جوبائیڈن- ٹوٹ کر جڑا مجسمہ!
زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ انسان ہمیشہ مضبوط نہیں رہتا۔ کبھی حالات اسے اندر سے توڑ دیتے ہیں، کبھی اپنوں کی جدائی اس کے وجود میں ایسا خلا پیدا کر دیتی ہے کہ جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہوتا، اور کبھی ناکامیوں کا تسلسل انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ شاید اب آگے بڑھنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی۔ مگر عظیم انسان وہ نہیں جو کبھی ٹوٹتا نہیں، عظیم انسان وہ ہے جو ٹوٹنے کے بعد خود کو دوبارہ جوڑ لیتا ہے۔
سابق امریکی صدر جوبائیڈن کی زندگی اسی حقیقت کی ایک نمایاں مثال ہے۔ جوبائیڈن کا شمار امریکی سیاسی تاریخ کے سب سے کامیاب اور تجربہ کار رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ بائیڈن نے امریکی سیاست میں طویل سفر طے کیا۔ وہ 1973 سے 2009 تک امریکی سینیٹ کے رکن رہے جو 36 سال کا عرصہ بنتا۔ لیکن جوبائیڈن کی اصل کہانی اقتدار کے ایوانوں سے زیادہ آزمائشوں سے جڑی ہوئی ہے جن سے وہ اپنی نجی زندگی میں گزرے۔
جب جوبائیڈن 1972 میں پہلی بار صرف 29 سال کی عمر میں سینیٹر بنے تو حلف سے 7 دن پہلے ان کی بیوی نیلیا اور 1 سالہ بیٹی ناومی کار حادثے میں جاں بحق ہو گئیں، دونوں بیٹے بو اور ہنٹر شدید زخمی ہوئے۔ وہ سینیٹ میں حلف بھی بیٹوں کے ہسپتال کے کمرے میں لے کر گئے اور کئی سال تک استعفیٰ دینے کا سوچتے رہے مگر جب ان پر سرکاری ذمہ داریوں کا بوجھ پڑا تو پھر ملک و قوم کی خاطر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا حالانکہ یہ سانحہ ایک ایسے شخص کے لیئے ناقابل تصور صدمہ تھا جس کی سیاسی زندگی ابھی شروع ہی ہوئی تھی۔بائیڈن نے جِل ٹریسی جیکبز سے 1977 میں شادی کی، اور ان کی بیٹی ایشلے 1981 میں پیدا ہوئی۔
جوبائیڈن صدر بننے کے لیئے 3 بار میدان میں اترے۔ 1988 میں صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ کے دوران ان کے دماغ کی "دو جان لیوا سرجریاں” Brain Aneurysm ہوئیں۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ بائیڈن کے بچنے کے امکان 50 فیصد سے بھی کم ہیں۔ وہ 7 ماہ تک سیاست سے دور رہے، اور 1988 کا صدارتی الیکشن بھی ہار گئے۔ ان پر الزام لگا کہ انہوں نے تقریر چوری کی تھی۔ 2008 کے صدارتی انتخابات میں بھی وہ ناکام رہے جب وہ براک اوبامہ سے ہارے۔ صدارتی انتخابات میں شکست کے باوجود جوبائیڈن نے 2009 سے اوباما کے ساتھ بطور نائب صدر کام کرنا شروع کر دیا مگر زندگی نے ان کا امتحان ختم نہیں کیا۔
سنہ 2015ء میں ان کا بڑا بیٹا بو بائیڈن، جو بہت کامیاب اٹارنی جنرل بھی تھا اور جسے وہ اپنا سیاسی وارث سمجھتے تھے، دماغی کینسر سے 46 سال کی عمر میں فوت ہو گیا۔ ایک باپ کے لیئے اس سے بڑا دکھ شاید ہی کوئی ہو کہ وہ اپنے جوان بیٹے کو اپنی آنکھوں کے سامنے دنیا سے رخصت ہوتے دیکھے۔ یہیں سے بائیڈن کی زندگی ہمیں ایک انتہائی اہم سبق دیتی ہے کہ انسان کے پاس ہمیشہ حالات کو بدلنے کی طاقت نہیں ہوتی، لیکن حالات کے لیئے اس کے پاس مقابلے اور اپنے رویئے کو بدلنے کی طاقت ہمیشہ اور ہمہ وقت موجود رہتی ہے۔
یہ وہی واقعہ ہے جس کے بعد جوبائئڈن کو دیکھ کر یہ محاورہ زبان زد عام ہوا تھا: "اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کتنی بار گرے، فرق اس سے پڑتا ہے کہ آپ کتنی بار اٹھے۔” جوبائیڈن نے 2017 تک اوباما کے نائب صدر کی حیثیت سے کل 8 سال تک خدمات انجام دینے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہی حوصلہ مند سیاست دان جوبائیڈن سنہ 2020ء کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ (موجودہ امریکی صدر) کو شکست دے کر 20 جنوری 2021 کو امریکہ کے 46ویں صدر بن گئے جس کے بعد وہ اس عہدے پر 20 جنوری 2025 تک فائز رہے۔
چین میں ٹوٹے ہوئے برتنوں کو دوبارہ جوڑنے کا ایک فن مشہور ہے۔ بعض اوقات ٹوٹے ہوئے برتن کو اس طرح مرمت کیا جاتا ہے کہ اس کے ٹوٹنے کے نشانات ہی اس کی خوبصورتی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یوں وہ برتن پہلے جیسا نہیں رہتا، بلکہ اپنی شکستگی کی کہانی کے باعث زیادہ منفرد اور قیمتی محسوس ہوتا ہے۔ انسان بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
جو شخص مشکلات سے گزرتا ہے، ناکام ہوتا ہے، اپنوں کو کھوتا ہے، تنقید برداشت کرتا ہے اور پھر بھی زندگی کی طرف واپس پلے آتا ہے، وہ پہلے والا انسان نہیں رہتا۔ اس کے اندر تجربے کی گہرائی، برداشت کی طاقت اور زندگی کو سمجھنے کی "نئی بصیرت” پیدا ہو جاتی ہے۔ ہم میں بہت سے لوگ ایک ہی ناکامی کے بعد ہمت ہار جاتے ہیں۔ کاروبار میں نقصان ہو جائے تو سمجھتے ہیں کہ زندگی ختم ہو گئی۔ ملازمت چلی جائے تو کچھ لوگوں کو مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہے۔ کسی رشتے میں ناکامی ہو تو دل ٹوٹ جاتا ہے۔ امتحان میں ناکامی ملے تو انسان خود کو ناکام سمجھنے لگتا ہے۔
کامیاب زندگی کی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ناکامی انسان کی آخری منزل نہیں، بلکہ اکثر اگلی کامیابی کی تیاری ہوتی ہے۔ زندگی میں کبھی خود کو اپنی شکست کے حوالے نہ کریں۔ اگر آپ ٹوٹ گئے ہیں تو اپنے ٹکڑے سمیٹیں، انہیں دوبارہ جوڑیں اور پہلے سے زیادہ مضبوط بن کر کھڑے ہو جائیں۔ یاد رکھیں، دنیا ہمیشہ مکمل اور بے عیب لوگوں کو یاد نہیں رکھتی۔ دنیا ان لوگوں کو زیادہ یاد رکھتی ہے جو شدید آزمائشوں کے باوجود گر کر دوبارہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
اس لیے آج اگر حالات آپ کے خلاف ہیں تو مایوس نہ ہوں۔ شاید یہی مشکل آپ کے اندر وہ شخصیت پیدا کر رہی ہے جو کل آپ کی کامیابی کی بنیاد بنے گی۔ ٹوٹنا شکست نہیں، ٹوٹ کر دوبارہ جڑ جانا اصل کامیابی ہے۔ شاید اسی لیے بعض انسان اپنی زندگی کے اختتام پر صرف کامیاب انسان نہیں رہتے، بلکہ اپنی جدوجہد کی وجہ سے ٹوٹ کر جڑے ہوئے کامیابی کے مجسمے بن جاتے ہیں۔
جوبائیڈن کی زندگی واقعی ٹوٹ کر جڑنے کی بہترین مثال ہے۔ ممکن ہے بائیڈن کے بارے آپکو یہ حقیقت بھی معلوم نہ ہو کہ وہ بچپن میں شدید "ہکلاتے” تھے۔ کلاس میں بچے انہیں "بائی بائی” Bye-Bye کہہ کر ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ انہوں نے آئینے کے سامنے گھنٹوں کھڑے ہو کر اور شاعری پڑھ کر اس پر قابو پایا۔ امریکی صدر بننے تک وہ کبھی کبھار اٹکتے تھے، لیکن اسی کمزوری نے انہیں سیاست میں عام لوگوں سے جوڑ کر ایک حوصلہ مند اور عظیم سیاست دان بنا دیا۔
جوبائیڈن نے ہمت نہیں ہاری اور وہ 2020 میں 77 سال کی عمر میں امریکہ کے صدارتی انتخابات جیتے۔ جنوری 2021 کو جوبائیڈن وائٹ ہاوس میں امریکہ کی تاریخ کے سب سے "عمر رسیدہ” صدر بنے یعنی جوبائیڈن کو 32 سال کی سیاسی جدوجہد کے بعد امریکی صدر بننے کی منزل ملی۔
یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ جوبائیڈن اپنی پہلی بیوی کی وفات کے بعد دونوں بیٹوں کو اکیلا سنبھالنے کے لیئے 36 سال تک روزانہ ٹرین سے 4 گھنٹے کا سفر کرتے تھے کیونکہ وہ صبح واشنگٹن سے ڈیلاویئر میں بچوں کو سکول چھوڑتے اور پھر رات کو واپس آتے۔ اس لیئے انہیں "ایم ٹراک جو” Amtrak Joe بھی کہا جاتا ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔