بساند
تحریر : اظہر سجاد
دریا اُتر چُکا تھا مگر پانی کی بساند اب بھی ہر طرف پھیلی تھی۔ کالا کلوٹا ناتواں سا بچہ نئے لباس میں بہت خوش لگ رہا تھا۔اُس کی ماں اُسے گود میں لیے لوگوں کی مشتاق نگاہوں کو جیسے جانچ رہی تھی۔ کُرتے کے کُھلے گریبان سے بچے کا میلا سینہ جھانک رہا تھا۔ مگر جب اُس کی نظر کھانے، چاکلیٹ اور فروٹ کے ڈبوں پر پڑی تو رونے لگا۔شور بلند ہوا …….. سائرن بجا تو ایک باوردی شخص کہنے لگا
ذرا تمیز سے بیٹھو وہ آ رہی ہیں …….. دیکھو! قالین گندہ نہ کرنا۔ کسی نے آگے بڑھ کر بچے کے گریبان کا بٹن بند کر دیا۔کچھ دیر بعد جب وہی بچہ مہکتی سبز پری کی گود میں مُسکرا مُسکرا کر تصویریں بنوا رہا تھا تو اُس کی ماں حیرت و استعجاب سے اپنے بچے کو دیکھ رہی تھی۔

اظہر سجاد کا تعلق کھوڑ کمپنی، تحصیل پنڈی گھیب، ضلع اٹک سے ہے۔ وہ شاعر، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ ان کا افسانوی مجموعہ "تیسری دیوار” شائع ہو چکا ہے، جسے قارئین اور ناقدین کی جانب سے پذیرائی حاصل ہوئی۔ وہ حلقۂ اربابِ ذوق کھوڑ کے سابقہ سیکریٹری رہ چکے ہیں اور طویل عرصے سے ادبی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایم اے (انگریزی ادب) کیا ہے۔ پیشہ ورانہ زندگی میں سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (SCO) سے وابستہ رہے، جبکہ اس وقت شعبۂ درس و تدریس سے منسلک ہیں۔ ادب، معاشرتی مسائل اور انسانی نفسیات ان کی تحریروں کے نمایاں موضوعات ہیں
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں