بھوسہ اور محبت
افسانہ نگار: سید حبدار قائم
گاؤں کی کچی گلیوں، مٹی کے آنگنوں اور کھیتوں کی ہریالی میں ایک ایسی داستان جنم لے رہی تھی جس کا انجام کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ یہ داستان تھی عاشی اور اکرم کی، جن کی محبت نے وقت کے سینے پر ایک ایسا نشان چھوڑنا تھا جو موت کے بعد بھی مٹ نہ سکا۔
عاشی اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی۔ اُس کے گھر میں ایک بھینس اور ایک گائے تھیں، جن کے دودھ اور فروخت سے گھر کا چولہا جلتا تھا۔ غربت ان کے گھر کی دہلیز پر مستقل مہمان تھی، لیکن اس تنگ دستی کے باوجود عاشی کے چہرے پر ایسی معصوم مسکراہٹ رہتی کہ دیکھنے والا اپنی پریشانیاں بھول جاتا۔ اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں جھیلوں جیسی گہرائی تھی اور گوری رنگت چاندنی رات کا منظر پیش کرتی تھی۔ وہ حسن کے ساتھ سادگی اور شرم و حیا کا پیکر بھی تھی۔
اکرم بھی اسی گاؤں کا رہنے والا تھا۔ دونوں ایک ہی مسجد میں قرآن پاک پڑھنے جایا کرتے تھے۔ بچپن میں ان کی باتیں کتابوں، سبق اور گاؤں کے معمولات تک محدود رہتی تھیں، مگر وقت کے ساتھ دلوں میں ایک انجان سی کشش پیدا ہونے لگی۔ اب مسجد سے واپسی پر چند قدم ساتھ چلنے اور راستے میں دو چار باتیں کر لینے کا انتظار رہتا تھا۔
کبھی اکرم پوچھتا، ’’عاشی! آج تم اتنی خاموش کیوں ہو؟‘‘
وہ نظریں جھکا کر جواب دیتی، ’’کچھ نہیں، بس یوں ہی۔‘‘
اور اکرم اس کے اس مختصر جواب میں بھی محبت کے کئی مفہوم تلاش کرنے لگتا۔
پھر ایک دن زندگی نے عاشی سے اس کے سر کا سایہ چھین لیا۔ اس کے والد اچانک وفات پا گئے۔ گھر میں ماتم چھا گیا اور غربت نے جیسے اپنے پنجے مزید گاڑ دیے۔ ماں پہلے ہی کمزور تھی، چنانچہ گھر کی ذمہ داری عاشی کے نازک کندھوں پر آ پڑی۔
اب وہ صبح سویرے اٹھتی، جانوروں کو چارہ ڈالتی، کھیتوں کا رخ کرتی، گھاس کاٹتی اور گھر کے دوسرے کاموں میں جت جاتی۔ اس کے ہاتھوں میں محنت کے چھالے پڑنے لگے، مگر اس نے کبھی حالات سے شکایت نہ کی۔
اکرم جب اسے کھیتوں کی طرف جاتے دیکھتا تو اس کے دل میں محبت کے ساتھ احترام بھی بڑھ جاتا۔ وہ کبھی اس کے لیے چارے کا گٹھا اٹھا لیتا اور کبھی راستے میں اس کا ہاتھ بٹاتا۔ رفتہ رفتہ دونوں کے دل ایک دوسرے کے نام ہو گئے۔
ایک شام گاؤں کے باہر پیپل کے درخت کے قریب اکرم نے دھیمی آواز میں کہا، ’’عاشی! اگر زندگی نے ساتھ دیا تو تمہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑوں گا۔‘‘
عاشی نے اس کی طرف دیکھا۔ آنکھوں میں نمی تھی اور لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ۔
’’وعدے کرنا آسان ہوتا ہے، اکرم! انہیں نبھانا مشکل۔‘‘
اکرم نے فوراً کہا، ’’میں تمہارے ساتھ جینے اور مرنے کی قسم کھاتا ہوں۔‘‘
عاشی نے اس بات کو دل کی گہرائیوں میں محفوظ کر لیا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ یہ الفاظ ایک دن اکرم کی پوری زندگی کا بوجھ بن جائیں گے۔
سردیوں کی ایک شام تھی۔ سورج کھیتوں کے پیچھے اتر رہا تھا اور گاؤں پر دھند کی چادر پھیلنے لگی تھی۔ عاشی جانوروں کے لیے بھوسہ لینے گئی۔ صحن کے ایک کونے میں بھوسے کا بڑا سا ڈھیر لگا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر بھوسہ نکالنا چاہا ہی تھا کہ اندر چھپا ہوا ایک زہریلا سانپ بجلی کی سی تیزی سے نکلا اور اس کے ہاتھ پر ڈس لیا۔
عاشی کے منہ سے ایک چیخ نکلی۔
’’امّی! بچاؤ!‘‘
اس کی ماں دوڑتی ہوئی آئی۔ عاشی زمین پر گر چکی تھی۔ چند لمحوں میں اس کا چہرہ زرد پڑنے لگا اور سانسیں بے ترتیب ہو گئیں۔ گاؤں کے لوگ جمع ہوئے، علاج کے لیے دوڑ دھوپ ہوئی، مگر زہر اپنا کام کر چکا تھا۔
رات ہونے سے پہلے عاشی اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔
اس دن گاؤں کی فضاؤں میں عجیب اداسی تھی۔ جس گھر میں کبھی جانوروں کی گھنٹیاں بجتی تھیں، وہاں اب سسکیوں کی آوازیں تھیں۔ جس آنگن میں عاشی کی ہنسی گونجتی تھی، وہاں خاموشی نے ڈیرے ڈال لیے تھے۔
جب اکرم نے یہ خبر سنی تو اس کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ وہ بھاگتا ہوا عاشی کے گھر پہنچا، مگر اب وہاں صرف اس کی یادیں تھیں۔ اس نے عاشی کا نام پکارا، لیکن جواب میں صرف اس کی اپنی آواز لوٹ کر آئی۔
جنازے کے وقت اکرم کی آنکھوں سے آنسو تھمنے کا نام نہیں لیتے تھے۔ عاشی کو قبر میں اتارا گیا تو اکرم کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کی اپنی زندگی بھی اسی مٹی کے نیچے دفن ہو گئی ہو۔
عاشی کی موت کے بعد اکرم کی دنیا بدل گئی۔ وہ نہ کھانے کا ہوش رکھتا، نہ سونے کا۔ اسے ہر راستے، ہر درخت اور ہر کھیت میں عاشی کی جھلک دکھائی دیتی۔ وہ اس مقام پر جا بیٹھتا جہاں دونوں نے ساتھ نبھانے کی قسمیں کھائی تھیں۔
ایک رات غم نے اس کی عقل پر ایسا پردہ ڈالا کہ اس نے اپنی جان لینے کی کوشش کی۔ اسے ہسپتال پہنچایا گیا اور کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد اس کی جان بچ گئی۔
ہوش میں آیا تو اس کے اردگرد گاؤں کے بزرگ بیٹھے تھے۔ ایک بزرگ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا:
’’بیٹا! محبت کا مطلب زندگی ختم کرنا نہیں، محبت کی حرمت کے ساتھ زندگی گزارنا ہے۔ عاشی واپس نہیں آ سکتی، مگر تم اپنی زندگی کو اس کی یاد کے لیے وقف کر سکتے ہو۔‘‘
اکرم خاموش رہا۔ پھر اس نے ایک شرط پر دوبارہ ایسا قدم نہ اٹھانے کا وعدہ کیا کہ وہ شادی نہیں کرے گا اور اپنی زندگی عاشی کی قبر کے پاس گزارے گا۔
بزرگوں نے اسے سمجھایا کہ انسان کا جینا صرف اس کی اپنی ذات کے لیے نہیں ہوتا، مگر اکرم اپنے فیصلے پر قائم رہا۔ اس نے اپنی زندگی کا مقصد عاشی کی یاد کو بنا لیا۔
کچھ عرصے بعد گاؤں میں ایک عجیب بات مشہور ہونے لگی۔
اکرم جب عاشی کی قبر پر جاتا تو قبر کے گرد ایک دل آویز خوشبو پھیل جاتی۔ یہ خوشبو نہ کسی پھول کی ہوتی، نہ کسی عطر کی۔ اس میں ایسی لطافت تھی کہ قریب بیٹھنے والے بے اختیار خاموش ہو جاتے۔ مگر جیسے ہی اکرم وہاں سے اٹھ کر واپس جانے لگتا، خوشبو آہستہ آہستہ غائب ہو جاتی۔
شروع میں لوگوں نے اسے اتفاق سمجھا۔ پھر کئی افراد نے خود یہ کیفیت محسوس کرنے کا دعویٰ کیا۔ بات پورے گاؤں میں پھیل گئی۔
کوئی کہتا، ’’یہ عاشی کی پاکیزہ محبت کی نشانی ہے۔‘‘
کوئی جواب دیتا، ’’محبت کی خوشبو تو انسان کے کردار سے اٹھتی ہے، قبر سے نہیں۔‘‘
اکرم ان بحثوں سے بے نیاز تھا۔ وہ قبر کے سرہانے بیٹھ کر عاشی سے اپنے دل کی باتیں کرتا، دن بھر کے واقعات سناتا اور کبھی کبھی خاموشی سے مٹی کو تکتا رہتا۔
اس کے لیے عاشی مر کر بھی اس کی ہم راز تھی۔
لیکن ایک چیز تھی جو اس کے دل میں ہمیشہ کے لیے نفرت بن کر بیٹھ گئی تھی اور وہ بھوسہ تھا
جب بھی وہ کسی گھر کے صحن میں بھوسے کا ڈھیر دیکھتا، اس کی آنکھیں بھر آتیں۔ اسے وہ شام یاد آ جاتی جب ایک معمولی سا کام اس کی زندگی کی سب سے بڑی محرومی بن گیا تھا۔
گاؤں میں جس گھر سے سانپ نکلتا، لوگ اکرم کو بلاتے۔ اس نے سانپوں کو پکڑنے اور مارنے کا ایسا ہنر سیکھ لیا تھا کہ لوگ اسے اپنے جانوروں اور بچوں کا محافظ سمجھنے لگے۔ وہ سانپ کو دیکھتے ہی اس کی طرف لپکتا، مگر ہر بار اس کے چہرے پر ایک عجیب کرب اتر آتا۔
اسے لگتا، وہ کسی سانپ کو نہیں، اپنی قسمت کو للکار رہا ہے۔
کئی برس گزر گئے۔ اکرم کے بالوں میں سفیدی اترنے لگی، مگر اس کے معمولات نہ بدلے۔ صبح محنت مزدوری، دن میں لوگوں کی مدد اور شام کو عاشی کی قبر پر حاضری۔
ایک روز گاؤں کے ایک غریب کسان کے گھر سے پیغام آیا کہ بھوسے کے ڈھیر میں ایک بڑا سانپ چھپا ہوا ہے۔ گھر میں چھوٹے بچے تھے اور سب خوف زدہ تھے۔
اکرم فوراً وہاں پہنچ گیا۔ صحن میں لوگوں کا ہجوم تھا۔ سانپ بھوسے کے اندر چھپا بیٹھا تھا۔ اکرم نے سب کو پیچھے ہٹنے کا کہا اور احتیاط سے بھوسہ ہٹانے لگا۔
اچانک اسے ایک کمزور سی آواز سنائی دی۔
’’چاچا! اسے مت ماریں!‘‘
یہ آواز کسان کے دس سالہ بیٹے کی تھی۔ بچہ اپنے باپ کے پیچھے کھڑا تھا اور خوف کے باوجود اس کی آنکھوں میں ایک سوال تھا۔
اکرم نے غصے سے کہا، ’’یہ زہریلا ہے، کسی کی جان لے سکتا ہے!‘‘
بچے نے معصومیت سے جواب دیا، ’’لیکن چاچا، اگر یہ کسی کو نقصان نہیں پہنچا رہا تو اسے مارنا کیوں ضروری ہے؟ اسے یہاں سے دور چھوڑ دیں۔‘‘
اکرم کے ہاتھ رک گئے۔
ایک لمحے کے لیے اسے عاشی کی یاد نے گھیر لیا۔ وہ سوچنے لگا کہ جس سانپ نے اس کی محبوبہ کی جان لی، اس کے لیے اس کے دل میں نفرت کیوں نہ ہو؟ کیا وہ کبھی اس نفرت سے آزاد ہو سکتا ہے؟
اس نے سانپ کو قابو میں کیا اور ایک ماہر کی مدد سے اسے آبادی سے دور محفوظ مقام پر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ گاؤں والے حیران تھے۔ وہ اکرم جو سانپ کا نام سنتے ہی بے چین ہو جاتا تھا، آج اسے مارنے کے بجائے بچا رہا تھا۔
لوگوں نے پوچھا، ’’اکرم! آج تمہارے دل میں یہ تبدیلی کیسے آ گئی؟‘‘
اس نے تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا:
’’میں نے عمر بھر سانپوں سے بدلہ لینے کی کوشش کی، مگر عاشی واپس نہ آئی۔ آج ایک بچے نے سمجھایا ہے کہ کسی ایک حادثے کی سزا ہر جاندار کو نہیں دی جا سکتی۔ نفرت انسان کے زخم کو بھرتی نہیں، اسے ہمیشہ تازہ رکھتی ہے۔‘‘
یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
اس شام اکرم حسبِ معمول عاشی کی قبر پر گیا۔ وہ خاموشی سے قبر کے پاس بیٹھا اور بولا:
’’عاشی! آج میں نے ایک سانپ کو زندگی دی ہے۔ شاید اب میں اس نفرت سے آزاد ہو سکوں جس نے مجھے برسوں سے قید کر رکھا تھا۔ تم تو چلی گئیں، مگر میں اپنی باقی زندگی کو صرف ایک حادثے کا ماتم بنا کر نہیں گزارنا چاہتا۔‘‘
اتنا کہہ کر وہ اٹھنے لگا کہ اچانک قبر کے گرد وہی مانوس خوشبو پھیل گئی۔ مگر آج اس خوشبو میں کچھ الگ تھا۔ وہ پہلے سے زیادہ گہری، زیادہ دل نشیں اور زیادہ دیر تک قائم رہی۔
اکرم حیران ہو کر بیٹھ گیا۔
اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ خوشبو صرف اس کی آمد سے وابستہ نہیں رہی تھی۔ وہ اس وقت بھی فضا میں موجود تھی جب وہ قبر سے چند قدم دور جا چکا تھا۔
اسی لمحے قبرستان کے باہر سے ایک بوڑھی عورت کی آواز سنائی دی۔ وہ عاشی کی ماں تھی، جو اب بہت ضعیف ہو چکی تھی۔ وہ لاٹھی ٹیکتی ہوئی اس کے پاس آئی اور بولی:
’’اکرم بیٹا! آج میں تمہیں ایک بات بتانے آئی ہوں جو برسوں سے میرے سینے میں دفن ہے۔‘‘
اکرم نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
عاشی کی ماں نے بتایا، ’’عاشی کی وفات کے بعد جب تم پہلی بار اس کی قبر پر آئے تھے، اس دن میں بھی یہاں موجود تھی۔ میں نے تمہیں روتے دیکھا تو تمہارے پاس آنا چاہا، مگر تم اپنے غم میں اس قدر ڈوبے ہوئے تھے کہ میں لوٹ گئی۔ اس دن قبر کے پاس خوشبو تھی، اور بعد کے دنوں میں بھی میں نے اسے محسوس کیا۔ میں اس کا راز نہیں جانتی، مگر ایک بات ضرور جانتی ہوں: عاشی تمہیں کبھی نفرت میں جلتا نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔‘‘
یہ سن کر اکرم کے دل پر جیسے برسوں سے پڑا ہوا بوجھ ہلکا ہونے لگا۔
اس نے قبر کی مٹی پر ہاتھ رکھا اور سر جھکا دیا۔
اچانک ہوا کا ایک نرم جھونکا آیا۔ قبر پر کھلے جنگلی پھولوں کی خوشبو فضا میں پھیل گئی۔ اکرم نے آنکھیں بند کر لیں۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے عاشی کی خاموش یاد اسے کہہ رہی ہو کہ محبت کا مقصد کسی ایک لمحے میں مر جانا نہیں، بلکہ زندگی بھر انسانیت کو زندہ رکھنا ہے۔
اگلی صبح اکرم نے گاؤں کے لوگوں کو جمع کیا اور اعلان کیا کہ وہ اب اپنی زندگی کا باقی حصہ لوگوں کو سانپوں سے محفوظ رہنے کی تربیت دینے، غریبوں کی مدد کرنے اور بچوں کی حفاظت کے لیے وقف کرے گا۔ اس نے گاؤں کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا کمرہ بنوایا جہاں لوگ زہریلے جانوروں کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے تھے اور ضرورت پڑنے پر ماہرین سے مدد لے سکتے تھے۔
لوگوں نے اس جگہ کا نام ’’عاشی کی یاد‘‘ رکھ دیا۔
مگر اصل حیرت تو اس کے بعد ہوئی۔
چند ماہ گزرے تو اکرم نے محسوس کیا کہ عاشی کی قبر سے آنے والی خوشبو اب بھی اسے محسوس ہوتی ہے، مگر اس وقت جب وہ کسی ضرورت مند کی مدد کر کے وہاں پہنچتا۔ ایک دن وہ ایک بیمار بچے کو ہسپتال لے جانے کے بعد قبر پر آیا تو خوشبو پھیل گئی۔ دوسرے دن اس نے ایک غریب بیوہ کے جانوروں کے لیے چارے کا بندوبست کیا، تب بھی وہی خوشبو محسوس ہوئی۔
اکرم نے اس کیفیت کو کوئی کرامت قرار نہیں دیا۔ اس نے نہ کسی دعوے کی بنیاد پر لوگوں کو یقین دلایا اور نہ اس راز کا فیصلہ سنایا۔ اس نے بس اتنا سمجھا کہ شاید محبت کی سب سے سچی خوشبو وہ ہے جو انسان کے اچھے اعمال سے جنم لیتی ہے۔
اس کے بعد اکرم جب بھی بھوسے کا ڈھیر دیکھتا تو آنکھوں میں آنسو ضرور آتے، مگر اب وہ صرف روتا نہیں تھا۔ وہ لوگوں کو احتیاط کی تلقین کرتا، جانوروں کو محفوظ رکھنے کے طریقے بتاتا اور بچوں کو سکھاتا کہ خوف اور نفرت کے بجائے عقل، رحم اور ذمہ داری سے کام لینا چاہیے۔
عاشی اس دنیا میں نہ رہی، مگر اس کی یاد اکرم کو ایک نئے راستے پر لے آئی تھی۔
اس دن اکرم کو معلوم ہوا کہ محبت کی اصل آزمائش محبوب کے ساتھ مرنے میں نہیں، بلکہ اس کی یاد کو انسانیت کی خدمت میں زندہ رکھنے میں ہے۔
اور بھوسے کے ڈھیر میں چھپا وہ سانپ، جو کبھی اس کی زندگی کا سب سے بڑا دشمن بن گیا تھا، آخرکار اسے ایک ایسا سبق دے گیا جسے وہ پوری عمر نہ بھلا سکا:
نفرت موت کو واپس نہیں موڑ سکتی، لیکن محبت کسی کی موت کو دوسروں کی زندگی کے لیے روشنی بنا سکتی ہے۔
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔