انیل سعید : اٹک کی یادوں میں ایک قابل اور باکردار افسر
پنجاب کے شمال مغرب میں آخری ضلع اٹک واقع ہے. صدیوں سے دریائے سندھ صوبہ کے.پی اور پنجاب کے درمیان قدرتی سرحد ہے. اٹک کی تاریخ بھی صدیوں پر محیط ہے. یہاں تاریخ کے بے بہا خزانے موجود ہیں. یہ 1904 میں ایک الگ ضلع بنا. یہاں ترقی کا سفر ابتدا میں تو بہت تیزی سے طے ہوا. مگر 1947 کے بعد کبھی تیز اور کبھی سست روی کا شکار رہا. 2023 میں جناب راؤ عاطف رضا نے بطور ڈپٹی کمشنر انتہائی تیز رفتاری سے اٹک کو ترقی کی منازل سے آشنا کیا. کسی بھی ایڈمنسٹریٹر کو احداف کی کامیاب تکمیل کے لیے اچھی، لائق اور محنتی ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے. چنانچہ راؤ صاحب کی ٹیم میں بھی بہت سے لائق، محنتی اور ایماندار افسران شامل رہے. اُن میں سے ایک قیمتی شخصیت کا نام ہے انیل سعید، پہلے راؤ عاطف رضا ٹرانسفر ہوئے اور اب انیل سعید صاحب بھی ٹرانسفر ہو کر اسلام آباد سی.ڈی.اے جا چکے ہیں. افسران کے تبادلے تو زندگی کا حصہ ہوتے ہیں مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے کام، اخلاق و کردار وہاں کے باسیوں کے دلوں میں ایسے گھر کر لیتے ہیں کہ اُن کے جانے پر دل افسردہ ہو جاتے ہیں. بس اُن میں سے ایک نام انیل سعید صاحب کا بھی ہے.
اُن کی زندگی کے سفر اور دیگر کامیابیوں کے حوالے سے اپنی محبت کے اظہار کے لیے کچھ سطور لکھ رہا ہوں. مجھے اپنی کم مائیگی کا مکمل احساس ہے لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ایسی تحریریں آگے چل کر تاریخ مرتب کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہیں.
انیل سعید صاحب اپنے والدین کے گھر میں 5 اگست 1985 کو پیدا ہوئے. کل چھ بھائی اور دو بہنیں جن میں سے آپ اپنے والدین کی چوتھی اولاد ہیں. آپ کے والد جناب سعید احمد محکمہ جنگلات پنجاب میں سروس کرتے رہے اور بطور ڈویژنل فارسٹ آفیسر ریٹائرڈ ہوئے. انیل سعید صاحب کی پیدائش تو ملتان میں ہوئی مگر آپ کا آبائی گاؤں چک 347 گ ب تحصیل و ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ ہے. یہاں اس بات کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے کہ آپ کے دادا بابو عزیزالدین انڈیا کے ضلع لدھیانہ سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے اور اس علاقے میں اُنہیں زمین الاٹ ہوئی تھی. آپ کے والد بوجہ ملازمت مختلف شہروں میں تعینات رہے. یہی وجہ ہے کہ آپ کی تعلیم بھی مختلف شہروں میں تکمیل پاتی رہی. جھنگ، خوشاب، فیصل آباد وغیرہ. انٹر میڈیٹ ملتان سے کیا اور بورڈ میں گولڈ میڈل کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی. بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے فنانس میں ایم بی اے بھی گولڈ میڈل کے ساتھ پاس کیا. یہاں وہ اپنے اُستاد پروفیسر اے. بی. خان صاحب کی شخصیت سے بہت زیادہ متاثر ہوئے. جبکہ انیل سعید صاحب اپنی تعلیمی صلاحیتوں اور لیاقت بلکہ فطانت کی وجہ سے اپنے تمام اساتذہ کی آنکھوں کا تارا رہے. یہی وجہ ہے کہ آپ کی ذہانت و لیاقت کے پیش نظر صرف 21 سال کی عمر میں اسی یونیورسٹی میں 2008 میں بطور لیکچرار تعینات کیا گیا . آپ کا تعلیمی سفر شروع سے ہی اعلیٰ ترین رہا اور اس میں اُن کے والدین کی محنت اور تربیت ہی بنیادی حیثیت کی حامل رہی ہے. علم و ادب دوستی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہر کامیابی پر والدین کی طرف سے کتاب کا تحفہ ملتا تھا. انیل صاحب کے والد علامہ اقبال کے روحانی مرید اور عاشق ہیں. فارسی زبان میں بھی مکمل دسترس رکھتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ انیل سعید صاحب کو علامہ اقبال کا پورا کلام اب بھی زبانی یاد ہے. اس کے علاوہ مولانا روم، شیخ سعدی کو بھی اوائل عمری میں ہی پڑھ لیا تھا. کتاب دوستی کی بدولت تعلیمی دور میں بہترین مقرر رہے. اٹک میں تعیناتی کے دوران میں نے ہر موضوع پر اُن کی فی البدیہہ خوبصورت، عالمانہ اور شاندار گفتگو سنی ہے.
آپ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں. چچا میاں عبدالقیوم بھی سی ایس ایس پی آفیسر تھے اور دیگر برادران بھی اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہیں. آپ کے بڑے بھائی سجیل سعید ڈائریکٹر واٹر ریسورسز ہیں اور چھوٹے بھائی تنزیل سعید اسلام آباد میں ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ہیں. اپنی اور بہن بھائیوں کی کامیابیوں کی بنیادی وجہ اپنے والد کو قرار دیتے ہیں. اُن کے مطابق ریاضی، انگلش اور دیگر مضامین اُنہوں نے اپنے والد سعید احمد سے پڑھے اور تمام کلاسز میں کبھی ٹیوشن اکیڈمی نہیں گئے.
بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں ایک واقعہ اُن کے ذہن پر شدید اثر انداز ہوا اور آپ نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر سی ایس ایس کی پر زور تیاری شروع کر دی. محنت اور جہدِ مسلسل کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے 2011 میں مقابلے کا امتحان دیا اور 189 پوزیشن سے امتحان میں کامیابی حاصل کی. مگر مطمئین نہ ہوئے اور 2013 میں ایک مرتبہ پھر مقابلے کے امتحان میں شرکت کی اور 54 ویں پوزیشن حاصل کی. پس میرٹ کے مطابق چیف ایگزیکٹو آفیسر کنٹونمنٹ بورڈ کی پوسٹ ملی. 2015 میں سی ای او کنٹونمنٹ بورڈ سنجوال تعینات رہے. ساتھ ہی کینٹ بورڈ اٹک کا اضافی چارج بھی اُنہیں کے پاس رہا. یہاں تقریباً 5 مہینے میں ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے. سیورج لائن کا کام مکمل کروایا، پارکس بنوائے اور آفیسرز کالونی کو تکمیل آشنا کیا. ڈی جی ایم ایل سی جنرل نجم الحسن بُخاری انیل صاحب کے کام سے بے حد متاثر ہوئے اور آپ کو اپنی ٹیم میں شامل کرتے ہوئے راولپنڈی لے گئے. راولپنڈی میں انیل صاحب نے اپنے کام سے سب کو بےحد متاثر کیا. اور آپ کو گوادر اور اوڑمارہ کے سی ای او کا چارج دے دیا گیا. ملٹری لینڈ ریکوزیشن اور ڈیویلپمنٹ کا کام نہایت محنت، لگن اور جانفشانی سے کیا. وومن دستکاری سکول، ریسٹ ہاؤسز کی تعمیر، پارک اور دیگر ترقیاتی کام کروائے.
آپ کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ مزید آگے بڑھنے کی خواہش میں کبھی کمی نہیں ہوئی. چنانچہ 2017 میں ایک مرتبہ پھر سی ایس ایس کا امتحان دینے کی ٹھان لی. اور اس مرتبہ امتحان میں پنجاب بھر میں چھٹی پوزیشن حاصل کی. یوں 2019 میں اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد تعینات ہوئے. اُن کے پاس بہ یک وقت 11 تھانوں کا چارج رہا. جس میں ریڈ زون ایریا بھی شامل تھا. اس دوران بھارہ کہو بائی پاس، راول چوک اور روڈ اور میٹرو کی سپروژن تکمیل تک کی. جس پر اُنہیں تعریفی سرٹیفیکیٹ اور پچاس ہزار روپے انعام سے نوازا گیا. اور ان کی خدمات پنجاب گورنمنٹ کو دے دی گئیں. دسمبر 2023 سے اپریل 2024 تک ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب کے پرسنل سیکرٹری رہے.
اور پھر اٹک کی قسمت جاگی اور اپریل 2024 میں پروموشن کے ساتھ اے ڈی سی جی کے طور پر تعینات ہوئے. یہاں پہلے سے ہی ماہر جوہری راؤ عاطف رضا ڈپٹی کمشنر اٹک کی صورت میں موجود تھے. جنہوں نے اس قیمتی جوہر کو مزید پالش کیا اور ان کی خداداد صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اُٹھایا.
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سیٹ پر انیل سعید صاحب کے پاس ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹی اٹک کا چارج بھی رہا. بلکہ ایک وقت میں آپ کے پاس میونسپل سروسز، سوشل سروسز اور ریونیو کا بہ یک وقت چارج رہا. اٹک میں جاری ترقیاتی کاموں کی نگرانی نہایت احسن انداز میں پوری کی. جب ستھرا پنجاب اتھارٹی قائم ہوئی تو ضلع اٹک میں منیجنگ ڈائریکٹر کی ذمہ داری بھی انہیں کو سونپی گئی. کام کا بوجھ اس قدر زیادہ تھا کہ میں نے اکثر آپ کو رات دیر گئے تک اپنے دفتر میں کام کرتے پایا. اس کے باوجود ہر ایک سے ہنستے مسکراتے بات کرنا، بغیر کسی تفریق کے ہر کام میرٹ پر کرنا. سب سے بڑھ کر ایک وطن پرست پاکستانی، باذوق اور خوش لباس شخصیت کے ساتھ ساتھ صوم و صلوۃ کے پابند ہیں . ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر کی ذمہ داری بھی ان کے پاس رہی. اکادمی ادبیات کیمبل پور اٹک کے قیام میں اُن کا کردار بہت اہم تھا. مادری زبان کے عالمی دن، پنجاب کلچر ڈے، سالانہ کتاب میلہ اور اکادمی کے تحت ہونے والے تمام پروگراموں میں بنیادی کردار ادا کیا. اٹک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ منعقد ہونے والی پھولوں نمائش، فوڈ گالا کا انعقاد راؤ عاطف رضا صاحب نے کیا. اٹک کے عوام نے دل کھول کر پذیرائی کی. مگر اس کی کامیابی کا سہرا انیل سعید اور محمد عارف قریشی صاحب کے سر ہے.
ایک انتھک محنتی، ایماندار، خوش اخلاق و گفتار و کردار آفیسر کے طور پر آپ کو اہلیانِ اٹک ہمیشہ یاد رکھیں گے. اور آپ کی مزید کامیابیوں کے لیے ہمیشہ دعا گو رہیں گے.
ریٹائرڈ او رینٹل ٹیچر
گورنمنٹ پائیلیٹ ہائر سیکنڈری اسکول
اٹک شہر
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔