قُرآن کی رُو سے جنت کی حقیقت

یہ موضوع اپنے اندر جس قدر وُسعت لیے ہُوئے ہے اُس کا مکمل احاطہ تو ممکن ہی نہیں ہے البتہ مقدور بھر وضاحت کروں گا، وجہ اس تحریر کی کچھ یُوں ہے کہ اس موضوع پر دو طرح کی انتہائیں پڑھنے اور سُننے کو ملتی ہیں، ایک طبقہ حُور و غِلمان کو لے کر جنت کا ایسا نقشہ کھینچنے کی کوشش کرتا ہے جو واقعی مضحکہ خیز ہے، جبکہ دوسری طرف مذہب بیزار طبقہ ہے جو پہلے طبقے کی جنت کو لے کر جُگت بازی، ٹھٹھہ مخول کرنے میں مشغول ہے، مُحترم قارئین میں قُرآن مجید کے دکھائے گئے نقشے کے مطابق تصویر سامنے لانے کی کوشش کروں گا، اس موضوع کی ابتدا اِس آیۃ مبارکہ سے کروں گا جو کہ سورۃ العنکبوت کی 64 ویں آیت ہے

                           بِسْمِ اللهِ الْرَّحْمٰنِ الْرَّحِيْمِ

وَمَا ھٰذِهِ الْحَيٰوةُ الْدُّنْيَأ اِلَّا لَھْوٌ وَّ لَعِبٌ ط وَاِنَّ الْدَّارَ الاٰخِرَةَ لَھِیَ الْحَيَوَانُ م لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ *

العنکبوت 64

اور یہ دُنیاوی زندگی تو بس کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آخرت کی زندگی ہی ابدی ہے، اگر لوگ سمجھیں تو !

دنیاوی زندگی تو ہمارے سامنے ہے ، اس آیت کے آخری الفاظ (اگر لوگ سمجھیں تو) آخرت کے بارے میں جاننے کے لیے اُکسا رہے ہیں، کُھلی اور واضح دعوت دے رہے ہیں، مزید وضاحت کے لیے سورۃ لقمان کی 20 ویں آیت دیکھئے،

اَلَم تَرَوْ اَنَّ اللهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْسَمٰوٰتِ وَمَا فِی الاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَيْكُم نِعْمَه، ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً ط وَ مِنَ الْنَّاسِ مَنْ يُجَادِلُ فِی اللهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّ لَا ھُدًی وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنَيْرٍ * 

لقمان 20

کیا تم لوگوں نے غور نہیں کیا کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اللہ نے تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے، اور اُس نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر ارزاں کر دیں ، اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں کہ جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں، حالانکہ اُن کے پاس نہ علم ہے اور نہ ہدایت اور نہ ہی روشن کتاب ہے؛

ظاہری سے مراد ہمارا اور اس کائنات کا ظاہری جسم ہے، باطنی سے مراد معنوی نعمتیں ہیں جنہیں جس حد تک محسوس  کیا جا سکتا ہے اُس حد تک بیان کرنا شاید ممکن نہ ہو پائے،

ہم جانتے ہیں کہ یہ حضرتِ انسان جسم و رُوح ، مادہ و معنی  یا بدن و نفس کا مجموعہ ہے ، جس طرح جسم و مادہ دکھائی دیتے ہیں اُس طرح روح و نفس محسوس تو کیئے جا سکتے ہیں، دیکھے اور بیان نہیں کیے جا سکتے ، جس طرح علم معلوم سے نامعلوم کی طرف سفر کرتا ہے بالکل اسی اصول کے تحت قُرآن نے بہت زیادہ مرتبہ جنت میں اپنی مادی نعمتوں کا ذکر کیا ہے، جو ہمارے ارد گرد موجود بھی ہیں اور ہمیں بےحد مرغوب بھی ہیں، اس اندازِ بیان کی  وجہ یہ تھی کہ ہم اس معلوم سے نامعلوم کو جاننے کے لیے آمادہ و بےقرار اور متجسس ہوتے، مگر بد قسمتی سے ہم نے ظاہری نعمتوں کا تو خُوب مزے لے لے کر ذکر کیا مگر معنوی نعمتوں کا کھوج لگانے کی کوشش ہی نہیں کی، ہم سے مراد مسلمانوں کی اکثریت ہے ماسوا گنتی کے چند عارفین کے، جو تاریخ میں دنیاوی لذتوں کے ہاتھوں جکڑے ہُوئے لوگوں کے سامنے ہمیشہ معتوب ہی ٹھہرے،

انسان مادہ و روح کا مرکب ہے، ہونا تو یہ چاہیے کہ مادی و روحانی دونوں امور پر ہی غور و فکر کرتا مگر بدقسمتی سے اکثریت نے روحانی پہلو کو ہمیشہ نظر انداز کیا اور جسمانی و مادی امور نے ہمیشہ اسے گھیرے رکھا، یہی وجہ ہے کہ انسان نے یہ سوچنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ وہ کون سے اعمال ہیں جن کی بناء پر اُسے جنت ملے گی اور نہ ہی علماء نے ان امور کو بتلانے اور سمجھانے کی کوشش کی بلکہ سارا زور ان ظاہری نعمتوں کو بیان کرنے میں صرف کیا، قُرآن مجید کی سورۃ دخان، سورۃ صافات ، سورۃ محمد.، سورۃ یٰسین  ، سورۃ الرحمن، سورۃ واقعہ ، سورۃ دھر  اور دیگر سورتوں میں مختلف اور انواع و اقسام کی مادی نعمتوں کا ذکر کیا ہے  مثلاً باغ و قصر ، حور و غِلمان ، انواع و اقسام کے میووں ، پھلوں اور مشروبات کا ذکر کیا گیا ہے اور یہاں محض معلوم اشیاء سے سمجھانا مقصود ہے، در حالیکہ انسان تو حقیقی اُخروی نعمتوں کی واقعیت سے اصلاً ناواقف ہے، چنانچہ سورۃ سجدہ کی 17 ویں آیت میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّأ اُخْفَیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَةَ اَعْيُنٍ جَزَأءٍ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْن  

سجدہ 17

کوئی انسان نہیں جانتا کہ کس قسم کی روشنی بخش نعمتیں اُس کے لئے ذخیرہ کر دی گئی ہیں

یعنی حقیقی نعمتوں کی واقعیت یا درجہءِ کمال تک عام انسان کی سوچ پہنچ ہی نہیں سکتی، کیونکہ قُرآن کے مطابق اُس جہان کی زندگی اِس جہانِ فانی سے برتر و بالا ہو گی تو پھر اُس جہان کی نعمتیں بھی یقیناً برتر و بالا ہونی چاہئیں ، انسان کی کم مائیگی کو تو اللہ تعالیٰ نے ابھی سے واضح کر دیا ہے کہ سورۃ البقرۃ کی 25 ویں آیت میں بتا دیا کہ تمہاری سوچ تو دنیاوی مادی مثالوں تک ہی رہے گی جب تک کہ اپنی آنکھوں سے  دیکھ نہ لو اور روح محسوس نہ کر لے

ھٰذَالَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَاُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِھاً   

البقرۃ 25

وہ کہیں گے کہ یہ تو وہی نعمتیں ہیں جو ہمیں دنیا میں دی گئی تھیں، حالانکہ وہ ان کے مشابہہ تھیں ،

اب یہ بات تو واضح ہو گئی کہ جنت میں جائے بغیر انسان جنت کی حقیقی نعمتوں کا ادراک کر ہی نہیں سکتا تو پھر پہلے یہ جاننے کی کوشش کرے کہ جنت میں جا کیسے سکتا ہے، اب جو جہنم کی حقیقت کو جاننے سے گریزاں ہو، جو جنت کی نعمتوں میں سے بھی شرابِ طہورہ ، حُورٍ عِین اور غِلمان کی تشریح چسکے لے لے کر کرتا ہو ، جنت اور جہنم پر ہی متفق نہ ہو، ایک دوسرے کی گردن کاٹنے کے درپے ہو، دائرہءِ اسلام میں داخل کرنے کی بجائے نکالنے کا فن بہتر جانتا ہو، سوال تو یہ ہے کہ وہ بحث کے بجائے جنت میں جانے کا حقدار بھی ہے یا نہیں ؟

محترم قاری ! پورے کا پورا قُرآن دراصل زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتا ہے، آئینِ زندگی ہے، اس پر عمل ہی اُخروی کامیابی کی ضمانت ہے اور قُرآن ہی نبیِ آخرالزمان صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کو تمام انسانوں کے لیے رول ماڈل اور نمونہ قرار دیتا ہے، بس تین چار آیات کے حوالے پر اکتفا کروں گا

سورۃ البقرۃ میں ارشاد ہوا  ,, اور حق کو باطل سے نہ ملاؤ اور حق بات کو نہ چُھپاؤ حالانکہ تم جانتے بھی ہو

خواہشات و احساسات زندگی کا حصہ ہیں مگر اعتدال از بس لازم ہے، چنانچہ سورۃ ص کی آیت نمبر 26 میں فرمایا گیا کہ

اور ہوا و ہوس کی پیروی نہ کرو ، یہ تمہیں اللہ کی پیروی سے روک دے گی

سورۃ الرعد کی 35 ویں آیت میں ارشاد ہوا کہ

یہ جنت انجام ہے اُن لوگوں کے لیے جو پرہیز گار تھے، اور جُھٹلانے والوں کا انجام تو آگ ہے،

اور سورۃ الفتح کی 17 ویں آیت اللہ رَبُّ العِزَّت یوں گویا ہے کہ

اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کا حکم مانے گا تو وہ اللہ اس کو جنت کے سدا بہار باغوں میں داخل کرے گا، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، اور جو سرتابی کرے گا اس کو درد ناک عذاب کی وعید ہے،

اور اب جنت کی معنوی و روحانی نعمتوں پر بھی کچھ بات ہو جائے، جس کی طرف مولوی لوگ کم ہی متوجہ کرواتے ہیں، ہاں خود شناس و عارف بِاللہ ہی ان نعمتوں کو پانے کا خواہشمند ملے گا ، جنت کے ٹکٹ بانٹتا اور چھینتا مولوی ہی دکھائی و سنائی دے گا، عارفین و اولیاء کا ہر عمل لالچ کے بغیر  قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْيَایَ وَ مَمَاتِیْ لِللهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن کا مِصداق ہو گا، سورۃ توبہ کی 72 ویں آیت اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑی نعمت اور کامیابی کا ذکر یُوں فرمایا ہے کہ

اللہ نے صاحبِ ایمان مردوں اور عورتوں کو جنت کے باغات کا وعدہ دیا ہے، جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں ، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور بہشت میں پاکیزہ گھر انہیں نصیب ہوں گے ، اور اللہ کی خوشنودی سب سے بالاتر ہے، اور یہی تو سب سے بڑی کامیابی ہے،

کیا کوئی بشر اِس نعمتِ معنوی و لذتِ حقیقی کی اِس جہان میں تصویر کَشی کر سکتا ہے ، جسے اللہ تعالیٰ خُود وَ رِضوَان مِّنَ اللہِ اَکبَر فرما رہا ہے

سورۃ کہف کی آیت نمبر 110 میں ارشاد ہوا فَمَنْ کَانَ یَرجُوا لِقَآءَ رَبِّہ  اور جو بھی اپنے رب سے ملاقات کی خواہش رکھتا ہو، تو اُس کو چاہیے کہ اچھے اعمال انجام دے ، اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے ، گویا کہ لِقَآءُ اللہ بھی عظیم معنوی نعمت ہے،

قُرآن کی رُو سے جنت کی حقیقت

معزز قارئین ! بات کافی طویل ہو گئی، اُمید ہے کہ کافی حد تک واضح بھی ہو گئی ہو گی تو بس نتیجہ نکالتے ہیں ؛ میں نے پہلے عرض کی تھی کہ قُرآن کا دعویٰ ہے کہ اُخروی زندگی دنیاوی زندگی سے کہیں بہتر ہو گی تو پھر آپ سورۃ دخان آیت 55 ، سورۃ سباء آیت 37 ، اور بہت سی دوسری آیات میں دیکھ لیجیے کہ ارشادِ خُدا وندی ہے ، کہ جنتی لوگ ہر خطرے سے آزاد اور امن و امان میں ہوں گے ، تو پھر سوچیئے کہ اِس دنیا کو فساد و بد امنی ، قتل و غارت گری میں مبتلا کرنے والے آخرت میں ہر خطرے سے امن و امان میں کیسے ہو سکتے ہیں،؟

سورۃ اعراف آیت 43 میں فرمایا گیا؛ حسد و کینہ و عداوت سے اُن کے سینے پاک ہوں گے، فیصلہ کر لیجیئے جن کے سینے ان تمام برائیوں سے بھرے ہوں وہ کیسے جنت میں جا سکتے ہیں ؟

سورۃ حجر آیت ٤٧ فرماتی ہے کہ اہلِ جنت کے سینے ہر بُرائی سے پاک اور وہ سب بھائیوں کی سی زندگی بسر کریں گے، مجھے بتائیے جو اس دنیا میں بھائی بھائی نہ پائے، جن کے سینے ایک دوسرے کے لئے تنگ ہیں اُن کا بھلا جنت میں کیا کام ؟

سورۃ اعراف آیت 49 ، سورۃ یونس آیت 62 ، سورۃ فاطر آیت 34 ، اور دیگر بہت سی آیات کہتی ہیں کہ جنت میں خوف و حُزن و ملال نہ ہو گا ؛ تو پھر اس دنیا میں خوف و ملال پھیلانے والوں کا بھلا جنت میں کیا کام ؟کیا عقل و فہم قبول کرتے ہیں کہ قُرآن کے نافرمان جنت میں ہوں گے،؟

تو بس دوستو  !  قُرآن کی حقیقت کو ، اللہ کی نعمتوں کی حقیقت کو جاننے اور سمجھنے کے باوجود عمل نہ کرنے والوں کو سورۃ بنی اسرائیل کی آیت 72 میں اندھا کہا گیا اور وہ آخرت میں بھی اندھے رہیں گے؛

سورۃ فتح  آیت 17 اور سورۃ رعد آیت 35 کے مطابق جنت اُن لوگوں کے لیے ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کی مکمل پیروی کرتے ہیں؛ تقویٰ اختیار کرتے ہیں ، اور اس دنیا کو جنت نظیر بنانے کی کوشش کرتے ہیں ؛

اللہ تعالیٰ ہمیں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی توفیقات مرحمت فرمائے، دنیا کو جنت بنائیں گے تو آخرت میں اس سے بہتر جنت پائیں گے، جنت اعمال کا نتیجہ ہی تو ہے،

monis raza

سیّد مونس رضا

24 نومبر 2020ء

مونس رضا

ریٹائرڈ او رینٹل ٹیچر گورنمنٹ پائیلیٹ ہائر سیکنڈری اسکول اٹک شہر

Next Post

رئیس خانہ - کیمبل پور (اٹک)

بدھ نومبر 25 , 2020
اس وقت اسے ملکہ وکٹوریہ جنہیں خاص طور پر مہارانی کے خطاب سے نوازا گیا کی طرف سے کیمپبلپور کو تحفے میں دیا گیا
شاندار بخاری