مسالک یا فرقہ پرستی جہنم کا راستہ ہے
سورۃ آل عمران کی آیت 103 میں ارشاد ربانی ہے: "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” ترجمہ: "اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔”
اس ایک آیت میں پورے دین کا خلاصہ رکھ دیا گیا ہے۔ "سب مل کر” سے مراد تمام اہل ایمان ہیں اور "اللہ کی رسی” سے مراد قرآن، اسلام اور اللہ کا دین ہے۔ یہ حکم بلکل واضح ہے کہ سب مل کر قرآن کو پکڑ لو تو ایک رہو گے، اسے چھوڑ دو گے تو ٹکڑوں میں بٹ جاؤ گے۔
آج ہم کیا ہیں؟ ہم ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ہم نے اللہ کی رسی کو چھوڑ کر اپنے اپنے مسلک، اپنے اپنے فرقے اور اپنے اپنے بزرگوں کی رسیاں پکڑ لی ہیں۔
قرآن جس تفرقہ سے منع کرتا ہے اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک دینی تفرقہ، یعنی قرآن اور اسلام کے بنیادی اصولوں کو چھوڑ کر اپنا الگ گروہ، اپنا الگ مسلک بنا لینا اور دوسروں کو غلط کہنا۔ دوسرا عملی تفرقہ، یعنی آپس میں نفرت، بغض، دشمنی اور لڑائی جھگڑا بھی کرنا۔ آج دونوں ہمارے اندر موجود ہیں۔
ہمارے ہاں یہ کہا جاتا ہے کہ اسلامی مکاتب فکر تو شروع سے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ تاریخ میں دو بڑے مکاتب فکر بنے، اہل سنت اور اہل تشیع۔ اہل سنت میں 90 فیصد سے زائد مسلمان ہیں اور ان میں فقہی طور پر چار بڑے مسالک حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی ہیں۔ اہل تشیع میں تین بڑے گروہ اثنا عشری، اسماعیلی اور زیدی ہیں۔ اس کے علاوہ تاریخ میں خوارج، معتزلہ جیسے گروہ بھی رہے۔
اکثر ایک حدیث پیش کی جاتی ہے کہ "میری امت 73 فرقوں میں بٹ جائے گی۔” علماء کی ایک بڑی تعداد کہتی ہے کہ یہ خبر نہیں بلکہ تنبیہ ہے کہ تفرقہ ڈالنا غلط ہے اور نجات صرف قرآن و سنت کو پکڑنے میں ہے۔ اس کو فرقوں کی فہرست بنانے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
میں اس عام تشریح سے اتفاق نہیں کرتا کہ نبی کریم ﷺ نے یہ فرمایا ہو کہ میری امت لازمی 73 فرقوں میں بٹے گی، کیونکہ یہ تشریح قرآن کے واضح حکم "وَلَا تَفَرَّقُوا” کے خلاف جاتی ہے۔ قرآن جب تفرقہ سے سختی سے منع کر رہا ہے تو نبی پاک ﷺ جو قرآن کے شارح ہیں وہ تفرقہ کو جواز کیسے دے سکتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے خود فرقے بنائے ہیں۔
پنجاب کے محکمہ اوقاف اور محکمہ داخلہ کے سرکاری ریکارڈ میں ہی دیکھ لیں، وہاں کل 4 مسالک رجسٹرڈ ہیں: بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث اور فقہ جعفریہ۔ یہ 4 مسالک ہی سرکاری طور پر تسلیم شدہ ہیں۔
ان 4 کے آگے جو بھی ہے وہ انہی کی ذیلی شاخیں ہیں۔ بریلویوں میں دعوت اسلامی، سنی تحریک، تحریک لبیک، منہاج القرآن۔ دیوبندیوں میں تبلیغی جماعت، جمعیت علماء اسلام۔ اہل حدیث میں مرکزی جمعیت اہل حدیث اور دیگر جماعتیں۔ اور فقہ جعفریہ میں اثنا عشری، آغا خانی، بوہری اور ان کے تنظیمی دھڑے ہیں۔
اگر ان میں مذہب کے نام پر بنی انتہا پسند اور کالعدم جماعتوں کو بھی شامل کر لیں، جن میں جھنگوی گروپ، سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، تحریک طالبان پاکستان، جیش محمد، لشکر طیبہ اور سپاہ محمد جیسی تنظیمیں شامل ہیں تو یہ تعداد 70 کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ اور المیہ یہ ہے کہ ان 70 میں سے ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ صرف وہی حق پر ہے۔
کیا یہی وہ تفرقہ نہیں جس سے قرآن نے منع کیا تھا؟
آج ہر مسلک کی الگ مسجد ہے، الگ مدرسہ ہے، نماز کا الگ انداز ہے، اور دوسرے مسلک کے لیے دل میں نفرت ہے۔ کیا اللہ کی رسی یہ تھی؟ اللہ کی رسی تو ایک تھی، ہم نے اسے کاٹ کر اپنے اپنے حصے بنا لیے۔
پاکستان میں اسی تفرقہ بازی کے نتیجے میں بارہا خون بہا ہے۔ مسجدوں، امام بارگاہوں اور مدارس پر حملے اسی فرقہ وارانہ سوچ کا نتیجہ ہیں۔ قرآن نے اسی لیے "تفرقہ” سے منع کیا تھا کہ یہ نفرت سے شروع ہوتا ہے اور قتل و غارت پر ختم ہوتا ہے۔
آپ کسی بھی فرقہ پرست سے بات کر کے دیکھ لیں، وہ دلیل سے بات نہیں کرے گا، آپ کے گلے پڑ جائے گا۔ کیونکہ اس کے پاس قرآن کی دلیل نہیں، اپنے مسلک کے بزرگ کی دلیل ہے۔ یہ دین نہیں، یہ شخصیت پرستی اور مسلک پرستی ہے۔
جب آپ اپنے آپ کو دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث یا شیعہ کہہ کر پکارتے ہیں تو آپ لاشعوری طور پر قرآن کے حکم "سب مل کر” کو رد کر دیتے ہیں۔ آپ خود کو ایک چھوٹے ٹکڑے سے جوڑ کر بڑی امت سے الگ کر لیتے ہیں۔
علامہ اقبال نے اسی لیے کہا تھا
"یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو،
تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟”
اسلام میں ہزاروں فقہاء، محدثین اور امام گزرے ہیں۔ صحابہ میں 130 سے زائد مفتی تھے۔ اس کے بعد تابعین، تبع تابعین، امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور سینکڑوں دیگر ہیں۔ ان سب کی عزت واجب ہے، لیکن اصول یہ ہے کہ کوئی بھی شخص، چاہے وہ کتنا ہی بڑا امام یا بزرگ کیوں نہ ہو، اگر اس کی بات قرآن کے خلاف ہو تو اسے چھوڑ دیا جانا چایئے اور اس کی جگہ قرآن کو پکڑنا چایئے۔
نجات کا راستہ صرف ایک ہے، کہ ہم اپنے آپ کو صرف مسلمان کہیں، جیسا کہ قرآن نے ہمیں کہا ہے: "هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ”۔ ہم سب نے مل کر اللہ کی رسی یعنی قرآن کو تھامنا ہے۔ مسلک اور فرقہ پرستی کو چھوڑے بغیر اتحاد ناممکن ہے، اور اتحاد کے بغیر نہ دنیا میں عزت ہے نہ آخرت میں نجات ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں