مجرد زندگی اور ٹرانس جینڈرز کا مسئلہ
مجرد زندگی سے مراد وہ زندگی ہے جس میں انسان دیر سے شادی کرتا ہے یا بالکل ہی شادی نہیں کرتا اور جنسی تعلقات سے بھی پرہیز کرتا ہے۔ ایسی زندگی اکثر مذہبی، روحانی یا ذاتی وجوہات کی بنا پر اختیار کی جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا، سوائے صوفیائے کرام اور گوشہ نشین اہلِ روحانیت کے جن کی بات الگ ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم موضوع ہے مگر اس پر بہت ہی کم لکھا گیا ہے۔
اس سے جڑا ایک اور اہم ترین مگر نظر انداز شدہ موضوع ٹرانس جینڈرز کا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں انہیں برے ناموں سے پکارا جاتا ہے، یہاں تک کہ بعض لوگ ان کیلیئے تضحیک پر مبنی "خ س رے” جیسے حقیر الفاظ استعمال کرتے ہیں جو سراسر بے ادبی اور کم ظرفی ہے۔
ایک سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ مذاہب میں ٹرانس جینڈرز کا ذکر کم کیوں ملتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذاہب کروڑوں انسانوں کی رہنمائی کے لیے آئے ہیں، اس لیے وہ 99 فیصد اکثریت یعنی مرد اور عورت کے فطری بائنری نظام پر بات کرتے ہیں۔ جڑواں بچوں کی پیدائش یا کسی پیدائشی معذوری کی طرح یہ بھی ایک غیر معمولی حالت سمجھی جاتی ہے، اس لیے تفصیلی احکام کم ملتے ہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ لفظ "ٹرانس جینڈر” خود بہت نیا ہے، جو 1960-70 کے بعد رائج ہوا۔ پرانی مذہبی کتابوں میں یہ جدید اصطلاح نہیں ملے گی، لیکن اس سے ملتے جلتے الفاظ ضرور موجود ہیں۔
اسلامی فقہ میں "مخنث” اور "خنثیٰ” کی اصطلاحات موجود ہیں۔ خنثیٰ وہ بچہ ہے جو دونوں علامات کے ساتھ پیدا ہو، جبکہ مخنث وہ مرد ہے جو عورتوں جیسی چال ڈھال اختیار کرے۔ حدیث میں تشبہ اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے، لیکن پیدائشی خنثیٰ کے لیے وراثت اور نکاح کے واضح احکام فقہ کی کتابوں میں موجود ہیں۔
ہندو مت میں اس کا سب سے زیادہ ذکر ملتا ہے۔ اردھ ناریشور کی شکل جس میں آدھا شیو اور آدھی پاروتی ہیں، مہابھارت میں شِکھنڈی کا کردار، اور ہجڑا برادری کا ذکر ہزاروں سال پرانی روایات میں ملتا ہے۔ عیسائیت اور یہودیت میں پیدائش کی کتاب میں "نر اور ناری اس نے انہیں بنایا” کی بنیاد پر بائنری نظام کو اصل قرار دیا گیا، اس لیے تیسری صنف کا الگ تصور بیان نہیں ہوا، البتہ "خواجہ سرا” Eunuch کا ذکر بائبل میں جگہ جگہ موجود ہے۔ بدھ مت میں جنس کو عارضی اور بدلنے والی چیز سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس پر سختی کم ہے۔
قدیم زمانے میں ایسے افراد اکثر شاہی محلوں، مندروں یا مخصوص ٹولیوں میں رہتے تھے، وہ عام خاندانی نظام کا حصہ نہیں بن پاتے تھے، اس لیے مذہبی قانون میں ان کا ذکر کم ملتا ہے۔ اب جب یہ موضوع میڈیکل، قانونی اور معاشرتی طور پر سامنے آیا ہے تو ہر مذہب کے علماء اس پر جدید فقہی بحث کر رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ٹرانس جینڈر بھی عام انسان ہی ہیں۔ مغربی معاشروں میں اسے اتنا بڑا مسئلہ نہیں سمجھا جاتا۔ وہاں ہم جنس پرستی کو بھی اتنا معیوب نہیں مانا جاتا، جبکہ ٹرانس جینڈر ہونا تو ایک پیدائشی کیفیت ہے جس میں پیدا ہونے والے بچے کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ اب میڈیکل سائنس ترقی کر چکی ہے اور دنیا میں جنس کی تبدیلی بھی ممکن ہو گئی ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آزاد اور مجرد زندگی بہترین ہے کیونکہ شادی شدہ آدمی کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ دنیا کے بڑے مفکرین علم و حکمت کے لیے گوشہ تنہائی میں جاتے رہے ہیں۔ لیکن تنہائی میں ریاضت کرنے والے کی پہلی شرط یہ ہے کہ اس کے ظرف کا پیمانہ چھلکنے سے بچا رہے۔ عبادت و ریاضت کے وہ درجات اسی "صوفی” کو نصیب ہوتے ہیں جو اپنی دھن کا پکا ہو۔
مجرد زندگی کے دو پہلو ہیں۔ ایک سماجی پہلو جس میں غیر شادی شدہ یا کنوارا ہونا شامل ہے۔ دوسرا مذہبی یا روحانی پہلو جس میں راہب، پادری یا صوفی آتے ہیں۔ عام اردو میں مجرد کا مطلب صرف سنگل ہونا ہے، لیکن مذہبی تناظر میں اس کے لیے بے نکاح ہونے کے ساتھ جنسی تعلقات سے مکمل پرہیز بھی شرط ہے۔
ٹرانس جینڈر برادری نے انسانی ترقی میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ امریکہ کی ڈاکٹر لین کانوے نے جدید کمپیوٹر چپس "وی ایل ایس آئی” VLSI ڈیزائن کرنے کا طریقہ ایجاد کیا جو آج ہمارے ہر موبائل اور لیپ ٹاپ میں استعمال ہو رہی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے سابق فوجی کرسٹین جورجنسن دنیا کی پہلی مشہور ٹرانس خاتون تھی۔
پاکستان میں مارویہ ملک پہلی ٹرانس جینڈر نیوز اینکر بنیں، شبو سید پہلی ٹرانس وکیل اور سیاسی امیدوار بنیں، اور ڈاکٹر سارہ گل پہلی ٹرانس ڈاکٹر بنیں۔ بھارت میں منابی بانڈوپادھائے پہلی ٹرانس کالج پرنسپل، جوجیتا مونڈل پہلی ٹرانس جج، اور لکشمی نارائن ترپاٹھی وہ سماجی کارکن ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ میں خطاب کیا۔ نیوزی لینڈ کی جورجینا بیئر دنیا کی پہلی ٹرانس پارلیمنٹ ممبر اور میئر بنیں۔ برطانیہ میں Anohni اور گریمی جیتنے والی جرمن نژاد گلوکارہ Kim Petras جیسی آوازیں بھی اسی برادری سے ہیں۔
میرے نزدیک ٹرانس جینڈرز عام انسانوں سے زیادہ عزت و احترام کے حقدار ہیں۔ انسان کی اخلاقی اقدار ہی اس کی تہذیب کی آئینہ دار ہے، جس میں بلاتمیز سب انسان برابر عزت و توقیر کے حقدار ہیں۔ قدرت ایسے افراد کو ہمارے لیے آزمائش کے طور پر پیدا کرتی ہے۔ بڑا انسان وہی ہے جو ان سے بڑھ چڑھ کر محبت کرے اور انہیں بلند مرتبہ سمجھے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں