اسلام میں عیدین کا تصور 2

آج ۱۰ ذوالحجہ ۱۴۴۳ ہجری بمطابق ۱۰ جولائی  ۲۰۲۲ تاریخِ اسلامی کا ۱۴۳۳واں روزِ عیدالاضحیٰ  ہے۔ حج ۹ ہجری کو فرض ہوا اور فرضیت کے بعد ۱۰ ہجری میں محمد مصطفیٰ ﷺ کے ہمراہ مسلمانوں نے پہلا حج ادا کیا۔ یہی سرکار دو عالم  ﷺ کی زندگی کا آخری حج بھی تھا۔ اسی لیے اسے حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ تمام عالمِ اسلام میں متفقہ طور پر دو عیدیں منائی جاتی ہیں۔ رمضان المبارک میں حکمِ خداوندی پر عمل کرنے کے بعد خُوشی اور شکرانے کے طور پر عیدالفطر منائی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حج بیت اللہ کی ادائیگی کے بعد خوشی اورشکرانے کے طور پر عیدالاضحیٰ مناتے ہیں۔ اسے ہمارے ہاں بڑی عید یا عیدِ قربان بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ اس عید کے موقع پر پوری دنیا میں مسلمان حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اور حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔

حج کو فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ سورۃ آل عمران کی آیت ۹۷ میں اللہ رب العزت یوں ارشاد فرما رہا ہے کہ

وَ للہ ِ عَلَى النَّاسِ حِجُ البَیتِ مَنِ استَظَاعَ اِلَيْهِ سِبِيْلًا ط وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ *وَ لِلّٰهِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیہِ سَبِیلاً *

آل عمران 97

اور محض اللہ کے لیے لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اللہ کے گھر کا حج کریں۔ جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ اور جو (قدرت رکھنے کے باوجود) حج سے انکاری ہو تو پس بے شک اللہ تمام جہانوں سے بے پرواہ ہے۔

اس آیت کے مطابق حج اُن لوگوں پر واجب ہے جو صاحب ثروت ہوں۔ یعنی اپنی تمام ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بعد ان کے پاس اتنی رقم موجود کہ وہ حج کے اخراجات ادا کر سکیں اور صحت بھی اس قابل ہو تو ایسے لوگوں پر زندگی میں ایک مرتبہ حج کرنا فرض ہے ۔ اور اگر کوئی صاحبِ حیثیت مسلمان یہ فریضہ ادا نہیں کرتا تو سرکار دو عالم ﷺ کے فرمان کے مطابق بروزِ قیامت اندھا محشور ہو گا۔

۸ ذوالحجہ سے ۱۲ ذوالحجہ تک چند مخصوص اعمال کی بجا آوری ہر حاجی پر لازم ہوتی ہے جنہیں مناسکِ حج کہا جاتا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں شعائراللہ یعنی اللہ کی نشانیاں قرار دیا ہے۔ سورۃ الحج کی۳۲ ویں آیت میں ارشاد ہوا کہ

ذٰالِكَ ق وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَآئِرَاللّٰهِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ *

الحج 32

یہ یاد رکھو کہ جس نے بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کی تو پس بے شک یہ دلوں کی پرہیزگاری سے حاصل ہوتی ہے۔

چونکہ آج ہمارا موضوع عید ہے لہٰذا حج اور مناسکِ حج کے موضوع پر تفصیلاً ان شآءاللہ بعد میں لکھوں گا۔ بہر صورت یہ بات تو ثابت شدہ سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جو کام  کرنے کا حکم دیا اُس میں سراسر بھلائی اور فوائد ہیں اور جن کاموں کے نہ کرنے کا حکم دیا ہے اُن کے کرنے میں نقصان ہی نقصان ہے۔

حج کی ادائیگی کے بعد ۱۰ ذوالحجہ کو عید کے دن قربانی کا حکم دیا گیا ہے۔ ہر حاجی پر قربانی فرض ہے۔ جبکہ جو حج پر نہیں گیا اُس کے لیے سنتِ مؤکدہ ہے مؤکدہ یعنی تاکید کیا گیا۔

اگر ہم اس قربانی کے فلسفے پر گہرائی میں غور کریں تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے سب سے پیاری چیز یعنی بیٹے اور وہ بھی ایسے بیٹے کی قربانی مانگی جو انہیں بڑھاپے میں ملے ۔ اور باپ کے اپنے ہاتھوں سے بیٹے کی قربانی مانگی گئی۔ جب اللہ تعالیٰ کی محبت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس عمل کو سچ کر دکھایا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک دنبہ بھیج دیا۔ اور پھر قیامت تک قربانی کا حکم دے کر اس عمل کو شعائر اللہ میں سے قرار دیا۔

معزز قاری! یہ محض ایک جانور کی قربانی نہیں۔ بلکہ ہر وہ کام جو ہمیں مشکل ترین لگتا ہے اور وہ اللہ کے احکامات کے خلاف ہے تو اسے چھوڑ دیں ۔ اسی طرح ہر وہ کام جس کے کرنے کا اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے اور وہ مشکل ترین بھی تو انجام دیں۔ یہی قربانی کا بنیادی فلسفہ ہے۔ مسلمان کا ہر کام اللہ تعالیٰ کی خُوشنودی کے لیے ہونا چاہیے۔ قربانی کے حوالے سے سورۃ الحج کی ۳۷ ویں آیت میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

لَنْ يَنَالَ اللّٰهَ  لُحُوْمُھَا وَلَا دِمَآؤُھَا وَلٰكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوٰی مِنْكُمْ ط كَذٰلِكَ سَخَّرَھَا لَكُمْ  لِتُكَبِّروااللّٰهَ عَلٰی مَا ھَدٰكُم ط وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ *

الحج 37

اللہ تک ہر گز نہ تو ان کے گوشت ہی پہنچیں گے اور نہ ہی ان کے خون۔ ہاں مگر اس تک تمہاری پرہیز گاری البتہ پہنچے گی۔ اللہ نے ان جانوروں کو اس لیے یوں تمہارے قابو میں کر دیا ہے تاکہ جس طرح اللہ نے تمہیں بتایا ہے اسی طرح تم اس کی بڑائی کرو۔ اور اے رسول ﷺ نیکی کرنے والوں کو (بہشت) کی خوشخبری دے دیجئے۔

پس دونوں عیدوں پر اور ہر خوشی کے موقع پر حکم یہی ہے کہ اپنے ارد گرد موجود نادار اور حقدار لوگوں کو ان کا حق دیا جائے۔ قربانی کا گوشت عزیز و اقرباء اور غرباء و مساکین میں تقسیم کیا جائے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سے نواز رکھا ہے تو نمود و نمائش سے گریز کیجئے تا کہ کمزور اور نادار لوگوں کے دلوں کو ٹھیس نہ پہنچے۔

میری طرف سے، اس ویب میگزین کے مدیران اور لکھاریوں کی طرف سے آپ کو عیدالاضحیٰ کی دلی مبارکباد۔ ہمیشہ سلامت رہیں

monis raza

سیّد مونس رضا

معلم،مدبر،مصنف

مونس رضا

ریٹائرڈ او رینٹل ٹیچر گورنمنٹ پائیلیٹ ہائر سیکنڈری اسکول اٹک شہر

Next Post

جنگ عظیم ،کیمبل پور اور ٹڈی دل

منگل جولائی 12 , 2022
یہ دوسری جنگ عظیم کا دور تھا۔ 1943 میں سول ڈیفنس کے عملے نے خندقیں کھودنا شروع کر دیں۔ ہوائی حملے سے بچنے کے لئے سائرن بجائے جاتے تھے۔
جنگ عظیم ،کیمبل پور اور ٹڈی دل