عاصم بخاری کی فطری شاعری کا جائزہ
تجزیہ راحت امیر نیازی
اردو شاعری میں فطرت نگاری کی روایت نہایت قدیم اور تابناک ہے۔ میر تقی میر، نظیر اکبر آبادی، غالب، اقبال، جوش ملیح آبادی، حفیظ جالندھری اور اختر شیرانی سے لے کر جدید شعرا تک فطرت کو مختلف زاویوں سے موضوعِ سخن بنایا گیا ہے۔ کسی نے فطرت کو حسن و جمال کی علامت بنایا، کسی نے اسے روحانی تجربے سے وابستہ کیا، کسی نے قومی بیداری کا استعارہ بنایا اور کسی نے انسانی جذبات کی ترجمانی کا وسیلہ قرار دیا۔
معاصر اردو شاعری میں عاصم بخاری میانوالی کا شمار ان شعرا میں کیا جا سکتا ہے جن کے ہاں فطرت محض منظر کشی تک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی، سماجی شعور، مقامی تہذیب اور دھرتی سے والہانہ محبت کا اظہار بھی ہے۔ ان کی شاعری میں میانوالی کا جغرافیہ، دریائے سندھ، چشمہ، جنگلات، نہریں، بارش، ساون، درخت، فضائیں اور مقامی ماحول پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ عاصم بخاری نیچری ہیں ، فطرت پرست ہیں ، فطرت سے پیار ان کی شاعری کا ایک نمایاں اور منفرد پہلو ہےان کے ہاں دریا پہاڑ بادل بارش سارے فطری وقدرتی موضوع ملتے ہیں۔اگرچہ ان کی نظر مناظر ِ فطرت پر بھی ہے لیکن حُب الوطنی کے تقاضے کے پیش ِ نظر زیادہ تر اپنے وسیب اور میاں والی کے فطری مناظر کی تصویر کشی اور منظر کشی فرض سمجھتے ہیں۔ان کے اس طرزِ عمل سے میاں والی کی جغرافیائی تاریخ بھی مرتب ہوتی جا رہی ہے۔میرے نزدیک جو کہ ان کا میاں والی پر احسان ِ عظیم بھی ہے۔کہ فطرت و ثقافت اور روایت بھی محفوظ ہو رہی ہے۔
ان کی شاعرہ کے اکثر موضوعات میں فطری مصوری اور معصومیت بھرپور ملتی ہے۔روح پرور قطعہ دیکھیں۔
"ہار” ملتے ہیں ، ” موتیے” کے بھی
"رسم” باقی ابھی ، ہے "چیتر” کی
رہتا ہوں "پُر سکوں”، فضاؤں میں
سنتا ہوں "بولیاں” , میں "تِیتر” کی
مقامیت اور اپنی مٹی سے بے حد پیار ان کی حُب الوطنی اور ایمان کی پختگی کا مظہر بھی ہے۔میانوالی کے قدرتی مناظر سے پیار کا والہانہ اظہار کخھ یوں کرتے ہیں۔
شعر
۔۔۔۔۔۔۔
ایک شہ کار تیری قدرت کا
یہ نمل جھیل بھی میاں والی
۔۔۔۔۔
چاپری میانوالی خوبصورت پہاڑی علاقہ اس کے ساتھ اپنی وابستگی کچھ ان لفظوں میں ظاہر کرتے ہیں۔
شعر
قدرتی حسن میں بخاری جی
"چاپری ڈیم ” کا نہیں ثانی
۔۔۔۔۔۔۔۔
میانوالی میں کندیاں چشمہ کے مقام پر دریائے سندھ کے بیراج اور جھیلوں کے مناظر واقعی دل موہ لینے والے ہیں۔ان کے بارے فطرت سے پیارے بھرے جذبات ان لفظوں میں دیکھیں۔
شعر
حُسن فطرت ، کمال پر اپنے
چشمہ کندیاں ہے یہ "میاں والی”
۔۔۔۔۔۔
بخاری صاحب کندیاں چشمہ میانوالی کے قدرتی مناظر سے کچھ زیادہ ہی متاثر دکھائی دیتے ہیں۔
مزید ایک شعر اسی مزاج کا ملاحظہ ہو۔
شعر
حُسن فطرت دکھاؤں آ تجھ کو
چشمہ کندیاں ہے یہ میاں والی
بخاری کی آنکھ میں حسن ہے اسے سارا وسیب تبھی حسیں محسوس ہوتا ہے۔بخاری کے ہاں جمال پرستی اور جمال دوستی خاب پائی جاتی ہے۔تبھی تو ان شعر میں میانوالی بھر کے حسن و جمال ک معترف نظر آتے ہیں۔
شعر
"چاپری” ، "چشمہ” یا ،” نمل” عاصم
جھیلوں کا حُسن بھی ،” میاں والی”
۔۔۔۔۔
میانوالی کے مشرقی پہاڑی سلسلہ میں واقع قدیم جھیل کے ذکر کے بغیر وہ اپنے اظہار کو نامکمل محسوس کرتے ہوئے اس کے حسنسے یوں لطف اندوز ہوتے ہیں۔
شعر
ایک شہ کار ، تیری قدرت کا
یہ "نمل جھیل” بھی ، میاں والی
۔۔۔۔
بخاری نے اپنے جذبات کی انتہا کو چھوتے ہوئے کیا خوب اظہار ِ محبت کیا ہےاپنی دھرتی کے ساتھ۔
شعر دیکھیں۔
جھیلیں دریا پہاڑ ، ہیں کیا کیا
ارضی جنت ہے ، یہ میاں والی
۔۔۔۔
ساحلی علاقوں کا ایک اپنا حسنہے فطرت نگاری میں ۔بخاری کے منظومات میں اس کھی تذکرہ بہت ہی پیارے انداز میں ہے۔
شعر
جھیل ساحل ہے، یہ بھی”چشمہ”کا
یہ بھی عاصم مری ، "میاں والی
عاصم بخاری کی فطرت نگاری کے
دریا اور دھرتی سےبخاری کو بڑی محبت بھی ہے اور ساتھ دھیمے لہجے میں گلہ اور شکایت بھی کہ ہم نے دریا فائدہ نہیں نقصان اٹھایا ہے۔جب کہ دنیا دریاسے کیا کیا فائدے اٹھاتی ہے۔اپنی غفلت کے بھی معترف ہیں یہ حقیقت پسندی ہے۔خوش قسمتی بھی ہے اور ساتھ ملال بھی
شعر
اپنی خوش حالیوں کا جو ضامن
شیر دریا ہے، میانوالی میں
اس شعر میں دریائے سندھ کو میانوالی کی خوش حالی، زرخیزی اور زندگی کی علامت بنایا گیا ہے۔
بخاری صوفی ہے درد مند دل رکھتا ہے۔سارے جہاں کا درد اپنے دل میں پالے اور سنبھالے پھرتا ہے دریا بردی کے المیہ پر یوں نوحہ کناں دکھائی دیتا ہے۔
شعر
پوچھ نورنگا والوں سے عاصم
دریا بُردی کا دُکھ، کیا ہوتا
یہ شعر فطرت کی بے پناہ قوت اور اس کے نتیجے میں انسانی المیے کی مؤثر تصویر پیش کرتا ہے۔
ساون کا ربط اور تان بھی پھر قدرت و فطرت پر جا ٹوٹتی ہے۔ساون کو دیکھیں کس ہمدردانہ اور دکھ بھرے انداز میں پیش کیا ہے۔
شعر
ساون اور انسانی کرب
ہوں سیلابوں کی زد میں، عاصم
اٹھاؤں تو میں لطف، ساون سے کیسے
بارش اور ساون عموماً مسرت کی علامت ہیں، مگر شاعر انہیں ذاتی اور اجتماعی دکھ کے تناظر میں برتتا ہے۔
دیہات گاؤں جنگل بخاری کے قلبی اور روحانی لگاؤ کےٹھکانے ہیں۔اکثر ان ہی کو اوڑھے آپ آپ کو ملیں گے۔
شعر ملاحظہ ہو۔
رہتا ہوں پُرسکوں، فضاؤں میں
سنتا رہتا ہوں، بولتے جنگل
یہ شعر فطرت سے شاعر کی گہری قلبی وابستگی اور اس کے باطنی سکون کو ظاہر کرتا ہے۔
فطرتی و قدرتی مناظر میں کھو جاتے ہیں آگے نہیں بڑھ سکتے۔یُحِبُ جمال کی عملی مثال پیش کرتے ہیں اس میں بیک وقت توصیف ِ جمال بھی ہے اور حُب الوطنی کا پہلو بھی
شعر دیکھیں
حُسنِ فطرت دکھاؤں آ تجھ کو
چشمہ کندیاں ہے، یہ میانوالی
اس شعر میں شاعر اپنے علاقے کے قدرتی حسن پر فخر محسوس کرتا ہے اور قاری کو اس کے نظارے کی دعوت دیتا ہے۔
بخاری کا مظاہر ِ فطرت کا مشاہدہ عمیق اور فلسفیانہ ہے۔وہ مقامی بات سے آفاقی پہلو بھی نکال لیتے ہیں۔فرد سے قوم بھی مراد لے لیتے ہیں۔بیل اور بیری کو تمثیلی انداز میں کس خوب صورتی سے بیان کیا ہے۔
شعر
بیری ہے جیسے "بیل” کی، عاصم لپیٹ میں
ایسے غریب جکڑا ہوا، مسئلوں میں ہے
فطرت کے ایک منظر کو سماجی استعارے میں ڈھالنے کی عمدہ مثال۔
فطرت اور قدرت کا مظاہر میں نہریں بھی آ جاتی ہیں لیکن مفکرانہ انداز میں مختلف اور ہلکے اصلاحی طنز کاسہارا افسوس کے انداز میں یوں لیا ہے۔
شعر
نہریں ہیں لیکن، استفادہ ہم
کرتے ہیں خودکشی، کی صورت میں
یہ شعر فطری وسائل کی موجودگی کے باوجود انسانی بے تدبیری اور المیے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
دریا ئی طغیانی کو کس متفکرانہ اور ہم دردانہ انداز میں لکھا ہے۔
شعر
کر نہ دیں بستی میں یہ بربادیاں
شیر دریا! تیری یہ طغیانیاں
یہاں دریا کی قوت اور انسان کی بے بسی نہایت مؤثر انداز میں سامنے آتی ہے۔
عاصم بخاری ایک سچا اور سُچا شاعر ہے درویش منش عاجز سادہ فقیر اور اپنی دھرتی و مٹی سے ٹوٹ کر پیار کرنے والا ہے تبھی تو ایسے موضوعات پر اتنے اشعار کہ لیتا ہے۔اس کےان اشعار سے واضح ہوتا ہے کہ بخاری کو قدرتی مناظر بھاتے ہیں یہ بیک وقت وجودی بھی لگتا ہےاور شہودی بھی ۔ فطرت نگاری محض پھولوں، چاند، ستاروں اور بہار کی روایتی منظرکشی تک محدود نہیں۔ بل کہ اس کے ہاں دریا، نہریں، جنگل، فضائیں، بارش، سیلاب، بیل اور مقامی جغرافیہ ایک زندہ کردار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کی فطرت نگاری میں حسنِ فطرت کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی شعور، مقامی تہذیب، دریا بردی کا کرب، انسانی جدوجہد اور اپنی دھرتی سے محبت بھی نمایاں نظر آتی ہے۔
***

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |