میرا گاؤں غریبوال
کالم نگار: سید حبدار قائم
وطن کی مٹی سے محبت انسان کی فطرت میں شامل ہے، مگر اپنے گاؤں سے وابستگی کا احساس کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ گاؤں کی گلیاں، کھیتوں کی مہک، کچے راستوں کی دھول، تالابوں کا پانی، بزرگوں کی شفقت اور بچپن کی یادیں زندگی بھر انسان کے دل میں چراغ بن کر روشن رہتی ہیں۔ میرا گاؤں غریبوال بھی میری زندگی کی ایسی ہی ایک خوب صورت داستان ہے، جس کے ورق پلٹوں تو ماضی کی کئی یادیں آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہیں۔
غریبوال تحصیل پنڈیگھیب کا ایک قدیم اور قابلِ ذکر گاؤں ہے، جو پنڈیگھیب شہر کے جنوب میں نسبتاً بلند مقام پر واقع ہے۔ اس کی سرزمین میں محنت کش کسانوں کی خوشبو، بزرگوں کی دعاؤں کی تاثیر اور سادہ زندگی کے کئی رنگ پوشیدہ ہیں۔ یہاں کی مٹی نے نسلوں کو پالا، کھیتوں نے رزق عطا کیا اور مذہبی و سماجی روایات نے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھا۔
میری یادوں کا ایک بڑا حصہ 1980ء کی دہائی کے غریبوال سے وابستہ ہے، جب پانی کی قلت روزمرہ زندگی کا ایک اہم مسئلہ تھی۔ گاؤں کے بارشی تالاب لوگوں کی پیاس بجھانے اور گھریلو ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوتے تھے۔ بچے، بوڑھے، مرد اور عورتیں پانی لینے کے لیے تالابوں کا رخ کرتے۔ عورتیں پانی کے گھڑے سر پر رکھتیں اور بعض کمر کے سہارے بھی اٹھاتیں، جب کہ مرد بانگی کے ذریعے پانی بھرتے اور گھروں تک پہنچاتے۔ آج کی نسل شاید اس مشقت کا پورا اندازہ نہ کر سکے، لیکن ہمارے لیے یہ مناظر زندگی کی ایک ایسی حقیقت ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود حافظے سے محو نہیں ہوتی۔
اس زمانے میں گاؤں کا ماحول سادہ، صاف ستھرا اور باہمی تعاون کی خوشبو سے معمور تھا۔ لوگ مال مویشی پالتے تھے۔ جن گھروں میں بھینسیں یا گائیں ہوتیں، وہاں سے لسی مفت مل جایا کرتی تھی۔ کسی کو لسی درکار ہوتی تو وہ متعلقہ گھر جا پہنچتا، اور یہ معمول دیہی معاشرت کی محبت و خلوص کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ گاؤں میں ایک پکا تالاب اور میٹھے پانی کے ایک دو نلکے بھی تھے، جہاں ہر وقت لوگوں کا ہجوم دکھائی دیتا تھا۔
خصوصاً سید نور حسین شاہ کے گھر میٹھے پانی کی سہولت تھی۔ پانی لینے والوں کا اس قدر رش ہوتا کہ گھر میں تل دھرنے کی جگہ نہ رہتی، مگر ان کے مزاج میں کبھی ناگواری دکھائی نہ دی۔ لوگوں کی آمدورفت کے باوجود ان کے ماتھے پر شکن تک نہ آتی۔ یہ محض پانی کی فراہمی نہیں تھی بلکہ انسانیت، خدمت اور برداشت کا وہ سبق تھا جو آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ بن سکتا ہے۔ ایسے کردار کسی بھی گاؤں کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں۔
غریبوال میں لڑکوں اور لڑکیوں کے الگ الگ اسکول قائم تھے۔ اس انتظام سے تعلیم کے ساتھ ساتھ مقامی معاشرتی اقدار کا خیال بھی رکھا جاتا تھا۔ افسوس کہ وقت کے ساتھ لڑکیوں کا اسکول ختم ہو گیا۔ آج گاؤں میں نہ بچوں کے لیے ہائی اسکول موجود ہے اور نہ بچیوں کے لیے، جس کے باعث طالبات کو تعلیم کے حصول کے لیے پنڈیگھیب جانا پڑتا ہے۔ دیہی بچیوں کے لیے روزانہ سفر کرنا آسان نہیں، اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی تعلیمی مشکلات کو سنجیدگی سے دیکھا جائے اور مقامی سطح پر مناسب تعلیمی سہولتوں کی بحالی یا فراہمی کے امکانات تلاش کیے جائیں۔ تعلیم کسی ایک گھرانے کی نہیں، پورے معاشرے کی ضرورت ہے۔
غریبوال میں کھیتی باڑی آج بھی بہت سے لوگوں کا بنیادی ذریعۂ معاش ہے۔ زمین سے رزق کشید کرنے والے یہ محنت کش کسان ہماری دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ گاؤں میں پانی کی فراہمی کا نظام بھی موجود ہے، نجی انگریزی اسکول قائم ہو چکے ہیں اور رورل ڈسپنسری کی سہولت بھی بحال ہے۔ میونسپل کمیٹی کی موجودگی بھی ایک اہم انتظامی سہولت ہے، تاہم ان اداروں کی افادیت اسی وقت بڑھ سکتی ہے جب ان کی خدمات گاؤں کے ہر محلے اور ہر گھرانے تک یکساں طور پر پہنچیں۔
میرے لیے یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ غریبوال میں ایک ڈیم موجود ہے، جسے میجر ڈاکٹر ریٹائرڈ ملک طارق نے تعمیر کروایا۔ اس سے ان کی زمینیں سیراب ہوتی ہیں اور اس میں مچھلیاں بھی پالی جاتی ہیں۔ پانی کا ایسا ذخیرہ زرعی ضروریات اور مقامی وسائل کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ اگر دیہی علاقوں میں پانی کے وسائل کو بہتر منصوبہ بندی اور اجتماعی مفاد کے اصولوں کے تحت فروغ دیا جائے تو زراعت اور مقامی معیشت کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔
اب ذرا گاؤں کے راستوں اور بنیادی سہولتوں کا ذکر ہو جائے۔ میرے ساٹھ سالہ مشاہدے میں یہ بات بارہا سامنے آئی ہے کہ پکی سڑکوں کی تعمیر میں یکساں توجہ نہیں دی گئی۔ بعض راستے، خصوصاً سیاسی شخصیات کے گھروں کی جانب جانے والے راستے، پختہ دکھائی دیتے ہیں، جب کہ بس اسٹاپ سے گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول تک اور معصوم بادشاہ موڑ سے چوا حاجی امامؒ اور معصوم بادشاہؒ تک جانے والے راستوں کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ یہ راستے صرف آمدورفت کا ذریعہ نہیں بلکہ بچوں، بزرگوں، نمازیوں، زائرین اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔
بجلی کے ٹرانسفارمروں کی تنصیب اور بعض محلوں میں بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی کے حوالے سے بھی مقامی لوگوں کے تحفظات سننے میں آتے ہیں۔ عوامی خدمت کا بہترین معیار یہ ہے کہ سہولتوں کی تقسیم میں کسی سیاسی وابستگی یا اختلاف کو حائل نہ ہونے دیا جائے۔ اگر کسی محلے میں ترقیاتی کام ہو تو دوسرے محلے کے رہنے والوں کو بھی امید ہونی چاہیے کہ ان کی باری بھی ضرور آئے گی۔ سیاست کا حسن انتقام میں نہیں، انصاف اور خدمت میں پوشیدہ ہے۔
گاؤں میں سیاست دانوں کے سامنے بیٹھنے اور اپنی بات کہنے کی روایت آج بھی بڑی حد تک اسی انداز میں برقرار ہے جیسے ساٹھ برس پہلے ہوا کرتی تھی۔ ان نشستوں میں مثبت گفتگو بھی ہوتی ہے اور اختلافِ رائے بھی سامنے آتا ہے۔ اختلاف جمہوری معاشرت کا فطری حصہ ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ہر شہری کے مسائل سنے جائیں۔ وفاداری اور مخالفت کے پیمانوں کی بجائے ضرورت اور حق کی بنیاد پر ترقیاتی کام ہوں تو معاشرے میں اعتماد بڑھے گا اور باہمی فاصلے کم ہوں گے۔ ملک سمین خان اور ملک عمران خان کا نام بھی گاؤں کی سیاسی شخصیات کے حوالے سے لیا جاتا ہے۔ اہلِ سیاست کے لیے یہ ایک اچھا موقع ہے کہ وہ اپنی خدمات کے ذریعے غریبوال کی ترقی میں مثبت کردار ادا کریں۔
میونسپل کمیٹی سے متعلق بھی چند گزارشات ہیں۔ گاؤں کے بعض محلوں میں نالیاں بند رہنے، گندگی کے ڈھیر جمع ہونے اور صفائی کے مناسب انتظام نہ ہونے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ صفائی محض ظاہری خوب صورتی کا نام نہیں بلکہ صحت مند معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ متعلقہ ادارے اگر باقاعدہ صفائی کا نظام، نالیوں کی دیکھ بھال اور کچرا اٹھانے کا مؤثر انتظام بنا لیں تو گاؤں کا ماحول مزید خوش گوار ہو سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے عوامی تعاون اور ادارہ جاتی ذمہ داری دونوں ضروری ہیں۔
غریبوال کی روحانی پہچان بھی اپنی جگہ نمایاں ہے۔ یہاں مساجد آباد ہیں، اذان کی آوازیں فضا میں توحید کا پیغام بکھیرتی ہیں اور ایک امام بارگاہ بھی موجود ہے۔ معصوم بادشاہؒ کی زیارت خاص و عام کے لیے کھلی رہتی ہے، جہاں عقیدت مند حاضری دیتے اور دعاؤں کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ ایسی مذہبی اور روحانی جگہیں لوگوں کے دلوں میں عقیدت، امید اور وابستگی کے جذبات کو زندہ رکھتی ہیں۔
تاہم ایک مسئلہ ایسا ہے جس کا ذکر کرتے ہوئے دل بوجھل ہو جاتا ہے۔ گاؤں کے قبرستان تک میت لے جانے کے لیے مناسب پکی سڑک کا نہ ہونا اہلِ علاقہ کے لیے شدید دشواری کا باعث بنتا ہے۔ غم کے لمحات میں جب انسان اپنے پیارے کو آخری منزل تک پہنچا رہا ہو تو راستے کی مشکلات اس کے دکھ کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ یہ مسئلہ کسی جماعت، گروہ یا فرد کے خلاف شکایت نہیں بلکہ ایک اجتماعی ضرورت کی نشان دہی ہے۔ امید ہے کہ متعلقہ نمائندے اس جانب خصوصی توجہ دیں گے اور اس راستے کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔
غریبوال کے ادبی منظرنامے کا ذکر بھی ضروری ہے۔ جہاں تک میرے علم اور مشاہدے کا تعلق ہے، یہاں لکھنے پڑھنے سے وابستہ نمایاں ناموں میں علی احمد تبسم مرحوم اور میرا نام شامل ہیں۔ علی احمد تبسم مرحوم کی کوئی کتاب شائع نہ ہو سکی، جب کہ میری دس کتابیں اب تک منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔ یہ بات میں کسی برتری کے اظہار کے لیے نہیں بلکہ اس احساس کے ساتھ بیان کر رہا ہوں کہ دیہی علاقوں میں ادبی صلاحیتوں کو ابھرنے کے لیے مزید مواقع ملنے چاہییں۔ گاؤں کی مٹی میں صرف فصلیں ہی نہیں اگتیں، خیال، تخیل اور لفظ کے پھول بھی کھلتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل کو کتاب سے محبت، مطالعے کا شوق اور اظہارِ خیال کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
غریبوال کی ترقی کے لیے کسی ایک فرد یا ادارے کو موردِ الزام ٹھہرانا میرا مقصد نہیں۔ میری خواہش صرف یہ ہے کہ جن راستوں کو پختہ ہونا چاہیے وہ پختہ ہوں، جن محلوں میں سہولتیں نہیں وہاں سہولتیں پہنچیں، صفائی کا نظام بہتر ہو، بچیوں کی تعلیم آسان بنائی جائے اور قبرستان تک جانے والے راستے کو قابلِ استعمال بنایا جائے۔ یہ مطالبات نہ غیر معمولی ہیں اور نہ کسی خاص طبقے کے لیے ہیں؛ یہ ایک عام شہری کی جائز ضروریات ہیں۔
وقت بدلتا ہے، نسلیں بدلتی ہیں اور زندگی کے انداز بھی تبدیل ہو جاتے ہیں، لیکن گاؤں سے وابستہ یادیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں۔ مجھے آج بھی وہ تالاب یاد ہیں، پانی کے گھڑے اٹھاتی ہوئی عورتیں یاد ہیں، لسی بانٹتے ہوئے گھرانے یاد ہیں اور سید نور حسین شاہ کے گھر میٹھا پانی لینے والوں کا ہجوم یاد ہے۔ ان یادوں میں خلوص بھی ہے، سادگی بھی اور ایک ایسا معاشرتی رشتہ بھی جس میں دوسروں کی ضرورت کو اپنی ضرورت سمجھا جاتا تھا۔
میری دعا ہے کہ میرا گاؤں غریبوال ترقی کی نئی منازل طے کرے، اس کی گلیاں صاف ہوں، راستے آسان ہوں، تعلیمی ادارے آباد ہوں، نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع ملیں اور سیاست خدمت کا وسیلہ بنے۔ کسی کی دل آزاری کیے بغیر مسائل کی نشان دہی کرنا بھی اصلاحِ معاشرہ کا ایک طریقہ ہے۔ میری یہ تحریر اسی نیک نیتی کی ترجمان ہے کہ غریبوال کا ہر باشندہ اپنے گاؤں پر فخر کر سکے اور آنے والی نسلیں ہمیں اس لیے یاد کریں کہ ہم نے اپنے حصے کا چراغ جلانے کی کوشش کی تھی۔
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔