موتی – Pearl
آپریشن کے بعد سب سے پہلے اپنی بیٹی کو دیکھنا چاہتی ہوں۔
موتی – Pearl
صفدر علی حیدری
میں آئی اسپیشلسٹ ہوں۔
آنکھوں کا علاج کرنا صرف میرا کام نہیں، میرا مقصودِ حیات بھی ہے۔
یہ میرا پروفیشن ہی نہیں، پیشن بھی ہے۔
روز کتنی ہی آنکھیں دیکھتا ہوں۔ کسی کی دھند دور کرتا ہوں، کسی کی روشنی بچانے کی کوشش کرتا ہوں، کسی کی آنکھ میں امید واپس لاتا ہوں۔
مگر آج نہ جانے کیوں ایک جوڑی آنکھوں نے مجھے اندر تک اداس کر دیا۔
میں نے ان آنکھوں کو دیکھا جو کبھی موتیوں جیسی ہوا کرتی تھیں۔۔۔ شفاف، روشن اور بے حد حسین۔
آج انہی آنکھوں پر موتیا اترا ہوا تھا۔
میں نے معائنہ کیا اور کہا:
’’فکر نہ کریں، آپریشن کے بعد سب صاف دکھائی دینے لگے گا۔‘‘
وہ مسکرائی۔
’’ڈاکٹر صاحب! ایک خواہش ہے۔۔۔ آپریشن کے بعد سب سے پہلے اپنی بیٹی کو دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘
میں نے چونک کر اسے دیکھا۔
’’بیٹی؟‘‘
اس نے جیب سے ایک پرانی تصویر نکالی۔
تصویر میں ایک ننھی بچی مسکرا رہی تھی۔
’’پندرہ سال پہلے چلی گئی تھی،‘‘ وہ افسردگی سے بولی، ’’تب میری آنکھوں میں آنسو اترے تھے، موتیا نہیں۔ وقت گزرا تو آنکھوں پر دھند اترتی گئی۔۔۔ مگر اس کی تصویر آج بھی صاف دکھائی دیتی ہے۔‘‘

میرا نام صفدر علی حیدری ہے ۔ پیدائش علی پور ضلع مظفر گڑھ کی ہے لیکن پلا بڑھا اوچ شریف میں ہوں اور رہائش بھی اسی شہر میں ہے ۔ایم فل اردو ہوں ایک استاد ہوں اور پچھلے تیس سال سے پڑھا رہا ہوں ۔ لکھنے کا آغاز بچپن سے کیا ۔ کالم نگاری بھی کی نامہ نگاری بھی ،پھر افسانہ نگاری اور افسانچہ نگاری کی طرف متوجہ ہوا ۔اب تک میری بارہ کتب شائع ہو چکی ہیں پچیس کتب زیر طبع ہیں شائع شدہ کتب کی تفصیل حسب ذیل ہے میری ایک کتاب کالمز پر ہے ” شہر خواب ” ایک ناول ہے ” عمران بٹہ عمران ” چار کتابیں ادب اطفال پر ہیں ” گھڑی کی ٹک ٹک ” ” ایک پہیے کی سائیکل” ” کمزور چوزا ” ” منٹو میاں ” چار افسانوں پر ہیں "مٹھی میں کائنات” ” ناقابل اشاعت ” ” من و سلویٰ ” ” الف سے یے تک ” ایک افسانچوں پر ہے ” ایک صفحے کے افسانچے ” میری تمام کتابوں پر ایم فل ، ایم اے اور بی ایس کی سطح پر کام ہو چکا ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں