خوشبو میں بسا نرم ہوا کا جھونکا

صدیوں کی پیاسی، سسکتی اور خزان رسیدہ زمین جسے ساون رت کا انتظار رہتا ہے اس زمین کی تشنگی کا عذاب کیسا ہو گاواقف حال خوب جانتے ہوں گے، جس دھرتی کے بھاگ میں پسماندگی کے دکھ بھرے ہوئے تھے اسی دھرتی کا ایک ٹکڑا پنجاب کا آخری ضلع بھی تھا مگر پھر اچانک اس ٹکڑے کے مقدر کا ستار جگمگا اٹھا، نرم ہوا کے جھونکوں سے اس کا دامن اس وقت بھر گیا جب اس سرزمین پر ایک فرشتہ سیرت انسان علی عنان قمر نے اپنے قدم رکھے، اٹک کی پیاسی دھرتی پر بارش کا پہلا قطرہ ٹپکا اور پھر مسلسل بارش ہونے لگی۔

علی عنان قمر نے ڈپٹی کمشنر اٹک کا چارج سنبھالتے ہی گراں فروشوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا، پھلوں اور سبزیوں کے نرخ جو آسمانوں تک جا پہنچے تھے انہیں اعتدال پر لے آئے۔ علی الصبح منڈیوں کا دورہ کرنا، مختلف محکموں کے افسران کے ساتھ روزنانہ میٹنگز کرنا، صحت عامہ سے متعلق مسائل کو پیش نظر رکھنا اور ان کے حل کے لیے جان توڑ کوششیں کریں، متعدی خطرناک امراض کے خاتمے کی مہم میں بڑھ چڑ ھ کر حصہ لینا۔ اور رات گئے تک ایسے تمام امور کی نگرانی کرنا، یہ بہت مشکل کام ہے مگر سلام پیش کرتے ہیں تمام اہلیان اٹک اس فرشتہ صفت افسر کو جو درد دل رکھتا ہے اور ایسا کہ معذور اور نابینا بچوں اور خصوصی افراد کے پروگراموں میں بطور خاص شرکت فرماتے ہیں اور ایسے بے سہارا، مجبور، لاچار اور احساس محرومی میں جھکڑے ہوئے لوگوں کے سر پر دست شفقت بھی رکھتے ہیں۔

علی عنان قمر
ہمارا ملک ملکی بنیادوں پر اور فرقہ بازی کے حوالے سے لہو لہو رہا ہے۔ جناب علی عنان قمر صاحب کا اختصاص ہے کہ تمام مسالک کے سرکردہ رہنماؤں سے ملاقات کرتے ہیں ضلع میں مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی فضاء کو فروغ دینے کے لیے ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں اس کے علاوہ مظلوموں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے آپ مختلف تحصیلوں میں جاتے ہیں اور ہر تحصیل میں کھلی کچہری لگا کر نہ صرف عوام کے مسائل سنتے ہیں بلکہ ان مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہی احکامات جاری کرتے ہیں تاکہ کسی مظلوم کو ضلع کے مرکز میں آکر انصاف طلب نہ کرنا پڑے، سائلین کو ان کی دہلیز پر انصاف مہیا کرنے کا عزم رکھتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اٹک ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔

ضلع بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں خالی آسامیوں پر ڈاکٹر اور دیگر سٹاف کی تعیناتی کا معاملہ ہو یا ترقیاتی سکیموں کی نگرانی ہو یا اراضی سنٹر میں عوامی مشکلات کی شکایات ہوں، ڈپٹی کمشنر اٹک علی عنان قمر ایک مسیحا کی صورت میں موجود نظر آتے ہیں۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے اجلاس، دفاتر کے دورے، پنشنرز کو درپیش مشکلات اور ایسے ہی امور کے حل کے لیے کوشاں رہنے میں ان کا کامل ملی جذبہ دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پنجاب میں اعلی عہدوں پرکافی مدت تک اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ اور پورے پنجاب میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ علی عنان قمر اپنے دل میں غریب اور مظلوم طبقہ کے لیے بہت محبت رکھتے ہیں اور اہلیان اٹک پر امید ہیں کہ یہی مسیحا ہے جو انہیں مسائل کی دلدل سے نکالے گا۔ کیونکہ بقول شاعر۔

چند گنتی کے افراد ہی ہیں سرمایہ زیست
ویسے تو مخلوق خدا آٹھ ارب بنتی ہے

ڈاکٹر شجاع اختر اعوان

Next Post

قُرآن کی رُو سے جنت کی حقیقت

منگل نومبر 24 , 2020
اور یہ دُنیاوی زندگی تو بس کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آخرت کی زندگی ہی ابدی ہے، اگر لوگ سمجھیں تو !
نوائے مونس