فیکٹری انتظامیہ، کرپشن اور بلیک میلنگ
کچھ فیکٹری مالکان اپنے صنعتی اداروں میں ہونے والی کرپشن کو دیکھتے، سمجھتے اور محسوس کرتے ہوئے بھی اسے برداشت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک عجیب صورتِ حال دکھائی دیتی ہے کہ کوئی شخص کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے کے بعد اپنے ہی ادارے میں ہونے والی بدعنوانی کے سامنے بے بس کیوں ہو جاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ کرپشن کسی بھی صنعتی ادارے کی خاموش دیمک ہے، جو بظاہر اس کی عمارت کو کھڑا رہنے دیتی ہے، مگر اندر سے اس کی بنیادیں کھوکھلی کرتی رہتی ہے۔ فیکٹری میں کرپشن کی ایک بڑی وجہ بدانتظامی اور غیر مؤثر انتظامی نظام ہے۔ فرض کریں آپ دس پندرہ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر کے ایک صنعتی ادارہ قائم کرتے ہیں، لیکن کئی سال گزرنے کے باوجود ملازمین کی بھرتیاں باقاعدہ طریقۂ کار کے بجائے زبانی ہدایات پر ہوتی ہیں۔ ملازمین کی آمدورفت، حاضری اور چھٹیوں کا کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں۔ ایڈمن سیکشن قائم نہیں کیا گیا، فیکٹری کا مرکزی گیٹ چوبیس گھنٹے کھلا رہتا ہے، ملازمین ادارے کے اندر ہی رہائش پذیر ہیں اور کروڑوں روپے کا خام مال اور تیار شدہ مصنوعات غیر محفوظ حالت میں فرش پر پڑی ہیں۔ رات کے وقت نگرانی کے لیے کوئی چوکیدار بھی موجود نہیں۔ ایسی صورتِ حال میں چوری، خوردبرد اور کرپشن کے امکانات پیدا ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب ایک کاروباری شخص اپنی قیمتی گاڑی، گھر اور ذاتی سامان کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات کرتا ہے تو پھر کروڑوں روپے کی صنعتی سرمایہ کاری کو غیر محفوظ کیوں چھوڑ دیتا ہے؟ کاروبار صرف مشینیں لگانے اور مال تیار کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے لیے ایک مضبوط انتظامی اور حفاظتی نظام بھی ضروری ہے۔
بات صرف مالی بدعنوانی تک محدود نہیں رہتی۔ اگر فیکٹری میں بجلی اور روشنی کا مناسب انتظام نہیں، پروڈکشن ہال اور اسٹورز اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں، ملازمین کو پینے اور نہانے کے لیے صاف پانی میسر نہیں، واش رومز کی حالت ناقص ہے اور کارکن موبائل فون کی روشنی میں بیت الخلا استعمال کرنے پر مجبور ہیں تو یہ انتظامی نااہلی کی بدترین مثال ہے۔ یاد رکھیے، جن ملازمین کو آپ بنیادی انسانی سہولیات فراہم نہیں کرتے، ان سے غیر معمولی وفاداری اور ادارے کے ساتھ جذباتی وابستگی کی توقع بھی نہیں رکھ سکتے۔ کیونکہ ملازم کی عزت، سہولت اور تحفظ دراصل ادارے کے مفاد کا تحفظ ہے۔ محرومی، ناانصافی اور بدسلوکی کارکن کے اندر احساسِ محرومی پیدا کرتی ہے، جو بعض اوقات بدعنوانی، چوری اور ادارے سے عدم دلچسپی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر محروم ملازم بدعنوان ہوتا ہے، بلکہ یہ کہ ناقص انتظامیہ بدعنوانی کے لیے سازگار ماحول فراہم کر دیتی ہے۔ ایک اور خطرناک صورتِ حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مالک دس پندرہ کروڑ روپے فیکٹری پر خرچ کرنے کے بعد اس سے دگنی رقم مارکیٹ میں پھنسا دیتا ہے، مگر وصولیوں، ادھار کی حد، ایڈوانس، گاہکوں کی ساکھ اور مالی معاملات کا کوئی مؤثر احتساب نہیں کرتا۔ اگر کوئی پارٹنر، ڈائریکٹر یا جنرل منیجر جواب دہی ہی سے بالاتر ہو جائے تو اس کے پیچھے مفادات کا تصادم، اختیارات کا ناجائز استعمال یا بلیک میلنگ بھی ہو سکتی ہے۔ بغیر مناسب انٹری کے تیار مال باہر لے جانے کا کیا مطلب ہو سکتا یے۔ بعض مالکان اس خوف سے خاموش رہتے ہیں کہ اگر انہوں نے شراکت داری ختم کی یا جنرل منیجر تبدیل کیا تو مارکیٹ میں پھنسے ہوئے کروڑوں روپے ڈوب جائیں گے۔ لیکن یہ سوچ کاروباری خودکشی کے مترادف ہے۔ جس شخص یا نظام کی وجہ سے آپ کا سرمایہ غیر محفوظ ہو رہا ہو، اسی پر مزید انحصار کرنا نقصان کو بڑھانے کے سوا کچھ نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر صنعتی ادارے میں باقاعدہ ایڈمن، اکاؤنٹس، اسٹور، سکیورٹی اور پروڈکشن کنٹرول کا نظام قائم کیا جائے۔ ملازمین کا مکمل ریکارڈ رکھا جائے، خام مال اور تیار شدہ مصنوعات کی روزانہ بنیادوں پر جانچ ہو، مارکیٹ کی وصولیوں کا باقاعدہ آڈٹ کیا جائے اور کسی بھی عہدے دار کو احتساب سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔
یاد رکھیے! کامیاب فیکٹری صرف سرمایہ، مشینری اور مزدوروں سے نہیں چلتی، بلکہ دیانت دار قیادت، منظم انتظامیہ، شفاف مالیاتی نظام اور باہمی اعتماد سے ترقی کرتی ہے۔ مالک کو بھی سمجھنا چایئے کہ کاروبار میں نرمی اور اعتماد اچھی صفات ہیں، مگر آنکھیں بند کر کے اختیار سونپ دینا دانش مندی نہیں۔ کیونکہ جب انتظامیہ پر احتساب کا دروازہ بند ہو جائے تو کرپشن کے لیے تمام راستے کھل جاتے ہیں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔