جاپانی اوکی گاہارا: موت کے جنگل میں زندگی کی تلاش
جاپان ایک ایسا ترقی یافتہ ملک ہے جو اپنی ٹیکنالوجی، نظم و ضبط اور لمبی عمر کے لیئے دنیا بھر میں مشہور ہے، وہیں جاپان کے ساتھ ایک عجیب و غریب مگر من گھڑت حقیقت بھی جوڑ دی گئی ہے۔ اس ملک میں فیوجی پہاڑ کے دامن میں ایک ایسا منحوس جنگل مشہور کر دیا گیا یے، جہاں جا کر جاپانی اور غیرملکی مختلف قسم کی جھوٹی اور من گھڑت کہانیوں کے ذریعے خودکشی کرنے کو عرصہ دراز سے ایک پسندیدہ جگہ سمجھتے چلے آ رہے ہیں۔ اس موضوع پر پہلے بھی لکھا تھا۔ کچھ دوست اس بارے میں دوبارہ لکھنے کیلیئے کہتے رہے ہیں۔ میری دلچسپی کا مرکز جاپان کے اندر موجود خودکشی کا یہی جنگل رہا ہے جو جاپان کے قصبے اوشنو کے آتش فشاں پہاڑ فیوجی کے قریب تقریباً 35 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔
یہ جنگل اپنے اندر بہت سی خطرناک حد تک حیرت انگیز کہانیاں لیئے ہوئے ہے۔ اس جنگل کو جاپانی زبان میں "اوکی گاہارا” کہا جاتا ہے۔ یہ جنگل سنہ 864ء سے قائم ہے جب اس علاقے میں واقع یہ فیوجی نامی آتش فشاں پہاڑ لاوا اگلنے کے لئے اچانک پھٹ پڑا تھا۔ جب لاوا آہستہ آہستہ سرد ہوا تو وہاں پودے سر نکالنے لگے اور پھر آنے والے برسوں میں اسی جگہ پر ایک گھنا جنگل اگ آیا، جسے ایک "مقدس جنگل” کی حیثیت حاصل ہو گئی اور کئی جاپانی وہاں جا کر اس کی پوجا کرنے لگے۔
بدقسمتی سے 1970ء کے عشرے میں اس جنگل سے کچھ مہم جو لکھنے والوں کا گزر ہوا جنہوں نے وہاں کچھ خوبصورت انسانی لاشیں دیکھیں اور ان پر ناول لکھے جس کے بعد اس موضوع پر فلمیں اور ٹیلی ویژن سیریز بننے لگیں جن میں خودکشی کے مناظر کو سہانے انداز میں فلمایا گیا تھا۔ پہلی بار منفی سوچ رکھنے والے مصنف سیچو ماتسوموتو کے ناول "کروئی جوکائے” Kuroi Jukai جو 1960ء میں چھپا نے اس جگہ کو موت کے لیئے گلیمیرائز کیا اور بعد میں واتارو تسورومی کی ایک کتاب نے اس جنگل کو "پرسکون آخری پناہ گاہ” کے طور پر پیش کیا، جس سے وہاں خودکشی کے لیئے جانے والوں کی تعداد میں شدید اضافہ ہوا۔ کسی جگہ کو رومانوی یا پرسکون بنا کر پیش کرنے سے موت کے منہ میں جانے کا خطرہ بڑھتا ہے۔ جاپان جیسے اخلاقی اور انسانیت پرور اصولوں کے نمائندہ عظیم ترین سماجی ملک میں ایسی منفیت پھیلانے والے مصنفین انسانیت کے دشمن ہی ہو سکتے ہیں۔
جب سے ان مصنفین کی قوت متخیلہ نے اس جنگل کو خودکشی کے لئے ایک مثالی مقام بنا کر پیش کیا وہاں جا کر خودکشی کرنے کا رواج پڑ گیا۔ اس وجہ سے آج جاپان دنیا بھر میں خودکشیاں کرنے والے ممالک میں پہلے نمبر پر ہے جہاں ہر سال اوسطا 20 ہزار افراد خودکشی کرتے ہیں۔
ویسے تو کچھ مغربی ترقی یافتہ ممالک میں بھی خودکشی کرنے کی قانونا اجازت ہے جس میں امریکہ جیسی "سپر پاور” بھی شامل ہے لیکن جاپان اس حوالے سے اس لیئے انتہائی منفرد ملک ہے کہ اس جنگل میں جا کر خود کشی کرنے والے جاپانیوں کی اکثریت اس فعل کو "مقدس” سمجھنے لگی ہے۔ جاپانی حکومت کو چایئے کہ اب وہ اس جنگل کو کٹوا دے۔ اب دنیا کے بیشتر ممالک میں خودکشی کو جرم نہیں سمجھا جاتا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ قانون اس کی "اجازت” دیتا ہے۔ قانون کا موقف یہ ہے کہ یہ ایک ذہنی صحت کا سماجی مسئلہ ہے، جس کی "سزا” نہیں یے۔ اس کو دو حصوں میں سمجھنا ضروری ہے کہ ایک خودکشی یا خودکشی کی کوشش کرنا جرم نہیں رہا ہے اور دوسرا اس کی کوشش پر اب فوجداری سزا نہیں دی جاتی یے۔ پہلے برطانیہ اور ہندوستان میں اس پر سزا تھی، اب ختم کر دی گئی ہے۔ چند ممالک جہاں ابھی بھی قانون کی کتاب میں خودکشی کی کوشش پر سزا لکھی ہے، ان میں زیادہ تر افریقی اور کچھ ایشیائی ممالک شامل ہیں جیسے کینیا، نائیجیریا، ملائیشیا اور میانمار، لیکن وہاں بھی عملاً سزا کے بجائے علاج کی طرف لے جایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر کی مدد سے موت کو "ایوتھاناسیا” Euthanasia یا "اسسٹڈ ڈائینگ” Assisted Dying کہتے ہیں۔ کچھ ممالک نے بہت سخت شرائط کے ساتھ اس کی قانونی اجازت دے رکھی ہے۔ یہ صرف ایسے مریضوں کے لیے ہے جو آخری سٹیج کے لاعلاج مرض میں مبتلا ہوں اور شدید تکلیف میں ہوں۔ اس کے لیے بھی کئی ڈاکٹروں، عدالت اور تحریری درخواست کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے ممالک میں شامل سوئٹزرلینڈ سرفہرست ہے جہاں سب سے پرانا قانون ہے، وہاں غیر ملکی بھی بعض شرائط پر خود کشی کر سکتے ہیں۔ یورپ میں نیدرلینڈز، بیلجیم، لکسمبرگ کے قوانین اس مسئلے پر سب سے واضح ہیں۔ کینیڈا میں "میڈ” MAID کے نام سے قانون ہے۔ کولمبیا لاطینی امریکہ میں پہلا ملک ہے جہاں یہ قانون موجود ہے۔ اس میں سپین، پرتگال، آسٹریا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا بھی شامل ہیں۔ امریکہ کی 10 ریاستیں ہیں جیسے کیلیفورنیا، واشنگٹن، اوریگون، کولوراڈو وغیرہ ہیں جہاں خودکشی کی اجازت ہے مگر پورے امریکہ میں اس کی اجازت نہیں ہے۔
اسلامی ممالک بشمول پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی اور ایران وغیرہ میں ڈاکٹر کی مدد سے بھی موت کی کسی صورت میں قانونی اجازت نہیں ہے۔ یاد رکھیں، قانون کی کتابیں جو بھی کہیں، تمام مذاہب اور ڈاکٹر اس بات پر متفق ہیں کہ زندگی ایک امانت ہے اور مایوسی کا علاج مدد لینے میں ہے، زندگی ختم کرنے میں نہیں ہے۔
اس مد میں جاپان کی صورتحال قدرے مختلف ہے۔ شائد اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جنگ عظیم دوم میں جاپانی پائلٹوں نے "خود کش” حملوں کا آغاز کیا تھا اور جاپان نے بہت سارے تربیت یافتہ پائلٹ کھو دیئے تھے اور بعد میں جنگی دور کے جاپانی وزیراعظم "ہائیڈیکی ٹوجو” Hideki Tojo نے خودکشی کی کوشش کی تھی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے تھے کیونکہ وہ عدالت کا سامنا نہیں کرنا چاہتے تھے.
تفصیلات کے مطابق 11 ستمبر 1945ء کو جب امریکی فوجی ہائیڈیکی ٹوجو Hideki Tojo کو گرفتار کرنے ان کے گھر پہنچے تو انہوں نے دل کے قریب خود کو گولی مار لی تھی لیکن گولی دل سے ذرا ہٹ کر لگی تھی جس سے وہ بچ گئے تھے. صحت یابی کے بعد ان پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا گیا تگا اور دسمبر 1948ء میں انہیں پھانسی دے دی گئی تھی۔
اس پس منظر میں جاپان دنیا بھر میں خودکشی کرنے والے ممالک میں پہلے نمبر پر ہے جس میں خودکشی کا یہ جنگل بھی ایک بنیادی محرک ہے۔ سنہ 2024ء میں 25ہزار جاپانیوں نے خود کشی کی۔ 2025ء کے سرکاری اعداد و شمار جاپان کی وزارت صحت نے جنوری 2026ء میں جاری کیئے۔ جاپان میں 2025ء میں خودکشیوں کی کل تعداد 19,097 تھی۔ یہ 1978 سے جب سے ریکارڈ رکھنا شروع ہوا ہے، پہلی بار ہے کہ تعداد 20,000 سے نیچے آئی ہے۔ یہ پچھلے سال سے 1,223 کم ہے، یعنی 6 فیصد کمی آئی ہے۔ حتمی تصدیق شدہ تعداد جو مارچ 2026ء میں آئی وہ 19,188 ہے جس میں 13,117 مرد اور 5,980 خواتین شامل ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد 50 سے 59 سال کی عمر کے لوگوں کی تھی۔خودکشی کی یہ شرح فی ایک لاکھ آبادی 15.4 بنتی ہے۔
لیکن سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جاپان میں خودکشیوں میں مجموعی تعداد کم ہونے کے باوجود اسکول کے بچوں کی خودکشیاں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ 2025ء میں پرائمری، مڈل اور ہائی اسکول کے 532 طلباء نے خودکشی کی، جو 1980ء کے بعد سے سب سے زیادہ ہے اور مسلسل دوسرا سال ہے جب یہ ریکارڈ ٹوٹا ہے۔ ان میں 352 ہائی اسکول، 170 مڈل اسکول اور 10 پرائمری اسکول کے بچے شامل تھے۔
جاپان کی حکومتی رپورٹ میں اس کی وجوہات میں اسکول کے مسائل (نمبروں کا دباؤ، مستقبل کی پریشانی)، ڈپریشن اور خاندانی مسائل کو سب سے بڑی وجہ بتایا گیا ہے۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق 2025ء میں خودکشی کی کوشش یا خود کو نقصان پہنچانے پر ہسپتال لے جائے جانے والے لوگوں کی تعداد 43,631 تھی، جو مسلسل ساتویں سال کا اضافہ ہے، جہاں اوسطاً روزانہ 120 لوگ خودکشی کر رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک میں مجموعی خودکشی کم ہو رہی ہے لیکن نوجوان نسل میں بڑھ رہی ہے۔ یہ صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی تنہائی اور تعلیمی دباؤ کا مسئلہ بن گیا ہے۔
جاپان میں خودکشی کے اس جنگل کو "اوکی گاہارا جوکائے” Aokigahara Jukai کہتے ہیں جس کا مطلب "درختوں کا سمندر” ہے۔ یہ جنگل امید کے بجائے مایوسی کی علامت بن گیا یے۔ یہ انسان کے ذہن کی طاقت کا ثبوت ہے کہ ایک خوبصورت جگہ کو ہم اپنے منفی خیالات سے کیسے بگاڑ دیتے ہیں۔ جاپان نے اس چیلنج کا جواب جس خوبصورتی سے دیا ہے، وہ پوری دنیا کے لیے ایک سبق ہے۔ اسی جنگل کے داخلی دروازے پر آج جگہ جگہ سرکاری و غیر سرکاری رضاکار کھڑے نظر آتے ہیں۔ جاپانی انہیں "کوچی” Kochi کہتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں کوئی ڈنڈا نہیں ہوتا، وہ خوشی اور امید کے گٹار بجاتے ہیں، ان کے گلے میں ایک تختی ہوتی ہے جس پر لکھا ہوتا ہے: "زندگی آپ کے والدین کا دیا ہوا سب سے قیمتی تحفہ ہے۔ ایک لمحہ رک جائیے۔ اپنے والدین، بہن بھائیوں، اپنے بچوں کے بارے میں سوچئے۔ آپ اکیلے نہیں ہیں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔”
جاپانی حکومت نے اب جنگل کے داخلی راستوں پر ہر طرف کوچی بیٹھا رکھے ہیں۔ اس جنگل کے چاروں طرف "آپ کی زندگی قیمتی ہے” کے بورڈ اور مفت ہیلپ لائن فون لگائے گئے ہیں۔ یہ چند جملے کتنے طاقتور ہیں۔ یہ انسانیت پرور کوچی خود کشی کے ارادے سے آنے والوں کو محبت بھری زندگی کا لیکچر دیتے ہیں۔ یہ گٹار بجاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم موت کی خاموشی کو زندگی کے راگ سے توڑنا چاہتے ہیں۔ اور حیرت انگیز طور پر، ان کی یہ کوشش رنگ لاتی ہے۔ سینکڑوں لوگ جو آخری امید کھو کر آتے ہیں، ان سے بات کر کے، ان کا راگ سن کر واپس لوٹ جاتے ہیں۔ وہ جینے کا دوبارہ فیصلہ کر لیتے ہیں۔
یہی کوچی ہمیں سکھاتے ہیں کہ زندگی میں مسائل کا حل موت نہیں ہے۔ مسائل کا حل مقابلہ ہے، صبر ہے، اور دوسروں سے جڑنا ہے۔ آج ہم میں سے ہر ایک زندگی کے کسی نہ کسی مشکل جنگل سے گزر رہا ہے۔ کسی کے لیے وہ جنگل بے روزگاری ہے، کسی کے لیے رشتوں کی ناکامی، اور کسی کے لیے تنہائی یے۔ جب ہم اس جنگل میں اکیلے چلتے ہیں تو درختوں کا ہر سایہ ہمیں ڈراتا ہے۔ جاپان کی مثال ہمیں تین بڑے سبق دیتی ہے جو ہر مایوس دل کے لیے مشعل راہ ہیں: ایک یہ کہ رک جائیں اور سانس لیں: جاپانی کوچی سب سے پہلے یہی کہتے ہیں: "رک جائیں۔” جب دل بہت بوجھل ہو تو کوئی بڑا فیصلہ نہ کریں۔ ایک دن، ایک گھنٹہ، بس رک جائیں۔ اپنے پیاروں کی تصویر دیکھیں۔ دوسرا یہ کہ تنہائی توڑ دیں: دنیا میں کوئی شخص سو فیصد اکیلا نہیں ہے۔ ہم سب کسی نہ کسی کہانی کا حصہ ہیں۔ اپنے دکھ کو کسی قابل بھروسہ دوست، والدین، یا کسی ماہر سے بانٹنا کمزوری نہیں، ہمت کی سب سے بڑی علامت ہے۔ تیسرا یہ کہ منفی کہانی کو مثبت میں بدلیں: ایک ناول اور چند من گھڑت جھوٹی کہانیوں نے ایک مقدس جنگل کو "مایوسی کی علامت” بنا دیا، اور چند کوچیوں کے گٹار نے اسے دوبارہ امید کی علامت بنانا شروع کر دیا۔
ہماری زندگی بھی ایک کہانی ہے۔ ہم اس کہانی کے مصنف خود ہیں۔ ہم اسے کس زاویے سے لکھتے ہیں، یہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ جاپان آج بھی دنیا میں سب سے زیادہ لمبی عمر کے لوگوں کا ملک ہے۔ وہاں 90 سال سے زیادہ عمر کے ہزاروں بزرگ ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ اس لیے زندہ ہیں کہ انہوں نے مشکلات کو "حکمت” میں بدلنا سیکھ رکھا ہے۔
زندگی کبھی بھی سیدھی لکیر نہیں ہوتی۔ اس میں نشیب و فراز آتے ہیں۔ کبھی کاروبار میں نقصان، کبھی دل کا ٹوٹنا، کبھی صحت کی خرابی۔ مگر ہر رات کے بعد صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اوکی گاہارا کا گھنا جنگل بھی سورج کی روشنی کو اندر آنے سے نہیں روک سکتا۔
میری آپ سب سے جو اس کالم کو پڑھ رہے ہیں، ایک گزارش ہے۔ اگر آپ کبھی خود کو اس جنگل میں تنہا محسوس کریں، تو یاد رکھیں کہ داخلی دروازے پر کوچی آج بھی گٹار بجا رہا ہے۔ آپ کے آس پاس بھی کوئی نہ کوئی کوچی موجود ہے۔ آپ کا دوست، آپ کا بھائی، آپ کی ماں۔
زندگی کو ختم کرنا کوئی بہادری نہیں، زندگی کو ہر زخم کے باوجود جینا اصل بہادری ہے۔ آپ اپنے خوابوں کے لیے، اپنے والدین کی مسکراہٹ کے لیے، کل کے کسی بہتر دن کے لیے، کچھ سال اور جی کر دیکھیں۔ کیونکہ ایک دن یہ مایوسی کا جنگل پھر سے عبادت کی جگہ بن جائے گا، اور آپ خود اس کی زندہ مثال ہوں گے۔ یہ سوشل ورکر کوچی خودکشی کرنے والوں کو جاپانیوں کی لمبی عمریں یاد دلاتے ہیں جہاں پوری دنیا سے زیادہ 90 سال کی عمر کے بوڑھے رہتے ہیں، جو کامیاب اور خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ ان کی "برین واشنگ” کرتے ہیں اور انہیں زندگی کی طرف پلٹنے کا ایسا خوشنما اور پرکشش خواب دکھاتے ہیں کہ خودکشی کے ارادے سے آنے والوں میں بہت سے لوگ ان کو دعائیں دیتے ہوئے واپس گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔
جنگل کے مین گیٹ پر بہت سے رضاکار کوچی کئی سالوں سے گٹار بجا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ موت کا سکوت توڑنے کے لئے زندگی کا راگ بجاتے ہیں۔ واقعی، زندگی ایک حسین راگ ہے جس سے وہی لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں جو اس کے رنگوں اور سروں کی قیمت اور مٹھاس کو سمجھتے ہیں۔ زندگی کو حسین اور پرلطف طریقے سے جینے کا مطلب زندگی کی ہر مشکل اور ہر امتحان کو چیلنج سمجھ کر شکست دینا ہے۔ ایسا صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو زندگی کے بارے میں مثبت اور تعمیری رویہ اپناتے ہیں۔ اگر آپ زندگی کو منفی اور غیرتعمیری سوچ کے ساتھ گزارنے کے عادی ہیں تو کوئی معمولی سی رکاوٹ، دکھ یا مشکل بھی آپ کو اندر سے توڑ دے گی۔
جاپان کے اس "اوکی گاہارا” اور اس کے باہر بیٹھنے والے کوچیوں کو دیکھنے اور ملنے کا شوق یے۔ ایک میں ہی نہیں زندگی سے مایوس لوگوں کو کوچیوں سے ملنا چاہیئے۔ موت کے خلاف ایسے مثبت رویئے کا مظاہرہ وہی ہمت اور برداشت والے لوگ کرتے ہیں جو زندگی کے ہر غم اور کٹھن مرحلے کو بھی "حکمت” اور "دانش” کا ذریعہ سمجھ کر جیتے ہیں۔ مشکلات، دکھوں اور مسائل سے لڑنا آ جائے تو ان سے بھی بھرپور طور پر خوشی کشید کی جا سکتی ہے۔ پرامید اور جاگتے کے خواب دیکھنے والے لوگ مایوسی اور غموں کی وجہ سے زندگی کا خاتمہ نہیں کرتے کیونکہ وہ ہر حال میں جینے پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ تقدیر اور توکل پر بھروسہ کرتے ہیں، یہ جان کر کہ ایک روز ان کی ارادی خودکشی کا جنگل پھر سے عبادت کی مقدس جگہ بن جائے گا، وہ خود کو اتنا بدلیں گے کہ جن کے پاس ایک روز خودکشی کے متمنی لوگ زندگی کا درس لینے آئیں گے۔ زندگی اور موت کا اختیار صرف قدرت کو ہے، اگر آپ زندگی کی فطری تخلیق نہیں کر سکتے تو اسے زبردستی ختم بھی نہ کریں، اسی میں آپ کی فلاح ہے۔ یہ مایوس اور زندگی سے تنگ یا خدا نہ کرے خودکشی کا ارادہ کرنے والوں کے لیئے محض ایک التجائی پیغام ہے جو شائد ان کے کام آ جائے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں