سے ہے۔۔۔جو لوگ نیلاب کے گھاٹ سے اترتے ہیںوہ لمغانات کے راستے سے آتے ہیں۔۔۔اس دفعہ جو میں نے آکر سلطان ابراہیم کو شکست دی  اور ہندوستان فتح کیا تو نیلاب کے گھاٹ کشتی کے ذریعے اُترا ہوں۔یہاں کے علاوہ کسی مقام پردریائے سندھ سے بغیر کشتی کےپار نہیں ہو سکتے‘‘(4)۔مندرجہ بالاتذکروں اور روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ ’’اٹک‘‘کا پرانا نام ’’نیلاب‘‘ تھا ؛اور یہ نام اُس زمانے میں اتنامعروف تھا کہ محمد فرشتہ اتنی دور بیٹھ کر اِس نام سے آگاہ تھا ؛جس علاقے کا پشاور اور لمعان کے ساتھ نام لیا جا رہا ہے ،جو علاقہ ظہیر الدین بابر کی خود نوشت ’’تزک بابری‘‘میں مذکور ہے؛جس علاقے کا نام چنگیز خان، جلال الدین خوارزم،سبکتگین اور شیر شاہ سوری کے ساتھ جُڑا ہے، وہ ایک چھوٹے سےگائوں کا نام نہیں تھا بلکہ وہ اسی ضلع کیمبل پور(حال:اٹک)کا ہی قدیم نام تھا اورعلامہ ابوالفضل کے مطابق اُس وقت نیلاب کی پیمائش 8787بیگھہ تھی(5) ۔ہمارے محققین کی ابھی تک ضلع اٹک کے قدیم نام کی حیثیت سےاگر نیلاب پر نظر نہیں پڑی تو اس کی وجہ موجودہ نیلاب کی موجودہ پس ماندہ صورت ہے،لیکن اُس وقت کا نیلاب آج کے نیلاب کی طرح پس ماندہ نہیں ہو گا کیونکہ جو علاقہ حکمرانوں کی گزر گاہ ہو،جہاں سے سرکاری وفود اور حملہ آور گزرتے ہوں ،وہ نہ صرف یہ کہ غیرمعروف اور پس ماندہ علاقہ نہیں ہوتابلکہ اسی علاقے کو ہی آس پاس کے علاقوں سے فوقیت حاصل ہوتی ہے۔وہاں کاروباری سرگرمیاں دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں؛اور اسی وجہ سے اسے مرکزی حیثیت حاصل ہو جاتی ہےاور یوں اس کی دور دور تک شہرت ہوتی ہے۔بلا شبہ نیلاب کی اُس وقت کی صورتِ حال بالکل ایسی ہی ہو گی۔بعد ازآں اکبر کے عہد میںاٹک کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی جس کی وجہ سےآہستہ آہستہ نیلاب پس منظر میں چلا گیا ۔بالکل اس طرح،جس طرح انگریزوں نے کیمبل پور کو اپنا مرکز قرار دیا تو اٹک خرد کا معروف گھاٹ بھی غیر معروف ہوتا چلا گیااور کیمبل پور کا نام مشہور ہوتا چلا گیا۔(6)ایک مغالطہ "کیمبل پور "کے بارے میں بھی پیدا ہو گیا ہے۔ڈاکٹر پروفیسرمرزا حامد بیگ  لکھتے ہیں:”سر کولن کیمبل کے نام پر مشہور ہونے والی بستی کیمبل پور(حال:اٹک)کو 1904میں شہر (City)کا درجہ  دیا گیا۔سرکولن کیمبل مشہور ٹائون پلینر بھی تھے”۔ڈاکٹرمرزا حامد بیگ،ابتدائیہ:مشعل،گولڈن جوبلی نمبر،98۔1997،گورنمنٹ کالج، اٹک ، ص 17لیکن حقیقت میں ایسا نہیں۔اس شہر کا نام ٹائون پلینرکیمبل کے نام پر نہیں رکھا گیا بلکہ اسے برصغیر کے پہلے کمانڈر انچیف "کیمپ بل "کے نام پر بسایا گیا۔”The  city,s  foundations  were  laid in  1903  and  it  was named Campbellpur after Sir Colin Campbell…The district was created in April 1904  https://www.prideofpakistan.comSir Colin Campbellکے متعلق مزید تفصیلات ہمیں "انسائیکلو برٹانیکا”میں اس طرح لکھی ہوئی ملتی ہیں۔Colin Campbell,Baron Clyde, also called (1849-58)Sir Colin campbell,(born Oct.20,1792, Glasgow, Scot, died Aug.14,1863, Chatham Kent, Eng), British soldier who was commander in chief of the British forces in india during the Indian Mutiny of 1857.https://www.britannica.com<Colin…


حوالے:

(1)محمد قاسم فرشتہ،تاریخِ فرشتہ،جلد اول،مترجم :عبدالحی خواجہ ایم۔اےشیخ غلام علی سنز، لاہور ، س ، ن ،ص721(2)محمد قاسم فرشتہ،تاریخِ فرشتہ،جلد اول،مترجم:عبدالحی خواجہ،شیخ غلام علی اینڈ سنز،لاہور،س ن،ص90(3)۔مولانا محمد اسماعیل ریحان،شیرِ خوارزم سلطان جلال الدین خوارزم شاہ اور تاتاری یلغار ،منھل التراث اسلامی،جنوری،2010،ص255(4)محمد ظہیر الدین بابر،تزکِ بابری،مترجم:مرزا نصیر الدین حیدر،الفیصل،اردو بازار لاہور،جنوری 2006، ص 174(5)علامہ ابو الفضل،آئینِ اکبری جلد اول،مترجم:مولوی محمد فداعلی صاحب طالب ،دارالطبع جامعہ عثمانیہ،حیدر آباد دکن،1937،صفحہ 1036

در بارہ نصرت بخاری

مدیر اعلی ایم فل پروفیسر اردو گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اٹک

2 تبصرے

  1. ماشائ اللہ
    اس عبارت کو جناب نصرت بخاری صاحب نے نے انتہائی محنت سے لکھی اس میں ان کی دلچسپی سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے کتنی محنت کی اور کتنی تحقیق کی۔
    امید ہے کہ ایسی بہت کی تحرییں پڑھنے کو ملیں گی

  2. ماشاءاللہ بخاری صاحب نے بڑے مدلل اور محققانہ انداز میں یہ تحریر لکھی ہے اسے کتابی شکل میں آنا چاہئیے۔جہانگیر بخاری اتنے عمدہ فورم کی تخلیق پر بلا شبہ داد و تحسین کے حق دار ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: