رئیس خانہ – کیمبل پور (اٹک)

تحریر: شاندار بخاری۔

1442 ہجری

مسقط

شاندار بخاری
شاندار بخاری

یوں تو اِس شہر بے مثال میں تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے ان گنت مقامات ایسے ہیں جو کہ اہمیت کے حامل ہیں اور میں اپنی آنے والی تحریروں میں ان کا ذکر کروں گا انشاءاللہ ۔ لیکن آج کی میری یہ تحریر ضلع اٹک کے ایک ایسے ہی نادر ہیرے کے بارے میں ہے جو کہ ایک تاریخی عمارت ہے اور کئی سالوں سے مقامی انتظامیہ اور محکمہ آثار قدیمہ کی توجہ کی منتظر ہے۔ یہ عمارت اِس وقت 113 برس پرانی ہے اور قیام پاکستان سے 41 سال قبل تعمیر ہوئی اِس وقت اسے ملکہ وکٹوریہ جنہیں خاص طور پر مہارانی کے خطاب سے نوازا گیا تھا کیطرف سے کیمپبلپور کو تحفے میں دیا گیا تھا یاد رہے موجودہ دور کی ملکہ برطانیہ الیزابتھ ان ہی کی لڑی سے ہیں اور قارئین کی فہم کے لیے میں تصویری شجرہ شئیر کر رہا ہوں۔

رئیس خانہ پلیڈر لین ، اسفند یار بخاری شہید پارک (سابقہ ریلوے پارک) کے قریب واقع ہے۔

تاریخی مقامات کا تحفظ ہماری قومی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کی بدولت یہ أمر یقینی بنایا جاے کہ نقصان کا شکار ہونے والے ان قیمتی خزینوں کی تعمیرومرمت کر کے انہیں آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنا دیا جائے۔ ہمارا ماضی ہمارے حال سے وابستہ ہے. آثارِ قدیمہ کی تاریخ کا مطالعہ ہمیں ماضی کا شعور دیتا ہے اور حال و مستقبل کیلئے بصیرت عطا کرتا ہے۔ قوموں کے ماضی کا مطالعہ کرنے والا شخص زندگی کی موج رواں سے زوال آمیز اثرات کو خارج کر کے اس میں نیا خون دوڑا سکتا ہے اور صحت مند عناصر کی مدد سے ماضی کے آئینے میں اپنا لائحہ عمل مرتب کر سکتا ہے۔ آثارِ قدیمہ کے تذکروں سے پتہ چلتا ہے کہ قومیں اس وقت زوال پذیر ہو جاتی ہیں ۔جب وہ اپنے مقصود حیات سے کنارہ کش ہوتی ہیں۔ چند روز قبل تولہ رام بلڈنگ کے مسمار کئے جانے کی خبر سنی تو بہت مایوسی ہوئی اور اچانک خیال آیا کہ کہیں ماضی کے اس شاہکار کا انجام بھی ایسا نا ہو۔ لیکن میں مایوس نہیں ہوں کیونکہ اس ضمن میں ایک اچھی خبر یہ ہے کر فرزند اٹک جناب سیّد خاور عباس بخاری صاحب اس پر کام کر رہے ہیں اور حال ہی میں ایک اور فرزند اٹک جناب أمین اسلم صاحب نے 129 سال پرانی سرنگ ” موٹو ٹنل ” دریافت کرکے اسے قابل استعمال اور آمد و رفت کیلئیے بحال کیا ہے۔

بقول شبلی نعمانی

کبھی بھولے بھی سلف کو نہ کریں یاد اگر

یادگاروں کو زمانے سے مٹا دیں کیونکر ۔

۔

در بارہ شاندار بخاری

یہ بھی دیکھیں

کیمبل پور سے اٹک تک (قسط اوّل)

اس شھر کے نقشہ نویس Architect کا علم نہیں ، لیکن ، میں اسے داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ جیومیٹری کی مدد سے سیدھی اور کشادہ گلیاں ، چھوٹے چھوٹے وارڈز ( محلے)، ہروارڈ کے بیچوں بیچ ایک کشادہ چوک اور اس کے عین وسط میں پانی کا کنواں ، یہی چوک اس زمانے میں مختلف سماجی تقریبات کے لئے استعمال ہوتے تھے ۔

ایک تبصرہ

  1. Nice Info bro MashaALLAH
    GOD Bless you

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: