اگست 18, 2026

وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے

0

اصل "اچھا مال” ایمانداری، دیانت اور قوم کی خدمت ہے۔

وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے 

Dubai Naama

تمثیلی اخلاقی کہانیاں دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں۔ بچپن میں والد صاحب نے ایک کہانی سنائی تھی جو آج بھی یاد ہے۔ اس کے مطابق اندھیری رات میں ایک باپ بیٹا چوری کرنے نکلتے ہیں مگر وہ بغیر چوری کیئے واپس پلٹ جاتے ہیں۔

پرانے زمانے میں "پیشہ ور چور” دیوار میں بے آواز سوراخ کر کے گھر میں داخل ہوتے تھے۔ اسے "سن لگانا” کہتے تھے۔ کچے پکے گھروں کی دیواریں توڑنے کیلیئے چور لوہے کی کلہاڑیوں، سبلوں، اور کدالوں کو اوزاروں کے طور پر استعمال کرتے تھے۔

ایک ادھیڑ عمر چور "رنگا کواڑی” بوڑھا ہو کر بیٹے کو اپنا پیشہ سکھانے نکلا۔ راستے میں ایک گھر میں دیا جلتا دیکھا۔ رنگا خوشی سے بولا: "بیٹا، یہ وہی گھر ہے جسے میں تین بار لوٹ چکا ہوں۔ آج چوتھی بار اچھا مال ملے گا۔”

بیٹا اچانک رک گیا اور بولا: "بابا واپس چلیں، چوری نہیں کرتے۔”  

باپ حیران ہوا: "کیوں؟”  

بیٹے نے کہا: "بابا جس گھر کو آپ تین بار لوٹ چکے ہیں، اس کا دیا آج بھی جل رہا ہے۔ مگر ہمارے گھر میں تو ابھی بھی اندھیرا ہے۔”

وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے

یہ کہانی، ہمارے پیارے "پاکستان” کی ہے۔ یہ صرف کہانی نہیں، یہ ہماری حقیقت بھی ہے۔ ہمارے مقتدر "چور” باری باری ملک کو لوٹتے رہے، مگر الحمدللہ پاکستان آج بھی قائم ہے۔ 

اللہ کو توبہ بہت پسند ہے۔ جب انسان بددیانتی، چوری، جھوٹ اور منافقت کی انتہا پر پہنچتا ہے تو ایک بار اس کا ضمیر ضرور "جاگتا” ہے۔ اگر وہ اس موقع پر رجوع کر لے تو اس کا درجہ بلند ہو جاتا ہے۔

یہ سبق فرد سے لے کر پوری اشرافیہ تک سب پر صادق آتا ہے۔ ہر بار غلطی پر انجان بننے سے نقصان بڑھتا جاتا ہے۔ گناہ جتنا بڑا ہو، آزمائش بھی اتنی سخت ہوتی ہے۔

توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم سمجھنا چایئے کہ ہم توبہ کے دروازے بند ہونے سے پہلے رجوع کر لیں۔ کائنات میں اندھیرے کے ساتھ روشنی بھی ہے۔ انسان کے اندر جتنی منفی قوتیں ہیں، اتنی ہی مثبت بھی ہیں۔

جس طرح ہماری اشرافیہ "سن لگا کر” چور دروازوں سے ملک کے وسائل لوٹ رہی ہے، اسے اب توبہ کر لینی چاہیے۔ اللہ رسی ڈھیلی کرتا ہے مگر ہر برائی کی ایک حد ہوتی ہے۔

اگر ہم اپنی منفیت کو "مثبیت” میں بدل دیں تو حالات سدھر سکتے ہیں۔ ورنہ انجام مخدوش ہو جائے گا۔ امیر مینائی نے کیا خوب کہا تھا:

 "اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے

 ہم مرے جاتے ہیں تم کہتے ہو حال اچھا ہے

 تجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے

 سو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے

 آنکھیں دکھلاتے ہو جوبن تو دکھاؤ صاحب

وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے

 اصل "اچھا مال” ایمانداری، دیانت اور قوم کی خدمت ہے۔ ہمیں اپنی اخلاقی اقدار کی حفاظت کرنی چایئے، اسے سنبھال کر رکھنا چایئے، اور اپنی فلاح و ترقی کیلیئے اسی کو بروئے کار لانا چایئے۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Oldest
Newest Most Voted

کیا      آپ      بھی      لکھاری      ہیں؟

اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

iattockmag@gmail.com

0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x