آئنسٹائن کا تخیل اور ہماری نوجوان نسل
البرٹ آئنسٹائن کو دنیا ایک سائنسدان کے طور پر جانتی ہے، لیکن ان کی اصل طاقت سائنس نہیں، تخیل تھا۔ وہ خود کہا کرتے تھے کہ: "تخیل علم سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ علم محدود ہے جبکہ تخیل پوری کائنات کا احاطہ کرتا ہے۔”
بیسویں صدی کے آغاز میں سائنس دان سمجھ بیٹھے تھے کہ وقت اور خلا کے بارے میں سب کچھ معلوم ہو چکا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ نیوٹن کے قوانین حرف آخر ہیں۔ ایسے میں ایک پیٹنٹ آفس میں کام کرنے والے نوجوان کلرک نے صرف اپنی سوچنے کی طاقت سے پوری فزکس کو ہلا کر رکھ دیا۔ انہوں نے سوچا، اگر میں روشنی کی کرن پر سوار ہو کر سفر کروں تو کیا ہو گا؟ یہ کوئی لیبارٹری کا تجربہ نہیں تھا، یہ محض ایک تخیل تھا۔ اسی تخیل سے آئنسٹائن کے "نظریہ اضافیت” نے جنم لیا۔
یہ نظریہ کوئی مشین نہیں تھا، کوئی ایجاد نہیں تھی۔ یہ ایک خیال تھا۔ لیکن آج 100 سال بعد اس کی ہر پیش گوئی سچ ثابت ہو رہی ہے۔ بلیک ہول، وقت کا سست ہونا، روشنی کا خلا میں سفر کرتے ہوئے خم کھانا، جی پی ایس سسٹم کا درست کام کرنا، سب اسی ایک خیال کی بدولت ممکن ہوا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تخیل وہ چشم باطن ہے جو دوربین اور خوردبین سے بھی آگے دیکھ سکتا ہے۔
بدقسمتی سے ہم نے تخیل کی اس طاقت کو کبھی سمجھا ہی نہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام کا سب سے بڑا بحران یہ نہیں کہ بچے کم نمبر لیتے ہیں، بحران یہ ہے کہ وہ سوچتے نہیں ہیں۔ ہم نے اسکولوں کو فیکٹریاں بنا دیا ہے جہاں ایک جیسے ذہن، ایک جیسی سوچ اور ایک جیسے پرزے تو تیار ہوتے ہیں، مگر وہاں تخلیقی دماغ تیار نہیں ہوتے ہیں۔
ہمارے ہاں کلاس میں جو بچہ سب سے زیادہ سوال کرے، اسے "بدتمیز” سمجھا جاتا ہے اور جو بچہ نصاب سے ہٹ کر سوچتا ہے، اسے "نکما” کہہ کر ڈانٹ دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہم ڈگری ہولڈرز کی فوج تو بنا رہے ہیں، لیکن موجد ایک بھی پیدا نہیں کر رہے ہیں۔ اس سے ہم ترقی یافتہ دنیا کی ایجادات کے صرف "صارف” بن کر رہ گئے ہیں۔
دوسری طرف دنیا کہاں پہنچ گئی؟ فن لینڈ کے اسکولوں میں بچوں کو نمبروں کی دوڑ سے نکال کر پراجیکٹ کرنے کو کہا جاتا ہے۔ جاپان میں بچے روبوٹ بناتے ہیں۔ جو بچے غلطیاں کرتے ہیں انہیں ڈانٹنے کی بجائے ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ امریکہ میں ایک بچہ اگر کہے کہ میں مریخ پر گھر بناؤں گا تو اساتذہ اس کا مذاق نہیں اڑاتے، بلکہ اسے اس کا نقشہ بنانے کو کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ: "آج کا عجیب سوال ہی کل کی بڑی ایجاد بنتا ہے۔”
ہمارا نصاب معلومات سے بھرا ہوا ہے، لیکن تخیل سے خالی ہے۔ ہمارے ہاں رٹا سسٹم ہے، "کیوں” اور "کیسے” کی گنجائش نہیں ہے۔ جب تک ہم "کیوں” کو قتل کرتے رہیں گے، سائنس جنم نہیں لے گی۔
اس کا حل کیا ہے؟ اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے۔ پہلا، اساتذہ کو جواب دینے والا نہیں، سوال پیدا کرنے والا بننا ہو گا۔ دوسرا، نصاب میں آرٹ، کہانی، تجربہ اور کھیل کو شامل کرنا ہو گا۔ تیسرا، والدین کو چاہیے کہ وہ صرف "رزلٹ کارڈ” کے نمبر نہ دیکھیں، بلکہ بچے کے عجیب و غریب سوالوں کو بھی سنیں اور سراہیں۔ یاد رکھیں، کتاب علم دیتی ہے، لیکن تخیل اس علم کو پرواز دیتا ہے۔
دنیا بھر کی ترقی یافتہ قومیں تیل، گیس یا سونے کی دولت سے نہیں، سوچ سے بنتی ہیں۔ افریقی سونا پیدا کرنے والے ممالک امیر نہیں ہیں بلکہ وہ ممالک امیر ہیں، جن کے طلباء کا "تخیل” بلند ہے اور جہاں تعلیم کا تناسب زیادہ ہے۔ ہمارے پاس 60 فیصد نوجوان آبادی ہے۔ یہ ہمارا سب سے بڑا "اثاثہ” ہے۔ اگر ہم نے اس نوجوان نسل کو علم، ہنر اور تخیل کی طاقت دے دی تو ہمارے ہاں بھی "آئنسٹائن” پیدا ہونا شروع ہو جائیں گے۔ یقین کریں، 20 سال بعد آج کی ترقی یافتہ دنیا ہم سے سیکھ رہی ہو گی۔ ورنہ ہم صرف دوسروں کو سائنس میں آگے بڑھتے اور ترقی کرتے تو حیرت سے دیکھیں گے مگر ہم خود ترقی نہیں کر سکیں گے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں