چرواہا: مٹی کی خوشبو، فطرت کی آغوش اور دیہی زندگی کا ایک زندہ کردار
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
بچپن کی یادوں میں گاؤں کی صبح کا ایک منظر آج بھی پوری تازگی کے ساتھ محفوظ ہے۔ پو پھٹتے ہی مختلف گھروں سے مویشیوں اور بکریوں کے ریوڑ نکلنا شروع ہو جاتے۔ ان کے آگے پیچھے چلتے جانوروں کی گھنٹیوں کی آوازیں، قدموں کی دھمک اور ایک دوسرے کو پکارنے کی صدائیں گاؤں کی خاموش فضا میں ایک مانوس سی گونج پیدا کر دیتیں۔ ان ریوڑوں کے ساتھ ایک شخص بھی دکھائی دیتا؛ ہاتھ میں چھڑی، کندھے پر پانی کی بطخ لٹکائے اور کپڑے میں دن بھر کے لیے کھانا باندھے، وہ اپنے جانوروں کے ہمراہ چراگاہوں کی طرف رواں دواں ہوتا۔ اس کے چہرے پر دن بھر کی مشقت کا اندازہ شاید اس وقت نہ ہوتا، مگر آج جب ان یادوں کو پلٹ کر دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ اس سادہ سے منظر میں محنت، ذمہ داری اور دیہی زندگی کی پوری معنویت سمٹی ہوئی تھی۔
میرا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے ہے اور گاؤں کی زندگی سے یہ قربت محض سنی سنائی باتوں تک محدود نہیں۔ میں نے چرواہے کو موسموں کے بدلتے رنگوں میں، کھیتوں کی منڈیروں، کچی پگڈنڈیوں، پہاڑی ڈھلوانوں اور ندی نالوں کے کنارے اپنے ریوڑ کے ساتھ چلتے دیکھا ہے۔ صبح سویرے گھر سے نکلنے والا یہ شخص عصر کی اذان کے بعد جانوروں سمیت واپس لوٹتا تو بظاہر اس کا دن مکمل ہو جاتا، لیکن گھر پہنچ کر بھی اس کی ذمہ داریاں ختم نہ ہوتیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ احساس گہرا ہوا کہ چرواہا محض جانور چرانے والا شخص نہیں، بلکہ دیہی معیشت اور ہماری روزمرہ غذائی ضروریات سے جڑا ایک اہم کردار ہے۔
چرواہے کی صبح اس وقت شروع ہو جاتی ہے جب گاؤں پر رات کی خاموشی پوری طرح رخصت بھی نہیں ہوئی ہوتی۔ کہیں مرغ کی بانگ سنائی دیتی ہے، کہیں چولہوں سے دھواں اٹھنے لگتا ہے اور مویشیوں کے باڑوں میں چہل پہل شروع ہو جاتی ہے۔ وہ جانوروں کو اکٹھا کرتا، دن بھر کے لیے کھانا اور پانی ساتھ لیتا اور کچی پگڈنڈیوں پر چل پڑتا ہے۔ اس کے لیے صبح کی تازگی آرام یا تفریح کا پیغام نہیں، بلکہ ایک طویل دن کی ذمہ داریوں کا آغاز ہے۔
میں نے اپنے مشاہدے میں پایا ہے کہ چرواہا زمین اور موسم کی زبان کسی کتاب سے نہیں، برسوں کی رفاقت سے سیکھتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کس ڈھلوان پر چارہ بہتر ہے، کس راستے سے پانی تک پہنچا جا سکتا ہے اور بدلتے موسم میں ریوڑ کو کس سمت لے جانا مناسب ہوگا۔ یہ علم بظاہر سادہ دکھائی دیتا ہے، مگر اس میں تجربے کی وہ گہرائی ہوتی ہے جو وقت، مشاہدے اور مسلسل محنت سے حاصل ہوتی ہے۔ چرواہا محض جانوروں کے پیچھے چلنے والا شخص نہیں؛ وہ ان کی عادات، مزاج اور ضرورتوں سے واقف ایک تجربہ کار نگہبان ہوتا ہے۔
دن چڑھنے پر ریوڑ کھلے میدانوں، پہاڑی ڈھلوانوں اور قدرتی چراگاہوں میں پھیل جاتا ہے۔ بکریاں جھاڑیوں میں چارہ تلاش کرتی ہیں، بھیڑیں گھاس پر منہ مارتی ہیں اور دوسرے مویشی سایہ دیکھ کر ٹھہر جاتے ہیں۔ چرواہے کی نگاہ مسلسل ان کے ساتھ رہتی ہے۔ وہ پرندوں کی آوازیں سنتا، پتوں کی سرسراہٹ پہچانتا اور بہتے پانی کے کنارے کچھ دیر سستانا بھی جانتا ہے۔ جنگلی درختوں کے پھل اور مقامی پودے اس کے لیے اجنبی نہیں ہوتے؛ اس واقفیت میں اس کے اپنے تجربے کے ساتھ بزرگوں سے سیکھا ہوا علم بھی شامل ہوتا ہے۔ فطرت اس کے لیے محض دل کش منظر نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔
چرواہے اور اس کے جانوروں کے درمیان ایک خاموش مگر گہرا تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی مخصوص آواز میں پکارتا ہے تو جانور اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں؛ وہ بھی ان کی چال، عادت اور رویے سے ان کی کیفیت بھانپ لیتا ہے۔ یہ مانوسیت کسی ایک دن میں پیدا نہیں ہوتی، بلکہ مسلسل رفاقت اور دیکھ بھال کا حاصل ہوتی ہے۔ اسی لیے چرواہے کی ذمہ داری صرف ریوڑ کو چراگاہ تک لے جانا نہیں، بلکہ اسے محفوظ رکھنا اور شام کو بحفاظت واپس لانا بھی ہے۔
اس کی زندگی میں جسمانی سرگرمی بہت ہے۔ طویل فاصلے پیدل طے کرنا، بدلتے موسموں میں کھلے ماحول میں رہنا اور جانوروں کے ساتھ مسلسل متحرک رہنا اس کے معمولات کا حصہ ہے۔ تاہم اس مشقت کو بیماریوں سے مکمل تحفظ سمجھنا درست نہیں؛ صحت کا انحصار خوراک، آرام، عمر اور طبی سہولتوں پر بھی ہوتا ہے۔ چرواہے کی محنت کی تعریف کرتے ہوئے اس کی جسمانی آسودگی اور صحت کی ضرورتوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
عصر کی اذان گاؤں کی فضا میں گونجتی ہے تو واپسی کا وقت آ پہنچتا ہے۔ چرواہا ریوڑ کو سمیٹتا اور اسی مانوس راستے پر گاؤں کی طرف چل پڑتا ہے۔ ڈھلتے سورج کی روشنی، جانوروں کے قدموں کی دھمک اور گلے میں بندھی گھنٹیوں کی مدھم آواز شام کے منظر کو ایک خاص تاثیر بخشتی ہے۔ مگر گھر پہنچ کر بھی اس کا کام ختم نہیں ہوتا۔ جانوروں کو ان کے مقررہ ٹھکانوں پر باندھنا، چارے اور پانی کا انتظام کرنا، باڑے کی دیکھ بھال اور دودھ دینے والے مویشیوں کو دوہنا اس کے معمولات میں شامل ہیں۔ دودھ دوہنے کا کام صبح و شام جاری رہتا ہے؛ یوں اس کی زندگی کا دائرہ روزانہ طلوعِ آفتاب سے شروع ہو کر رات کے معمولات تک پھیلا رہتا ہے۔
دیہی زندگی سے میری وابستگی نے مجھے یہ سمجھایا ہے کہ دودھ کا ایک برتن، مکھن کی ایک پیالی یا دیسی گھی کی تھوڑی سی مقدار ہمارے دسترخوان تک پہنچنے سے پہلے کتنی محنت سے گزرتی ہے۔ جانوروں کی پرورش، ان کے چارے کا انتظام، چراگاہوں تک لے جانا اور روزانہ دودھ دوہنا ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔ گوشت اور دودھ سے حاصل ہونے والی غذاؤں کی فراہمی میں چرواہے اور مویشی پالنے والوں کا حصہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے، مگر اکثر ہم ان اشیا کو خریدتے ہوئے ان ہاتھوں کو یاد نہیں کرتے جن کی محنت سے یہ ممکن ہوتی ہیں۔ چرواہا خاموشی سے اپنا فرض ادا کرتا ہے، لیکن اس کی محنت کا اثر گھروں اور دسترخوانوں تک پہنچتا ہے۔
اس کی زندگی میں سادگی نمایاں ہے۔ وہ عموماً اپنے وسائل کے مطابق زندگی گزارتا ہے اور دکھاوے کے بجائے کام کو اہمیت دیتا ہے۔ دیہی معاشرے میں ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جنہوں نے رسمی تعلیم کم حاصل کی ہوتی ہے، مگر خلوص، مہمان نوازی اور دوسروں کے کام آنے کا جذبہ ان کے کردار میں نمایاں ہوتا ہے۔ کسی ضرورت مند کی مدد کرنا یا پڑوسی کا ہاتھ بٹانا ان کے لیے محض احسان نہیں، انسانی تعلق کا فطری تقاضا ہوتا ہے۔ ایسے مشاہدات مجھے یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ انسان کی قدر صرف اس کی دولت یا سند سے نہیں، اس کے کردار اور عمل سے بھی پہچانی جانی چاہیے۔
البتہ چرواہے کی سادگی کو اس کی مشکلات چھپانے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ موسم کی سختیاں، جانوروں کی بیماریوں کا خطرہ، آمدنی میں غیر یقینی اور صحت و تعلیم کی سہولتوں تک محدود رسائی اس کی زندگی کے حقیقی مسائل ہیں۔ اس کی محنت کا اعتراف صرف تعریف کے چند جملوں سے مکمل نہیں ہوتا؛ اس کے لیے مناسب معاوضہ، بہتر سہولتیں اور معاشی تحفظ بھی ضروری ہیں۔
میرے لیے چرواہا دیہی زندگی کا ایک مانوس چہرہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی محنت کی علامت ہے جس پر ہماری روزمرہ ضروریات کا ایک حصہ قائم ہے۔ اس کی زندگی میں نہ غیر ضروری نمود ہے، نہ اپنی خدمات جتانے کی عادت؛ وہ موسموں کی سختی اور روزانہ کی مشقت کے باوجود اپنے کام میں لگا رہتا ہے۔ گاؤں کے راستوں پر اسے آتے جاتے دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ معاشرے کا نظام صرف بڑے عہدوں یا نمایاں کامیابیوں سے نہیں چلتا، بلکہ ان گمنام محنت کشوں سے بھی قائم رہتا ہے جن کی خدمات اکثر نگاہوں سے اوجھل رہتی ہیں۔
چرواہے کی زندگی کا اصل سبق یہی ہے کہ محنت کی عظمت شور کی محتاج نہیں۔ وہ جانوروں کی دیکھ بھال کرتا ہے، غذائی ضروریات کی فراہمی میں حصہ ڈالتا ہے اور دیہی معیشت کو سہارا دیتا ہے۔ میرے نزدیک چرواہا دیہی زندگی کا ایک خاموش محسن ہے؛ اس کی محنت کا چرچا کم ہوتا ہے، مگر اس کے اثرات ہمارے گھروں اور دسترخوانوں تک پہنچتے ہیں۔ ایسے کرداروں کی قدر کرنا محض ماضی کی روایات سے محبت نہیں، بلکہ ان لوگوں کے حق کو تسلیم کرنا ہے جو اپنی محنت سے زندگی کا بنیادی پہیہ رواں رکھتے ہیں۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔