ایک اور کتاب کی چوری

دیوان شاکر اٹکی اصل
دیوان شاکر اٹکی اصل ایڈیشن

مجلس نوادراتِ علمیہ اٹک ؛جس کے روح و رواں نذر صابری صاحب ہیں ؛کو اول روز سے ضلع اٹک میں نوادراتِ علمیہ کی جستجو رہی ہے ۔ اسی کوشش میں مجلس کو ۱۹۶۳ء میں گاؤں ملاں منصور،ضلع اٹک میں حضرت جی بابا کے خاندانی کتب خانے سے دو سو سال پرانا ایک قلمی نسخہ دستیاب ہوا۔یہ ایک شعری دیوان تھا جو مجلس کے توسط سے پہلی بار منظرِ عام پر آ رہا تھا؛ شاعر کا نام شاکر تھا۔’’ایک اندازے کے مطابق شاکر اٹکی کا زمانہ عالمگیر کی وفات ۱۱۱۸ھجری کے فوراََ بعد شروع ہوتا ہے۔وہ سر زمینِ پنجاب کے ایک مشہور بزرگ شیخ یحییٰ المعروف بہ حضرت جی بابا اٹکی(م ۱۱۳۲ھ )کا پوتا ہے۔

(۱)۔اس دیوان کوضلع کونسل کی مالی اعانت سے مجلس نے ۱۹۷۰ء میں پہلی بار ’’دیوانِ شاکر‘‘کے نام سے ملٹری پریس کیمبل پور سے شائع کر دیا۔سرورق پر ’’دیوانِ شاکر‘‘ کے عین اوپر مجلس نوادراتِ علمیہ کا مونو گرام بنا ہوا ہے؛جس میں ’’مجلس نوادراتِ علمیہ اٹک ‘‘صاف پڑھا جاتا ہے۔

(۲)  ۱۴۸ صفحات پر مشتمل اس دیوان  کے مرتب نذر صابری اور سید رفیق بخاری ہیں۔ دیوان میں فارسی میں قصائد ،قطعات ،نوحہ اور دیگر منظومات کے علاوہ  ۱۰۸ غزلیں بھی ہیں۔ تین غزلیں اردو میں بھی ہیں ۔اس کے علاوہ اردو میں لکھا ہوا ایک دوہا بھی ہے۔ اس طرح اب تک کی تحقیق کے مطابق شاکر اٹکی ضلع اٹک کے نہ صرف پہلے اردو ،فارسی غزل کے شاعر ہیں بلکہ اٹک کے پہلے دوہا نگار بھی ہوئے۔ تین صفحات پر مشتمل مقدمہ نذر صابری کا لکھا ہوا ہے جس میں انھوں نے فارسی غزلوں کی تعداد ۷۶ بتائی ہے؛اورمقدمے میں ہی مرزا محمد نصیر بیگ جو اس وقت بی ایس سی کے طالبِ علم تھے، کی وساطت سے حضرت جی بابا کے تمام خاندان کادو سو سال تک اس قلمی نسخے کو محفوظ رکھنے پرشکریہ ادا کیا ہے ۔ ’’شرحِ احوال‘‘کے عنوان سے پروفیسر سعداللہ کلیم نے بھی تین صفحات لکھے ہیں۔

اس کے علاوہ سعداللہ کلیم صاحب نے آخر میں اردو کلام پر تبصرہ بھی کیا ہے۔’’اسلوب و افکار‘‘کا نام دے کر سید رفیق بخاری نے کلام کا مختلف پہلوئوں سے جائزہ لیا ہے؛جو چار صفحات کو محیط ہے۔اس دیوان کی اشاعت نے اردو ادب کے نام ور محققین کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ڈاکٹر جمیل جالبی نے تاریخ ِ ادب اردو میں اس کتاب کا ذکر یوں کیا ہے:’’بارھویں صدی ہجری میں شاکر نامی ایک شاعر اٹک(ضلع کیمبل پور)میں داد سخن دے رہا ہے۔وہ بنیادی طور پر فارسی کا شاعرہے لیکن اس کے دیوان میں تین غزلیں اور ایک دوہا اردو زبان میں بھی ملتاہے‘‘۔

(۳)ڈاکٹر مرزا حامد بیگ لکھتے ہیں؛مجلس نوادراتِ علمیہ اٹک نے دیوان شاکر کی اشاعت کا اہتمام کر کے محققین کے لیے تحقیق کے ایک اور میدان کی نشان دہی کی ہے اور یہ مفروضہ غلط ثابت کر دیا ہے کہ شمالی ہند میں ولی دکنی کے کلام کی رسائی کے بعد اردو( یا ہندوی)شاعری کی ابتدا ہوئی ‘‘۔

(۴)ڈاکٹر سلیم اختر بغیر حوالہ دیے نذر صابری اورڈاکٹر سعداللہ کلیم کی آرا سے استفادہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’اٹک میں ایک اور صوفی شاعر شاکر بھی ملتے ہیں جو عربی اور فارسی کے ساتھ ہندوی میں بھی شاعری کر رہے تھے‘۔

(۵)خورشید احمد خان یوسفی نے’’ پنجاب کے قدیم اردو شعرا ‘‘کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے ۔ان قدیم شعرا میں انھوں نے شاکر اٹکی کو بھی شامل کیا ہے ؛ حوالہ درج کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:’’دیوانِ شاکر اٹکی،مرتبہ نذر صابری و سید رفیق بخاری،مجلس نوادراتِ علمیہ اٹک،۱۹۷۰۔اس مضمون کا تمام مواد اسی کتاب[دیوانِ شاکر ] سے لیا گیا ہے‘‘

<!--nextpage-->

(۶)دیوانِ شاکر کی پہلی اشاعت تقریباََ کم یاب ہو چکی تھی کہ اچانک ۲۰۱۰ء میں۱۹۸ صفحات پر مشتمل دیوانِ شاکر کی دوسری اشاعت منظرِ عام پر آئی جس نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔اس دوسری اشاعت کے ذمہ دار ڈاکٹر صاحبزادہ نصیر احمد خان ہیں۔یہ وہی مرزا نصیر احمد ہیں جن کی اشاعت اول کے دیباچے میں نذر صابری صاحب نے بڑے اچھے لفظوں میں شکریہ ادا کیا ہے۔’’ڈاکٹر صاحبزادہ نصیر احمد خان؛تحصیل حضرو ،ضلع اٹک کے ایک گاؤں ملا ں منصور کے رہنے والے ہیں۔آپ قائدِ اعظم یونیورسٹی کے شعبہ ایڈمنسٹریٹو سائنسز کے چیئر مین رہے ہیں۔ ۲۰۰۷ء میں کام سیٹس یونیورسٹی اٹک سے وابستہ رہے ‘‘

(۷) ۔صاحبزادہ صاحب نے تمام ادبی تقاضوں اور دیانت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دیوانِ شاکر پر نذر صابری،رفیق بخاری کے اسما اور مجلس نوادرات علمیہ کا مونو گرام مٹا دیااور اس دوسری اشاعت پر بطو ر مدون اپنا نام لکھ کر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی کہ یہ اُن کا ذاتی کارنامہ ہے۔دوسری اشاعت کے سرورق کی ترتیب یوں ہے:دیوانِ شاکرمصنف عبدالشکور شاکرتدوین ڈاکٹر صاحبزادہ نصیر احمد خان اور تو اور انھوں نے بڑی دیدہ دلیری سے دیوانِ شاکر کی پہلی اشاعت پرنذر صابری صاحب ہی کے لکھے ہوئے مقدمے پر اپنا نام لکھ کر یہ ظاہر کیا کہ گویا یہ ان کی (صاحبزادہ صاحب کی)تحریر ہے۔البتہ آخری پیرا گراف میں چند جملوں میں ردو بدل کر کے اپنا حصہ بھی ڈالا ہے ۔نمونے کے لیے پہلی اشاعت اور دوسری اشاعت کے مقدمے کی آخری سطور درج کرتا ہوں تا کہ واضح ہو جائے کہ موصوف نے کہاں کہاں اور کس طرح پیوند

کاری کی۔

دیوان شاکر جعلی سرقہ شدہ

نذر صابری صاحب لکھتے ہیں:’’آخر میں ہم مرزا محمد نصیر بیگ بی ایس سی کی وساطت سے حضرت جی بابا کے تما م افراد ِ خاندان کے سپاس گزار ہیں کہ انھوں نے دو سو سال تک اس گوہرِ یکتا کو محفوظ رکھ کر قدر شناسی کا حق ادا کیا ہے۔ڈاکٹر غلام جیلانی برق مدظلہ کے بھی ممنون ہیں کہ ان کی فکرِ گرہ کُشا نے متن کی بعض الجھنوں کو سلجھانے میں ہماری بہت مدد کی۔ڈسٹرکٹ کونسل [اٹک]بھی ہمارے شکریے کی مستحق ہے جس کی مالی امداد سے یہ دیوان منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوا ہے‘‘

(۸)۔نصیر احمد خان لکھتے ہیں:’’آخر میں مجھے ان تمام اصحاب کا شکریہ ادا کرنا ہے جن کی وساطت سے یہ نسخہ منصۂ شہود پر آیا۔ان میں خصوصی طور پر میں اپنے استادمحترم جناب سعداللہ کلیم صاحب مرحوم کااور نذر صابری صاحب کا مشکور ہوں جنھوں نے اس نسخہ کو پہلی بار نوادراتِ علمیہ اٹک کی نمائش میں پیش کیا۔مختلف صفحات پر ذیلی حاشیے بھی جناب نذر صابری صاحب نے تحریر کیے ہیں۔میں ڈاکٹر غلام جیلانی برق صاحب مرحوم کا بھی ممنون ہوںکہ اُن کی فکرِ گرہ کشا نے متن کی بعض الجھنوں کو سلجھانے میں ہماری مدد کی۔میں اپنے برادرِ محترم جناب نثار احمد خان اور برادرِ خورد[خرد]صاحبزادہ توثیر احمد خان کا بھی مشکور [شکر گزار]ہوں کہ انھوں نے اس نسخے میں دلچسپی لی اور جناب عبدالشکور شاکر کے مزار کی تزین نو کا فیصلہ کیا‘‘

(۹)۔دیوانِ شاکر کے مقدمے میں صاحبزادہ صاحب کا حصہ بس وہی چند الفاظ ہیں جو مندرجہ بالادو پیرا گراف کے موازنے سے سامنے آتے ہیں۔اس کے علاوہ موصوف کی کسی قسم کی کوئی شرکت نہیں،البتہ رقم خرچ کرنے کا ثواب ضرور ملے گا۔

حوالے

(۱)نذر صابری،مقدمہ،دیوانِ شاکر،مجلس نوادراتِ علمیہ اٹک،۱۹۷۰ء

(۲)دیوان پر ۱۳۶ صفحات درج ہیں کیونکہ مرتب نے اپنی،سعداللہ کلیم صاحب اور رفیق بخاری صاحب کی آرا پر ہندسوں کی بجائے حروف لکھے ہیں۔

(۳)تاریخِ ادب اردو،جلد اول،ڈاکٹر جمیل جالبی،مجلس ترقی ادب لاہور،جولائی ۱۹۷۵ء،ص۶۶۵

(۴)ڈاکٹر مرزا حامد بیگ،مقالات،گل بکائولی نشتر بلاک ،علامہ اقبال ٹائون،لاہور،۲۰۰۷ء ،ص۲۲

(۵)ڈاکٹر سلیم اختر،اردو  ادب کی مختصر ترین تاریخ(سولہواں ایڈیشن)،سنگِ میل پبلی کیشنز،لاہور،ص۷۸

(۶)پنجاب کے قدیم شعرا،خورشید احمد خان یوسفی،مقتدرہ قومی زبان،اسلام آباد،۱۹۹۲ء

(۷)ڈاکٹر صاحبزادہ نصیر احمد خان،دیوانِ شاکر،اشاعت دوم ،ناشر ندارد،۲۰۱۰ء ،پس ورق

(۸)نذر صابری،مقدمہ،دیوانِ شاکر،مجلس نوادراتِ علمیہ اٹک،۱۹۷۰ء

(۹)دیوانِ شاکر(جعلی ایڈیشن) ،صاحبزادہ نصیر احمد خان،اشاعت دوم،مقدمہ

در بارہ نصرت بخاری

مدیر اعلی ایم فل پروفیسر اردو گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اٹک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: