ڈیجیٹل دور میں نوجوانوں کی کردار سازی: سیرت النبیؐ کی روشنی میں
از پروفیسر محمد ارشد حسان ،میانوالی*
ڈیجیٹل دنیا اپنی تمام تر رنگینیوں، رعنائیوں اور دلفریبیوں کے ساتھ انسانی اخلاقی وجود پر بے شمار منفی اثرات مرتب کر چکی ہے۔ ڈیجیٹل دنیا جہاں رابطے، کاروبار، معلومات اور تعلیم کے میادین میں بے انتہا آسانیاں فراہم کر کے کئی شعبہ ہائے زیست میں انقلابات کا سبب بنی ہے وہیں میٹا ورس کے اس جال نے حقیقی اور فزیکل عالم سے حرکت، ایڈونچر اور تلاش و بسیار کا خاتمہ کر دیا ہے۔ نوجوانوں کو خیالی ، غیر حقیقی،جھوٹی اور غیر جذباتی یوٹوپیا کا اسیر بنا کر ان کی زندگی سے فعالیت ،سرگرمی اور توانائی سے محروم کر دیا ہے۔
اس سے کسی کو انکار نہیں کہ آج آرٹیفیشل انٹیلیجنس، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے تحقیق ،تفریح، ابلاغ اور انسانی سماجی روابط کے ہر اسلوب کی کایا پلٹ کر رکھ دی ہے ۔ اس انقلابی ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ کے سب سے فعال صارف ہمارے نوجوان ہیں ۔سوشل میڈیا اور اور ڈیجیٹل ورلڈ کے تمام مظاہر اگرچہ بے شمار فوائد کا سبب بنے ہیں تاہم یہ ہمارے سامنے اپنے بے شمار چیلینجز اور مسائل کی ساتھ آ کھڑے ہوئے ہیں جن سے نبرد آزما ہونا فی الوقت نہ مغرب کے سوشل میڈیا ایکسپرٹ کے پاس ہے نہ ڈیجیٹل سوشلوجسٹ کے پاس اور نہ ہی سائیبر سائکلوجیسٹ کے پاس ۔
فحش مواد ،غیر مصدقہ معلومات، نفرت انگیز لٹریچر ،خود نمائی ،سائبر بلنگ اور صارفیت نے نوجوانوں کے کرداروں کو بالخصوص متاثر کیا ہے۔ متقی ،پاک باز، صادق، امانت دار، باحیا، انسان دوست ، سماج کے معتدل مزاج افراد اور مفید شہری تشکیل دینے کے لیے صرف اور صرف نبوی تعلیمات ہی ہماری فکری، اخلاقی اور روحانی رہنمائی کے لیے بہترین سرچشمہ ہیں۔
اس بد اخلاق بلکہ لا اخلاق ڈیجیٹل نظام کے مقابلے میں صاحب خلق عظیم ہی کی شخصیت رہنمائی فراہم کر سکتی ہے ۔اس ڈیجیٹل مادر پدر آزادی کے سامنے” مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ”کا تصور دینے والے پیغمبر ہی کی تعلیمات پل باندھ سکتی ہیں۔ ہر آمدہ پوسٹ و ویڈیوز کی تشہیر سے قبل” إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا” کے بصیرت آمیز حکم ہی سے بچا جا سکتا ہے۔ ڈیجیٹل شناخت کی جگہ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَؕ-هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ کا درس دینے والا داعی ہی بقا کا ضامن ہو سکتا یے۔ دروغ کذب اور دھوکہ کی بنیاد پر آن لائن ٹریڈنگ والے کو گمراہی کے اس دلدل سے "ألا إن الصدق والبر في الجنة، ” بتانے والے ہی بچا سکتے ہیں۔ اور نام نہاد ڈیجیٹل تہذیب کی حیا سوزی اور اخلاق باختگی کے سامنے "اَلْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ” کی پاکیزہ تصور والے ہی بند باندھ سکتے ہیں۔
رسالت مآب ﷺ نے ساڑھے چودہ سو سال قبل فرمایا تھا کی میری امت میں ایسے لوگ بھی آئیں گے جن کی نیکیاں تہامہ پہاڑ کے برابر ہوں گی مگر ان کی تنہائیاں پاک نہیں ہوں گی۔ کیا یہ آج کے ہمارے نجی اوقات کار کی طرف واضح اشارہ نہیں ؟ کیا اس pornography epidemic کے سامنے کوئی فکر ٹک سکے گی جس نے نامردوں اور زنخچوں کی پورے ایک کھیپ کاشت کر ڈالی ہے۔کیا آپؐ نے نہیں فرمایا تھا کہ نظر ابلیس کے زہر بج آلود تیروں میں سے ایک تیر ہے۔کیا "غض البصر "کی آج سے بڑھ کر کبھی اتنی ضرورت پڑی ہوگی۔؟
سکرین کی زندگی رئیل(real)کم اور ورچول (virtual)زیادہ ہوتی ہے۔ اب نہ کسی کو شادی یاد ہے نہ سفر و غم کے تجربات کا احساس ۔اب واٹس ایپ سٹیٹسز ہیں اور انسٹاگرام کی سٹوریز ہیں ۔تصویریں ہیں تو فلٹرڈ اور احساس ہیں تو ایڈیٹڈ ۔ اب لوگوں کو جاننے سے زیادہ دکھانے کی فکر لاحق ہے۔ نوجوانوں کی نگاہیں اب سٹیٹس پر لائکس کی متمنی ہیں تو کانوں میں نوٹیفیکیشنز کا رس گھلا رہتا ۔ ان خودپرستوں اور انا کے مارے لوگوں کے لیے رسول اللہ کا نفئ ذات اور رد شرک خفی والا فلسفہ ہی کارآمد ہوسکتا ہے۔
ڈیجیٹل دنیا اگرچہ تیز رفتار اور انفارمیشن بیسڈ ہے مگر یہ انفارمیشن ورچول حقیقت میں لپٹی ہوئی اس چکا چوند اور برق رفتار کیفیت میں گزرتی ہے کہ ہمیں فلٹرڈ فریگمنٹڈ مواد کی چھان پھٹک کرنے کا لمحہ بھی میسر نہیں آتا اور ہمیں فوری اس کے صادق و مصدوق کا فیصلہ صادر کرنا ہوتا ہے۔ FOMO زدہ صارفین یہ نہیں جانتے کہ مسلسل رد عمل کے بجائے مستقل ریفلیکشن کی ضرورت بہرطور رہتی ہے اور یہ کہ خبر سے زیادہ اہم مخبر ہوتا ہے ۔ انہیں کیا خبر کہ تحمل ، نرم خوئی ، تدبر اور تفکر نبوی تعلیمات کا مقصود و مطلوب ہے۔ اور کیا حضور نے اشجع عبدالقیس کو نہیں فرمایا تھا کہ تمہاری نرمی اور دھیما پن خدا کو بہت محبوب ہے۔
اس online hustle نے جس mental fog ، کنفیوژن، دھندلاہٹ، برق رفتاری، اور تجزیاتی مفلوجیت کو جنم اور معلومات کے اس بے دریغ انبار نے جن ہیجانات کو انگیخت دیا ہے اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے جس مزاج کی ضرورت ہے اسے نبوی مزاج کہتے ہیں۔ تحمل، فہم اور حقیقت تک رسائی کے تمام ذرائع برتنے کے سلیقے کو مزاج مصطفوی کہتے ہیں۔
آپؐ کا خاصہ تھا کہ آپؐ ہمیشہ gol oriented رہتے ہوئے حواس کو قابو میں رکھتے اور ناگہانی آزمائش کے لمحات میں بھی cool ، calm اور composed رہتے ۔ آپؐ حالت جنگ میں بھی فرماتے war is won with strategy۔
آپؐ خبر کو کاؤنٹر چیک کرتے اور سورس کی صداقت اور علمیت کو جانچنے کے بعد ہی لائحہ عمل تیار کرتے ۔ آپؐ بلاشبہ کائنات کے سب سے ذہین انسان تھے اور آپؐ کو وحی ربانی کی تائید بھی حاصل تھی مگر آپؐ پھر بھی اپنے اصحاب ؓسے مشاورت کرتے اور دنیاوی امور کے بارے اپنے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے فرماتے "تم اپنے دنیاوی امور کو بہتر جانتے ہو”۔ آج ہمارے نوجوان اس مہیب ڈیٹا میں غلطاں علماء اور ماہرین فن سے ڈسکس کیے بنا ہر چیز پر آمنا صدقنا کر کے معاشرے میں فرقہ واریت ،نفرت اور جذباتیت کو فروغ دے رہے ہیں۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ آؤٹ آف کنٹیکسٹ اور ایموشنز میں لپٹے اس ڈیٹا کا فیکٹ چیک کیے بنا اسے مشتہر کرنا سیرت نبوی کے منافی ہے۔
یہ الگورتھم جو کہ مسلسل ہمارے تعاقب میں ہے اس نے ہم سے فطرت کا حسن اور رشتوں کا جمال چھین لیا ہے۔ خاموشی، مراقبہ اور تفکر جیسی نبوی خصوصیات کی جگہ ہم پوڈ کاسٹ، موسیقی اور بلٹن کے گھن چکر میں پھنس چکے ہیں۔ ڈیجیٹل ورلڈ کی سجی دلہنیں اور حور و غلمان ہمارے اذہان و قلوب میں ہیجانات کا تلاطم برپا کر کے ہمیں شہوت، ہوس اور بد اعمالیوں پر اکساتی نظر آتے ہیں ۔آئے دن معصوم بچے اور بچیوں کے ریپ اس منفیت کا بین ثبوت ہیں ۔ فحش مواد کی اشاعت کے لیے حضور کی وعیدات کثیرا میں سے یہ فرمان ہی کافی شافی ہے کہ "حیا ایمان ہے جنت میں لے جائے گا ؛جبکہ فحش گوئی جفا کاری ہے جہنم میں لے جائے گی”۔
خالق نے ہمیں سماجی مخلوق بنایا ہے نا کہ ڈیجیٹل مخلوق۔ اب فیس بک ،انسٹاگرام وغیرہ جیسے پلیٹ فارمز ہی کیا ہماری توجہات اور موجودگیوں کے مقامات قرار پائیں گے؟ کیا نام نہاد انفلوئینسر،موٹی ویشنل سپیکرز اور تھیٹر اداکار ہی طے کریں گے کہ ہم سب کون ہیں اور ہماری اہمیت کس منہج کو اختیار کرنے میں پوشیدہ ہے؟ ان پلیٹ فارمز پر ہم کتنے ہی جڑے ہوئے نظر آئیں حقیقت میں ایک دوسرے سے بہت ہی دور رہتے ہیں ۔ سکرین کی کلاسز ،کالجز ،اداروں دفاتر غرض ہر جا موجودگی نے حیوان ناطق کو قوت گویائی سے بھی محروم کر ڈالا ہے۔ ٹک ٹک کرتے میسجز اور ای میلز نے آلہ تکلم کو زنگ آلود بنا ڈالا۔ اب والدین دوست بہن بھائی میٹھے بول سننے کو ترستے ہیں مگر ہم نے خود کو دجل و فریب کے حوالے کر کے مصنوعی خوشی کے ذرائع ڈھونڈ نکالے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے ہمارے وقت کا بہترین مصرف ہمارے والدین اور ہماری ترجیحات کا مرکز ہمارے خاندان کو ہونا چاہیے ۔کیا والدین کی اطاعت کو جہاد سے بڑھ کر نہیں بتایا گیا اور کیا آپؐ نے نہیں فرمایا کہ سب سے اچھا انسان وہ ہے جو گھر والوں کے لیے ساتھ حسن سلوک کرتا ہو۔؟
اب نوجوان راز ہائے سربستہ کے جوابات ڈھونڈنے کے بجائے صرف opinions تک رہ گئے ہیں۔ انہیں real reflection سے زیادہ constant reaction مرغوب ہو چلے ہیں۔ اختصار پسندی تو گویا ان کا مشرب ٹھہر چکا ۔ اب وہ تفصیلات میں پڑنے کو ذہنی اختلال سمجھتے ہیں۔ شارٹ ویڈیوز اور مختصر ہیڈ لائنز کی عادت نے ان سے ارتکاز کی خصلت چھین لی ہے ۔ اب ہر بحث میں شریک ہونا ان کا فرض منصبی اور ہر معاملے میں رائے زنی ان کا شعار بن چکا ہے ۔ کیا رسول اللہ نے اسی دور کے بارے میں نہیں فرمایا تھا کہ میری امت پر ایک وقت ایسا آئے گا جب ہر بندہ کہے گا کہ میں ہی سب سے بہتر ہوں اور میں ہی صائب الرائے ہوں۔ آج اسی بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم زعم ، تکبر اور ہٹ دھرمی سے نکلنے کے لیے رسول کے فرامین کو جزو زیست بنائیں اور دوسروں کی رائے، ان کے علم اور ان کی مہارت کا احترام کرنا سیکھیں۔
ڈیجیٹل ترقی نے انسانی زندگی کے تصور، تعلقات ابلا غ عامہ ،تجارت، تعلیم ،طرز سیاست، معیشت حتیٰ کہ جرم و سزا کے روایتی مفہوم کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت ،سوشل میڈیا ،کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل طرز معاش نے انسانی حیات کو تیزی اور عجلت پسندی کا شکار کر دیا ہے ۔ ڈیجیٹل فراڈ ،شناخت کی چوری، ڈیٹا کا سرقہ ،سائبر ہراسانی، جعلی خبریں ڈیپ فیک،آن لائن کردار کشی، رینسم ویئر، مالیاتی فراڈ اور ایلگورتھمی استحصال جیسے مسائل کا سامنا آج جس طرح ہمیں ہے ایسا چند دہائیوں قبل بھی کسی کو نہیں تھا ۔
پردہ داری، ستر، حیا اور انسانی حرمت کے بارے میں نبوی تعلیمات نے آج نئی معنویت اختیار کر لی ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں نجی زندگی میں بلا اجازت مداخلت، ذاتی معلومات کو افشاں کرنا، پرسنل تصاویر کی تشہیر فن سمجھ کر کی جا رہی ہے ۔ جبکہ نبوی تعلیمات کا ہر شناسا جانتا ہے کہ ڈیجیٹل ورلڈ میں بھی کسی کی عزت مجروح کرنا محض تکنیکی بدسلوکی نہیں قرار پائے گا بلکہ انسانی ناموس اور حقوق العباد کی پامالی کے مرتکب یہ لوگ اخروی عذاب کے مستحق ٹھہریں گے۔ کیا رسول اللہ نے بلا اجازت کسی کے گھر میں داخل ہونے سے منع نہیں فرمایا تھا؟ اور کیا آپؐ کا ارشاد نہیں ہے کہ تین بار دستک دینے کے باوجود بھی دروازہ نہ کھلنے پر واپس پلٹ آؤ۔ آپؐ کھسر پسر اور ٹوہ لگانے والوں کی بھی مذمت فرماتے تھے۔آپؐ تو رازوں کی امانت میں خیانت کرنے سے بھی منع فرماتے تھے ۔
فرضی نام، جعلی پروفائل اور مصنوعی شناختوں کا جو بازار اس ڈیجیٹل دنیا میں گرم ہے نبوی تعلیمات اس سلسلے میں ہمارے لیے بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ آپؐ جھوٹے نسب ظاہر کرنے کو کفر اور دھوکہ دینے والوں کو اپنی جماعت میں سے خارج قرار دیتے تھے۔احتساب، طہارت ،خدا خوفی نبوی تعلیمات کے مطابق سائبر اخلاقیات کا بنیادی نقطہ قرار پاتے ہیں۔
ڈیجیٹل دنیا میں اب برائی کا حصول انتہائی آسان اور خیر کی ترسیل از حد مشکل بنا دی گئی ہے ۔ نیکی تو خیر دور کی بات ہے ڈیجیٹل شکوک نے سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنا بھی ممکن نہیں چھوڑا۔ سرچ انجنز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بنیادی ترجیح سیکس، لا مذہبیت اور جذباتیت ہی بنا دیے گئے ہیں۔ تمام سماجی ویب سائٹس بھی انہیں تین سمتوں میں گھومتی دکھائی دیتی ہیں۔ان چیزوں پر مبنی مواد ہر فورم پر مرکزی اور suggestions میں پہلی ترجیح قرار پاتا ہے۔
آن لائن ٹریڈنگ میں جھوٹ، کذب، دروغ بددیانتی اور دھوکہ دہی کے معمولات نے بے پناہ بے یقینی کو جنم دیا ہے۔ یہاں شفافیت ،رضامندی، عدل اور عدم ضرر کی کار فرمائی انتہائی ناگزیر بنانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہمارے لیے از حد معاون ثابت ہوگی۔ آپؐ نے اس تاجر کی سرزنش کی جس نے گیلے غلے کو ڈھیر میں نیچے جب کہ خشک کو اوپری سطح پر رکھ کر گاہک کو دھوکہ دینے کی کوشش کی تھی ۔آپؐ نے دیانت دار تاجر کو جنت میں انبیاء اور شہداء کی معیت کی بشارت دی تھی۔
نیسوا( NASWA) کی رپورٹ کے مطابق 25 فی صد نوجوان روزانہ سات گھنٹے سوشل میڈیا پر صرف کرتے ہیں ۔وہ جگہ جہاں ان کی شہوات اور خواہشات کو مہمیز دینے کا وافر سامان موجود ہے اور جہاں ہوش ربا جعلی حسن کے کرشمے ان کی آنکھوں کو چندھیانے کے لیے دن رات میسر ہیں۔ اور جہاں سلیبرٹییز کے کاسٹیوم اور نت نئے ملبوسات کے سٹائل ارمانوں کو شہہ دے رہے ہوں وہاں حرص، حب جاہ اور طمع جیسی منفی خصلتوں کا پیدا ہونا بعید از قیاس تو نہیں۔
اس صورت حال میں نسل نو کو ایک ایسے ریفرنس ماڈل کی ضرورت ہے جو انہیں سادگی ، استغنا اور وقار کے معانی سکھائے ۔ انہیں ایک ایسے قائد کی حاجت ہے جن کی غربت پر تونگری ناز کرتی ہو ۔ جن کے فقر کو شہنشاہی سجدے کرتی ہو ۔ جن کی دیانت،فراست اور سیر چشمی کے سامنے آلائشات دنیوی کبھی ٹھہر نہ سکی ہوں۔ جن کی لڑکپن کی گواہی حلف الفضول دیتا ہو اور جن کی جوانی کی شہادت حجر اسود فراہم کرتا ہو ۔ جس نے مکہ میں مروہ اور مدینہ میں اخوت کا ماڈل دیا ہو۔ جنہوں نے شام میں تجارتی دیانت کے بل بوتے بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہوں اور جو طائف میں تحمل کا کوہ گراں ثابت ہوا ہو۔مختصر یہ کہ صلح حدیبیہ اور خطبہ حجۃ الوداع جیسے انسانی چارٹروں کا خالق ہی اس امت گمراہ کو راہ ہدایت کی جانب گامزن کر سکتا ہے۔
ادھر فوکو یاما کو بھی فیک نیوز سے لبرل ڈیموکریسی کو خطرہ نظر آ رہا ہے۔ ادھر یوال نوح ہراری کو بھی AI کے ہاتھوں انسانی مستقبل bleak دکھائی دیتا ہے ۔ یہاں پروفیسر احمد رفیق اختر بار بار پکار رہے ہیں کہ AI کو IA ( inshallah) بنانے کا وقت آ چکا ہے۔ اس سے قبل مائیکل ہارٹ کو بھی تاریخ کے متاثر کن شخصیت کی تلاش عبداللہ کے نور نظر تک لے گئی ۔ کارلائل بھی ہیروؤں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے آمنہ کے لال تک جا پہنچے اور برنارڈ شا بھی نجات دہندہ کو تلاشتے ہوئے حلیمہ سعدیہ کے کاشانے تک ہی پہنچے ہیں تو میں یہاں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ کہ آج کی نسل جدید کو کسی موٹی ویشنل سپیکر،کسی انفلوئنسر، کسی روحانی گرو کی ضرورت نہیں۔ اگر ضرورت ہے تو فقط ایک ہی مرشد ایک ہی مربی اور ایک ہی پیر کامل کی جس کا اسم اعظم محمد الرسول اللہ ﷺ ہے۔ جو صرف موٹی ویٹ نہیں کرتے نہ ہی فقط انسپائیر کرتے ہیں بلکہ وہ زندگیوں کو ٹرانسفارم کر دیتے ہیں وہ کایا ہی پلٹ دیتے ہیں۔
سلام اے آمنہ کے لال اے محبوب سبحانی
سلام اے فخرِ موجودات فخرِ نوع انسانی
سلام اے ظلِ رحمانی، سلام اے نورِ یزدانی
ترا نقشِ قدم ہے زندگی کی لوحِ پیشانی

اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔