بولیانوال: مختصر تاریخ، مرحوم شخصیات اور بیتے زمانوں کی یاد
بولیانوال: مختصر تاریخ، مرحوم شخصیات اور بیتے زمانوں کی یادیں
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
کچھ بستیاں محض گھروں گلیوں اور راستوں کا مجموعہ نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے اندر کئی نسلوں کی زندگی، تہذیب، روایات، محبتوں اور یادوں کی پوری داستان سموئے رکھتی ہیں۔ وقت گزرتا ہے، نسلیں بدلتی ہیں، لوگ روزگار اور بہتر مستقبل کی تلاش میں شہروں کا رخ کرتے ہیں، مگر اپنی مٹی سے جڑا رشتہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ رشتہ کبھی کسی مانوس آواز کی صورت میں دل میں گونجتا ہے، کبھی کسی پرانی بیٹھک کی یاد بن کر آنکھوں میں اترتا ہے اور کبھی کسی بچھڑے ہوئے بزرگ کے خیال سے دل کو اداس کر جاتا ہے۔
میرے لیے بولیانوال بھی محض ضلع اٹک کی ایک بستی نہیں، بلکہ میری زندگی کی کتاب کا وہ روشن باب ہے جس کے اوراق پر میرے بچپن کی شوخیاں، بزرگوں کی شفقت، دوستوں کی بے تکلفیاں، مسجدوں کی اذانیں، میلوں کی رونقیں اور مٹی کی خوشبو آج بھی محفوظ ہیں۔ اس گاؤں کی گلیوں میں میرے ماضی کی آہٹیں بستی ہیں اور اس کے لوگوں کی یادوں میں میری زندگی کے کئی خوب صورت لمحے سانس لیتے ہیں۔
وقت نے مجھے شہر کی مصروف زندگی کا حصہ بنا دیا۔ تقریباً تین دہائیاں اسی شہر میں گزر گئیں۔ میرے بچے بھی یہیں پلے بڑھے، مگر دل کے کسی گوشے میں آج بھی بولیانوال آباد ہے۔ شہر نے سہولتیں دیں، روزگار کے راستے کھولے اور زندگی کو نئی رفتار عطا کی، لیکن وہ اپنائیت کہاں سے لاتا جو گاؤں کی بیٹھک، مسجد کے صحن، بزرگوں کی محفل اور دوستوں کی بے تکلف صحبت میں ملا کرتی تھی
وہ زمانہ اپنی تمام تر سادگیوں کے باوجود ایک خاص خوب صورتی رکھتا تھا۔ وسائل محدود تھے، مگر تعلقات میں وسعت تھی۔ سہولتیں کم تھیں، مگر ایک دوسرے کے لیے وقت زیادہ تھا۔ کسی گھر میں خوشی آتی تو پورا گاؤں شریک ہو جاتا اور کسی دروازے پر غم دستک دیتا تو کئی دل سوگوار ہو جاتے تھے۔
آج جب ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ وقت نے ہم سے صرف چند عزیز چہرے ہی نہیں چھینے، بلکہ زندگی کے ایک پورے انداز کو بھی دھیرے دھیرے ہم سے جدا کر دیا ہے۔ کئی آوازیں خاموش ہو چکی ہیں، بہت سی بیٹھکیں ویران پڑی ہیں اور وہ لوگ اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں جن کے دم سے گاؤں کی رونق اور معاشرت کی خوب صورتی قائم تھی۔
اسی احساس کے تحت میں بولیانوال کی مختصر تاریخ، اس کی مقامی روایات، تعمیر و ترقی میں حصہ لینے والی شخصیات اور ان مرحوم بزرگوں کا ذکر قلم بند کر رہا ہوں جنہوں نے اپنے کردار، خدمات، محبت اور خلوص سے اس بستی کو پہچان عطا کی۔ یہ تحریر کسی حتمی تاریخی دستاویز کا دعویٰ نہیں، بلکہ اپنے گاؤں کی زبانی تاریخ، بزرگوں کی یادوں اور اپنے مشاہدات کو آئندہ نسلوں تک پہنچانے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔
میری خواہش ہے کہ نئی نسل اس تحریر کے ذریعے اپنے بزرگوں کو پہچانے، اپنے گاؤں کے ماضی سے واقف ہو اور یہ جان سکے کہ اس کی مٹی میں کتنی محنت، محبت، قربانیوں اور خدمت کی داستانیں پوشیدہ ہیں۔
بولیانوال، ضلع اٹک کے مرکزی شہر سے تقریباً پندرہ سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مقامی روایات کے مطابق یہ بستی چار سو برس سے زائد عرصے سے آباد چلی آ رہی ہے۔ اس کی ابتدا اور ابتدائی آبادکاری کے بارے میں مختلف روایات سننے کو ملتی ہیں۔ ایک روایت اسے شاہ جہاں کے عہد کے آخری زمانے سے جوڑتی ہے، جب بادشاہ علیل تھا، جب کہ دوسری روایت کے مطابق بستی کی باقاعدہ ترقی اور آبادکاری اورنگزیب عالمگیر کے دور میں ہوئی۔
ان روایات کی مستند تاریخی شواہد کی روشنی میں مزید تحقیق ضروری ہے، تاہم یہ اس بات کی عکاسی ضرور کرتی ہیں کہ بولیانوال کا ماضی مقامی حافظے میں نسل در نسل محفوظ رہا ہے۔
گاؤں کے نام کے بارے میں بھی ایک مقامی توضیح مرحوم ملک محمد نواز نمبردار ایڈووکیٹ سے منسوب ہے، جنہوں نے اپنی کتاب ’’سرزمینِ اٹک‘‘ میں اس نام کی ممکنہ وجہ پر روشنی ڈالی۔ اس خیال کے مطابق لفظ ’’بولی‘‘ اور ’’وال‘‘ کا تعلق کسی خاص زبان یا بولی بولنے والے لوگوں سے ہو سکتا ہے
کسی بستی کی تاریخ صرف اس کے قدیم ہونے سے نہیں بنتی؛ اس کی اصل تاریخ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی محنت، کردار، قربانی اور خدمت سے اسے جینے کے قابل بناتے ہیں۔ بولیانوال کی تاریخ بھی ایسے ہی لوگوں کی جدوجہد، محبت اور اجتماعی کاوشوں سے عبارت ہے۔
بولیانوال کی تعمیر و ترقی میں ملک محمد اسلم خان نمبردار، ملک فضل داد، ملک اکرم خان قانونگو، ملک منصب دار نمبردار، ماہرِ تعلیم اور ملک محمد نواز نمبردار ایڈووکیٹ کی خدمات اہم رہیں۔ ان کی کوششوں سے بنیادی مرکزِ صحت، لڑکوں اور لڑکیوں کے اسکول، ویٹرنری ڈسپنسری، پختہ سڑک اور بجلی جیسی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی راہیں ہموار ہوئیں۔
یہ سہولتیں آج معمول کا حصہ دکھائی دیتی ہیں، تعلیم، صحت، آمدورفت اور روزمرہ ضروریات سے متعلق ان اقدامات نے گاؤں کے لوگوں کے لیے بہتر مواقع پیدا کیے۔
1957ء: سرکاری اسکول کا قیام اور ایک یادگار واقعہ
بولیانوال کی تعلیمی تاریخ میں 1957ء ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جب گاؤں میں سرکاری اسکول کی منظوری ہوئی۔ منظوری کے بعد سب سے بڑا مسئلہ اسکول کے لیے مناسب عمارت کی فراہمی تھا۔
اس موقع پر ملک فضل داد مرحوم اور ملک اسلم خان نمبردار نے اپنی اپنی عمارت اسکول کے لیے پیش کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔ دلچسپ امر یہ تھا کہ سیاسی لحاظ سے دونوں شخصیات گاؤں کے الگ الگ دھڑوں سے تعلق رکھتی تھیں، لیکن بچوں کی تعلیم کے لیے عمارت فراہم کرنے کے معاملے میں دونوں نے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا۔
گاؤں میں تعینات ہونے والے پہلے معلم عبد الخالق مہر صاحب، ساکن ہمک، نے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک سادہ مگر غیر جانب دار تجویز پیش کی کہ دونوں حضرات کے ناموں کا قرعہ نکال لیا جائے۔ چنانچہ دونوں ملک صاحبان کے ناموں کے قرعے ڈالے گئے اور قرعہ ملک فضل داد نمبردار مرحوم کے حق میں نکلا۔ یوں بولیانوال کے سرکاری اسکول کا آغاز ملک فضل داد نمبردار کے حجرے سے ہوا۔
یہ واقعہ اس دور کی ایک خوب صورت یادگار ہے، جب سیاسی اختلافات کے باوجود اجتماعی بھلائی کے کاموں میں تعاون کی گنجائش موجود تھی۔ ملک فضل داد مرحوم نے اپنی عمارت تعلیم کے لیے پیش کرکے ایک اہم خدمت انجام دی، جب کہ ملک اسلم خان نمبردار کی جانب سے عمارت فراہم کرنے کی پیشکش بھی ان کے جذبۂ خدمت کی عکاس تھی۔ پہلے معلم عبد الخالق مہر صاحب نے قرعہ اندازی کی تجویز دے کر معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
آج جب ہم بولیانوال میں تعلیم کے سفر پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ تعلیمی اداروں کی بنیاد صرف عمارتوں سے نہیں پڑتی، بلکہ ان لوگوں کی نیک نیتی، ایثار اور اجتماعی سوچ سے پڑتی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے علم کے دروازے کھولنے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔
کچھ نام سماجی خدمت کے حوالہ سے آج بھی یاد کیے جاتے ہیں حاجی نواز صاحب کی والدہ انارہ اماں نے سرکاری اسپتال کے لیے قیمتی زمین عطیہ کی، جب کہ امیر بابا، المعروف میرا بابا نمبردار ، کی زوجہ زہرہ مائی نے گرلز ہائی اسکول کے لیے قطعۂ اراضی وقف کیا۔ یہ عطیات محض زمین کے ٹکڑے نہیں تھے، بلکہ آنے والی نسلوں کی تعلیم اور لوگوں کی صحت و بہبود کے لیے ایثار کی علامت تھے۔
ملک منصب دار نمبردار ہونے کے ساتھ ماہرِ تعلیم بھی تھے، جب کہ ملک محمد نواز نمبردار ایڈووکیٹ نے سماجی خدمت اور معاشرتی اصلاح میں اپنا کردار ادا کیا۔ ان دونوں شخصیات کی خدمات میں وفات کے پہلے دن خیرات کے ختم کی روایت کو ختم کروانے کی کوشش بھی شامل تھی، تاکہ غم زدہ خاندانوں پر سوگ کے وقت اضافی مالی اور سماجی بوجھ نہ پڑے۔
سید لال شاہ صاحب بھی بستی کی انتہائی قابلِ احترام شخصیت تھے۔ ان کا نام عزت و توقیر سے لیا جاتا تھا اور گاؤں کے اجتماعی حافظے میں ان کا مقام نمایاں ہے۔ شیر افسر ملک لوگوں کے تنازعات گفت و شنید اور جرگے کے ذریعے سلجھانے میں کردار ادا کرتے تھے، جب کہ بابا خاکی نمبردار اپنی معاملہ فہمی اور درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت کے باعث جانے جاتے تھے۔
ایسے لوگ کسی بڑے عہدے سے نہیں، بلکہ اپنے کردار، دیانت اور لوگوں کے اعتماد سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی موجودگی معاشرے میں توازن پیدا کرتی تھی اور ان کی بات کو اہمیت دی جاتی تھی۔
بابا امانت مرحوم کی بہادری کے قصے ضلع بھر میں سنائے جاتے تھے۔ پنجاب پولیس کے رحمت سپاہی، لارنس پور ملز سے وابستہ احمد خان اور محبوب یاکی خان، پیر کوٹ راضی خان، کالا مغل اور مستی خان کے نام بھی مقامی یادداشت میں محفوظ ہیں۔ میرے دادا ملک اورنگزیب خان کی جرأت کے واقعات بھی خاندانی اور مقامی یادداشت کا حصہ ہیں۔
ایسے قصوں میں وقت کے ساتھ مبالغہ بھی شامل ہو سکتا ہے، لیکن ان کے پیچھے اپنے بزرگوں کے لیے محبت، احترام اور فخر کا جذبہ ضرور موجود ہوتا ہے یہ واقعات ہماری زبانی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔دادا کے بھائی
جہانگیر خان مرحوم کی افسانوی کہانیاں بھی اسی زبانی روایت کا حصہ تھیں۔ ان کے بیان میں واقعہ اور تخیل اس طرح گھل مل جاتے کہ سننے والے دیر تک محظوظ رہتے۔ ان کی محفلوں میں قصے صرف تفریح کا ذریعہ نہیں تھے، بلکہ ایک نسل سے دوسری نسل تک تجربات، اقدار اور تخیل منتقل کرنے کا وسیلہ بھی تھے۔
ہمارے بزرگوں کے پاس قصے تھے، تجربات تھے اور زندگی کو دیکھنے کا اپنا انداز تھا۔ ان کی گفتگو میں کبھی مزاح ہوتا، کبھی نصیحت اور کبھی کسی گزرے ہوئے زمانے کی جھلک۔ آج جب ان محفلوں کو یاد کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ صرف چند افراد نہیں گئے، بلکہ زندگی کا ایک پورا انداز بھی رفتہ رفتہ رخصت ہو گیا۔
مذہبی زندگی، اذان اور بزرگوں کی خدمات
بولیانوال کی مذہبی زندگی میں میرے والد، مرحوم سابق کونسلر بہارم خان، کی اذان کا ذکر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ان کی آواز میں ایسی گونج تھی جو گاؤں کے ماحول میں ایک الگ تاثیر پیدا کرتی تھی۔ اذان کی آواز جب فضا میں بلند ہوتی تو یوں محسوس ہوتا جیسے روزمرہ زندگی کی مصروفیات میں ایک لمحے کے لیے ٹھہراؤ آ گیا ہو۔
محبت خان، بابا فتح محمد، بابا داؤد اسماعیل مغل اور بابا اصغر جیسے بزرگ بھی تادمِ مرگ مؤذن کے فرائض انجام دیتے رہے۔ ان کی دینی خدمات اور گاؤں کی مذہبی زندگی سے وابستگی انہیں لوگوں کے حافظے میں زندہ رکھتی ہے۔بشیر نزیر دو بھائیوں نے بطور خادمین مساجد کی عرصہ تک خدمت کی
مسجدوں کے ماحول میں قاری شیر محمد قریشی اور مولانا اسحاق کی خدمات کا ذکر بھی احترام سے ہوتا ہے۔ دیہات میں مسجد محض عبادت گاہ نہیں ہوتی؛ وہ مشورے، میل ملاقات اور اجتماعی زندگی کا مرکز بھی ہوتی ہے۔ وہاں لوگوں کے دکھ سنے جاتے، خوشیوں کی خبر بانٹی جاتی اور باہمی تعلقات مضبوط ہوتے تھے۔
ان بزرگوں کی آوازیں، ان کی دعائیں اور ان کی موجودگی گاؤں کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ بہت سی آوازیں خاموش ہو گئیں، مگر ان کی یاد آج بھی دل میں ایک مانوس احساس جگاتی ہے۔
حضرت سخی بالا پیر سرکار کا مزار اور سالانہ میلہ
بولیانوال کی روحانی شناخت حضرت سخی بالا پیر سرکار کے مزار کے بغیر ادھوری ہے۔ یہاں ہر سال آٹھ روزہ میلہ منعقد ہوتا تھا، جس میں دور دراز سے عقیدت مند آتے اور بستی میں غیر معمولی رونق پیدا ہو جاتی تھی۔
ہر جمعرات کی صبح نقارے کی آواز اور میلے کے آغاز میں ڈالیاں دھول پر دھمال ۔ محفلِ سماع، عقیدت مندوں کی حاضری اور اسٹالوں کی گہماگہمی اس اجتماع کو مذہبی عقیدت کے ساتھ مقامی ثقافت کا رنگ بھی دیتی تھی۔ بابا شاکر حاصل خان اور صفدر خاں کی درباری دھمال اور مرحوم عبدالخالق کی بانسری اس ماحول کی یادگار آوازیں تھیں۔ سجادہ نشین سید بہادر شاہ پیر سید اکبر شاہ کا نام بھی اس روحانی روایت سے وابستہ ہے۔
یہ میلہ صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں تھا، بلکہ دور کے عزیزوں سے ملاقات، پرانے تعلقات کی تجدید اور گاؤں کی اجتماعی خوشی کا موقع بھی تھا۔ لوگ اپنے گھروں اور ڈھیروں میں مہمانوں کا استقبال کرتے، ایک دوسرے کے ہاں آتے جاتے اور اپنی خوشیوں میں سب کو شریک کرتے تھے۔
میلے کے دنوں میں گاؤں کا رنگ ہی بدل جاتا تھا۔ مانوس گلیاں، لوگوں کا ہجوم، دکانوں کی رونق، محفلوں کی آوازیں اور عزیزوں کی آمد ایک ایسی فضا پیدا کرتی تھیں جسے لفظوں میں پوری طرح بیان کرنا آسان نہیں۔ وہ دن گزر گئے، مگر ان سے وابستہ یادیں آج بھی دل میں زندہ ہیں۔
مہمان نوازی، ڈیرے اور دسترخوان
سید منظور شاہ مرحوم عوامی خدمت کے حوالے سے یاد کیے جاتے ہیں، جب کہ سید سجاول حسین شاہ خندہ پیشانی کے ساتھ اپنے بچوں کے دوستوں کا استقبال کرتے تھے۔ ان کے ڈیرے کا چولہا مہمانوں کے لیے جلتا رہتا تھا۔ ان کے ہاں آنے والا شخص اجنبیت محسوس نہیں کرتا تھا، بلکہ اپنائیت اور محبت کے ماحول میں بیٹھتا تھا۔
سید حیات حسین شاہ، منور شاہ، ملک نثار نائب تحصیلدار اور بابو فضل خان کے حجرے میں عرس اور میلے کے موقع پر دسترخوان سجتے تھے مہمانوں کی خوب خاطر مدارات کی جاتی اور ہر شخص کو عزت و احترام دیا جاتا تھا
مہمان نوازی کا یہ وصف ہماری تہذیب کا ایسا حصہ تھا جس پر ہمیں بجا طور پر فخر رہا ہے۔ آج بھی ان حجروں اور دسترخوانوں کا خیال آتا ہے تو ان لوگوں کی محبت یاد آتی ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں دوسروں کے لیے جگہ بنائے رکھی۔
گاؤں کی تاریخ اور اجتماعی حافظے میں منشی بابا بنگلے والے اور سید حلیم شاہ پیر کا ذکر بھی اہم ہے۔ دونوں شخصیات نے بولیانوال سے شہر کی طرف جانے والے کچے راستوں کو سڑک کی شکل دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دربار پر مسجد کی تعمیر بھی منشی بابا اور دیگر لوگوں کی کوششوں کا نتیجہ تھی۔
ملک حاجی لال خان تعلیم کے شعبے سے وابستگی، فہم و فراست اور رہنمائی کے باعث رہبر و راہنما کا درجہ رکھتے تھے۔ فاریسٹ گارڈ اور عالمی جنگ کے انعام و اعزاز یافتہ شیر علی خان، پیر کوٹ، اپنی مثال آپ تھے۔ منشی رحیم داد، پیر خان بابا، جو فاریسٹ گارڈ بھی تھے اور بہترین شکاری بھی، اپنی الگ شناخت رکھتے تھے۔
ملک خضر حیات سابق کونسلر، بابا سردار بہادر گلشیئری، حاجی عجب خان، سرور، سدا بہار کونسلر، ملک غلام سرور سید ریاض شاہ،ماسٹر امتیاز شاہ مرحوم ماسٹر احمد خان اور ماسٹر زمرد خان جن کو اقبال سمیت شعراء کے دیوان از بر تھے دیگر کئی اہم شخصیات کے نام بھی گاؤں کی یادوں میں محفوظ ہیں۔
ہر شخصیت کا اپنا زمانہ، اپنا دائرۂ کار اور اپنی پہچان تھی۔ کسی نے تعلیم کے ذریعے، کسی نے سماجی خدمت سے، کسی نے انتظامی ذمہ داریوں کے ذریعے اور کسی نے اپنے کردار اور تعلقات کی بدولت لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔ ان سب کا ذکر اس لیے اہم ہے کہ کسی بستی کی تاریخ کسی ایک خاندان یا ایک دور تک محدود نہیں ہوتی؛
عالمی جنگوں سے متعلق مقامی روایات
مقامی روایت کے مطابق حاجی عجب خان اور مسکین خان نے عالمی جنگوں کے زمانے میں فوجی خدمات انجام دیں
۔ تاریخ صرف وہ نہیں ہوتی جو کتابوں میں درج ہو؛ اس کا ایک حصہ لوگوں کی یادوں، خاندانی قصوں اور مقامی روایتوں میں بھی زندہ رہتا ہے۔ البتہ
بولیانوال کی روزمرہ زندگی میں کچھ کردار ایسے تھے جنہیں کسی بڑے منصب یا شہرت کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ اپنے معمول کے کاموں اور مخصوص عادتوں سے لوگوں کے حافظے میں جگہ بنا گئے۔
ولی احمد چوکیدار یونین کونسل کے دفتر اور گولڑہ جا کر نومولود بچوں کی پیدائش اور ناموں کے اندراج کے کام سے وابستہ تھے۔ یہ بظاہر سادہ ذمہ داری تھی، مگر دیہی زندگی میں سرکاری اندراج اور لوگوں کے کام آنا ایک اہم خدمت تھی۔
بختاور حجام، غلام رسول کی گوشت کی دکان اور غلام رسول کے بھائی مہر خان کی شخصیت بھی گاؤں کے مانوس مناظر میں شامل تھی۔ مہر خان کا کندھے پر بارہ بور بندوق رکھے گاؤں میں گھومنا ان کی پہچان بن گیا تھا۔
پھل پرویز اپنی وجاہت اور جوانی کے باعث نمایاں تھا، جب کہ پیر کوٹ کے بابا شہزادہ کو بہادری کے حوالے سے یاد کیا جاتا تھا۔بہادر بابا اڈے والے اور خان دوران کی آوازیں گونجتی تھیں حیوانات کے ڈاکٹر محمود خان کا بھی ایک کردار تھا
یہ کردار بظاہر عام زندگی سے تعلق رکھتے تھے، لیکن کسی بھی گاؤں کی اصل تصویر انہی لوگوں سے بنتی ہے۔ ان کے بغیر گلیاں، دکانیں، راستے اور محفلیں ادھوری محسوس ہوتی ہیں۔ وقت گزرنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ روزمرہ زندگی کے یہی معمولی دکھائی دینے والے مناظر دراصل ہماری سب سے قیمتی یادوں میں بدل جاتے ہیں۔
بابا کریم حیدر مرحوم اور گاؤں سے محبت
کراچی میں مقیم بزرگ بینکار بابا کریم حیدر مرحوم کا ذکر بھی بولیانوال کی یادوں میں ایک محبت بھرا باب ہے۔ وہ چھٹیاں گزارنے گاؤں آتے تو گویا خوشیاں بھی ساتھ لاتے تھے۔ گاؤں کے چھوٹے بڑے ان کی آمد کے منتظر رہتے، کیونکہ ان کی موجودگی میل ملاقات اور اپنائیت کا موقع بن جاتی تھی۔بہترین شکاری طنز و مزاح کے دلدادہ تھے محفلیں سجانے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا صاحب علم تھے
شہر میں رہتے ہوئے بھی انہوں نے اپنے گاؤں سے تعلق زندہ رکھا۔ ان کی آمد سے گاؤں کی فضا میں رونق پیدا ہوتی اور لوگ ان کے ساتھ وقت گزارنے کو اہمیت دیتے تھے۔
ایسے لوگ فاصلے پر رہ کر بھی اپنی بستی سے رشتہ کمزور نہیں ہونے دیتے۔ ان کی یاد اس بات کا ثبوت بن جاتی ہے کہ تعلق کا اصل پیمانہ قربت نہیں، بلکہ دل میں موجود جگہ ہے۔ روزگار انسان کو کہیں بھی لے جائے، اپنے لوگوں کی طرف لوٹنے کی خواہش دل میں باقی رہتی ہے۔
حاجی مسکین مرحوم کی آٹا چکی کی آواز صبح سویرے گونجتی تھی گاؤں کی معاشی اور روزمرہ زندگی کا اہم حصہ تھی۔ چکی پر لوگ اناج پسوانے کے ساتھ ایک دوسرے سے ملتے، حال احوال پوچھتے اور گاؤں کی خبریں بانٹتے تھے۔ یہ جگہ محض اناج پسوانے کا مرکز نہیں تھی، بلکہ لوگوں کے ملاپ اور گپ شپ کا ذریعہ تھی
ملا بابا کی رکھ کے درخت اور نالۂ جبر بھی بولیانوال کے قدرتی منظرنامے کے نمایاں حصے تھے۔ دیہات کی خوب صورتی صرف کھیتوں اور عمارتوں میں نہیں ہوتی، بلکہ ان راستوں، درختوں، پانی کے بہاؤ اور مانوس جگہوں میں ہوتی ہے جنہیں انسان بچپن سے دیکھتا آیا ہو وقت گزرنے کے بعد یہی مقامات جغرافیے سے آگے بڑھ کر دل کے نقشے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جب انسان ماضی کی طرف لوٹتا ہے تو بعض اوقات کسی شخص سے پہلے کوئی راستہ، درخت، نالہ یا پرانی عمارت یاد آتی ہے، کیونکہ ان جگہوں میں زندگی کے کئی موسم اور کئی نسلوں کی یادیں بسی ہوتی ہیں۔
بیٹھکیں، ہنر مند اور روزمرہ معاشرت گاؤں کی بیٹھکوں اور میل جول کی محفلوں میں چاچا کرامت کا اپنا ہی رنگ تھا۔ سفید بالوں میں سرخی مائل مہندی اور دور سے پہچان میں آ جانے والی صورت ان کی خاص پہچان تھی۔ ان کی گفتگو میں اپنائیت تھی، اسی لیے ان کا ذکر بھی مانوسیت کے ساتھ کیا جاتا ہے بابا یونس درزی، چاچا اقبال، اسحاق مغل اور بابا فرید موچی بھی اسی روزمرہ معاشرت کے جانے پہچانے کردار تھے۔ کسی کے پاس ہنر تھا، کسی کے پاس قصہ اور کسی کے پاس دوسروں کی بات سننے کا وقت۔ یہی لوگ بستی کو محض گھروں کا مجموعہ نہیں رہنے دیتے تھے، بلکہ اسے ایک مشترکہ معاشرت میں ڈھالتے تھے۔
ہر کسی کے دکھ میں شریک میرا کزن عارف فوجی، خاموش طبع عارب بھائی، چاچا افضل اور محمد خان کے مسکراتے چہرے آج بھی یادوں میں محفوظ ہیں۔ اور میرے ہم جماعت امیر افسر شہید کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے؟ بعض لوگ اپنی زندگی کے مختصر عرصے میں بھی ایسی یادیں چھوڑ جاتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ماند پڑنے کے بجائے مزید گہری ہو جاتی ہیں۔
ان لوگوں کے ساتھ وابستہ یادیں اس دور کی تصویر پیش کرتی ہیں جب گاؤں میں ایک دوسرے سے ملنے کے لیے کسی خاص موقع یا دعوت کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ لوگ روزمرہ کاموں کے دوران ایک دوسرے کے پاس بیٹھ جاتے، حال احوال پوچھتے اور اپنی زندگی کے چھوٹے بڑے معاملات بانٹ لیتے تھے۔
یہ بے تکلفی، اپنائیت اور میل جول ہماری معاشرت کی وہ خوبیاں تھیں جن کی قدر وقت گزرنے کے ساتھ مزید محسوس ہوتی ہے۔
صلح جوئی، سماجی خدمات اور خواتین کا کردار
کالا خان کو صلح جو طبیعت کے باعث یاد کیا جاتا تھا۔ انہوں نے حیدرآباد میں سیکڑوں لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے
زراعتی خان، ولائتی خان بے ضرر بزرگ تھے ضابط خان مزارات سے عقیدت رکھنے والوں میں شمار ہوتے تھے۔ بابا گلزار گلشیئری سب کے مشترکہ بزرگ کی حیثیت رکھتے تھے، جب کہ کرم نور بی بی ایک باہمت خاتون کونسلر کے طور پر یاد کی جاتی ہیں۔
ملک مشتاق جیا سابق کونسلر تھے اور ذوالفقار علی بھٹو کے شیدائی تھے۔بھٹو دور میں چینی آٹے گھی کے پرمٹ ان کے پاس تھے ان کی سیاسی وابستگی بھی ان کی شخصیت اور مقامی زندگی کے حوالے سے یاد کی جاتی ہے ان شخصیات کے علاوہ گاؤں کی زندگی میں تعلیم، کھیل اور دوستی سے وابستہ لوگوں کا بھی اپنا مقام تھا۔کرکٹ کے کھیل کا آغاز 1977 میں ملک منصب دار نے کیا اولین کھلاڑیوں میں ماسٹر احمد خان ماسٹر ملک لال خان سید سجاول شاہ شامل تھے بعد ازاں محمد طاہر بھی کرکٹ کے حوالے سے جانے جاتے تھے، جب کہ اعجاز ملک اپنی وفاداری اور دوست پروری کے باعث یاد کیے جاتے ہیں راجہ خان زمان کبڈی کے کھلاڑی تھے۔ بیل دوڑوں کے شوقین حاجی ولایت خان اور شہزادہ خان بھی اس دیہی روایت سے وابستہ تھے یوسف اور گل ترکھان، جنہیں جندر والے کہا جاتا تھا، غریب نوازی اور گاؤں کے لیے مفید کردار ادا کرنے کے حوالے سے یاد کیے جاتے ہیں یہ سب لوگ اس معاشرتی تصویر کے مختلف رنگ تھے جس میں کھیل، دوستی، خدمت، عقیدت اور باہمی تعاون ایک ساتھ موجود تھے۔
علامہ مولانا رفاقت قریشی اور علمی شناخت
بولیانوال کی علمی شناخت میں علامہ مولانا رفاقت قریشی صاحب کا ذکر خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کی علمی شخصیت گاؤں کی حدود سے آگے تک پہچانی جاتی تھی۔ نادر کتابوں پر مشتمل ان کی لائبریری علم دوستی کی علامت تھی، جب کہ ان کی خطابت کا چرچا پاکستان بھر میں تھا کتاب سے محبت، علم کا ذخیرہ جمع کرنے کا شوق اور لوگوں تک اپنے خیالات پہنچانے کی صلاحیت کسی بھی معاشرے کے لیے قیمتی سرمایہ ہوتی ہے۔ مولانا رفاقت قریشی صاحب کی شخصیت اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ کسی گاؤں کی وسعت صرف اس کے رقبے سے نہیں ناپی جا سکتی؛ اس کی وسعت ان ذہنوں، کرداروں اور خوابوں سے بھی متعین ہوتی ہے جو اس مٹی میں جنم لیتے ہیں۔
بدلتا ہوا گاؤں اور شہر کی طرف ہجرت وقت کے ساتھ بولیانوال کی معاشرت بھی بدلتی گئی۔ روزگار، تعلیم اور بہتر سہولتوں کی تلاش میں لوگ شہروں کا رخ کرنے لگے۔ جو گلیاں کبھی بچوں کے شور اور لوگوں کی آمدورفت سے آباد رہتی تھیں، وہاں خاموشی بڑھنے لگی۔ جو گھر رشتے داروں، دوستوں اور پڑوسیوں کی آمد سے بھرے رہتے تھے، ان کے دروازوں پر پہلے جیسی رونق نہ رہی نئی نسل کے لیے شہر میں امکانات زیادہ تھے، لیکن اس کے ساتھ اپنے بزرگوں، بچپن کی جگہوں اور اس معاشرت سے فاصلہ بھی پیدا ہوا جس میں ایک شخص کی خوشی یا غم پورے گاؤں کا معاملہ بن جاتا تھا شہر کی زندگی نے سہولتیں دیں، تعلیم اور روزگار کے نئے راستے کھولے اور زندگی کو ایک نئی رفتار عطا کی، لیکن اس کے ساتھ بہت سی پرانی روایتیں بھی آہستہ آہستہ کمزور ہوتی گئیں۔ بیٹھکوں کی رونق، ڈھیروں کی محفلیں، بزرگوں کی باتیں اور بے تکلف میل جول پہلے جیسے نہ رہے یہ تبدیلی صرف بولیانوال تک محدود نہیں۔ بہت سے دیہات نے ایسے ہی حالات کا سامنا کیا ہے، جہاں بہتر مستقبل کی تلاش میں نئی نسل شہروں کی طرف چلی گئی اور پیچھے رہ جانے والے گھروں، راستوں اور محفلوں کی رونق میں کمی آنے لگی۔
میں بھی اسی سفر کا مسافر ہوں۔ شہر کی زندگی نے مجھے بہت کچھ دیا، مگر اس نے میرے اندر سے بولیانوال کی یاد نہیں نکالی۔ آج بھی وہ چہرے یاد آتے ہیں جو اب اس دنیا میں نہیں، وہ آوازیں سنائی دیتی ہیں جو وقت کی گرد میں کہیں دب گئی ہیں اور وہ مقامات ذہن میں ابھرتے ہیں جہاں زندگی اپنے پورے رنگ کے ساتھ رواں تھی گاؤں کے بزرگوں کی بیٹھکیں، میلوں کی رونق، مسجد کی اذان، کھیتوں کے راستے اور لوگوں کی بے تکلف قربتیں محض ماضی کے مناظر نہیں؛ یہ میری شخصیت کی تشکیل میں شامل تجربات ہیں کبھی کسی پرانی بات کا خیال آتا ہے تو دل بے اختیار ان دنوں کی طرف لوٹ جاتا ہے جب لوگ ایک دوسرے کو صرف نام سے نہیں، بلکہ رشتے اور تعلق سے پہچانتے تھے۔ کسی کے گھر خوشی ہوتی تو آس پاس کے لوگ بھی شریک ہو جاتے، اور کسی پر غم آتا تو دوسرے لوگ اس کے دکھ میں شریک ہونے کو اپنا فرض سمجھتے تھے وہ زمانہ اپنی تمام تر سادگیوں کے باوجود ایک خاص اپنائیت رکھتا تھا۔ وسائل محدود تھے، مگر تعلقات میں وسعت تھی۔ سہولتیں کم تھیں، مگر ایک دوسرے کے لیے وقت نکالنے کا رواج زیادہ تھا۔
آج جب ان یادوں کو قلم بند کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اپنے گاؤں کی تاریخ لکھنا دراصل اپنی زندگی کے ان حصوں کو محفوظ کرنا ہے جو وقت گزرنے کے باوجود ہمارے اندر زندہ رہتے ہیں۔
ماضی کی حفاظت، آنے والی نسلوں کے نام شاید ہر شخص کے اندر ایک گاؤں آباد رہتا ہے۔ کوئی اسے تصویروں میں محفوظ کرتا ہے، کوئی تحریر میں، کوئی دعاؤں میں اور کوئی خاموشی سے اپنے دل میں لیے پھرتا ہے میرا گاؤں بھی میرے اندر آباد ہے، مگر اس کی وہ اجتماعی زندگی، کھلے دروازے، بیٹھکیں اور بے تکلف رشتے اب پہلے جیسے کہاں رہے؟ سہولتیں بڑھ گئی ہیں، رابطوں کے ذرائع بدل گئے ہیں اور فاصلے کم کرنے والی مشینیں ہمارے ہاتھوں میں ہیں، مگر دلوں کے درمیان فاصلے کبھی کبھی پہلے سے زیادہ محسوس ہوتے ہیں اسی لیے ماضی کی طرف دیکھتے ہوئے میں کسی ایک شخص یا عمارت کو نہیں، بلکہ پوری بستی کو یاد کرتا ہوں؛ اس کے لوگوں کو، اس کی بولی کو، اس کی مٹی کو اور ان روایتوں کو جنہوں نے ہمیں ایک دوسرے سے جوڑے رکھا۔ یہ تحریر صرف گزرے ہوئے لوگوں کے نام گنوانے کی کوشش نہیں، بلکہ اس اجتماعی زندگی کی یادداشت ہے جس نے بولیانوال کو ایک پہچان دی۔ ان مرحوم شخصیات کے تذکرے کے ذریعے میری کوشش ہے کہ وہ خدمات، وہ کردار اور وہ روایات محفوظ رہیں جنہوں نے اس گاؤں کی تاریخ کو تشکیل دیا۔
میری خواہش ہے کہ بولیانوال کے نوجوان اپنے گاؤں کی تاریخ میں دلچسپی لیں، بزرگوں سے ان کے تجربات سنیں، پرانی تصاویر اور دستاویزات جمع کریں اور ان شخصیات کے حالات قلم بند کریں جنہوں نے اس بستی کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیا۔ اس تحریر میں بیان کی گئی مقامی روایات اور بعض تاریخی واقعات کی مزید تحقیق بھی ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے یادوں کے ساتھ مستند تاریخی معلومات بھی محفوظ کی جا سکیں۔
یہ تحریر مکمل تاریخ کا آخری لفظ نہیں، بلکہ ایک ایسی کوشش کا آغاز ہے جسے بولیانوال سے محبت کرنے والے لوگ اپنی یادوں، معلومات اور تحقیق سے مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔ اگر کسی بزرگ، کسی خاندان یا کسی صاحبِ علم کے پاس اس بستی کی تاریخ سے متعلق مزید معلومات ہوں تو انہیں محفوظ کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آخر میں، میں ان تمام مرحوم شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنی زندگی میں بولیانوال کی مٹی کو اپنے کردار، محنت اور محبت سے معتبر بنایا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ان کی نیکیوں کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین۔
بولیانوال میرے لیے صرف ماضی کی ایک یاد نہیں، بلکہ میری شناخت کا وہ حصہ ہے جو وقت کے ساتھ مٹنے کے بجائے اور گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ میں شہر میں رہتا ہوں، مگر میرے اندر آج بھی ایک گاؤں سانس لیتا ہے؛ اس کی گلیاں، اس کے درخت، اس کی بیٹھکیں، اس کی اذانیں اور اس کے بچھڑے ہوئے لوگ میرے ساتھ زندہ ہیں۔
کیونکہ بستیاں صرف اینٹوں اور پتھروں سے نہیں بنتیں، وہ انسانوں کی محبت، بزرگوں کی دعاؤں، محسنوں کی قربانیوں اور نسل در نسل منتقل ہونے والی یادوں سے آباد رہتی ہیں۔ لوگ رخصت ہو جاتے ہیں، زمانے بدل جاتے ہیں، مگر ان کے اچھے کردار اور نیک اعمال آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن سکتے ہیں۔
بولیانوال کی مٹی کو میرا سلام، اس کے تمام مرحومین کے لیے دعائے مغفرت، اور آنے والی نسلوں کے نام میرا پیغام: اپنے گاؤں کو صرف یاد نہ رکھیے، اس کی تاریخ بھی محفوظ رکھیے؛ کیونکہ جو قومیں اپنی جڑوں کو پہچانتی اور اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں، وہی اپنے مستقبل کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرتی ہیں۔
میرا گاؤں بولیانوال کل بھی میرے دل میں آباد تھا، آج بھی ہے اور ان شاء اللہ آنے والی نسلوں کی یادوں میں بھی زندہ رہے گا

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔