Tag: اردو

  • عاصم بخاری کی فطری شاعری کا جائزہ

    عاصم بخاری کی فطری شاعری کا جائزہ

    عاصم بخاری کی فطری شاعری کا جائزہ

    تجزیہ          راحت امیر نیازی

    اردو شاعری میں فطرت نگاری کی روایت نہایت قدیم اور تابناک ہے۔ میر تقی میر، نظیر اکبر آبادی، غالب، اقبال، جوش ملیح آبادی، حفیظ جالندھری اور اختر شیرانی سے لے کر جدید شعرا تک فطرت کو مختلف زاویوں سے موضوعِ سخن بنایا گیا ہے۔ کسی نے فطرت کو حسن و جمال کی علامت بنایا، کسی نے اسے روحانی تجربے سے وابستہ کیا، کسی نے قومی بیداری کا استعارہ بنایا اور کسی نے انسانی جذبات کی ترجمانی کا وسیلہ قرار دیا۔

    معاصر اردو شاعری میں عاصم بخاری میانوالی کا شمار ان شعرا میں کیا جا سکتا ہے جن کے ہاں فطرت محض منظر کشی تک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی، سماجی شعور، مقامی تہذیب اور دھرتی سے والہانہ محبت کا اظہار بھی ہے۔ ان کی شاعری میں میانوالی کا جغرافیہ، دریائے سندھ، چشمہ، جنگلات، نہریں، بارش، ساون، درخت، فضائیں اور مقامی ماحول پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔

    سچ تو یہ ہے کہ عاصم بخاری نیچری ہیں ، فطرت پرست ہیں ، فطرت سے پیار ان کی شاعری کا ایک نمایاں اور منفرد پہلو ہےان کے ہاں دریا  پہاڑ بادل بارش سارے فطری وقدرتی موضوع ملتے ہیں۔اگرچہ ان کی نظر مناظر ِ فطرت پر بھی ہے لیکن حُب الوطنی کے تقاضے کے پیش ِ نظر زیادہ تر اپنے وسیب اور میاں والی کے فطری مناظر کی تصویر کشی اور منظر کشی فرض سمجھتے ہیں۔ان کے اس طرزِ عمل سے میاں والی کی جغرافیائی تاریخ بھی مرتب ہوتی جا رہی ہے۔میرے نزدیک جو کہ ان کا میاں والی پر احسان ِ عظیم بھی ہے۔کہ فطرت و ثقافت اور روایت بھی محفوظ ہو رہی ہے۔

           ان کی شاعرہ کے اکثر موضوعات میں فطری مصوری اور معصومیت بھرپور ملتی ہے۔روح پرور قطعہ دیکھیں۔

    "ہار”  ملتے ہیں ، ” موتیے” کے بھی

    "رسم” باقی ابھی ، ہے "چیتر” کی

    رہتا ہوں "پُر سکوں”، فضاؤں میں

    سنتا ہوں "بولیاں” , میں "تِیتر” کی

          مقامیت اور  اپنی مٹی سے بے حد پیار ان کی حُب الوطنی اور ایمان کی پختگی کا مظہر بھی ہے۔میانوالی کے قدرتی مناظر سے پیار کا والہانہ اظہار کخھ یوں کرتے ہیں۔

    شعر

    ۔۔۔۔۔۔۔

     ایک شہ کار تیری قدرت کا

    یہ نمل جھیل بھی میاں والی

    ۔۔۔۔۔

    عاصم بخاری کی فطری شاعری کا جائزہ

    چاپری میانوالی خوبصورت پہاڑی علاقہ اس کے ساتھ اپنی وابستگی کچھ ان لفظوں میں ظاہر کرتے ہیں۔

    شعر

    قدرتی حسن میں بخاری جی

    "چاپری  ڈیم ”  کا  نہیں ثانی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔

     میانوالی میں کندیاں چشمہ کے مقام پر دریائے سندھ کے بیراج اور جھیلوں کے مناظر واقعی دل موہ لینے والے ہیں۔ان کے بارے فطرت سے پیارے بھرے جذبات ان لفظوں میں دیکھیں۔

    شعر

     حُسن  فطرت ، کمال پر اپنے

    چشمہ کندیاں ہے یہ "میاں والی”

    ۔۔۔۔۔۔

    بخاری صاحب کندیاں چشمہ میانوالی کے قدرتی مناظر سے کچھ زیادہ ہی متاثر دکھائی دیتے ہیں۔

    مزید ایک شعر اسی مزاج کا ملاحظہ ہو۔

    شعر

     حُسن فطرت دکھاؤں آ تجھ کو

     چشمہ کندیاں ہے یہ میاں والی

            بخاری کی آنکھ میں حسن ہے اسے سارا وسیب تبھی حسیں محسوس ہوتا ہے۔بخاری کے ہاں جمال پرستی اور جمال دوستی خاب پائی جاتی ہے۔تبھی تو ان شعر میں میانوالی بھر کے حسن و جمال ک معترف نظر آتے ہیں۔

    شعر

          "چاپری” ، "چشمہ”  یا ،” نمل” عاصم

    جھیلوں کا حُسن بھی ،” میاں والی”

    ۔۔۔۔۔

    میانوالی کے مشرقی پہاڑی سلسلہ میں واقع قدیم جھیل کے ذکر کے بغیر وہ  اپنے اظہار کو نامکمل محسوس کرتے ہوئے اس کے حسنسے یوں لطف اندوز ہوتے ہیں۔

    شعر

    ایک   شہ کار ، تیری  قدرت  کا

    یہ "نمل جھیل” بھی ، میاں والی

    ۔۔۔۔

    بخاری نے اپنے جذبات کی انتہا کو چھوتے ہوئے کیا خوب اظہار ِ محبت کیا ہےاپنی دھرتی کے ساتھ۔

    شعر دیکھیں۔

              جھیلیں دریا پہاڑ ، ہیں کیا کیا

    ارضی جنت ہے ، یہ میاں والی

          ۔۔۔۔

    ساحلی علاقوں کا ایک اپنا حسنہے فطرت نگاری میں ۔بخاری کے منظومات میں اس کھی تذکرہ بہت ہی پیارے انداز میں ہے۔

    شعر

    جھیل ساحل ہے، یہ بھی”چشمہ”کا

    یہ  بھی عاصم  مری  ، "میاں والی

     عاصم بخاری کی فطرت نگاری کے 

     دریا اور دھرتی سےبخاری کو بڑی محبت بھی ہے اور ساتھ دھیمے لہجے میں گلہ اور شکایت بھی کہ ہم نے دریا فائدہ نہیں نقصان اٹھایا ہے۔جب کہ دنیا دریاسے کیا کیا فائدے اٹھاتی ہے۔اپنی غفلت کے بھی معترف ہیں یہ حقیقت پسندی ہے۔خوش قسمتی بھی ہے اور ساتھ ملال بھی

    شعر

    اپنی خوش حالیوں کا جو ضامن

    شیر دریا ہے، میانوالی میں

    اس شعر میں دریائے سندھ کو میانوالی کی خوش حالی، زرخیزی اور زندگی کی علامت بنایا گیا ہے۔

    بخاری صوفی ہے درد مند دل رکھتا ہے۔سارے جہاں کا درد اپنے دل میں پالے اور سنبھالے پھرتا ہے دریا بردی کے المیہ پر یوں نوحہ کناں دکھائی دیتا ہے۔

    شعر

    پوچھ نورنگا والوں سے عاصم

    دریا بُردی کا دُکھ، کیا ہوتا

    یہ شعر فطرت کی بے پناہ قوت اور اس کے نتیجے میں انسانی المیے کی مؤثر تصویر پیش کرتا ہے۔

    ساون کا ربط اور تان بھی پھر قدرت و فطرت پر جا ٹوٹتی ہے۔ساون کو دیکھیں کس ہمدردانہ اور دکھ بھرے انداز میں پیش کیا ہے۔

    شعر

    ساون اور انسانی کرب

    ہوں سیلابوں کی زد میں، عاصم

    اٹھاؤں تو میں لطف، ساون سے کیسے

    بارش اور ساون عموماً مسرت کی علامت ہیں، مگر شاعر انہیں ذاتی اور اجتماعی دکھ کے تناظر میں برتتا ہے۔

    دیہات گاؤں جنگل بخاری کے قلبی اور روحانی لگاؤ کےٹھکانے ہیں۔اکثر ان ہی کو اوڑھے آپ  آپ کو ملیں گے۔

    شعر ملاحظہ ہو۔

    رہتا ہوں پُرسکوں، فضاؤں میں

    سنتا رہتا ہوں، بولتے جنگل

    یہ شعر فطرت سے شاعر کی گہری قلبی وابستگی اور اس کے باطنی سکون کو ظاہر کرتا ہے۔

    فطرتی و قدرتی مناظر میں کھو جاتے ہیں آگے نہیں بڑھ سکتے۔یُحِبُ جمال کی عملی مثال پیش کرتے ہیں اس میں بیک وقت توصیف ِ جمال بھی ہے اور حُب الوطنی کا پہلو بھی

    شعر دیکھیں

    حُسنِ فطرت دکھاؤں آ تجھ کو

    چشمہ کندیاں ہے، یہ میانوالی

    اس شعر میں شاعر اپنے علاقے کے قدرتی حسن پر فخر محسوس کرتا ہے اور قاری کو اس کے نظارے کی دعوت دیتا ہے۔

    بخاری کا مظاہر ِ فطرت کا مشاہدہ عمیق اور فلسفیانہ ہے۔وہ مقامی بات سے آفاقی پہلو بھی نکال لیتے ہیں۔فرد سے قوم بھی مراد لے لیتے ہیں۔بیل اور بیری کو تمثیلی انداز میں کس خوب صورتی سے بیان کیا ہے۔

     شعر

    بیری ہے جیسے "بیل” کی، عاصم لپیٹ میں

    ایسے غریب جکڑا ہوا، مسئلوں میں ہے

    فطرت کے ایک منظر کو سماجی استعارے میں ڈھالنے کی عمدہ مثال۔

    فطرت اور قدرت کا مظاہر میں نہریں بھی آ جاتی ہیں  لیکن مفکرانہ انداز میں مختلف اور ہلکے اصلاحی طنز کاسہارا افسوس کے انداز میں یوں لیا ہے۔

    شعر

    نہریں ہیں لیکن، استفادہ ہم

    کرتے ہیں خودکشی، کی صورت میں

    یہ شعر فطری وسائل کی موجودگی کے باوجود انسانی بے تدبیری اور المیے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

    دریا ئی طغیانی کو کس متفکرانہ اور ہم دردانہ انداز میں لکھا ہے۔

    شعر

    کر نہ دیں بستی میں یہ بربادیاں

    شیر دریا! تیری یہ طغیانیاں

    یہاں دریا کی قوت اور انسان کی بے بسی نہایت مؤثر انداز میں سامنے آتی ہے۔

    عاصم بخاری ایک سچا اور سُچا شاعر ہے درویش منش عاجز سادہ فقیر اور اپنی دھرتی و مٹی سے ٹوٹ کر پیار کرنے والا ہے تبھی تو ایسے موضوعات پر اتنے اشعار کہ لیتا ہے۔اس کےان اشعار سے واضح ہوتا ہے کہ بخاری کو قدرتی مناظر بھاتے ہیں یہ بیک وقت وجودی بھی لگتا ہےاور شہودی بھی ۔ فطرت نگاری محض پھولوں، چاند، ستاروں اور بہار کی روایتی منظرکشی تک محدود نہیں۔ بل کہ اس کے ہاں دریا، نہریں، جنگل، فضائیں، بارش، سیلاب، بیل اور مقامی جغرافیہ ایک زندہ کردار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کی فطرت نگاری میں حسنِ فطرت کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی شعور، مقامی تہذیب، دریا بردی کا کرب، انسانی جدوجہد اور اپنی دھرتی سے محبت بھی نمایاں نظر آتی ہے۔

                      ***

  • ناردرن یونیورسٹی نوشہرہ میں اردو تحقیق کا نیا سنگِ میل

    ناردرن یونیورسٹی نوشہرہ میں اردو تحقیق کا نیا سنگِ میل

    ناردرن یونیورسٹی نوشہرہ میں اردو تحقیق کا نیا سنگِ میل

    اٹک (نمائندہ خصوصی ملک کامران ) علم و ادب کی فضاؤں میں ایک خوشگوار اضافہ اُس وقت دیکھنے میں آیا جب ناردرن یونیورسٹی نوشہرہ، خیبر پختون خوا کے شعبۂ اردو کی ہونہار طالبہ عَلِینہ مَسعُود نے اپنے ایم فل کے تحقیقی مقالے کی کامیاب تکمیل کی۔

    یہ تحقیقی مقالہ معروف نعت گو شاعر سید حُب دار قائم کے تین نعتیہ مجموعوں مدحِ شاہِ زمن، صبحِ نعت اور روحِ جمال کے فکری و فنی محاسن پر مبنی ہے، جس کا موضوع تھا:

    "سید حُب دار قائم کی نعت گوئی علمِ بیان و بدیع کے تناظر میں”

    مقالہ نگار نے اپنی تحقیق میں نعتیہ شاعری کے لطیف اسالیب، صنائع بدائع اور بیان کی دل نشین جہتوں کو نہایت باریک بینی سے اجاگر کیا ہے۔ سید حُب دار قائم کی نعت گوئی کو علمی و ادبی اصولوں کی روشنی میں پرکھتے ہوئے یہ ثابت کیا گیا کہ ان کا کلام عشقِ رسول ﷺ کی سچائی، فنی پختگی اور لفظی حسن کا حسین امتزاج ہے۔

    اس تحقیقی سفر میں رہنمائی کے فرائض لیکچرر اردو ڈاکٹر سبحان اللہ نے انجام دیے، جن کی علمی بصیرت اور رہنمائی نے مقالے کو وقار بخشا۔

    ناردرن یونیورسٹی نوشہرہ میں اردو تحقیق کا نیا سنگِ میل

    مقالے کے جائزے کے لیے منعقدہ اجلاس میں معزز ججز میں ڈاکٹر سید طاہر علی شاہ (صدر شعبہ اردو)، ڈاکٹر سبحان اللہ (نگران مقالہ)، ڈاکٹر نعیم اللہ (ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز) اور ڈاکٹر راحیلہ شامل تھے۔ تمام اساتذہ نے مقالے کو تحقیقی و ادبی لحاظ سے ایک قابلِ قدر اضافہ قرار دیا۔

    اس موقع پر مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ نعتیہ ادب ہماری روحانی و ادبی روایت کا نہایت اہم حصہ ہے، اور اس نوعیت کی تحقیقات نہ صرف اردو ادب کو وسعت دیتی ہیں بلکہ نئی نسل میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے جمالیاتی پہلوؤں کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔

    علینہ مسعود کی یہ کاوش نہ صرف ان کی ذاتی علمی کامیابی ہے بلکہ شعبۂ اردو کے لیے بھی باعثِ افتخار ہے، جو تحقیق و تخلیق کے میدان میں مسلسل اپنی شناخت مضبوط کر رہا ہے۔

  • عاصم بخاری کی نظم معریٰ

    عاصم بخاری کی نظم معریٰ

    عاصم بخاری کی نظم معریٰ

    تجزیہ کار                راحت امیر نیازی

    اردو کی نظمِ معرّیٰ  جسے انگریزی میں بلینک ورس کہتے ایسی نظم ہوتی ہےجو قافیہ اور ردیف کی قید سے  آزاد ہو، لیکن بحر اور وزن کی پابند ہو۔ یہ آزاد نظم سے اس اعتبار سے مختلف ہے کہ اس میں عروضی وزن برقرار رہتا ہے۔

    اگر اس کے آغاز و ارتقا اور روایت کی بات کی جائے تو نظمِ معرّیٰ مغربی ادب ،بہ طور ِ خاص انگریزی ادب سے آئی۔ انگریزی میں اس کی بنیاد سولہویں صدی میں پڑی، جبکہ ہنری ہاورڈ  کو انگریزی نظمِ معرّیٰ کا اولین شاعر مانا جاتا ہے۔ بعد ازاں شیکسپیئر اور جان ملٹن نے اسے بامِ عروج تک پہنچایا۔

    اردو میں نظمِ معرّیٰ کا آغاز بیسویں صدی کے اوائل میں ہوا۔ مغربی ادب کے اثرات اور جدید شعری رجحانات نے اردو شعرا کو قافیہ و ردیف کی پابندی سے ہٹ کر اظہار کی نئی راہیں تلاش کرنے پر آمادہ کیا۔

    ابتدائی دور میں مولانا الطاف حسین حالی اور محمد حسین آزاد نے جدید نظم کی فضا ہموار کی، جب کہ باقاعدہ نظمِ معرّیٰ کو فروغ دینے والوں میں ن.م. راشد اور میراجی کا نام نمایاں ہے۔ بعد میں مجید امجد، اخترالایمان، وزیر آغا، منیر نیازی اور دیگر جدید شعرا نے اس صنف کو مزید وسعت دی۔اس نئے تجربے کو شعرا نے سراہا بھی اور قبول بھی کیا۔جس سے نظم کے دامن میں جدت بھی آئی اور وسعت بھی۔

    رفتہ رفتہ نظمِ معرّیٰ اردو شاعری کی ایک اہم صنف بن گئی۔ اس کے ذریعے شاعر نے:

    فکری گہرائی اور فلسفیانہ موضوعات کو بہتر انداز میں پیش کیا۔ سماجی، سیاسی اور نفسیاتی مسائل کو زیادہ آزادی سے بیان کیا۔

    روایتی قافیہ و ردیف کی پابندی سے نکل کر اظہار کے نئے اسالیب اختیار کیے، مگر عروضی وزن برقرار رکھا۔

    نظمِ معرّیٰ اردو شاعری کی ایک اہم جدید صنف ہونے کے باعث  روایت اور جدت کے درمیان توازن قائم ہوا۔ اس نے شاعروں کو اظہار کی نئی جہتیں عطا کیں اور جدید اردو نظم کے ارتقا میں نمایاں کردار ادا کیا۔

                اس جدید سلسلے کی ایک کڑی عاصم بخاری بھی ہے۔جس نے نظم معریٰ کو صرف اپنایا ہی نہیں کمال قدرت سے نبھایا بھی ہے۔

    عاصم بخاری کی شاعری کے موضوعات منفرد اور اپنے ہیں۔وہ فطرت سے زیادہ متاثر ہیں۔اور سبھی کو اس سے لطف اندوز ہونے اور فنا  و بے ثباتی کی تعلیم دیتے  نظر آتے ہیں۔ہیں۔ایک معریٰ نظم ملاحظہ ہو

    کچے رستے

    اک ضرورت تھے روڈ بھی مانا

    کچے رستوں کا لطف اپنا تھا

    درس عاصم فنا کا دیتےتھے

    کچے رستوں کا لطف اپنا تھا

    عاصم بخاری کی نظم معریٰ

    اگرچہ خوش اخلاقی اور خندہ پیشانی سے ملنے کی تاکید کی گئی ہے۔ لیکن شاعر مشاہدہ اور مشاہدہ تلخ محسوس ہوتا ہے۔اگر چہ وہ اس بات کے معترف بھی ہیں کہ احسن عمل ہے مگر ہمارے سماج میں ہنس کے ملنا اور گھلنا ملناکبھی کبھی مہنگا بھی پڑتا ہے۔نظم معریٰ

    ہزار

    ہنس کے ملنا بھی چاہیے لیکن

    ہنس کے ملنے میں بھی بخاری جی

    مسئلے  تو  ہزار ،  ہوتے  ہیں

    عاصم بخاری کا موضوع موسم اور نظارے بھی رہے ۔بخاری صاحب موسموں پر بات کرتے ہوئے دُھند  کو علامتی انداز میں اپنی اس نظم کو برت رہے ہیں۔

    دھند (فوگ)

    آنے والا  بخاری وہ موسم

    چھانے والا ہے ہر سُو وہ موسم

    جس میں سردی سے کانپنا ہوگا

    جسم  کوٹوں سے ڈھانپنا ہو گا

    جس میں عاصم دکھائی مت دے گا

    جس میں کچھ بھی سجھائی مت دے گا

    لوگ محصور جس میں ہوں گے سب

    سرد موسم  ہی حکمراں ہوگا

    چین گھر میں کسے کہاں ہو گا

    دن بدن بڑھتی جائے گی سردی

    یہ الگ بات اپنے گھر ہوں گے

    ایک دوجے سے بے خبر ہوں گے

    جلد بارش خدایا دے دینا

    ٹل وبا جائے جس سے یہ فوگی

    عرض کرتے ہیں پیش تر روگی

            عاصم بخاری کے ہاں مٹتی قدروں  اور انسانی رویوں کی حیران کن اور تشویش ناک تصویر کشی بھی اپنے کمال پر نظر آتی ہے۔ وہ ماں باپ جنہوں نے اپنا سب کچھ اولاد پر لُٹا دیا۔ اس اولاد کا ماں باپ کے ساتھ رویہ ملاحظہ ہو

     دفن کر دینا

    ٹکٹیں  کنفرم اپنی "لندن” کی

    وقت "پرواز” کا بھی ہونے کو

    "بیوی بچے” ہیں بیٹھے گاڑی میں

    جانے کی بھی جنہیں بہت "جلدی”

    "دامن ِ وقت” میں نہ گنجائش

    جلد ، "مَیَّت وصول” ، کر لیجو

    "باپ” میرے کو "دفن”، کر دینا

    فون کرتے ہوئے بخاری جی

    ایک "بیٹے” نے بولا "ایدھی” کو

    دہشت بربریت اور خوف کی فضا دل و دماغ پر حاوی ہے۔عدم۔تحفظ اور غیر یقینی کے سائے ہیں۔ ماں باپ کے تفکرات و خدشات کی ترجمانی ایک نظم معریٰ میں کچھ یوں کرتے ہیں

    (دھماکے)

    آئی آواز ہے دھماکے کی

    بیٹا مسجد گیا تھا جمعہ کو

    خیر سے شالا لوٹ کر آئے

    امن و امان کی صورت یہ ہے کہ خدا کے گھر خدا کی نماز پڑھنے جاتے ہوئے بھی فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ شال بیٹا خیر سے واپس آۓ۔

    ماں

    حافظُ ، اَلحفیظ ، پڑھ  کے  ہی

    "جمعہ” پڑھنے کے واسطے یارب

    بھیج بیٹا رہی ، ہوں "مسجد” میں

              ۔

    بے رحمی اور سنگ دلی کا یہ عالم ہے کہ بچوں پر بھی ترس نہیں کھایا جاتا۔انہیں بھی خدا کے گھر اور حالت ِ نماز میں مار دیا جاتا ہے۔اور پوچھا تک نہیں جاتا۔

     بچے

    کل دھماکے میں ایک مسجد میں

    دُکھ ہے مارے جواں گئے لیکن

    موت تڑپا گئی ، ہے "بچے” کی

      ہم مسلمان ہیں۔اللہ تعالیٰ کے حاضر و ناظر مانتے ہیں۔خوفِ خدا نہیں مگر کتنے افسوس اور شرم کی بات ہے کہ کیمرے کی آنکھ سے ڈرتے ہیں۔تقابلی نظم معریٰ دیکھیں

    ڈر

    پہلے ڈرتے تھے کیمرے سے سب

    آج کل سی سی ڈی سے ڈرتے ہیں

    رب سے اب بھی مگر نہیں ڈرتے

           معاشرتی رویوں اور طرز ِ عمل پر عاصم بخاری کی کڑی نگاہ ہے۔رشوت چوری ڈاکا  سینہ زوری اور بھتہ خوری کے حوالے سے وہ گدھ پرندے کی مثال خوب صورتی سے پیش کرتے ہیں۔

     حرام خوری

    گدھ کی فطرت ہے یہ بخاری جی

    اُلٹی کثرت سے اسکو آتی ہے

    پیٹ گدھ کا کبھی نہیں بھرتا

    ہضم ہوتا نہیں حرام ایسے

    ہاں سبق  اس میں  ایک پوشیدہ

    کھاتے ہیں جو حرام کثرت سے

    عقل والوں کے واسطے عاصم

    یہ اشارا ہے کوئی سمجھے تو

     عمرے کو وہ ہوا روانہ جب

             عاصم بخاری نظمی موضوع بامقصد ہے اظہار کاقالب دل چسپ ہے۔وہ عبادات اور اعمال کے حوالے سے فکری و فلسفیانہ انداز ِ فکر اپناتے ہوئے لوگوں کے کام آنے کیدعوتدیتے ہیں کہ یہی عمرہ کرنےکی عملی تعلیمات ہیں ۔

    نظم ملاحظہ ہو۔

    بارے سیلاب کے بتاؤں کیا

    بیش تر ساتھ لے گیا پانی

    کیا مناظر دکھاؤں میں تجھ کو

    ساری بربادی سامنے تیرے

    الاماں الاماں  قیامت  ہے

    حافظ و الحفیظ کے نعرے

    بچنے والے تھے بھوکے پیاسے سب

    جن میں بیمار بوڑھے لاغر بھی

    عورتیں جن میں چھوٹے بچے بھی

    حال بے حال تھے پڑوسی بھی

    مرنے والے تھے سب قریبی ہی

    لاشے بھی جن کے مل نہ پائے تھے

         کچھ بچا تھا نہ رشتہ داروں کا

    ” عمرے "کو وہ ہوا ، روانہ جب

    گاؤں ڈوبا ہوا تھا پانی میں

         عاصم بخاری نیچری ہیں فطرت پرست ہیں ۔قدرتی مناظر انہیں اپنی جانب راغب کرتے ہیں۔اور پھریہ اپنی محسوسات کا قلمی و شعری اظہار بھی برملا کرتے ہیں۔حمد کاپیرائیہ  کیا خوب صورت انداز میں نبھایا ہے۔

    حمدیہ نظم

    شکر شہری بھی ہیں بچا لاتے

    شہری بھی  شکر ہیں بجا لاتے

    حمد ربی کا لطف گاؤں  میں

    رات کو جلد سب کا سو جانا

    خواب راحت میں اور کھو جانا

    سنتے آذان فجر کی سب کا

    جاگنا  رخ وہ کرنا  مسجد کا

    باجماعت نماز کا پڑھنا

    چہچہانا درخت پر چڑیاں

    روح پرور  بخاری وہ  گھڑیاں

    سینوں سے وہ لگا کے قرآں کا

    بچوں کا مسجدوں کا رخ کرنا

    بچیوں کے وہ سر پہ دوپٹہ

    پڑھنا قرآن وہ  مساجد میں

    اونچی آواز میں وہ بچوں کا

    دل کو بھاتا ہے دل کو بھاتا ہے

    وہ پرندوں کا اپنی بولی میں

    شکر  پروردگار کا کرنا

    شوق سجدہ میں جھومنا سبزہ

    سجدہ شکر میں سبھی فطرث

    حمد ربی کا لطف گاؤں میں

    عاصم بخاری کے موضوعات و عنوانات کا اپنا دائرہ اور زاویہ ہے۔ان کے موضوعات میں ایک اہم موضوع بزرگان اور والدین بھی ہیں۔ یہ ایسے موضوعات ہیں جنکی طرف ہماری توجہہی نہیں ہوتی ۔اس معاشرتی سماجی اور اخلاقی رویے کے کرب کو یوں بیان کرتے ہیں۔ نظم دیکھیں

      ۔

     کم سے کم جیتے جی مرے بیٹو

    کم سے کم جیتے جی مرے بیٹو

    مجھ کو اک ساتھ ہی نظر آ ؤ

    گھر میں دیواریں تو اٹھاؤ مت

    ہوں چراغ ۔ سحر  تمہیں  یہ علم

    ماں کو تو پہلے لے یہ ڈوبا غم

    اتنی جلدی کی کیا ضرورت ہے

    ٹوکنے والا صرف میں ہی تھا

    روکنے والا کون ہے تم کو

    بعد میں جی میں آ ئے جو کرنا

    دکھ بڑا میں یہ سہہ نہ پاؤں گا

    دست بستہ یہی گزارش ہے

    موت اپنی ہی مجھ کو مرنے دو

    قبر میں تو مجھے اترنے دو

           عاصم بخاری کے ہاں ہمیں جہاں جدید اصناف ِ نظم کا برتاؤ ملت ہے وہاں موضوعات کا اچھوتا پن اور مقامیت و مشرقیت کی خوشبو بھی محسوس ہوتی ہے۔ قافیہ ردیف کی قید سے آزاد ہوکر انکے ہاں فطرت اور دیہات نگاری کی بہترین مرقع نگاری ملتی ہیے۔ایک نظم بے فکری دیکھیں۔

    بے فکری

    گاؤں میں اک ، چھپر ہوتا

    جس کے سائے ہر اک سوتا

    کیا گورے کیا ، عاصم کالے

    مل کے رہتے سب گھر والے

    مرکز  قائم  ،  رکھا  جاتا

    ایسی تو بے خبری ، کب تھی

    رشتوں کی نا قدری کب تھیں

    سب کو سمجھایا جاتا تھا

    مل کے ہی ، کھایا جاتا تھا

    بجلی  پنکھے  کولر   کب  تھے

    اےسی ڈی سی سولر کب تھے

    کیسے  ڈاکے ،  کیسی  چوری

    دولت کم تھی بے فکری تھی

                   ***

    Title Photo by bernahanım

  • عاصم بخاری کی اردو ہائیکو نگاری

    عاصم بخاری کی اردو ہائیکو نگاری

    عاصم بخاری کی اردو ہائیکو نگاری

    تجزیہ             راحت امیر نیازی

    اردو ہائیکو کے آغاز و ارتقا کے حوالے سے دیکھا جائے تو بیسویں صدی کے وسط میں جاپانی شعری صنف ہائیکو سے اثر قبول کرنے کے نتیجے میں ہوا۔  یہ نظمی صنف  تجرباتی طور پر اپنی مقبولیت کے سبب در آئی ۔ہائیکو جاپان کی ایک مختصر مگر بامعنی صنفِ سخن ہے، اگر اس کی ہئیت کی بات کی جائے تو یہ عموماً تین مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے اور فطرت، موسم، انسانی احساسات اور لمحاتی تجربات کو نہایت اختصار سے پیش کرتی ہے۔

    اردو ہائیکو کا آغاز:

    اردو میں ہائیکو کے ابتدائی تعارف کا سہرا جاپانی ادب کے تراجم اور ادبی رسائل کو جاتا ہے۔

    1960ء کی دہائی میں اردو شعرا نے اس صنف میں سنجیدہ طبع آزمائی شروع کی۔

    ابتدائی دور میں شہریار، وزیر آغا، محمد امین، ظفر اقبال اور دیگر شعرا نے ہائیکو کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

    وزیر آغا کو اردو ہائیکو کی ترویج اور تنقیدی بنیادیں فراہم کرنے والے اہم ادیبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    ابتدا میں اردو ہائیکو جاپانی ہیئت کے قریب رہی، لیکن بعد میں اس میں اردو زبان کے مزاج، مقامی ثقافت اور علامتی انداز کو بھی شامل کر لیا گیا۔ برِ صغیر کی ثقافت و روایت کے اثرات اس پر واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔یعنی یہ صنف برصغیر اور بالخصوص پاکستانی رنگ میں غیر محسوس انداز میں رنگی گئی۔کُل جدیدُُ لَذِیذُُ کے مصداق ادیبوں کے اس جدید صنف ِ شعر میں  بہت سے تجربات نظمی مجموعوں کی صورت سامنے آئے۔ تحقیقی مضامین لکھے گئے اور ادبی رسائل نے اس صنف کو فروغ دیا۔رسائل نے اس موضوع پر خاص نمبر شائع کر کے اپنے حصے کا کام کر دیا۔

    یہی وجہ ہے کہ آج اردو ہائیکو ایک مستند اور مقبول شعری صنف ہے، جس میں فطرت کے ساتھ ساتھ سماجی، تہذیبی اور عصری موضوعات بھی پیش کیے جاتے ہیں۔

    اب  یہ پودا تناور درخت کی شکل دھار چکا ہے اور اردو ہائیکو تہذیبی مزاج کے مطابق اپنی الگ شناخت قائم کر لی ہے۔ اختصار، معنویت، منظر نگاری اور گہرے تاثر کی وجہ سے یہ صنف آج اردو ادب کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔

           آج کےجدید ہائیکو نگاروں میں ایک نام عاصم بخاری کا بھی ہے جو نِت نئےنظمی اور جدت کے حامل صنفی تجربات کرتے رہتے ہیں۔ اختصار پسندی مختصر نویسی جسے ایفر ازم بھی کہتے ہیں بخاری کا میدان ِ خاص ہے۔مختصر نظم کہنا ہر شاعر کا کام نہیں لیکن اگر عاصم بخاری کی نظمیہ اور جدید و مختصر اصناف کی شاعری کا جائزہ لیا جائے تو فردیات ،ثلاثی ، اردو ماہیا اور قطعہ نگاری کےساتھ ساتھ ان کے ہاں اردو ہائیکو نگاری کا بھی کامیاب تجربہ ملتا ہے۔بخاری کی ہائیکو کا ایک اپنا مزاج اور لہجہ ہے۔ بخاری کے موضوعات ہائیکو میں بھی منفرد اچھوتے جدید اور عصر ِ حاضر کے مطابق ہیں۔

    عاصم بخاری کی اردو ہائیکو نگاری

    ایک ہائیکو ملاحظہ ہو

    ۔۔۔۔۔۔۔

    وَن وَن ٹُو ٹُو کا

    زندہ قوموں کا شیوہ

    چھوڑو تم رست

    ۔۔۔۔۔

    عاصم بخاری کے پاؤں مٹی میں ہیں وہ سماج اور اس کے مسائل لکھتے ہیں۔

    ہائیکو

    عاصم نے لکھا

    اک غربت اک بیما ری

    گھر گھر کا قصہ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دور ِ حاضر میں تیسری دنیا بل کہ غربت کی لکیر سے بھی نیچےزندگی کرنے والوں کی عکاسی ایک ہائیکو میں یوں کرتے ہیں۔

    ایسی مہنگائی

    مت پوچھیں کچھ اس بارے

    رہنے دیں بھائی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     چوں یہ صنف ِ لطیف ہے لہذا اس میں عشق پیار محبت اور ہجر و وصال کا ٹچ بھی دیتے دکھائی دیتے ہیں۔

    ہجروں کے مارے

    کب سوتے ہیں عاصم جی

    گنتے ہیں تارے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔

        اس ہائیکو میں بخاری نے جینےکافناور ہنربتا دیا ہے کہ مردانگی کا تقاضا ہے کہ مشکلات میں بھی ہنس کےگزارا کیا جائے یہی زندگی ہے۔

    ہر غم سہتے ہو

    خوبی ہے یہ اک عاصم

    ہنستے رہتے ہو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خاموش رہنا اگرچہ اچھی بات ہے مگر اتنیگٹا ٹوپ خاموشی بھی تشویش ناک ہے۔بخاری سانس لینے کی طرح بولنے اور اظہار کو بھی زندہ اور زندگی سمجھتے ہیں لہذا اوروں کو بھی یہی ترغیب دیتے ہیں۔

    لب یہ کھولو نا

    چپ چپ اتنے کیوں عاصم

    کچھ تو بولو نا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

        بخاری صاحب کےہاں جہاں زندگی کی تلخیاں ہیں وہاں رومانویت اور توصیف ِ جمال کےتازہ جھونکے بھی ہیں۔دیکھیں محبوب کاتذکرہ کیا کمال محاکاتی انداز میں کرتے ہیں۔

    لوٹیں میرا  دل

    نیلی تیری آنکھیں اور

    گورے مُکھ کا تل

    ۔۔۔۔۔۔۔

        بخاری کو زمانے کی چالوں دھوکے اور فریب سے نفرت ہے ۔چوں کہ وہ خود سیدھا سادا ہے لہذا وہ چاہتا ہے معاشرہ بھی ایسا ہو۔یہ اسی کی خواہش اور ارمانکااظہار ہائیکو میں یوں کرتے ہیں۔

    دھوکے بازی چھوڑ

    اک ہی میرا کہنا مان

    سچا رشتہ جوڑ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     محبوب کےہر انداز کی تعریف کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ تیری ہر ادا دل میں اترنے والی ہے۔

    جب  جب ہنستے ہو

    مجھ کو اچھے لگتے ہو

    دل میں بستے ہو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بخاری کے ہاں محبت اورعشق لکھنوی خارجیت کے رنگ بھی کہیں کہیں جھلکتے ہیں۔محبوب کےحسن و جمال  کی مقناطیسی کشش کا ذکر یوں کرتے ہیں۔

    یہ ہرجائی پن

    کیسے تجھ کو سمجھاؤں

    لُوٹے تن من دھن

    ۔۔۔۔۔۔۔۔

         بہاروں کے موسم پھولوں اور خوشبوں کا تعلق محبوب کے جمال سے زیادہ ہے۔ اسہ لیے لکھتے ہیں۔

    پھولوں کا موسم

    گُم صُم تیری یادوں میں

    ڈھونڈے دل بالم

    ۔۔۔

    اس ہائیکو میں عاصم بخاری شعر برائے مقصد کے نظریے کو مد نظر رکھتے ہوئے فکر دی ہے جھنجھوڑا ہے۔

    دینی باتیں کر

    شہرت دولت دھکا ہے

    رب سے عاصم ڈر

    ۔۔۔۔

    بخاری کے پسندیدہ موسموں میں ایک موسم سرما بھی ہے۔جس کے وہ خواہاں ہیں۔

    سردی کا موسم

    خواہش ہے بس اتنی سی

    جیون میں ہم تم

    ۔۔۔۔۔

    بارش جاری ہے

    تیری یادوں کا جادو

    دل پر طاری ہے

    ۔۔۔۔

    اس ہائیکو میں بھی عاصم بخاری فطری و قدرتی مناظر کا تذکرہ ایک خاص انداز میں کرتے ہیں۔

    بادل برسے ہے

    اپنا یہ دیوانہ دل

    تجھ کو ترسے ہے

    ۔۔۔

     ہائیکو کے مزاج شناس عاصم بخاری نے موسموں کو اپنا موضوع بناتے ہوئے خوب لفظی تصویر کشی کی ہے۔ہائیکو دیکھیں۔

    یارب تو نے دی

    گرمی اپنے زوروں پر

    بارش رحمت کی

     الغرض عاصم بخاری نے ہائیکو کے بیش تر تہذیبی ، فطری،موضوعات کو بڑی نفاست ، ندرت اور مہارت سے کمال برتا ہے اور ہائیکو کے مخصوص وزن پانچ سات پانچ کو عروضی اور فنی لحاظ سے پوری شعری قدرت کے ساتھ نبھایا ہے۔

  • میانوالی کےادبی منظر نامہ کی منظوم جھلک

    میانوالی کےادبی منظر نامہ کی منظوم جھلک

    میانوالی کےادبی منظر نامہ کی منظوم جھلک

    (عاصم بخاری کی شاعری میں)

    تجزیہ کار

       (راحت امیر نیازی میانوالی)

    عاصم بخاری کی شاعری کا اختصاص یہ بھی ہے کہ انھوں نے ہر موضوع کو اپنی شاعری میں کامیابی سے عنوان بنایا ہے۔جہاں انھوں نے سیاسی ، سماجی ، اقتصادی اور معاشرتی موضوعات پر قلم کشائی کی ہے وہاں انھوں نے اپنی مقامیت یعنی میانوالی کے ادبی منظر نامہ کو بھی منظوم کر کے ادبی تاریخ کی جھلک کا ایک باب بھی رقم کیا ہے۔عاصم بخاری کی جہاں عصری مسائل پر نظر ہے وہاں میانوالی کی ادبی سرگرمیاں بھی قلم کشائی کی طرف راغب کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

    ارتقائی حوالے سے  دیکھا جائے تو فارق روکھڑی کی ادبی خدمات کو کچھ اس نداز میں خراج ِ تحسین پیش کرتے ہیں

    قطعہ

    شہرت ہوئی نصیب جنہیں زندگی میں ہی

    شاعر بھی کیا کمال تھے فاروق روکھڑی

    اسی طرح بابائے تھل فاروق روکھڑی کی شخصیت اور اس کے دیگر  سماجی و اخلاقی پہلو کا تذکرہ یوں کرتے ہیں۔

    قطعہ

    مہماں نواز تھے بڑے حق مغفرت کرے

    اک زندہ دل ادیب تھے فاروق روکھڑی

    بابائے تھل کا پایا لقب شہرتیں ملیں

    کتنے ہی خوش نصیب تھے فاروق روکھڑی

    معاصر ادبی منظر نامے پر اردو کے ساتھ ساتھ ماں بولی میں ادبی خدمات سرانجام دینے والوں شعرا کے بھی معترف دکھائی دیتے ہیں۔ غلام حسین مجبور عیسیٰ خیلوی کا ذکر کچھ اس منظوم انداز میں کرتے ہیں۔

    شعر

    آپ اپنی مثال ہیں عاصم

    گیت مجبور کے زمانے میں

    اسی طرح دونوں ہم عصر شعرا مجبور عیسیٰ خیلوی اور فاروق روکھڑی کا ایک ساتھ منظوم  تذکرہ یوں کرتے ہیں

    فاروق روکھڑی    اور   مجبور عیسیٰ خیلوی کے نام

                   ۔

                  ایک نظم

    فاروق بھی میاں والی سے مجبور بھی میاں والی سے

    پہچان ادب میں آپ اپنی ماں بولی میں، قومی میں بھی

    فاروق بھی میاں والی سے مجبور بھی میاں والی سے

    اک چہکے عاصم  محفل میں  اور دوجے کا دھیما لہجہ

    فاروق بھی میاں والی سے مجبور بھی میاں والی سے

    قدرت نے” لالے” کی سُر میں ہے ہر جا کیسے  منوایا

    فاروق بھی میاں والی سے مجبور بھی میاں والی سے

    سچ تو  ہے یہ  ہی جذبے سے  پرچار کیا ماں بولی    کا  

    فاروق بھی میاں والی سے مجبور بھی میاں والی سے

    میانوالی کےادبی منظر نامہ کی منظوم جھلک

            مجبور عیسیٰ خیلوی کے ہم عصر پروفیسر منور علی ملک صاحب جن کی اردو سرائیکی انگریزی تینوں زبانوں مییں خدمات کوں قطعہ میں یوں بیان کرتے ہیں

    قطعہ

    میاں والی کا ناز اعزاز تم

    ہر اک کہہ  رہا ہے منور علی

    ترا رنگ ِ تحریر سچ تو ہے یہ

    کہ سب سے جدا ہے منور علی

    منور علی ملک صاحب کے ساتھ ساتھ پروفیسر سرور نیازی کی علمی و ادبی خدمات اور شخصیت کی کچھ ان لفظوں میں تصویر کشی کرتے ہیں۔

    ایک شعر

    ادب سادگی ہو کہ یاروں کی محفل

    ہیں پہچان آپ اپنی سرور نیازی

     پروفیسر موصوف کی ادبی شخصیت کی منظر کشی ایک اور زاویے سے یوں کرتے ہیں۔

    شعر

    تمہاری قابلیت ، سادگی کا

    زمانہ معترف ، سرور نیازی

     پروفیسر رئیس احمد خان عرشی صاحب زبان و ادب کی خدمت کے حوالے سے نمایاں ادبی شخصیت ہیں۔نظم و نثر دونوں میں ان کی خدمات لائق ِ تحسین ہیں

    قطعہ

    باریکیوں سے خوب  جو  سچ تو یہ باخبر

    تب ہی تو احترام ہے نظم اور نثر میں

    اردو زباں کا ایک حوالہ ہے معتبر

    عرشی کا اک مقام ہے نظم اور نثر میں

        نظم کے ساتھ ساتھ میانوالی کی نثر نگاری پر بھی عاصم بخاری کی منظوم نظر  ہے۔محمد حامدسراج مرحوم کی افسانہ نگاری کے برِ صغیر تک کے چرچوں کا حوالہ یوں دیتے ہیں۔

    شعر

    افسانوی ادب کی اگر بات میں کروں

    پہچان اپنی آپ ہی حامد سراج تھے

    خورشید شاہ سرائیکی دوہڑے میں ایک بہت بڑا نام۔گزرا ہے۔اسے یوں خراج ِ تحسین پیش کرتے ہیں۔۔

    قطعہ

    ہر اک کا دل ربا تھا خورشید شہ بخاری

    کب فرد ، قافلہ تھا خورشید شہ بخاری

    جس نے کمال لکھا اپنی زباں میں عاصم

    دُہڑے کا بادشہ تھا، خورشید شہ بخاری

     ۔

    محمد محمود احمد

    تری پہچان دنیاۓ ادب میں

    لب و لہجہ ترا محمود احمد

    بہت جلدی ہمیں چھوڑا ہے تو نے

    یہی تجھ سے گلہ محمود احمد

    عاصم بخاری کی ایک اور نظم محمود ہاشمی کے نام

    کچھ منفرد ہی کر کے گزر جانا چاہیے

    عاصم بخاری کہتا تھا محمود ہاشمی

    لہجے میں بات کرتا تھا سوچیں نئی نئی

    زرخیز ذہن رکھتا تھا محمود ہاشمی

     ۔

    دنیا تُو چھوڑ جائے گا عالم شباب میں

    قسمت میں ایسے لکھا تھا محمود ہاشمی

     ۔

    اپنی تو بس دعا یہی حق مغفرت کرئے

    اکثر درود پڑھتا تھا محمود ہاشمی

    شعرو ادب کی دنیا میں عاصم ہے سچ تو یہ

    تازہ ہوا کا جھونکا تھا محمود ہاشمی

     ۔

    نذیر یاد اردو سرائیکی کے حوالے سے ایک سرمایہ ہیں ۔خصوصا”ان کی سرائیکی نظم گوئی کا کوئی ثانی نہیں۔جس کے حوالے سے یوں منظوم اعتراف کرتے ہیں

    مشہور تم بھی شہر میں مقبول آج کل

    تم بھی نذیر یاد کی ہو نظم کی طرح

    مظہر نیازی

    مظہر یازی  کی بھی اردو سرائیکی نظم اور نثر دونوں میں بہت خدمات ہیں۔علاوہ ازیں قدرت نے انہیں ترنم بھی عطا کیا ہے۔

    قطعہ

    راس آیا تمہیں ترنم بھی

    حصے لفظوں کی دولتیں آئیں

    تم کہ وہ خوش نصیب ہو مظہر

    گیتوں غزلوں سے شہرتیں پائیں

         میانوالی کے شاعروں میں ایک توانا آواز اور نام۔خالد ندیم شانی کا ہے۔عاصم بخاری ان کی شخصیت ، شاعری  اور طرزِ ادا سے خاصے متاثر نظر آتے ہیں جس کا برملا اظہار بھی ان کے ہاں  شعری صورت میں مختلف زاویوں سے ملتا ہے۔

    فردیات

    شاعر تو بہت اچھے ہیں وطن ِعزیز میں

    خالد ندیم۔شانی کا لیکن یہ دور ہے

         بخاری صاحب شاعر ِ موصوف کی اک اور ادا سے بھی متاثر اور معترف نظر آتے ہیں۔

    شعر

    ہنس کے جینے کا ہے ہنر سیکھا

    میں نے خالد ندیم  ، شانی سے

    قطعہ

    مانا ہوں گے ہزار ، دنیا میں

    اسکاثانی نہ خوش بیانی میں

    ولولہ جوش زندگی  پائی

    میں نے خالد ندیم شانی میں

         یہ تھی میانوالی کے ادبی منظر نامہ کی ایک جھلک۔ ابھی بہت سے ہمالہ قد ادبی نام اور کام باقی ہیں جن میں اساتذہ کے حوالے لکھنا بھی باقی ہے اور آج کے جدید شعرا پر بات بھی باقی ہےلیکن مضمون کی طوالت کے باعث فی الحال اتنا ہی   ، مزید ان شااللہ اگلے مضمون میں   حیات باقی ، ملاقات باقی  

                       ***

  • بشیر بدر بھی چلے گئے  

    بشیر بدر بھی چلے گئے  

    بشیر بدر بھی چلے گئے  

    اردو غزل کا ایک عہد اختتام پذیر ہوا  

    شہرِ خواب ۔ صفدر علی حیدری  

    بشیر بدر بھی آخرکار رخصت ہو گئے۔  یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اردو غزل کا ایک نرم، مہذب اور خوشبو بھرا عہد اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہو۔ وہ عہد جس میں محبت دھیرے لہجے میں بولتی تھی، جدائی چیخ نہیں بنتی تھی بلکہ خاموشی میں آنکھیں نم کر دیتی تھی، اور انسان اپنے ٹوٹنے کا اعلان نہیں کرتا تھا بلکہ ایک شعر کہہ کر گزر جاتا تھا۔

    بشیر بدر صرف ایک شاعر نہیں تھے، وہ ایک احساس تھے۔ ایک ایسا احساس جو برسوں تک اردو زبان کے قاری کے دل میں سانس لیتا رہا۔ ان کی شاعری میں محبت بھی تھی، تنہائی بھی، ہجرت کا دکھ بھی، بدلتے شہروں کی بے حسی بھی اور انسان کے اندر چھپی ہوئی وہ خاموش اداسی بھی جسے ہر شخص محسوس تو کرتا ہے مگر بیان نہیں کر پاتا۔

    بشیر بدر کا اصل کمال یہی تھا کہ وہ مشکل ترین احساس کو نہایت سادہ لفظوں میں بیان کر دیتے تھے۔ ان کے یہاں تصنع نہیں تھا، بناوٹ نہیں تھی، فلسفے کا بوجھ نہیں تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی شائستہ انسان دھیرے سے دل کی بات کر رہا ہو۔ یہی سادگی ان کی عظمت بن گئی۔

    بشیر بدر بھی چلے گئے  

    زندگی اور ادبی سفر

    بشیر بدر 15 فروری 1935ء کو پیدا ہوئے۔ وہ اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جس نے تقسیمِ ہند کے بعد ٹوٹتے ہوئے رشتے، بدلتی ہوئی تہذیب اور بکھرتی ہوئی انسانی قدروں کو بہت قریب سے دیکھا۔ انہی تجربات نے ان کی شاعری کو ایک منفرد گہرائی عطا کی۔

    انہوں نے تعلیم حاصل کی، تدریس سے وابستہ رہے اور پھر مکمل طور پر ادب کی دنیا میں اپنی شناخت قائم کی۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی غزل کی خوشبو بھی موجود ہے اور جدید عہد کی بے چینی بھی۔ یہی امتزاج انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتا ہے۔

    انہوں نے غزل کو صرف ادبی حلقوں تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ عام آدمی کے دل تک پہنچایا۔ ان کے کئی اشعار زبان زدِ عام ہوئے اور روزمرہ گفتگو کا حصہ بن گئے۔

    بشیر بدر کی شاعری کے نمایاں موضوعات

    محبت  

    بشیر بدر محبت کے شاعر تھے، مگر ان کی محبت محض رومان نہیں تھی۔ اس میں انتظار بھی تھا، محرومی بھی، بے یقینی بھی اور وقت کی تلخی بھی۔ ان کے یہاں محبت انسانی وجود کا بنیادی تجربہ بن کر سامنے آتی ہے۔

    تنہائی  

    ان کی شاعری میں جدید انسان کی تنہائی بار ابھرتی ہے۔ شہر آباد ہیں مگر انسان اندر سے ویران ہے۔ بشیر بدر نے اس داخلی ویرانی کو نہایت شدت کے ساتھ محسوس کیا۔

    بدلتا ہوا شہر  

    انہوں نے شہروں کی بے حسی اور تعلقات کی سرد مہری کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ ان کے کئی اشعار آج کے انسان کی سماجی تنہائی کی مکمل تصویر محسوس ہوتے ہیں۔

    یاد اور ماضی  

    بشیر بدر کے یہاں یاد محض ماضی نہیں بلکہ زندہ تجربہ ہے۔ ان کے اشعار میں بچھڑنے کا دکھ ایک دھیمی آگ کی طرح جلتا رہتا ہے۔

    بشیر بدر کے چند لازوال اشعار

    کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا  

    جو گلے ملو گے تپاک سے  

    یہ نئے مزاج کا شہر ہے  

    ذرا فاصلے سے ملا کرو  

    اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو  

    نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے  

    لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں  

    تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں  

    دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے  

    جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں  

    کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی  

    یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا  

    پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا  

    میں موم ہوں اُس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا  

    محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا  

    اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا  

    ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے  

    جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا  

    کبھی یوں بھی آ مری آنکھ میں کہ مری نظر کو خبر نہ ہو  

    مجھے ایک رات نواز دے مگر اس کے بعد سحر نہ ہو  

    یونہی بے سبب نہ پھرا کرو  

    کوئی شام گھر بھی رہا کرو  

    بشیر بدر کی مقبولیت کی اصل وجہ

    بشیر بدر کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ ان کی زبان تھی۔ انہوں نے مشکل الفاظ، بھاری تراکیب اور پیچیدہ علامتوں کے بجائے عام فہم زبان استعمال کی۔ ان کے اشعار پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی شخص آپ کے اپنے دل کی بات آپ ہی کو سنا رہا ہو۔

    ان کی شاعری میں تہذیب بھی تھی، درد بھی، شائستگی بھی اور جدید عہد کی اداسی بھی۔ وہ چیخ کر بات نہیں کرتے تھے بلکہ دھیرے سے دل میں اتر جاتے تھے۔

    جدید اردو غزل پر اثرات

    بشیر بدر نے جدید اردو غزل کو ایک نیا لہجہ عطا کیا۔ ان کے بعد آنے والے بے شمار شعرا نے ان کے انداز سے اثر قبول کیا۔ مختصر بحر، سادہ الفاظ، روزمرہ کی زبان اور گہرے احساسات ان کے اسلوب کی پہچان بنے۔

    انہوں نے ثابت کیا کہ بڑی شاعری کے لیے مشکل زبان ضروری نہیں۔ سادہ لفظ بھی اگر سچے احساس کے ساتھ ادا کیے جائیں تو صدیوں تک زندہ رہتے ہیں۔

    ایک مہذب اداسی کا شاعر

    بشیر بدر کی شاعری پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ وہ انسان کے اندر چھپے ہوئے دکھ کو بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ ان کے یہاں شکست بھی وقار کے ساتھ آتی ہے۔ ان کی شاعری میں شور نہیں، ایک مہذب اداسی ہے۔ یہی اداسی ان کے اشعار کو دیرپا بناتی ہے۔

    اردو ادب کا ناقابلِ تلافی نقصان

    بشیر بدر کے انتقال سے اردو ادب کا ایک روشن چراغ بجھ گیا۔ مگر ایسے لوگ حقیقت میں کبھی نہیں مرتے۔ وہ اپنے لفظوں میں زندہ رہتے ہیں۔ ان کے اشعار آنے والی نسلوں کے دلوں میں اسی طرح گونجتے رہیں گے جیسے آج گونجتے ہیں۔

    وہ شاعر جس نے محبت کو شائستگی دی، جدائی کو وقار دیا اور تنہائی کو زبان دی، اب ہمارے درمیان نہیں رہا، مگر اس کے لفظ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

    بشیر بدر واقعی صرف ایک شاعر نہیں تھے، ایک پورا عہد تھے۔

    اور ایسے عہد بار پیدا نہیں ہوتے۔

    ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے  

    جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا

  • محسنِ پاکستان:معمارِ ریاستِ بہاولپور

    محسنِ پاکستان:معمارِ ریاستِ بہاولپور

    محسنِ پاکستان:معمارِ ریاستِ بہاولپور

    شہر خواب ۔۔۔ صفدر علی حیدری 

    برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی پیدا ہوتی ہیں جن کے کارنامے وقت کی حدود سے بلند ہو کر ہمیشہ کے لیے تاریخ کا روشن باب بن جاتے ہیں۔ ایسی ہی ایک نابغۂ روزگار شخصیت جنرل نواب الحاج سر صادق محمد خان پنجم عباسی کی تھی، جنہیں بجا طور پر “محسنِ پاکستان” کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی غیر معمولی ذہانت، سیاسی بصیرت، بے مثال سخاوت، حب الوطنی اور عوام دوستی سے نہ صرف ریاستِ بہاولپور کو ترقی و خوشحالی کی مثال بنایا بلکہ قیامِ پاکستان کے نازک ترین دور میں نوزائیدہ مملکتِ خداداد کو مالی، سیاسی اور اخلاقی سہارا دے کر تاریخ میں ہمیشہ کے لیے اپنا نام امر کردیا۔

    نواب صادق محمد خان پنجم 29 ستمبر 1904 کو بہاولپور کے شاہی محل دولت خانہ میں پیدا ہوئے۔ وہ عباسی خاندان کے چشم و چراغ تھے، جو اپنی نسبت خلافتِ عباسیہ سے جوڑتا ہے اور صدیوں سے بہاولپور پر حکمرانی کرتا آرہا تھا۔ کم عمری میں ہی والد کے انتقال کے بعد 1907 میں وہ تخت نشین ہوئے۔ ابتدا میں ریاستی امور ایک کونسل کے ذریعے چلائے گئے، تاہم مارچ 1924 میں نور محل میں ایک عظیم الشان تقریبِ تاج پوشی منعقد ہوئی، جس میں وائسرائے ہند لارڈ ریڈنگ نے انہیں مکمل اختیارات سونپے۔ اس تقریب نے انہیں برصغیر کے ممتاز مسلم حکمرانوں کی صف میں نمایاں مقام عطا کیا۔

    ابتدائی تعلیم انہوں نے ایچی سن کالج سے حاصل کی، جبکہ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان گئے۔ عربی، فارسی، اردو اور انگریزی زبانوں پر انہیں غیر معمولی عبور حاصل تھا۔ وہ نہایت ذہین، معاملہ فہم، باوقار اور دور اندیش حکمران تھے۔ ان کی شخصیت میں شرافت، انکساری، دینی رجحان اور عوامی خدمت کا جذبہ نمایاں تھا۔

    ریاستِ بہاولپور برصغیر کی دوسری بڑی مسلم ریاست تھی، جس کا رقبہ کئی یورپی ممالک سے زیادہ تھا۔ نواب صادق کے دورِ حکومت میں یہ ریاست ترقی، امن، خوشحالی اور بہترین نظم و نسق کی مثال بن گئی۔ ریاست کا اپنا بینک، کرنسی، ڈاک کا نظام، ریلوے، فوج، عدلیہ اور کابینہ موجود تھی۔ بہاولپور کو ایک مکمل فلاحی ریاست کی حیثیت حاصل تھی جہاں عوام کو انصاف، صحت، تعلیم اور روزگار کی سہولیات میسر تھیں۔

    انہوں نے ریاست کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے زرعی اصلاحات نافذ کیں۔ دریائے ستلج سے متعلق آبپاشی منصوبوں نے بنجر زمینوں کو سرسبز کھیتوں میں بدل دیا اور بہاولپور اناج کی پیداوار میں نمایاں حیثیت اختیار کر گیا۔ تجارت اور صنعت کو فروغ دیا گیا جبکہ عوامی بہبود کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ان کے دور میں سڑکیں، اسپتال، نہریں، مساجد اور رفاہی ادارے قائم ہوئے۔

    نواب صادق محمد خان پنجم کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو ان کی تعلیم دوستی تھی۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ قوموں کی ترقی تعلیم کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لیے انہوں نے تعلیم کو اپنی ریاست کی بنیاد بنایا۔ ریاستِ بہاولپور میں پرائمری سے لے کر یونیورسٹی تک تعلیم مفت تھی اور مستحق طلبہ کو وظائف دیے جاتے تھے۔ غریب اور نادار طلبہ کی مدد کے لیے خصوصی فنڈ قائم کیے گئے۔

    انہوں نے جامعہ عباسیہ قائم کی، جو بعد میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور بنی۔ یہ ادارہ جامعہ الازہر کے طرز پر قائم کیا گیا اور جنوبی پنجاب میں علم و ادب کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔ ہزاروں طلبہ نے یہاں سے تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کی خدمت کی۔

    1951 میں انہوں نے صادق پبلک اسکول کے قیام کے لیے پانچ سو ایکڑ زرخیز زمین عطیہ کی۔ یہ ادارہ آج بھی پاکستان کے ممتاز تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کی سخاوت صرف بہاولپور تک محدود نہ رہی بلکہ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور ایچی سن کالج کی مسجد کے لیے بھی جائیدادیں اور خطیر رقوم عطیہ کیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے سینیٹ ہال کی تعمیر میں بھی ان کی نمایاں مالی معاونت شامل تھی۔

    تحریکِ پاکستان میں ان کا کردار نہایت اہم اور تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے محمد علی جناح سے قریبی تعلقات تھے اور وہ مسلم لیگ کے مخلص معاونین میں شمار ہوتے تھے۔ کراچی کے علاقے مالیر میں واقع ان کا محل “القمر” قائداعظم کی رہائش اور تحریکِ پاکستان کی سرگرمیوں کا اہم مرکز تھا۔ علامہ محمد اقبال سے بھی ان کی خط و کتابت رہی اور وہ مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے تصور کے بھرپور حامی تھے۔

    محسنِ پاکستان:معمارِ ریاستِ بہاولپور

    قیامِ پاکستان سے قبل ہندوستانی قیادت نے ریاستِ بہاولپور کو پاکستان سے دور رکھنے کے لیے مختلف کوششیں کیں۔ یہاں تک کہ نواب صادق کو ایک خالی چیک پیش کیا گیا تاکہ وہ بھارت کے ساتھ الحاق پر آمادہ ہوجائیں، مگر انہوں نے یہ پیشکش مسترد کردی۔ ان کا تاریخی جملہ آج بھی یاد رکھا جاتا ہے کہ:

    “بہاولپور کے تیس لاکھ عوام میرے غلام نہیں، میں صرف ان کے حقوق کا محافظ ہوں۔”

    5 اکتوبر 1947 کو انہوں نے “Instrument of Accession” پر دستخط کرکے ریاستِ بہاولپور کو پاکستان کے ساتھ شامل کردیا۔ یوں بہاولپور پاکستان سے الحاق کرنے والی اولین ریاستوں میں شامل ہوگئی۔ اس فیصلے نے پاکستان کو نہ صرف جغرافیائی بلکہ مالی اور سیاسی طور پر بھی مضبوط کیا۔

    قیامِ پاکستان کے بعد نواب صادق محمد خان پنجم نے نئی مملکت کی بے مثال مالی مدد کی۔ اس وقت پاکستان شدید مالی بحران کا شکار تھا اور سرکاری خزانہ تقریباً خالی تھا۔ ایسے نازک وقت میں انہوں نے پاکستان حکومت کو ستر ملین روپے یعنی سات کروڑ روپے عطیہ کیے۔ یہ رقم اتنی خطیر تھی کہ ایک اندازے کے مطابق آج اس کی مالیت سینکڑوں ارب روپے بنتی ہے۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق پاکستان کے سرکاری ملازمین کی ابتدائی تنخواہیں بھی ایک ماہ تک ریاستِ بہاولپور کے خزانے سے ادا کی گئیں۔ قائداعظم نے ان خدمات کو سراہتے ہوئے فرمایا تھا:

    “نواب صادق محمد خان عباسی نے ہمارے قلم کی روشنائی بھی عطیہ کی۔”

    یہ جملہ ان کی بے مثال حب الوطنی اور ایثار کا سب سے بڑا اعتراف سمجھا جاتا ہے۔

    نواب صادق محمد خان پنجم فوجی امور میں بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ انہوں نے ریاستی فوج کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ ریاستِ بہاولپور کی فوج بعد میں پاک فوج کا حصہ بنی۔ دوسری جنگِ عظیم میں بہاولپور کی فوج نے برطانوی افواج کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ انہوں نے رحیم یار خان میں ایک ہوائی اڈہ بھی تعمیر کرایا جو جنگی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

    ان کی شخصیت کے ساتھ کئی دلچسپ واقعات بھی وابستہ ہیں۔ ایک مشہور واقعہ رولز روائس کمپنی سے متعلق ہے۔ کہا جاتا ہے کہ لندن میں ایک رولز روائس شو روم میں انہیں ان کے لباس اور رنگت کی وجہ سے مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔ اس پر انہوں نے کئی مہنگی گاڑیاں خریدیں اور بہاولپور واپس آکر انہیں گلیوں کی صفائی کے لیے استعمال کیا۔ جب یہ خبر دنیا بھر میں پھیلی تو رولز روائس کمپنی کو باقاعدہ معذرت کرنا پڑی۔ یہ واقعہ ان کی خودداری اور وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    یکم مئی 1946 کو ریاستِ بہاولپور کی جانب سے قیامِ امن کے سلسلے میں خصوصی ڈاک ٹکٹ جاری کیے گئے، جبکہ 2013 میں پاکستان پوسٹ نے ان کے اعزاز میں یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ یہ ان کی قومی خدمات کا اعتراف تھا۔

    1955 میں جب ون یونٹ کا قیام عمل میں آیا تو انہوں نے قومی اتحاد اور پاکستان کے استحکام کی خاطر اپنی ریاست کو مغربی پاکستان میں ضم کرنے پر رضامندی ظاہر کردی۔ انہوں نے صرف چند لمحوں میں معاہدے پر دستخط کردیے اور کہا کہ وہ عوام کے بہتر مستقبل کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ یوں ایک خودمختار ریاست نے پاکستان کی وحدت کے لیے اپنی علیحدہ حیثیت قربان کردی۔

    ان کی خدمات کے اعتراف میں محمد ایوب خان نے انہیں “نشانِ قائداعظم” عطا کیا۔ روایت ہے کہ جب انہیں اسلام آباد آکر اعزاز وصول کرنے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر حکومت انہیں اعزاز دینا چاہتی ہے تو صدرِ پاکستان خود بہاولپور آئیں۔ بعد ازاں ایوب خان بہاولپور تشریف لائے اور انہیں یہ اعزاز پیش کیا گیا۔

    1965 کی پاک بھارت جنگ میں بھی انہوں نے پاکستان کی بھرپور حمایت کی اور دفاعی فنڈ میں مالی عطیات دیے۔ وہ آخری وقت تک پاکستان کی ترقی، سلامتی اور استحکام کے لیے سرگرم رہے۔

    24 مئی 1966 کو لندن میں 62 برس کی عمر میں جنرل نواب الحاج سر صادق محمد خان پنجم عباسی کا انتقال ہوگیا۔ ان کی وفات کی خبر پورے پاکستان خصوصاً بہاولپور میں غم کی لہر بن کر پھیلی۔ حکومتِ پاکستان نے سرکاری سوگ کا اعلان کیا، قومی پرچم سرنگوں کیے گئے، اور ان کی میت کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ پاکستان لایا گیا۔

    کراچی ایئرپورٹ پر پاک فوج کے اعلیٰ افسران نے ان کی میت وصول کی۔ بعد ازاں ایک خصوصی ٹرین کے ذریعے ان کا جسدِ خاکی بہاولپور پہنچایا گیا، جہاں لاکھوں افراد اپنے محبوب حکمران کی آخری جھلک دیکھنے کے لیے موجود تھے۔ صادق گڑھ پیلس سے ان کا جنازہ توپ گاڑی پر نکالا گیا اور فوجی دستوں نے سلامی پیش کی۔ بعد ازاں انہیں قلعہ دراوڑ کے قریب اپنے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا۔

    آج بھی بہاولپور کے عوام انہیں بے حد محبت اور احترام سے یاد کرتے ہیں۔ ان کی برسی کے موقع پر مختلف تقریبات، سیمینار اور دعائیہ اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ان کی خدمات پر تحقیقی نشستیں منعقد ہوتی ہیں اور انہیں پاکستان کے عظیم محسنین میں شمار کیا جاتا ہے۔

    نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجمؒ نے اپنی پوری زندگی اس حقیقت کو ثابت کیا کہ ایک حکمران کی اصل عظمت اس کے محلوں، خزانوں یا اقتدار میں نہیں بلکہ اس کی عوامی خدمت، عدل، تعلیم دوستی، فیاضی اور حب الوطنی میں ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی دولت، اقتدار اور ریاست کو پاکستان کے لیے وقف کردیا۔ اگر پاکستان کی تاریخ کے محسنین کی فہرست مرتب کی جائے تو ان کا نام ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔

    وہ صرف بہاولپور کے حکمران نہیں تھے بلکہ ایک نظریہ، ایک کردار اور ایک ایسی تاریخ تھے جو آنے والی نسلوں کو حب الوطنی، خدمتِ خلق، علم دوستی اور قربانی کا درس دیتی رہے گی۔

  • پروفیسر عاصم بخاری — ایک تاثراتی خاکہ

    پروفیسر عاصم بخاری — ایک تاثراتی خاکہ

    پروفیسر عاصم بخاری — ایک تاثراتی خاکہ

    (شہرِ خواب — صفدر علی حیدری)

    پروفیسر عاصم بخاری کا نام میں عرصۂ دراز سے سنتا آ رہا تھا اور ان کے ادبی کام سے بھی کسی حد تک آگاہ بھی تھا، لیکن بالمشافہ ملاقات کا موقع کبھی نہ ملا تھا۔
    پھر اچانک اور اتفاقاً ان سے ملاقات کی ایک صورت نکل آئی۔ یہ واقعہ تقریباً ساڑھے تین سال پرانا ہے۔ میں اُس وقت قائم پور میں سید مبارک علی شمسی کے ہاں مقیم تھا جب ان سے پہلی ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات میرے لیے ایک یادگار ادبی تجربہ ثابت ہوئی۔

    اس شب گفتگو کا سلسلہ دیر تک جاری رہا۔ حیرت انگیز طور پر زیادہ تر میں ہی گفتگو کرتا رہا، یوں محسوس ہوتا تھا جیسے برسوں پرانا تعلق ہو۔ وہ بڑے اطمینان، تحمل اور شائستگی کے ساتھ سنتے رہے۔ کبھی مسکرا دیتے اور کبھی مختصر مگر بامعنی جملوں سے گفتگو کو آگے بڑھاتے رہے۔

    ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو ان کی سادگی، کم گوئی اور شگفتگی ہے۔ وہ محض سننے والے نہیں بلکہ "اچھا سننے والے” ہیں، اور یہ وصف ہر کسی میں نہیں ہوتا۔ مجھے ان کی یہی ادا اس لیے بھی متاثر کرتی ہے کہ میں خود نسبتاً زیادہ گفتگو کرنے والا آدمی ہوں، اور وہ خاموشی کو وقار کے ساتھ برتنے کا ہنر رکھتے ہیں۔

    پروفیسر عاصم بخاری — ایک تاثراتی خاکہ

    پروفیسر عاصم بخاری ایک ایسے صاحبِ قلم ہیں جن کے پاس بیس سے زائد کتب کا سرمایہ ہے، مگر ان کے انداز میں اظہار سے زیادہ احتیاط اور شائستگی نمایاں ہے۔ وہ کم بولتے ہیں مگر جب بولتے ہیں تو نپا تلا اور بامعنی کلام کرتے ہیں۔ ان کی خاموشی بھی ایک معنی خیز اظہار بن جاتی ہے۔

    وہ استاد بھی ہیں، شاعر بھی اور ادیب بھی۔ فردیات اور قطعات میں بھی ان کی ایک الگ شناخت موجود ہے۔
    ان کی نظم و نثر میں اختصار ، ہئیتی و مضوعاتی جدت اور اصنافی تنوع ان کی پہچان کا خاص حوالہ ہے۔
    ہماری ملاقات سے قبل بھی ان کی بعض تحریریں افسانچے کے ذیل میں سامنے آ چکی تھیں، مگر اس صنف میں ان کی باقاعدہ شناخت بعد میں ابھری۔

    نظم و نثر دونوں پر انہیں قدرت حاصل ہے۔ ہماری ملاقات کے بعد جب انہوں نے میرے افسانچے سنے تو ان کے اندر افسانچہ نگاری کی طرف ایک خاص دلچسپی پیدا ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے باقاعدگی سے لکھنا شروع کیا اور مختصر عرصے میں ان کی پہلی افسانچوں کی کتاب "اثاثہ” منظرِ عام پر آ گئی۔

    اگر وہ اس ادبی رجحان کی تبدیلی کا کریڈٹ مجھے دیتے ہیں تو یہ ان کا حسنِ ظن اور انکسار ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ادب ہمیشہ داخلی تحریک سے جنم لیتا ہے، البتہ بعض ملاقاتیں اس تحریک کو ایک واضح سمت ضرور دے دیتی ہیں۔

    یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ انہوں نے اس سفر کو ادھورا نہیں چھوڑا۔ ان کی دوسری کتاب "وارث” اس تسلسل کا ثبوت ہے، جس کا مسودہ بھی سامنے آ چکا ہے۔ اس میں انہوں نے مختلف سماجی اور انسانی موضوعات پر افسانچے تحریر کیے ہیں۔

    ان کے افسانچوں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اختصار کے باوجود زمین سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ اردگرد کے حقیقی ماحول اور معاشرتی کرداروں سے اخذ شدہ ہیں۔ چونکہ وہ خود ایک ملازمت پیشہ فرد ہیں، اس لیے ان کے ہاں اسی طبقے کے مسائل، کردار اور رویے زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں۔

    ان کا قلم ان چہروں سے نقاب اٹھاتا ہے جن کے ظاہر و باطن میں تضاد پایا جاتا ہے۔ معاشرتی منافقت جب ان کی نظر میں آتی ہے تو ان کا قلم خود بخود حرکت میں آ جاتا ہے، اور وہ مختصر مگر اثر انگیز افسانچے تخلیق کرتے چلے جاتے ہیں۔

    گویا ان کے افسانچوں کا پہلا قاری بھی میں ہوں اور پہلا ناقد بھی۔ میں ہر تحریر پر دیانت داری کے ساتھ اپنی رائے دینے کی کوشش کرتا ہوں، کیونکہ ادبی رشتہ صرف تحسین نہیں بلکہ رہنمائی کا بھی متقاضی ہوتا ہے۔

    مجھے ابتدا میں ان سے یہ شکوہ رہا کہ وہ زیادہ تر بیانیہ انداز اختیار کرتے تھے، جس سے افسانچے کی شدت کم ہو جاتی تھی۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اور مسلسل مکالمے کے نتیجے میں ان کے اسلوب میں واضح بہتری آئی ہے، جو ان کی موجودہ تحریروں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔

    افسانچہ ایک نہایت نازک، مشکل اور حساس صنفِ ادب ہے۔ اسے محض مختصر تحریر سمجھ لینا ایک عام غلط فہمی ہے۔ اس میں وحدتِ تاثر، برجستگی اور مؤثر اختتام بنیادی عناصر ہیں۔ اس کا اصل حسن کم لفظوں میں زیادہ معنویت پیدا کرنا ہے۔

    ان کے افسانچوں میں یہ خوبیاں نمایاں طور پر موجود ہیں۔ وہ مختصر دائرے میں ایک مکمل فکری جھٹکا پیدا کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔

    میں افسانچہ نگار کو ایک ماہر نشانہ باز کی طرح دیکھتا ہوں جو لمحوں میں ہدف کو درست نشانے پر لگاتا ہے۔ اگر نشانہ درست ہو تو اثر بھی دیرپا ہوتا ہے۔

    عاصم بخاری کے افسانچے بھی قاری کے ذہن میں ایک ہلکی سی چبھن، ایک سوال اور ایک فکری ارتعاش چھوڑ جاتے ہیں، اور یہی کسی بھی تخلیق کی کامیابی ہے۔

    مجھے امید ہے کہ وہ اسی تسلسل کے ساتھ اس صنف میں مزید آگے بڑھیں گے اور اپنی ادبی پہچان کو مزید مستحکم کریں گے۔

    اللہ کرے ان کا قلم اسی طرح نکھرتا رہے اور ان کی تحریر مزید حسن و معنویت سے مزین ہوتی جائے۔

  • مقبول ذکی مقبول

    مقبول ذکی مقبول

    مقبول ذکی مقبول
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خاکہ

    خاکہ نگار :
    پروفیسر عاصم بخاری ( میانوالی )

    منکیرہ ، بھکر سے ہیں ۔
    کبھی ان کی پہچان منکیرہ ، بھکر سے تھی ۔ آج کل اپنی ادبی محنت لگن اور ریاضت کے بل بوتے پر منکیرہ ، بھکر کی دُنیائے ادب میں شناخت اور پہچان ہیں ۔ صحرائی بھی ہیں اور کربلائی بھی ۔ اہل ِبیت علیہ السّلام سے محبّت نہیں مودّت رکھتے ہیں ۔
    رنگت سانولی ، صحرائی ہے ۔
    صحراؤں ، ریتلے علاقوں آندھیوں اور مشکلوں میں ہنس کے جینے کا ہنر رکھتے ہیں ۔
    قد ۔ نکلتا ہوا ۔
    صاحبِ ریش ہیں ۔ پابندِ صوم و صلات ہیں ۔ تعلیم میں بڑی ڈگریاں تو نہیں رکھتے البتہ خالقِ لوح و قلم نے انہیں تہذیب اور شعور کی دولت سے مالا مال کیا ہے ۔ حق و باطل اور خیر و شر کی تمیز ضرور رکھتے ہیں ۔
    سیدھا سادہ ہے مگر اتنا بھی سادہ نہیں کہ لفظ اور طباعت و اشاعت کی اہمیت و افادیت سے آشنا نہ ہو ۔
    آئے روز مقامی سے لے کر بی الاقوامی اخبارات رسائل و جرائد میں چھپنا اس کے بایاں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ ان تھک اور پُر عزم ایسا کہ ملک کے کونے کونے میں منعقد ہونے والی ادبی تقاریب اس کے بغیر مکمل نہیں ہوتیں ۔۔۔۔
    عمر چالیس کے لگ بھگ ہے ۔ سر کے بال تیزی سے جھڑنے کے سبب فارغ البال ہیں ۔ اور اس فارغ البالی کو چھپانے اور جوان دکھائی دینے کی بھر پور ناکام کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ ناوسائلی اور طوفانی مہنگائی ان کی راہ حائل نہیں ہو سکی ۔ ہمت و حوصلے ، عزم اور استقلال کا استعارہ ہیں ۔
    صحت کے شعبہ سے وابستہ ہونے کے ناتے صحت کی اہمیت سے ہی آشنا نہیں لفظی صحت کا بھی خاص خیال رکھتے ہیں ۔
    نظم و نثر ، اُردُو سرائیکی دونوں زبانوں میں خوب طبع آزمائی کرتے ہیں ۔
    نِت نئے نظمی و نثری تجربے ان کا مرغوب مشعلہ ہیں ۔ مصاحبہ نگاری کے میدان میں انھوں نے اپنا آپ منوایا ہے ۔بھکر کی ثقافت و روایت اور اپنی مٹی سے محبّت کا اظہار ٫٫ یہ میرا بھکر ،، میں انھوں نے منفرد اور اچھوتے انداز میں کرکے مقامیت میں بازی لے گئے ہیں ۔ محاکاتی انداز میں بھکر کی تاریخ چلتی پھرتی لفظی تصویریں پیش کر کے بھکر کے شعرا میں منفرد و ممتاز مقام حاصل کر لیا ہے ۔ سالانہ ادبی جائزہ ان کا معمول اور امتیاز ہے ۔ بھکر کی ادبی تاریخ مرتب کر رہے ہیں ۔

    مقبول ذکی مقبول

    مقبول ذکی مقبول ، منکیرہ ( بھکر ) کے نام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رواں ہے دواں ہے یہ مقبول ذکی
    وہ ان تھک جواں ہے یہ مقبول ذکی
    ۔۔۔

    جسے راس آئی ہے محنت شعاری
    ادب کا جہاں ہے یہ مقبول ذکی
    ۔۔۔۔۔

    مسائل ہی بن جاتے جس کے وسائل
    اک ایسا نشاں ہے یہ مقبول ذکی
    ۔۔۔۔۔

    بڑھاتا ادیبوں کے جو حوصلے ہے
    وہ ہمت نشاں ہے یہ مقبول ذکی
    ۔۔۔۔۔

    علی شہ نے پودا لگایا جو تھل میں
    وہی گلستاں ہے یہ مقبول ذکی
    ۔۔۔۔۔۔

    جسے پڑھ کے بڑھتی ہے ہمت سبھی کی
    وہی داستاں ہے یہ مقبول ذکی
    ۔۔۔۔

    ارادے کا پکا ہے ایسا بخاری
    کہ گویا چٹاں ہے یہ مقبول ذکی
    ۔۔۔۔

    فضا راس آئی جسے تھل کی عاصم
    وہی خوش بیاں ہے یہ مقبول ذکی

  • ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی سے مصاحبہ

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی سے مصاحبہ

    عالمی ریکارڈ و اعزاز یافتہ ماہرِ لسانیات ، محقق ، کالم نگار اور ادیب ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی سے ایک تفصیلی مصاحبہ 

    مصاحبہ نگار : مقبول ذکی مقبول ، بھکر 

    سوال : کچھ تعلیم کے اسفار کا احوال کہاں کہاں سے حاصل کی اور تعلیم حاصل کرنے میں درپیش مشکلات کا ذکر کریں ۔ ؟

     جواب : میری ابتدائی تعلیم وادی چترال کے مقامی مساجد اور سرکاری تعلیمی اداروں یعنی ٹاٹ کے سکول سے ہوئی ۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے مختلف شہروں کراچی اور اسلام آباد کا رخ کیا۔، پہاڑی خطے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے تعلیم کے سفر میں کئی عملی مشکلات پیش آئیں ، جن میں طویل فاصلے، محدود وسائل اور جدید سہولیات کی کمی شامل تھیں ۔ مگر شوقِ علم نے ہمیشہ ان رکاوٹوں کو عبور کرنے کا حوصلہ دیا ۔

    سوال : آپ اپنی ابتدائی ادبی زندگی کے بارے میں بتائیں ۔؟

    جواب : ادبی زندگی کا آغاز کھوار زبان میں طنزیہ و مزاحیہ شاعری سے ہوا ۔  شروع میں کھوار زبان میں جذبات کا اظہار کیا ، پھر اُردُو کی طرف آیا ۔ ابتدائی دور میں فطرت۔، معاشرت ، امن کی حمایت ، جنگ سے نفرت اور مقامی چترالی ثقافت میرے پسندیدہ موضوعات رہے ، جو بعد میں فکری اور تحقیقی جہت اختیار کر گئے ۔

    سوال : آپ نے کس کس زبان میں اشعار کہے ہیں ۔ ؟

    جواب  : میں نے کھوار اور اُردوُ اور کچھ حد تک انگریزی میں بھی شاعری کی ہے ۔ ہر زبان کے مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے اظہار کی کوشش کی ہے ۔ میری طنزیہ و مزاحیہ کتابوں میں گلدان رحمت اور گلدستہء رحمت شامل ہیں جوکہ کھوار اکیڈمی کے پلیٹ فارم سے 1996ء  میں شائع ہوئیں ۔ 

    سوال : قارئین کو بتائیں آپ کی شاعری کا نقطۂ نظر کیا ہے ۔ ؟

    جواب : میری شاعری کا بنیادی محور انسان ، امن ، محبت ، انسان کی شناخت اور اس کی تہذیبی جڑیں ہیں ۔ میں زبان کو صرف اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ ایک تاریخی اور ثقافتی ورثہ سمجھتا ہوں ۔

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی سے مصاحبہ

    سوال : قاری کتاب سے دُور کیوں ہوتا جا رہا ہے ، اس پر اظہارِ خیال فرمائیں ۔ ؟

    جواب : دیکھئیے ڈیجیٹل دور میں قاری کی توجہ کتاب سے  بٹ گئی ہے ۔ مختصر اور فوری مواد نے گہرے مطالعے کی جگہ لے لی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کتاب کو نئی نسل کے لیے زیادہ پرکشش اور قابلِ رسائی بنائیں ۔

    سوال : آج کا ادب اور ادیب دونوں پر روشنی ڈالیں ۔ نے؟

    جواب : گوکہ آج کا جدید ادب موضوعاتی لحاظ سے وسیع ضرور ہے مگر کہیں کہیں فکری گہرائی کم نظر آتی ہے ۔ ادیب کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی رہنمائی کرے ، نہ کہ صرف عکاسی تک محدود رہے ۔

    سوال : جدید ادب وقت کے تقاضے پورے کرنے میں کس مقام پر ہے ۔ ؟

    جواب  : جدید ادب نے نئے تقاضوں کو اچھی طرح سمجھا ہے ، مگر اسے اپنی روایت سے جڑے رہنے کی ضرورت ہے ۔ توازن کے بغیر ترقی ادھوری رہتی ہے ۔

    سوال : آپ کے کالموں کی دھوم مچی ہوئی ہے ، یہ بتائیں گے کالم کی روح کیا ہے ۔؟

    جواب  : کالم کی روح سچائی ، مشاہدہ ، تحقیق ، سچ کا پرچار ، جھوٹ اور مبالغہ آرائی سے پرہیز اور فکری دیانت ہے ۔ ایک اچھا کالم وہ ہوتا ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرے ۔

    سوال : کیا آپ نے ادبی کالم بھی لکھے ۔ ؟

    جواب : جی ہاں، میں نے ادبی کالم بھی لکھے ہیں جن میں مختلف ادبی رجحانات ، شخصیات اور تخلیقات پر گفتگو کی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ میں ظرف ظرافت کے لوگوں سے مزاحیہ کالم بھی لکھے ہیں ۔ 

    سوال : چترال میں اُردو ادب کی کیا صورتِ حال ہے ۔ ؟

    جواب : چترال میں اُردو  ادب ترقی کی راہ پر ہے ۔ نئی نسل اُردو میں لکھ رہی ہے ، مگر کھوار ، کالاشہ۔، یدغہ ، پالولہ ، انڈس کوہستانی اور مقامی زبانوں کا اثر بھی نمایاں ہے ۔

    سوال۔: چترال میں شاعری زیادہ ہو رہی ہے یا نثر ۔؟

    جواب : چترال میں شاعری کا رجحان زیادہ ہے ، خاص طور پر کھوار اور اُردوُ  میں ، تاہم نثر بھی اپنی جگہ بنا رہی ہے ۔

    سوال۔: چترال میں کیا مشاعرے کا رواج ہے ۔ ؟

    جواب : جی ہاں ، اُردو اور کھوار دونوں زبانوں میں مشاعرے چترال کی ادبی روایت کا حصّہ ہیں اور باقاعدگی سے منعقد ہوتے ہیں۔

    سوال :  چترال میں اُردو زبان و ادب کی کیا صورتِ حال ہے ۔؟

    جواب : اُردو یہاں ایک مضبوط رابطے کی زبان ہے ، مگر تخلیقی سطح پر اسے مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔

    سوال : چترال کے معروف شعرا و ادبا کون سے ہیں ۔؟

    جواب : چترال میں کئی اہم ادبی شخصیات ہیں جنہوں نے کھوار ، انگریزی اور اُردو ادب میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں ۔ ان میں سینئر اور نوجوان دونوں شامل ہیں۔

    سوال : چترالی ادب میں کس صنفِ شعر کا رواج اور چرچا ہے ۔؟

    جواب : غزل اور نظم دونوں مقبول ہیں ، مگر غزل کو زیادہ پذیرائی حاصل ہے ۔ اس کے ساتھ لوک شاعری بھی بہت مضبوط روایت رکھتی ہے ۔

    سوال : پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کے ادبی کام پر اظہارِ خیال فرمائیں ۔؟

    جواب : ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کا کام تحقیقی اور ادبی اعتبار سے نہایت اہم ہے ۔ وہ  ایک بہترین استاد کے ساتھ ساتھ ماہر اقبالیات بھی تھے انہوں نے ادب میں سنجیدگی اور معیار کو برقرار رکھا ہے ۔ میں نے ان کی کئی کتابوں کے لیے دیباچے لکھے ہیں ۔ 

    سوال : آپ نے اُردو میں کیا کھویا کیا پایا ۔ ؟

    جواب : اُردو نے مجھے وسیع قارئین اور فکری وسعت دی۔ کھویا شاید یہ کہ مقامی زبانوں کے لیے وقت کم ہو جاتا ہے ، مگر حاصل کہیں زیادہ کیا ہے ۔ میں نے اُردو زبان کے لیے ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کا سافٹ ویر بھی بنایا ہے ۔

    سوال : آپ نے لسانیات اور ٹیکنالوجی کو ایک ساتھ کیسے جوڑا ۔؟

    جواب : یہ دراصل ضرورت سے پیدا ہونے والا عمل تھا ۔ میں نے محسوس کیا کہ ہماری مقامی زبانیں ڈیجیٹل دُنیا میں موجود ہی نہیں۔ اسی احساس نے مجھے مجبور کیا کہ ایسے آلات تیار کروں جن کے ذریعے لوگ اپنی مادری زبان میں لکھ سکیں۔

    سوال : چالیس زبانوں کے لیے کی بورڈ کی تیاری کا خیال کیسے آیا ۔ ؟

    جواب : یہ خیال ایک مشاہدے سے پیدا ہوا کہ ہر زبان کے لیے الگ الگ نظام بنانا مشکل ہے۔ میں نے کوشش کی کہ ایک ایسا متحدہ نظام بنایا جائے جو بیک وقت کئی زبانوں کو سہولت دے سکے ۔

    سوال: آپ کے اس کام کی تاریخی اہمیت کیا ہے ۔؟

    جواب : اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو بہت سی زبانیں صرف اس لیے ختم ہو گئیں کہ وہ تحریری یا جدید ذرائع میں منتقل نہ ہو سکیں۔ میرا کام دراصل ان زبانوں کو ڈیجیٹل دور میں زندہ رکھنے کی ایک کوشش ہے ۔

    سوال : مادری زبان میں تعلیم کے بارے میں آپ کیا رائے رکھتے ہیں ۔ ؟

    جواب  : میری رائے میں ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہونی چاہیے ۔ بچہ جس زبان میں سوچتا ہے ، اسی زبان میں بہتر سیکھ سکتا ہے ۔

    سوال : کھوار اور اُردو وکیپیڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر آپ کی خدمات کو آپ کیسے دیکھتے ہیں ۔؟

    جواب  : یہ ایک اجتماعی علم کی خدمت ہے ۔ جب کوئی زبان وکیپیڈیا پر آتی ہے تو وہ عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کرتی ہے ۔

    سوال : آپ کی نظر میں مستقبل میں پاکستانی زبانوں کا کیا حال ہوگا ۔؟

    جواب : اگر ہم نے ان زبانوں کو تعلیم ، تحقیق اور ٹیکنالوجی سے نہ جوڑا تو یہ کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ معدوم ہو جائیں گی ۔ لیکن اگر سنجیدہ کوشش جاری رہی تو ان کا مستقبل روشن ہے ۔

    سوال  :  نئے شعرا ادبا  کے لیے کوئی پیغام ۔؟ 

    جواب  :  میرا پیغام محبّت ہے جہاں تک پہنچے ،  نئے ادبا مطالعہ کو اپنا شعار بنائیں ۔  صبر کریں اور اپنی مادری زبان اور ثقافت سے جڑے رہیں ۔  جلدی شہرت کے بجائے پائیدار کام پر توجہ دیں ۔ 

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کی گفتگو سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ محض ایک شاعر یا محقق نہیں بلکہ زبان، ثقافت اور جدید ٹیکنالوجی کے درمیان ایک مضبوط سہارا ہیں ۔ ان کا کام نہ صرف ادبی دُنیا بلکہ قومی شناخت کے تحفظ میں بھی ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔