پونزی اسکیم: جلدی امیر بننے کا جال
رات و رات امیر ہونے کی خواہش ہر دور میں رہی ہے۔ اسی خواہش کو ہدف بنا کر پونزی اسکیمیں چلائی جاتی ہیں۔ یہ کوئی نئی چیز نہیں، 100 سال پرانی فراڈ کی قسم ہے، لیکن آج بھی لوگ اس کا شکار ہو رہے ہیں۔
پونزی اسکیم کا طریقہ بہت سادہ ہے۔ اسکیم چلانے والا لوگوں سے کہتا ہے کہ اپنا پیسہ ہمیں دیں۔ ہم اسے ٹریڈنگ، کرپٹو، رئیل اسٹیٹ یا کسی "خفیہ بزنس” میں لگائیں گے اور آپ کو ہر مہینے کا 15فیصد سے 30فیصد تک منافع دیں گے۔ یا رقم کو ڈبل کر دیں گے جیسا کہ پاکستان میں "ڈبل شاہ” نے کیا تھا۔ بینک سال کا 10فیصد دیتا ہے، یہ مہینے کا 20فیصد دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔ یہ سن کر لالچی لوگوں کا دل خوش ہو جاتا ہے۔
اصل میں یہاں کوئی بزنس ہوتا ہی نہیں۔ جو نیا بندہ پیسے لاتا ہے، اسی کے پیسے سے پرانے بندے کو "منافع” دیا جاتا ہے۔ پہلے 2 سے 3 مہینے سب کو وقت پر پیسے ملتے ہیں۔ وہ لوگ خوشی سے سب کو بتاتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسکیم مشہور ہو جاتی ہے۔ لوگ گھر، زیور اور جمع پونجی بیچ کر پیسے لگا دیتے ہیں۔
جب نئے لوگ آنا بند ہوتے ہیں یا رقم بہت بڑی ہو جاتی ہے، تو اسکیم چلانے والے سارا پیسہ لے کر غائب ہو جاتے ہیں۔ پیچھے رہ جاتے ہیں مقروض اور پریشان لوگ۔ پاکستان میں "ڈبل شاہ” سے لے کر کئی کرپٹو اور آن لائن ٹریڈنگ اسکیمیں اسی ماڈل پر چلیں۔
پونزی اسکیم کو پہچاننے کا طریقہ بھی آسان ہے۔ پہلی نشانی ہے گارنٹی شدہ منافع۔ دنیا میں کوئی بھی جائز کاروبار نقصان کی گارنٹی نہیں دے سکتا۔ دوسری نشانی ہے سیکرٹ ہوتی ہے۔ ان سے پوچھیں کہ پیسہ لگے گا کہاں، تو گول مول جواب ملے گا۔ تیسری نشانی نئے لوگ لانے کا دباؤ ہے۔ کہا جائے گا "دو دوست اور لے آؤ تو بونس ملے گا”۔ چوتھی نشانی لائسنس کا نہ ہونا۔ کوئی ایس ای سی پی SECP، سٹیٹ بینک یا قانونی رجسٹریشن نہیں ہو گی۔
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پونزی اسکیم بھروسے پر چلتی ہے۔ پہلے چند لوگوں کو پیسے مل جائیں تو باقی اندھا دھند یقین کر لیتے ہیں۔ لالچ کے ساتھ "فومو” FOMO دیا جاتا ہے یعنی "کہیں موقع ہاتھ سے نہ نکل جائے”، سکیم میں یہ خوف شامل کر کے لوگوں کی نفسیات سے کھیلا جاتا ہے تاکہ جلدی میں وہ تحقیق نہ کر سکیں۔
یاد رکھیں، حقیقی کامیابی کا کوئی "شارٹ کٹ” نہیں ہوتا۔ اگر کوئی آفر بہت اچھی لگے تو 99 فیصد امکان ہے کہ وہ فراڈ ہے۔ انویسٹمنٹ سے پہلے 3 سوال ضرور کریں: پیسہ کہاں لگے گا؟ لائسنس کس کا ہے؟ اور رسک کیا ہے؟ اگر جواب مطمئن نہ کرے تو فوراً پیچھے ہٹ جائیں۔
امیر بننا بری بات نہیں، لیکن جلدی امیر بننے کے چکر میں اپنی ساری جمع پونجی مت ڈبوئیں۔ پونزی اسکیم پیسے نہیں بناتی، صرف پیسہ ایک جیب سے دوسری جیب میں منتقل کرتی ہے۔ آخر میں جیب خالی آپ کی ہی ہوتی ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |