خوئے غلامی نہ گئی!
سر ونسٹن چرچل (Winston Churchill) کا شمار جنگ عظیم دوم کے فاتحین میں ہوتا یے۔ برطانویوں کے نزدیک ان کا کرادر کسی ہیرو سے کم نہیں تھا۔ وہ 1940ء میں اس وقت برطانیہ کے وزیر اعظم بنے، جب نازی جرمنی کے حملوں کے بعد برطانیہ کو شکست کا سامنا تھا۔ انہوں نے انتہائی مشکل حالات میں اپنی تقاریر اور عزم کے ذریعے برطانوی عوام کا حوصلہ بلند رکھا اور اتحادی افواج کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ونسٹن چرچل دو دفعہ 1940ء سے 1945ء اور پھر 1951ء سے 1955ء تک برطانیہ کے وزیر اعظم رہے۔ اتحادی قوتوں کے زیراثر مغربی دنیا بھی چرچل کو ایک مدبّر اور زیرک سیاستداں مانتی ہے۔ چرچل سیاست کے علاوہ ایک بہترین مصنف اور مصور بھی تھے جنہیں 1953ء میں ادب کا "نوبل انعام” بھی دیا گیا۔ گو کہ برطانوی تاریخ میں انہیں ایک عظیم رہنما مانا جاتا ہے اور پورے برطانیہ میں وہ ایک مثالی لیڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں لیکن ان خدمات کے باوجود برصغیر (پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش) میں انہیں ایک انتہائی متنازع کردار سمجھا جاتا ہے۔ انہیں مشرقی بنگال میں 1942ء اور 1943ء کے طویل سمندری طوفان، سیلاب اور قحط کے المناک واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، جس میں لاکھوں افراد بھوک سے ہلاک ہو گئے تھے۔ کہتے ہیں کہ اس وقت چرچل اور ان کی کابینہ نے اس قدرتی آفت کو حل کرنے کی بجائے اسے بدتر کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔ تاریخ کے ناقدین کے مطابق، چرچل کی پالیسیوں کی وجہ ہی سے اس قحط نے تباہ کن شکل اختیار کی تھی۔ چرچل خود کہا کرتا تھا کہ اسے بنگالیوں اور ہندوستانیوں سے نفرت ہے۔ انہوں نے اپنی جوانی میں ایک فوجی اور جنگی نامہ نگار کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں، جس کے دوران وہ برصغیر کے علاقے مالاکنڈ (خیبر پختونخوا) میں بھی تعینات رہے اور انہوں نے "دی سٹوری آف دی مالاکنڈ فیلڈ فورس” (The Story of the Malagand Field Force) کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی۔ لیکن اس سے ان کی بدنام شہرت کا ازالہ نہ ہو سکا۔ بنگال اور مالاکنڈ کے لوگ آج بھی چرچل کو ہٹلر سے بڑا ظالم اور قاتل تصور کرتے ہیں۔ ان کے کچھ مغربی ناقدین بھی چرچل کو انتہائی سفاک حکمران قرار دیتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے قیام میں بھی چرچل کا کردار متنازعہ تھا، جس نے آج پورے خطے کے امن کو تباہ کر رکھا ہے۔
انسانی تاریخ کا ایک المیہ ہے کہ یہ صرف فاتحین کو ہیرو کا درجہ دیتی ہے، خواہ وہ کتنے ہی سفاک قاتل کیوں نہ ہوں۔ جنگ عظیم دوم ہی کی مثال لے لیں کہ دنیا بھر میں جرمنی کے نازی ہٹلر کے خلاف سخت نفرت پھیلائی گئی ہے اور اس حوالے سے حقائق پر اتنا پردہ ڈالا گیا ہے کہ کوئی یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ کیسے مرا تھا یا اس کا کیا انجام ہوا تھا لیکن اس کے سب سے بڑے حریف ونسٹن چرچل ہی کو لے لیں کہ جب اتحادی افواج کو فتح نصیب ہوئی تو چرچل کو نہ صرف ہیرو کا درجہ دیا گیا بلکہ اسے نوبل کے انعام کا حق دار بھی ٹھہرایا گیا، اور انہیں "سر” کے خطاب سے بھی نوازا گیا۔
یہ فتح ہی ہے جو مفتوح اقوام میں "خوئے غلامی” پیدا کرتی ہے۔ جب جنگ عظیم دوم ہو رہی تھی تو برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی کا وعدہ کر کے "محوری قوتوں” کے خلاف لڑایا گیا۔ محوری ممالک (Axis Powers) میں دوسری جنگ عظیم (1939 تا 1945) کے وہ ممالک شامل تھے جو جرمنی کا ساتھ دے رہے تھے، جن میں اٹلی (مسولینی)، ہنگری، رومانیہ، بلغاریہ، فن لینڈ اور تھائی لینڈ وغیرہ شامل تھے۔ ان کے مقابلے میں اتحادی ممالک (Allies Countries) تھے جس میں برطانیہ، امریکہ، سوویت یونین، چین اور فرانس وغیرہ سرفہرست ہیں، جو امریکہ کے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے ایٹم بموں کے بعد فتح یاب ہوئے اور انہوں نے "اقوام متحدہ” کے نام سے ایک عالمی تنظیم بنائی جو عالمی مسائل کے حل کے نام پر "برائے نام” آج بھی قائم ہے۔1936 میں مسولینی نے کہا تھا "برلن-روم محور” (Berlin Rome Axis) یعنی یہ دونوں شہر ایک محور کے گرد گھوم رہے ہیں جس میں بعد میں جاپان بھی شامل ہو گیا۔ جنگ عظیم دوم کے خاتمے پر آزادیاں تو دی گئیں لیکن ان نو آبادیاتی اقوام میں غلامی کی خو نہ گئی۔ ہمارے ملک کے انٹر میڈیٹ کے تعلیمی کورس میں پہلے چرچل کا ایک مضمون جس کا عنوان "لڑکے کالج میں کیوں فیل ہوتے ہیں” (Why Boys Fail in College) شامل تھا (نجانے ابھی ہے یا نہیں)۔ اور تو اور پاکستان کی عدالتوں میں برطانوی دور کے قوانین تعزیراتِ پاکستان 1860 اور مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898 رائج ہیں جو برطانوی انگریزوں نے بنائے تھے۔ ہمارے وکلاء حضرات آج بھی وہی "غلامانہ لباس” پہن کر عدالتوں میں جرح کرتے ہیں جو انگریزوں کے دور میں پہنا جاتا تھا۔ چرچل کے ایک مضمون کے مطابق سیاست کے شوق میں ونسٹن چرچل نے اپنی کتابیں آدھی رات کے وقت لندن کے "دریائے تھیمز” (River Thames) میں پھینکی تھیں لیکن ہم نے تو اپنے پورے نظام انصاف اور تعلیم ہی کو دریائے غلامی کی نظر کر رکھا ہے۔
زرا سوچیں کہ فتح ہی مفتوح اقوام میں خوئے غلامی پیدا کرتی ہے۔
چرچل برطانیہ کا ہیرو ہے لیکن وہی ہیرو بنگال کا قاتل ہونے کی وجہ سے ہمارے ہاں متنازعہ ہے۔ اس کے باوجود کہ بنگال کے قحط میں لاکھوں لوگ بھوک سے مرے، اور چرچل نے اناج کے جہاز واپس بلا لیئے۔ فتح کی یہی وہ غلامانہ تاریخ ہے جو ہمیں پڑھائی جاتی ہے۔ "لڑکے کالج میں کیوں فیل ہوتے ہیں” آج بھی ہم انٹر کے کورس میں پڑھتے ہیں۔ چرچل نے جن کتابوں کو آدھی رات کے وقت تھیمز میں پھینکا تھا، ہم اسی بیکار کورس کو "جدید” سمجھ کر اپنے طلباء کو پڑھا رہے ہیں۔ ہم نے اپنا پورا نظام انصاف بھی انگریزوں کی تعزیرات کے ضابطہ فوجداری کے حوالے کر رکھا ہے۔ اوپر سے لباس کی غلامی ملاحظہ کریں کہ وکیل آج بھی وہی کالے کوٹ اور سفید وگ والا "ماتمی لباس” پہنتے ہیں جو ایک انگریز شہزادی کی موت پر عدالت میں گورے وکیل پہن کر آئے تھے۔ آتی ہے مگر شرم ہم کو مگر نہیں آتی! یہ لباس برطانیہ کی سردی اور برطانوی شہزادی کے ماتم کے لئے پہنا گیا تھا۔ ہم 45 سینٹی گریڈ کی گرمی میں بھی یہی "غلامانہ لباس” برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ہمیں آزادی تو مل گئی مگر ہمارے زہنوں میں غلامی ابھی بھی باقی ہے جیسے 1936 کا "برلن-روم محور” تو ٹوٹ گیا، لیکن 1860 کا "لارڈ میکالے کا محور” ہماری تعلیم و عدالت کے نظام میں آج بھی گھوم رہا ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔