راز
افسانہ نگار: اظہر سجاد
پڑوسی نے شکایت درج کروائی ‘‘بہت دن ہوئے پروفیسر صاحب کے گھر کی کھڑکی نہیں کھلی۔’’ بدبو کے ناگوار جھونکوں نے سب کا استقبال کیا۔ کونے میں بول و براز،ایک طرف سیرپ،روٹی کے خشک ٹکڑے اور پانی کی خالی بوتلیں بکھری تھیں۔ کھڑکی کے پاس متعفن بستر کے قریب ایک ٹپائی پر تین ننھے ننھے گورے چٹے بچوں کی پھیکے رنگوں والی تصویر تھی۔
ایک گلہ سڑا ڈھانچے کا ہاتھ تصویر کے پاس پڑے نظر کے چشمے کی جانب بڑھتا محسوس ہو رہا تھا۔ بو شرٹ اور پینٹ نے بے ترتیبی سے ہڈیوں کوڈھانپ رکھا تھا۔ ڈائری پر لکھاتھا ‘‘خاموشی میرے دروازے پر روز آتی ہے۔ اب شاید اندر آگئی ہے۔’’

اظہر سجاد کا تعلق کھوڑ کمپنی، تحصیل پنڈی گھیب، ضلع اٹک سے ہے۔ وہ شاعر، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ ان کا افسانوی مجموعہ "تیسری دیوار” شائع ہو چکا ہے، جسے قارئین اور ناقدین کی جانب سے پذیرائی حاصل ہوئی۔ وہ حلقۂ اربابِ ذوق کھوڑ کے سابقہ سیکریٹری رہ چکے ہیں اور طویل عرصے سے ادبی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایم اے (انگریزی ادب) کیا ہے۔ پیشہ ورانہ زندگی میں سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (SCO) سے وابستہ رہے، جبکہ اس وقت شعبۂ درس و تدریس سے منسلک ہیں۔ ادب، معاشرتی مسائل اور انسانی نفسیات ان کی تحریروں کے نمایاں موضوعات ہیں
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں