وہ تو ہیرا ہے
"ہار دینا نہ ہمت کہیں، ایک سا وقت رہتا نہیں۔” ہر دم ہمت کو قائم رکھنا کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ کالے کوئلے سے سفید اور چمکدار ہیرا بننے کا سفر ہے، کیونکہ انسان کی اصل طاقت مشکل اور آزمائش میں ہی کھلتی ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ دنیا کا قیمتی ترین پتھر "ہیرا” کالے رنگ کے کوئلے سے بنتا ہے۔
بظاہر چٹانوں کے دباؤ سے کوئلہ جل کر راکھ ہو جاتا ہے مگر جب اسی کوئلے پر پتھریلی چٹانوں کا لاکھوں ٹن دباؤ اور بھٹی جیسی گرمی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اندر کیمیائی تبدیلیاں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ سائنس کہتی ہے کہ کوئلے میں موجود کاربن کے ایٹم شدید دباو پڑنے پر ٹوٹنے کی بجائے ایک نئی، اور انتہائی مضبوط ترتیب میں جڑ جاتے ہیں۔ وہ کرب ناک دباؤ اسے خاک نہیں کرتا، بلکہ اس کی ساخت کو بدل کر اسے دنیا کی سخت ترین، چمکدار اور قیمتی ترین چیز یعنی "ہیرے” میں تبدیل کر دیتا ہے۔
زندگی کا دباؤ تباہی لاتا ہے یا نئی ترقی کے سفر پر گامزن کر دیتا ہے۔ ہم عام انسانوں کی زندگی میں بھی ایسے کٹھن مراحل آتے ہیں۔ معاشی تنگدستی، رشتوں کی الجھنیں، معاشرے کی توقعات یا پے در پے ناکامیاں، یہ سب مل کر ہمیں توڑنے اور مٹانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ہم گھبرا جاتے ہیں اور لگتا ہے کہ اس ذہنی اور جذباتی دباؤ کی تپش میں ہم راکھ ہو جائیں گے۔
یہاں قدرت ہمیں سکھانا چاہتی ہے کہ دباؤ ہمیشہ تباہ کرنے کے لیے نہیں آتا ہے۔ زندگی میں ثابت قدمی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ہیرے جیسی شخصیت پانا ہی عظمت کی پہلی سیڑھی ہے۔ جو لوگ ان حالات کے سامنے ہمت نہیں ہارتے، ان کی صلاحیتیں، سوچ اور کردار ہیرے جیسی مضبوطی اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب انسان کی خامیاں جھڑتی ہیں، ویژن نکھرتا ہے، اور شخصیت میں چمک پیدا ہوتی ہے۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ عظیم انسان ہمیشہ حالات کی اسی بھٹی سے گزر کر بنے ہیں۔ آپ راکھ نہیں، بلکہ ہیرا ہیں۔ کچھ وقت لگتا ہے۔ دباؤ کی تاریکی اور گھٹن تکلیف دہ ضرور ہوتی ہے۔ لیکن جب انسان اس بوجھ کو اپنے حق میں استعمال کرنا سیکھ جاتا ہے تو وہ ایک عام اور کمزور وجود سے ایک انمول اور چمکدار ہیرے میں ڈھل جاتا ہے۔
مشکلات کے دباؤ میں پھنسے اپنے دوستوں کو میں اکثر ہیرے بننے کا یہ عمل یاد دلاتا ہوں۔ یاد رکھیں: "آپ پر جو دباؤ ہے وہ آپ کو مٹانے نہیں، نکھارنے آتا ہے۔” بس زندگی میں ثابت قدم رہیں۔ ہر مشکل کو بہادری سے جھیلیں۔ یہی حقیقی کامیابی کا راز ہے۔ آپ نے "وہ تو ہیرا ہے”، کا محاورہ تو سنا ہو گا۔ ہیرے جیسا انسان زندگی کی ہر سرد اور گرم حالت میں ہمیشہ ڈٹ کر کھڑا رہتا ہے۔ وہ بہادر اور سخت جان ہوتا ہے کبھی ٹوٹتا نہیں ہے۔ اگر زندگی میں ہیرے جیسا قیمتی انسان بننا ہے تو پھر مشکلات کے دباؤ کو برداشت کرنا سیکھیں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں