تاریخی تهذیبی ترقی مگر جنگلی اخلاقی اقدار
آج کے تہذیبی طور پر ترقی یافتہ انسان کو سائنسی زبان میں "ہومو سیپئین” (Homo Sapien) کہا جاتا ہے۔ انسان کی اس سے پچھلی نسل کو آثار قدیمہ کے ماہرین اور سائنس دان "نیندرتھال” (Neanderthal) کا نام دیتے ہیں۔نیندرتھال کی باقیات کا پہلا بظاہر ثبوت مراکش کے پہاڑ "جبلِ ارھود” کی کھدائی کے دوران اس وقت ملا تھا، جب 1961ء میں مراکو کا ایک مزدور کان میں کام رہا تھا تو اسے انسانی کھوپڑی کے "فوسلز” (Fossils) ملے۔ ابتداء میں یہ خیال کیا گیا کہ یہ نیندرتھال انسان کی باقیات ہیں جو 3 لاکھ سال پرانی ہیں۔ اس کے بعد ماہرین نے وہاں مزید کھدائی کی تو انہیں کچھ اور انسانی ہڈیاں اور اوزار ملے۔
ابتداء میں محققین نے یہ سمجھا تھا کہ یہ انسانی نسل نیندرتھال ہے جو 40 ہزار سال پرانی ہے۔ اس مد میں اصل اہمیت کا انکشاف 2017ء میں تب ہوا جب جرمن سائنس دان "جین جیکوس ہبلن” (Jean Jacques Hublin) کی ٹیم نے دوبارہ اسی جگہ جدید ٹیکنالوجی سے کھدائی کی اور تحقیق کے بعد ثابت کیا کہ یہ کوئی نیندرتھال نہیں، بلکہ یہ جدید انسان "ہوموسیپئن” (Homo Sapien) ہی ہے جس کی حقیقی عمر 3 لاکھ 15 ہزار ( 315,000) سال ہے۔ یہ تحقیق انگلینڈ اور جرمنی سے شائع ہونے والے مشہور سائنسی جریدے "نیچر” (Nature) میں 7 جون 2017ء کو شائع ہوئی۔ انسانی تاریخ کی اس دریافت کے بعد انسانی نسل کی اصل عمر 1 لاکھ سال پیچھے چلی گئی، کیونکہ اس سے پہلے ایتھوپیا سے دریافت ہونے والا قدیم ترین انسانی فوسل 1 لاکھ 95 ہزار سال پرانا سمجھا جاتا تھا۔
انسان کی تہذیبی و ارتقائی ترقی اور آثار قدیمہ کے محققین دعوی کرتے ہیں کہ نیندرتھال انسان ہمارے جیسے انسانوں کی ایک معدوم نسل ہے جو ہم سے بہت ملتی جلتی تھی۔ ان کا خیال ہے کہ نیندرتھال جدید ہومو سیپئین انسان کے کزن ہیں (جیسے دو بھائی ایک باپ کی اولاد ہوں)۔ ان کی رائے میں آج کی جدید ہومو سیپئین انسانی نسل نیندرتھال انسانوں ہی سے آئی ہے، جو تقریباً 6 لاکھ سال پہلے روئے زمین پر رہتے تھے۔ اس انسانی نسل کے لوگ تقریباً 4 لاکھ سے 40 ہزار سال پہلے تک یورپ، مشرقِ وسطیٰ، اور وسطی ایشیا میں جرمنی کی "نیندر وادی” (Neander Valley) میں رہتے تھے، جہاں سے ان کی پہلی ہڈیاں ملی تھیں، اور وہیں سے ان کا نام "نیندرتھال” پڑ گیا تھا۔ اس نیندر وادی میں رہنے والے انسان یعنی نیندرتھال ہم سے تھوڑے چھوٹے قد اور زیادہ مضبوط جسم کے مالک تھے، انکی بھاری بھنوئیں اور بڑی ناک تھی مگر ان کا دماغ ہمارے جتنا، بلکہ ہم سے تھوڑا بڑا تھا۔
آپ نے سائنسی اور دستاویزی فلموں میں بڑے بالوں اور آدھے سیدھے قد والے نیندرتھال انسانوں کو جنگلی جانوروں کو پکڑتے یا شیروں کے شکار شدہ جانور چھینتے دیکھا ہو گا۔ یہ ابتدائی انسان ہماری آج کی ترقی یافتہ تہزیب کے "بانی” تھے۔ وہ غاروں اور جنگلوں میں رہتے تھے، آگ جلاتے تھے، اوزار اور نیزے بناتے تھے اور خوراک کے لیئے جنگلی جانوروں کا شکار کرتے تھے۔ وہ اپنے مردوں کو دفناتے تھے، یعنی وہ موت کا تصور بھی رکھتے تھے۔ ان ابتدائی انسانوں میں بھی "انسانیت” اور "ہمدردی” موجود تھی، کیونکہ وہ غاروں کے اندر گھر بنا کر اکٹھے رہتے تھے، آپس میں جانوروں کا گوشت تقسیم کرتے تھے اور بیماروں کا بھی خیال رکھتے تھے۔
تحقیق کے دوران غاروں میں رہنے والے ان انسانوں کے ہاتھوں سے بنی پینٹنگز بھی ملی ہیں۔پہلی مشہور "غاروں کی پینٹنگز” (Cave Paintings) سپین کے ایک شوقیہ ماہرِ آثار قدیمہ "مارسیلینو سانز” (Marcelino Sanz) کو ملیں۔ وہ اپنی 8 سالہ بیٹی ماریا کے ساتھ "الٹامیرا” غار میں گیا جہاں اس نے "بائسن” جنگلی بھینسوں کی رنگین تصویریں دیکھیں۔ شروع میں کسی نے یقین نہیں کیا کہ اتنی پرانی تصویریں اتنی خوبصورت بھی ہو سکتی ہیں۔ اس دریافت کو 20 سال بعد سچ مانا گیا۔ ان میں سب سے مشہور پینٹنگ لاسکاکس، فرانس سے 1940 میں اس وقت دریافت ہوئی جب 4 لڑکوں نے کتے کا پیچھا کرتے ہوئے ایک غار دریافت کی جس میں 17,000 سال پرانی 600 سے زیادہ جانوروں کی پینٹنگز موجود تھیں۔ یہ دریافت دوسری جنگ عظیم کے دوران ہوئی۔ اس سے بھی پرانی پینٹنگ شاوے غار، فرانس سے 1994 میں ملی جو 36,000 سال پرانی بتائی جاتی ہے۔ جبکہ 2019 میں انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی کی غار میں 45,500 سال پرانی جنگلی سور کی تصویر ملی، جسے اب دنیا کی سب سے پرانی معلوم "تصویری پینٹنگ” (Picture Painting) مانا جاتا ہے۔
ان دریافتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قدیم انسان بھی اپنے عہد کے ترقی یافتہ ترین انسان تھے۔ نیندرتھال انسانی نسل 40 ہزار سال پہلے اچانک ختم ہو گئی۔ اس کی وجہ پوری طرح معلوم نہیں ہے، لیکن دو بڑی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ اول جدید انسان افریقہ سے آ کر ان سے زیادہ ذہین ثابت ہوئے اور دوم موسم کی شدید تبدیلی آئی جس سے نیندرتھال کی یہ انسانی نوع ختم ہو گئی۔ صحیح معنوں میں ہومو سیپئین (Homo Sapien) انسانی تہذیب کا آغاز زمین میں کاشت کاری سے ہوا جب انسان نے کھیتی باڑی اور گاؤں بسانا شروع کیئے، یہ تقریباً 12,000 سال پہلے کی بات ہے۔ اسے "نی او لیتھک انقلاب” (Neolithic Revolution) کہتے ہیں۔
انسان کی "باقاعدہ تہذیب” کا آغاز تیسرے مرحلے میں ہوا جب شہر آباد ہوئے، لکھائی کی ابتداء ہوئی اور حکومت قائم کی جانے لگی۔ یوں جسے ہم "تہذیب” (Civilization) کہتے ہیں یعنی شہر، لکھائی، قانون، سلطنت اور حکومت وغیرہ وہ تقریباً 5,000 سے 6,000 سال پرانی ہے۔میسوپوٹیمیا عراق اور مصر کی انسانی تہذیبیں 3500 – 3000 قبل مسیح کی ہیں۔ وادی سندھ، موہنجوداڑو اور ہڑپہ کی تہزیبیں 2600 قبل مسیح کی ہیں۔ بلوچستان مہر گڑھ کی تہذیب 7000 قبل مسیح کی ہے۔ یہ تمام انسانی تہذیبیں اپنے اپنے عہد کی ترقی یافتہ ترین تہذیبیں تھیں۔
یہ ساری انسانی تہذیبیں پانی کے قریب وہاں آباد ہوئیں جہاں گھنے جنگل تھے اور جانوروں کی بہتات تھی۔ انسان میں "حیوانیت” کی قدیم سرشت اسی "جنگلی زندگی” کا شاخسانہ ہے جس کا مظاہرہ وہ "تہذیب یافتہ” کہلانے کے باوجود حقوق کی چھینا جھپٹی، ظلم اور قتل و غارت کی شکل میں سرعام اور دیدہ دلیری سے کرنے کا مرتکب آج بھی ہو رہا ہے۔
تہزیبی ترقی دنیا میں محض آسمان کو چھوتے سنگ مرمر، ربڑ، لکڑی اور شیشے کے ٹاور بنانے کا نام نہیں، تہذیبی ترقی انسانی کردار اور اخلاقی اقدار کو آگے بڑھانے کا مسلسل سفر ہے۔ شائد نیندرتھال مکمل ختم نہیں ہوئے۔ آج بھی سائنسی نام سے پکارے جانے والے ہم ہومو سیپئنز (Homo Sapiens) انسانوں میں سے ہر غیر افریقی انسان میں 1فیصد سے 2 فیصد "ڈی این اے” (DNA) ان نیندرتھال انسانوں کا ہے، کیونکہ دعوی کیا جاتا ہے کہ جب نیندرتھال انسان یورپ میں موجود ہومو سیپئین انسانوں کے پاس پہنچے تو دونوں نسلوں نے آپس میں ملاپ کیا تھا۔ ہمارے اندر جتنے بھی دوغلاے اور منفی رویئے اور عادات ہیں یہ اسی "جنگلی زندگی” (Jungle Life) اور "کراس بریڈنگ” (Cross Breeding) کا نتیجہ ہیں۔
آج کے تہذیبی طور پر ترقی یافتہ ترین ہم انسان خود کو اس کرۂ ارض کی اعلی ترین انسانی نسل سمجھتے ہیں۔ ہم "اشرف المخلوقات” بھی کہلاتے ہیں۔ ہم نے پہاڑوں کے سینے چیر کر راستے بنائے، سمندروں کی گہرائیوں تک رسائی حاصل کی، چاند پر قدم رکھا، مریخ کے بارے میں تحقیق آگے بڑھائی اور مصنوعی ذہانت جیسی حیران کن ٹیکنالوجی تخلیق کر لی۔ آج ایک شخص دنیا کے دوسرے کونے میں موجود انسان سے چند لمحوں میں رابطہ کر سکتا ہے۔ انسان کے پاس بیماریوں کی تشخیص کے جدید طریقے موجود ہیں، سفر کی رفتار صدیوں پہلے کے مقابلے میں ناقابلِ تصور حد تک بڑھ چکی ہے اور جدید معلومات ڈیجیٹل موبائل فونز کی صورت میں انسان کی انگلیوں پر موجود ہیں۔ مگر سوچنے کی بات ہے: "کیا ہم بنی نوع انسانوں نے ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ کچھ اخلاقی ترقی بھی کی ہے یا نہیں؟”
اگر ترقی کا مطلب صرف زیادہ طاقت، زیادہ دولت، زیادہ رفتار اور زیادہ جدید ٹیکنالوجی ہے تو بلاشبہ انسان نے غیر معمولی ترقی کی ہے، لیکن اگر ترقی کا معیار انصاف، رحم، دیانت، برداشت، انسانی وقار اور دوسروں کے حقوق کا احترام بھی ہے تو شائد ہم ترقی یافتہ ہومو سیپئن انسان جرمنی کی "نیندر بستی” کے باسی نیندرتھال انسانوں سے بہت پیچھے ہیں۔
آج کی جدید بنی نوع انسان کہلانے والی نسل کے پاس زندگی کی جدید آسائشیں اور سہولتیں تو ہیں مگر تعلیم و تہذیب کے باوجود ارتقائی ترقی سے حاصل ہونے والی "انسانیت” نہ ہونے کے برابر ہے۔ دنیا بھر میں روزانہ انسان کے ہاتھوں ہونے والے "مظالم” اور "بربریت” کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ غاروں میں رہنے والے نیندرتھال ہم سے زیادہ تہزیب یافتہ اور ہم سے بدرجہا بہتر انسان تھے۔ آج کے بنی نوع انسان ٹیکنالوجی میں ترقی یافتہ ضرور ہیں مگر ان کی اخلاقی اقدار اور تہذیب آج بھی "جنگلی” محسوس ہوتی ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔