یاسین ملک کی آخری تاریخ ساز وصیت
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ آزادی کی تحریکیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں، بلکہ ان کے اصل کردار اپنے عزم، نظریے اور قربانی سے تاریخ رقم کرتے ہیں۔ کیوبا کے چی گویرا ہوں، جنوبی افریقہ کے نیلسن منڈیلا یا مقبوضہ کشمیر کے یاسین ملک ہوں، آزادی کی جدوجہد سے وابستہ شخصیات اپنے اپنے خطوں کی تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتی ہیں۔ یاسین ملک کی طویل اسیری، ان کا سیاسی مؤقف اور بھارتی عدالت میں حالیہ بیانِ حلفی ایک بار پھر کشمیر کے مسئلے کو عالمی توجہ کا مرکز بنا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یاسین ملک نے سری نگر کی ایک عدالت میں 24 اگست 2026ء کو جمع کرائے گئے اپنے 25 صفحات پر مشتمل بیانِ حلفی میں سرلا بھٹ کے قتل کے الزام سے واضح طور پر انکار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ وہ اس واقعے سے قبل ہی بھارتی سکیورٹی فورسز کے ایک چھاپے میں شدید زخمی ہو چکے تھے اور بعد ازاں بھارتی میڈیا نے ان کی ہلاکت اور خفیہ تدفین کی خبر بھی نشر کی تھی۔ ان کے مطابق انہیں سرلا بھٹ کے قتل کے الزام کا علم گرفتاری کے کافی عرصے بعد ہوا۔
یاسین ملک کے بیانِ حلفی میں بھارتی ریاستی اداروں اور بعض اعلیٰ شخصیات کے کردار پر بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے مؤقف میں وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت کمار دوول کے حوالے سے ایسے دعوے کیے ہیں جنہیں بھارتی حکومت کے خلاف اپنے مقدمے کا اہم حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم ان تمام دعووں کی حتمی قانونی حیثیت کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔
یاسین ملک کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کے مختلف ادوار میں کئی اہم شخصیات نے ان سے ملاقات کی کوشش کی۔ ان کے بیان کے مطابق نومبر 1990ء میں اس وقت کے بھارتی وزیراعظم چندر شیکھر نے ان سے ملاقات اور عشائیے کی خواہش ظاہر کی، مگر انکار پر انہیں دہلی سے آگرہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ بعد ازاں 2000ء میں بھارتی انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ اجیت کمار دوول اور وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر برجیش مشرا نے بھی جیل میں ان سے ملاقاتیں کیں۔ یاسین ملک نے اپنے بیان میں اپنی بیماری اور علاج کے لیے امریکہ روانگی کا بھی ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق بھارتی حکومت نے اس سلسلے میں پاسپورٹ جاری کیا اور علاج کے اخراجات کے لیے مالی مدد کی پیشکش بھی کی، جسے انہوں نے قبول نہیں کیا۔ ان واقعات کا ذکر وہ اس دلیل کے طور پر کرتے ہیں کہ بھارتی حکومت کے مختلف ادوار میں ان کے ساتھ تعلقات اور مذاکرات کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ بیانِ حلفی کا سب سے اہم اور غیر معمولی پہلو یاسین ملک کا یہ اعلان ہے کہ وہ آئندہ عدالت میں اپنا دفاع نہیں کریں گے۔ ایک طرف وہ سرلا بھٹ کے قتل کے الزام سے انکار کرتے ہیں اور دوسری طرف عدالت سے کہتے ہیں کہ اگر ریاست انہیں مجرم سمجھتی ہے تو انہیں پھانسی دے دی جائے۔ بظاہر یہ ایک قانونی حکمتِ عملی سے زیادہ ایک سیاسی اور اخلاقی احتجاج ہے، جس کے ذریعے وہ بھارتی عدالتی نظام اور کشمیر سے متعلق ریاستی پالیسی پر سوال اٹھانا چاہتے ہیں۔
یاسین ملک کے اس مؤقف کو ان کے حامی ایک حریت پسند کی مزاحمت اور عزم کی علامت قرار دے رہے ہیں، جبکہ بھارتی ریاست انہیں دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں مجرم قرار دے چکی ہے۔ یہی تضاد کشمیر کے تنازعے کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے کہ ایک ہی شخصیت کو ایک فریق آزادی کا سپاہی اور دوسرا فریق مجرم قرار دیتا ہے۔ اگر واقعی یاسین ملک کو سزائے موت دی جاتی ہے تو یہ محض ایک فرد کی سزا نہیں ہو گی بلکہ کشمیر کے مسئلے پر عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے گی۔
تاریخ بتاتی ہے کہ کسی نظریے کو صرف طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ پائیدار حل ہمیشہ سیاسی مکالمے، انصاف اور عوامی خواہشات کو سمجھنے سے نکلتا ہے۔ یاسین ملک کا یہ بیانِ حلفی، چاہے اسے قانونی دستاویز سمجھا جائے یا ایک قیدی کی آخری سیاسی اپیل، بہرحال کشمیر کے دیرینہ تنازعے، انسانی حقوق اور انصاف کے سوالات کو دوبارہ نمایاں کرتا ہے۔ اب اصل امتحان صرف یاسین ملک کا نہیں، بلکہ اس نظامِ انصاف کا بھی ہے جس کے سامنے یہ مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔ یہ بیان حلفی جو کشمیر کے ایک انقلابی حریت پسند کے ضمیر کی آواز یے اور اسکی آخری وصیت ہے، اعلان کر رہا ہے کہ یاسین ملک کو نہ تو کوئی خرید سکا اور نہ ہی اسے جھکا سکا۔ وہ بڑے وقار اور جرات کے ساتھ پھانسی مانگ رہا ہے۔ یاسین ملک اپنی ایک جان کی قربانی دے کر آزادی کے لیئے برسرپیکار ہزاروں لاکھوں کشمیری بھائیوں کی زندگیاں بچا لے گا۔ تاریخ آخرکار یہی فیصلہ کرے گی کہ اس پوری داستان میں طاقت غالب آئی یا کشمیری حریت پسندی کی تحریک کو فتح نصیب ہوئی۔
Read in English Yasin Malik’s Last Historic Testament

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں