دیمک زدہ انسانی تہذیب کا مسئلہ
دیمک زدہ انسانی تہذیب کا مسئلہ
گیبریل گارشیا مارکیز کو انکے ناول، "تنہائی کے سو سال” Hundred Years of Solitude پر 1982ء میں اس وقت "نوبل پرائز” Noble Prize ملا جب ان کی عمر 55 سال تھی لیکن انہیں سب سے زیادہ سراہا انکی وفات کے بعد گیا۔ یہ المیہ ہے کہ بعض "جینئیس” Genius لوگوں کے کام کی سمجھ انکی وفات کے بعد آتی ہے۔ آئن سٹائن اور سٹیفن ہاکنگ جیسے عظیم سائنس دانوں کو بھی زیادہ پذیرائی انکی وفات کے بعد ملی جس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بڑے دماغوں کو ان کے اپنے وقت میں سمجھنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
آئین سٹائن کے "الیکٹرومیگنیٹک ویوز” (Electromagnetic Waves) جیسے سائنسی نظریئے کو ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے سو سال بعد سمجھا اور ثابت کیا گیا۔ گیبریل گارشیا مارکیز ادب کا اتنا بڑا دماغ تھے کہ انہیں بھی زیادہ شہرت ان کی وفات کے بعد ملی۔
گیبریل گارشیا مارکیز کولمبیا کے مشہور صحافی، ڈرامہ نگار، افسانہ نویس اور ناول نگار تھے۔ ان کا پورا نام گیبریل جوز گارشیا مارکیز Gabriel Jose Garcia Marquez تھا۔ وہ لاطینی امریکہ میں "گیبو” Gabo) یا "گیبیٹو” Gabito کے نام سے مشہور تھے جنہوں نے تنہائی کے سو سال، کے نام سے ناول لکھ کر تہلکہ مچا دیا۔ یہ ناول پہلی بار ہسپانوی زبان میں 1967ء میں شائع ہوا جبکہ اس کا انگریزی ترجمہ 1970ء میں ہوا۔ جب 18 اپریل 2014 ء کو گبریل گارشیا نے وفات پائی تو ان کے نام کے ساتھ "نوبل پرائز” Noble Prize لکھا ہوا تھا جو انہیں اسی شہرہ آفاق ناول کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔ یہ ناول جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے، تنہائی اور محرومی کے بہت سے راز اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گبریل گارشیا مارکیز بیسویں صدی کا ایک اہم اور متاثرکن ترین مصنف تھا۔ ان کے اس ناول کا اردو ترجمہ “تنہائی کے سو سال” کے عنوان سے نعیم کلاسرا نے کیا ہے۔
یہ واقعہ مشہور ہے کہ 1965ء میں ایک دن گبریل گارشیا اکاپلکو شہر کی طرف کار ڈرائیور کرتے ہوئے جا رہا تھا کہ اس ناول کا خیال اس کے دماغ پر وارد ہوا تو اس نے اپنی گاڑی کا رخ موڑا اور اپنے گھر میں کوئی 18 ماہ تک بند کمرے میں بیٹھ کر یہ ناول لکھتا رہا۔ اس دوران اس کے گھر والے لگ بھگ پندرہ ہزار پاونڈ کے مقروض ہو چکے تھے۔ گیبریل نے یہ ناول ہسپانوی زبان میں لکھا تھا کیونکہ یہ اس کی مادری زبان تھی جس کی وجہ سے اسے ہسپانوی عظیم ترین ادیب سروا نٹس کے ہم پلہ قرار دیا جاتا ہے۔
عالم ادب میں یہ ناول انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس ناول کو نقادوں کی بہت زیادہ توجہ حاصل ہوئی ہے اور اسے ادب کا ایک شاہکار ناول قرار دیا گیا ہے جس کی آج تک صرف انگریزی زبان کی 50 ملئین سے زیادہ جلدیں فروخت ہو چکی ہیں۔ اس ناول کا دنیا کی 37 مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے۔ اس سے بآسانی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ناول کتنے خاصے کی چیز ہے۔ اس ناول کے قارئین دنیا کے ہر گوشے میں پائے جاتے ہیں۔ اس سے ناول ھذا کی غیرمعمولی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ جب سے یہ ناول لکھا گیا تب سے اس پر دنیا بھر میں تبصرے ہو رہے ہیں۔ "تنہائی کے سو سال”، حقیقت، تخیل اور فکشن کا بہت اچھا امتزاج ہے یہ آپس میں یوں یکجا ہیں کہ کہانی پڑھتے ہوئے تخیلاتی باتیں بھی حقیقت محسوس ہوتی ہیں جیسے ایک موقع پر کرنل ارلیانو بوئندا کے 17 بیٹوں کا ذکر ہے جو تمام کے تمام ایک ہی دن پیدا ہوئے تھے۔ اسی طرح اگوانے بچے بھی غیر فطری ہیں۔ گیبریل کا قلم انہیں اس طرح بیان کرتا ہے کہ وہ حقیقت کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔ سو سال کے عرصے میں “ماکوندو” نامی بستی، قصبہ، اور قصبے سے بڑھ کے ایک رونق افروز شہر کے مندارج طے کرتی ہے۔ یہ بستی شہر میں تبدیل ہوتی ہے اور ریل کی آمد کے ساتھ حیرت انگیز تبدیلیوں سے گزرتی ہے اور بالآخر زندگی سے بھرپور یہی بستی تنہائی میں مبتلا ہو کر مر جاتی ہے۔
تین چار نسلوں میں ہی اس وراثت کو جو اگوانوں سے شروع ہوئی تھی، ایک بڑی دیمک اپنے بل کی طرف گھسیٹ کر لے جاتی ہے۔ کہانی کے اختتام پر خاندان کے آخری سپوت پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ تنہائی کا یہ عذاب کسی ایک فرد کا نہیں، کسی ایک خاندان یا نسل کا بھی نہیں، بلکہ یہ عذاب نئے اور پرانے وقت کی دہلیز پر پوری انسانی تہذیب کا ہے جسے دوبارہ بسنے کا موقع نہیں مل رہا۔ اس ناول کو پڑھتے ہوئے تنہائی کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ یہ وہی تنہائی یے جو دنیا کا ہر انسان اپنے اندر لاشعوری طور پر اور بلاوجہ محسوس کرتا ہے۔ تنہائی کے سو سال، ایک شاہکار ناول ہے تاہم ایک عام قاری کے لئے گبریل گارشیا کے لکھنے کا انداز ایک لاابالی سی الجھن پیدا کرتا ہے۔ ناول میں بوئندا خاندان کی سات نسلوں کا بیان پیش کیا گیا ہے۔ ان کرداروں کے نام بھی آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ کہانی ایک تسلسل کے ساتھ چلتی ہے تاہم کرداروں کے ناموں کی مماثلت قاری کو بھٹکا سکتی ہے۔ یہ ناول مکمل توجہ اور حاضر دماغی کے ساتھ پڑھنے والا ہے۔ تاہم ایک دفعہ قاری گارشیا کے انداز سے واقف ہو جائے تو کہانی اس کے ذہن کے قرطاس پر پھیلاتی چلی جاتی ہے اور وہ اردگرد کی دنیا سے بےخبر ماکوندو کی دنیا میں گم ہو جاتا ہے کہ جہاں گارشیا اسے لے جانا چاہتا ہے۔ گارشیا نے اس ناول میں ایک انوکھا جہان پیش کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کہانی کا پلاٹ اور اسکے کردار پڑھنے والے کے دل اور دماغ پر ایک فلم کی طرح چل رہے ہیں۔ اس ناول کا خلاصہ یہ ہے کہ جب قوموں کے پاس کرنے کو مثبت سرگرمیاں باقی نہ رہیں، جب تعلیم میں سچے ادب اور اعلی فنون لطیفہ کی کمی ہو جائے تو منفی سرگرمیاں پیدا ہو جاتی ہیں جس میں منشیات کے "پنکی” جیسے کردار پیدا ہوتے ہیں۔
گیبریل گارشیا ایک پیدائشی اور فطری مصنف تھا۔ اس نے پہلا ناول 23 برس کی عمر میں لکھا جسکے چھپنے کے لیئے اسے 7 برس تک انتظار کرنا پڑا اور جب یہ چھپا تو اس کی 2 کروڑ کاپیاں دیکھتے ہی دیکھتے فروخت ہو گئیں۔ گیبریل کی دیگر معروف تصانیف آٹم آف پیٹریشیا، لاسٹ سٹارم اینڈ ادر سٹوریز، میموریز آف مائی میلانچولی وورز، دی جنرل ان ہز لیبیرنتھ، لو اینڈ ادر ڈیمنز اور لونگ ٹو ٹیل دی ٹیل وغیرہ ہیں جبکہ اردو میں ترجمہ شدہ میں "برے موسم میں” اور "ایک خنجر پانی” بھی شامل ہیں۔ گیبریل گارشیا کے یہ الفاظ مجھے بہت موٹیویشن دیتے ہیں: "میں سمجھتا ہوں کہ ہر انسان پہاڑی کی چوٹی تک پہنچنا اور وہاں رہنا چاہتا ہے یہ جانے اور محسوس کیئے بغیر کہ اصل خوشی اس رستے میں ہے جو ہمیں اس بلندی کے سفر کی طرف لے جاتا ہے”۔
دیمک زدہ انسانی تہذیب کا مسئلہ
دیمک زدہ انسانی تہذیب کا مسئلہ

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔